|
|
|
02
May 2008 / 25
Rabi-us-Sani
1429 |
|
نیک محمد
میںنے سنا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم کو گالی دیتاہے
آج سے چودہ سو سال قبل محبان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بچوں کی تربیت بھی
بڑے عجیب انداز سے کرتے تھے ، جسکی ایک مثال آپ کے سامنے ہے : واقعہ اس طرح ہے کہ
کفر اور اسلام کے درمیان پہلا فیصلہ کن معرکہ ہونے چلاہے جس کا نام تاریخ اسلام میں
غزوہ بدر جاناجاتاہے ، اس غزوہ میں محبان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال
دینے کیلئے ہم نے دو چھوٹے چھوٹے بچوں کا انتخاب کیا ہے جن کا نام معاذبن عمرو بن
جموح اور معوذ بن عفراءجاناجاتاہے۔
محترم قارئین کرام ! آئیے انکی محبت ِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نظارہ کرتے
ہیں:مسلمانوں کی صف بندی ہوچکی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صف بندی کروانے
والے ہیں مسلمان اپنے ایمان سے سرشار جنت کے شوق میں اور محبت رسول کے ساتھ ساتھ
اللہ رب العزت کی مددو نصرت کے یقین سے کفارکے مد مقابل ہیں، عبدالرحمن بن عوف رضی
اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بھی ایک صف میں تھا کہ اچانک مڑا تو کیادیکھتاہوں کہ
دائیں اور بائیں دونوعمربچے کھڑے ہیں، گویامیں ان کی موجودگی سے حیران ہوگیا کہ
اتنے میں ایک نے اپنے ساتھی سے چھپاکر مجھ سے کہا ”چچاجان ! مجھے ابوجہل دکھلادیجئے
“میں نے کہا:بھتیجے تم اسے کیا کروگے ؟اس نے کہا کہ” مجھے بتایاگیاہے کہ وہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دیتاہے ۔اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے
!اگر میں نے اسے دیکھ لیاتو میراوجود اس کے وجود سے الگ نہ ہوگا یہاں تک کہ ہم میں
سے جس کی موت پہلے لکھی وہ مرجائے۔ “وہ کہتے ہیں کہ مجھے اس پر تعجب ہوا، کہ اتنے
میں دوسرے نے مجھے اشارے سے متوجہ کرکے یہی بات کہی ۔ ان کابیان ہے کہ مَیںنے چند
ہی لمحوں بعد دیکھا کہ ابوجہل لوگوں کے درمیان چکر کاٹ رہاہے ۔ میں نے کہا : ”اے
دیکھتے نہیں!یہ رہاتم دونوں کا شکار جس کے بارے میں تم مجھ سے پوچھ رہے تھے“۔ان کا
بیان ہے کہ یہ سنتے ہی وہ دونوں اپنی تلواریں لیئے جھپٹ پڑے اور اسے قتل کردیا۔
ابن اسحاق کا بیان ہے کہ معاذ بن عمرو بن جموح نے بتلایاکہ میں نے مشرکین کو سناوہ
ابوجہل کے بارے میںجوگھنے درختوں جیسی ....نیزوں اور تلواروں کی باڑھ میں تھاکہہ
رہے تھے ‘ ابوالحکم تک کسی کی رسائی نہ ہو۔ معاذ بن عمرو کہتے ہیں کہ جب میں نے یہ
بات سنی تو اسے اپنے نشانے پر لے لیااور اس کی سمت جمارہا جب گنجائش ملی تو میں نے
حملہ کردیا اور ایسی ضرب لگائی کہ اس کا پاو ¿ں نصف پنڈلی سے اڑگیا ۔ اللہ کی قسم
جس وقت یہ پاو ¿ں اڑا میں اس کی تشبیہ صرف اس گٹھلی سے دے سکتاہوں جوموسل کی مار
پڑنے پرجھٹک کر اڑجائے۔ ان کا بیان ہے کہ ادھر میں نے ابوجہل کو مارا اور ادھر اس
کے بیٹے عکرمہ نے میرے کندھے پر تلوار چلائی ، جس سے میراہاتھ کٹ کر میے بازو کے
چمڑے سے لٹک گیااور لڑائی میں مخل ہونے لگا۔ میں اسے اپنے ساتھ گھسیٹتے ہوئے سارادن
لڑا ، لیکن جب وہ مجھے اذیت پہنچانے لگا تو میں نے اس پر اپنا پاو ¿ں رکھا اور اسے
زور سے کھینچ کر الگ کردیا۔اس کے بعد ابوجہل کے پاس معوذ بن عفراءپہنچے ۔ وہ زخمی
تھے ، انہوں نے اسے ایسی ضرب لگائی کہ وہ وہیں ڈھیرہوگیا صرف سانس آتی جاتی رہیں،
اس کے بعد معوذ بن عفراءخود بھی لڑتے لڑتے شہید ہوگئے۔
جب معرکہ ختم ہواتو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو دیکھے کہ
ابوجہل کا نجام کیا ہوا ؟ اس پر صحابہ کرام اس کی تلاش میں بکھر گئے ۔ عبداللہ بن
مسعود رضی اللہ عنہمانے اسے اس حالت میں پایاکہ ابھی سانس آجارہی تھی ۔ انہوںنے اس
کی گردن پر پاو ¿ں رکھااور سرکاٹنے کیلئے داڑھی پکڑی اور فرمایا: او اللہ کے دشمن
آخر اللہ نے تجھے رسوا کیانا؟ اس نے کہا : مجھے کاہے کو رسواکیا؟ کیا جس شخص کو تم
لوگوں نے قتل کیا ہے اس سے بھی بلند پایہ کوئی آدمی ہے ؟ یاجس کو تم لوگوں نے قتل
کیا اس سے بھی اوپر کوئی آدمی ہے ؟ پھر بولا کاش !مجھے کسانوں کے بجائے کسی اور نے
قتل کیاہوتا۔واضح رہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مکے میں بکریاں چرایاکرتے
تھے ۔ اس کے بعد عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہمانے اسکا سر کاٹ دیا، اور رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لاکر حاضر کرتے ہوئے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی
اللہ علیہ وسلم ! یہ رہا اللہ کے دشمن ابوجہل کا سر ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین
دفعہ فرمایا: واقعی اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبودنہیں، اس کے بعد فرمایا:
اللہ اکبر ، الحمدللہ الذی صدق وعدہ ، ونصر عبدہ وھزم الاحزاب وحدہ۔
پھر فرمایا: چلومجھے اس کی لاش دکھاو، ہم نے آپ کو لے جاکر لاش دکھائی ۔ آپ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اس امت کا فرعون ہے۔
آج ہمارے والدین کو بھی اپنی اولاد کی ایسی تربیت کرنے کی ضرورت ہے ایسی محبت رسول
دلوں میں بسائیں کہ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کے رستے میںسب کچھ قربان۔ محب رسول ہو
تومعاذبن عمرو بن جموح اور معوذ بن عفراءجیسا۔
اے اللہ ہمیں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت کرنے والا بنا۔آمین |
 |
|
|