|
|
 |
|
19 March 2008 /
11 Rabi-ul-Awal
1429 |
|
تبصرہ:مصور عظیم انجم
صفحات:735
قیمت:250/-
ناشر: جامعہ بحرالعلوم السلفیہ میرپورخاص
رابطہ: افتخار احمد تاج الدین 03322819002
شیخ العرب والعجم نمبر
شیخ العرب والعجم نمبر میرے ہا تھوں میں ہے جو عظیم محدث علامہ سید بدیع
الدین شاہ راشدی رحمہ اللہ کی خدمات جلیلہ پر مبنی ہے۔زیر نظر نمبر بحر
العلوم السلفیہ میر پور خاص کی ایک بہت بڑی کاوش ہے۔یوں تو شاہ صاحب رحمہ
اللہ کے بارے میں بے شمار جرائد و مجلات نے لکھا مگر جس طرح آ پ کی جملہ
خوبیوں کو اس میں یکساں کر دیا گیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔
شیخ العرب و العجم نمبر محترم شاہ صاحب رحمتہ اللہ کی سوانح حیات، آپکی
شخصیت، ممتاز علماءکے آپکے بارے میں تاثرات، آپ کی خدمات جلیلہ، انٹرویوز،
فتاویٰ، علمی خطوط اور نادر تحریروں پر مشتمل ہے۔
جس موضوع پر بھی قلم اٹھایا گیا اسکی تشنگی باقی نہیں رہی۔
محترم حافظ اصلاح الدین یوسف نے آیة من آیات اللہ شیخ العرب و العجم کے
موضوع پر قلم اٹھایا۔
محترم اسحاق بھٹی معروف مصنف اور کئی کتابوں کے لکھاری ہیں انہوں نے آپ کی
حالات زندگی کے بارے میں تحریر کیا ہے۔
الشیخ حافظ عبدالمنان نور پوری کا مضمون ”شاہ صاحب رحمتہ اللہ عظیم محدث و
محقق“ کے نام سے شامل ہے۔
عبدالرشید عراقی، الشیخ زبیر علی زئی، شیخ الحدیث ارشاد الحق اثری، پروفیسر
ڈاکٹر سہیل حسن، پروفیسر عبداللہ ناصر رحمانی، شیخ محمد حسین ظاہری، شیخ
محمد رفیق اثری اور دیگر اہل علم کے مضامین شامل ہیں۔ جس سے اس رسالے کی
اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔
شاہ صاحب رحمہ اللہ کو قدرت نے جن خوبیوں سے بہرہ ور کیا تھا شاید وہ انہی
کا نقیب تھا۔ آپ نے مشکل مراحل اور کٹھن حالات میں بھی تبلیغ اسلام کا جو
کام کیا مابعد والوں کے لئے وہ ایک نظیر ہے۔
آپ کلمہ توحید کو بلند کرنے والے اور ہر اسٹیج پر اسکی دعوت دینے والے تھے۔
اپکی شخصیت سراپا علم کے قالب میں ڈھلی ہوئی تھی۔
علم حدیث سے خصوصی شغف اور اسحاءالرجال پر مکمل دسترس، استخصار حافظے کا یہ
عالم کہ تین ماہ میں قرآن کریم حفظ کر لیا۔
آپ نے دعوت و تبلیغ، درس و تدریس اور تحریرو تصنیف کے میدان میں بڑے
کارہائے نمایاں سرانجام دیئے۔ آپ نے عربی میں ساٹھ، اردو میں انیس اور
سندھی میں اٹھائیس کتابیں لکھیں۔
آپ ایک چلتا پھرتا مکتبہ تھے۔ آپ سے جب سوال کیا جاتا تو آپ ایک سیل رواں
کی طرح دلائل کے انبار لگا دیتے ۔
انہی کاوشوں کے درمیان علم و حکمت کا یہ چراغ 1996ءکو دنیا فانی کو چھوڑ کر
خالق حقیقی سے جا ملا۔ اللہ ان کے درجات بلند فرمائے۔ (آمین)
یہ رسالہ ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والوں کیلئے مفید ہے۔ بالخصوصی
طلباءاور علماءکیلئے جن کی ذمہ داری دعوت دین کو عام کرنا ہے۔ رسالہ ھذا
اپنے جملہ محاسن کے ساتھ استفادہ عام کیلئے ایک رہنماءکی حیثیت رکھتا ہے۔ |
 |
 |
|
|