|
|
|
1 August 2008 / 28 Rajab-al-Murajjab
1429 |
|
|
|
بے تابیاں: طارق حسین
یونائیٹڈ اسٹیٹس آف
مسلم ورلڈ
پرویز صاحب نے
کہا: ”مسلم دنیا میں امریکن مفادات کو آپ جانتے ہی ہیں۔ ان میں ڈیفنس آف اسرائیل،
کنڑول آف فیول، کنٹرول آف واٹر روٹس اور کنٹرول آف اسلامک آئیڈیالوجی آف پولیٹکل
اسلام ہے۔ سیاسی اسلام کے خلاف امریکن کا کردار ایک اہم ترین خارجہ پالیسی ہے اور
دراصل یہی اسرائیل کی جنگ ہے۔ یہی یہودی وار ہے۔ ان کا مقصد اسلام کے سیاسی تشخص کو
تباہ کرنا ہے اور ہم آج اس موضوع پر اس لیے بات کرنا چاہتے ہیںکہ مسلمانوں کے
درمیان بھی اختلافات موجود ہیں اور یہ انتہائی نازک وقت ہے۔ ماضی میں یہ اختلافات
فرقہ ورانہ گروہی اور نظریاتی بنیادوں پر تھے اور مسلم امت کے درمیان رہے لیکن جب
انہی اختلافات کو لے کر سامراجی قوتیں مسلمانوں کو تباہ کرنا چاہیں تو ایک اہم ترین
معاملہ بن جاتا ہے۔ ان اختلافات کو استعمال کرکے مسلم دنیا کی واحد اسلامی قوت کے
گرد کس طرح گھیرا تنگ کیا جارہا ہے اب یہ گیم پلان بن چکا ہے۔ مسلمانوں کے درمیان
پائے جانے والے اختلافات کس طرح سے ان کی جڑیں کھوکھلی کررہے ہیں۔ کس طرح یہودی ان
اختلافات کو اسلام کا شیرازہ بکھیرنے میں استعمال کررہے ہیں؟
آخر وہ کون سی وجوہات ہیںجن کی وجہ سے وہ اسلامک آئیڈیالوجی یا ایک اسلامی اسٹیٹ سے
اس قدر خوفزدہ ہےں؟ سیاسی اسلام ان کے لےے ایک عذاب ہے۔ اسلام کے تصورسیاست سے ان
کی جان نکلتی ہے۔ بے شک مسلمانوں میں اختلافات موجود ہیں مگر کچھ معاملات پر وہ
متفق ہیں۔ دنیا میں اسٹیٹ آف اسرائیل کے خلاف ان کا موقف ایک ہے۔ وہ جانتے ہیں اگر
حقیقی بنیاد پر کوئی اسلامی ریاست اصولوں پر قائم ہوئی تو وہ ان کے لےے سب سے بڑا
خطرہ بن جائے گی۔ دوسرا اسلام ایک متبادل فلاحی نظام ہے۔ اسلام ایک عدل اور سوشل
جسٹس کا نظام رکھتا ہے۔ اس کو ایک سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف پیش کیا جاسکتا ہے۔
اس کا رول ماڈل اگر بناکر پیش کردیا جائے تو سرمایہ دارانہ نظام زمین بوس ہوجائے گا۔
تیسرا اگر اسلام ایک سیاسی اسلامی اسٹیٹ بن جاتا ہے تو وہ اس کو دنیا میں برداشت
نہیں کرسکتے۔ کیونکہ اگر پھر وہ اسلامی ایٹمی قوت بھی بن گیا تو انہیں اپنی موت نظر
آتی ہے۔ کیونکہ دنیا کے 58ا سلامی ممالک میں سے واحد پاکستان ہے جس کے پاس ایٹمی
قوت ہے۔ چوتھی چیز جس سے وہ پریشان ہوتے ہیں وہ ”اسلامک شریعہ لاز“ ہیں۔ یہ اگر کسی
بھی اسلامی مملکت میںنافذ ہو جائیں تو یہ اسے بھی خطرہ سمجھتے ہیں۔ اور پھر چودہ سو
سالوں سے یہودوہنود اسی لےے تو پریشان ہےں کہ اسلام میںخلافت کا تصور تھا اور اسلام
اس جھنڈے تلے ایک تھا۔ آج کا مسلمان خلافت کو اتنا اہم نہیں سمجھ رہا مگر امریکن
ویہودی اس کے اثرات سے بخوبی واقف ہیں۔ بش نے کہا تھا: مسلمان ایک ایسی بنیاد پرست
ریاست بنانا چاہتے ہیں کہ انڈونیشیا سے لے کر ویسٹ افریقا تک ایک ایک مسلمان کا
اتحاد ہو اور مسلمانوں کے تمام فیصلے ایک مرکز سے ہوتے ہوں۔
شریعت اور خلافت آخر کیا ہےں؟ اس وقت دنیا میں شریعت کی دومثالیں دی جاسکتی ہیں۔
ایک طالبان دور میں شریعت کا نفاذ تھا۔ یہ ایک الگ معاملہ ہے کہ ان کی تشریح سے
اختلاف کیا جاسکتا ہے۔ تاہم انہوں نے شریعت کا نام لیا۔ دوسرا صومالیہ جہاں ایک
گروپ نے اسلامی شریعت کو نافذ کرنے کی کوشش کی۔ اسی طرح سوڈان میں بھی کوشش ہوئی۔
شریعت لاءلانے کی کوشش کی گئی۔ شریعت دراصل اسلامی خلافت کی طرف ایک قدم ہے اور
متحد مسلمانوں کی طرف ایک پیش قدمی ہے۔ یہودوامریکن کی مثال فرعون کی طرح ہے جس طرح
اس نے ایک بچے کی خاطر جو اس کے خلاف جاسکتا تھا، لاکھوں بچوں کو قتل کرادیا۔ اس
طرح یہ بھی کہیں اسلامی تصور کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ جیسے آخر افغانستان
میں امریکن کے لیے کیا معاملہ تھا محض اس چڑھائی کا مقصد اسلامی شریعت کے نفاذ کی
مخالفت تھی۔ انہوںنے اس ریاست کو تباہ کرکے رکھ دیا کیونکہ وہ اسلامی آئیڈیالوجی کی
بات کرتا تھا۔
انگریز مفکر برناڈ شاہ نے کہا تھا ”اسلام ایک بہترین پروڈکٹ ہے مگر مسلمان اس کے
اتنے اچھے سیلزمین نہیں ہیں۔“ بین الااقومی میڈیا اسلام اور شریعت کی جو عکاسی کرتا
ہے وہ سراسر غلط ہے مگر مسلمان خود بھی ان کو نہیں سمجھتے۔ وہ بھی دفاع کے بجائے اس
کا حصہ بن جاتے ہیں کیونکہ ہمارے پاس رول ماڈل اسٹیٹ بھی نہیں ہے اور رول ماڈل
مسلمان بھی نہیں جو شرعی اسلام کی عکاسی کرسکتے۔ جہاں ہم مسلمان کچھ کوشش بھی کرتے
ہیں وہ ان کے سامنے ڈھیر ہوجاتے ہیں۔ مسلمان خلافت کے بغیر رہنے کے عادی نہ تھے۔ یہ
ان کی زندگی کاحصہ تھا جیسے جب 1924ءمیں خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کیا گیا تو یہ
مسلمانوں کے لیے ناقابل یقین تھا اور مسلمانوں نے اس کے خلاف تحریک چلائی تھی۔
خلافت کے بعد مسلمان انتہائی مایوس تھے۔ اس سے قبل مسلمانوں میں کوئی ویزا، کوئی
پاسپورٹ نہ تھا۔ وہ ایک سے دوسرے ملک چلے جاتے تھے۔ آج 58 ممالک میں جانے کے لیے
ویزا کی ضرورت ہے مگر امریکن نے یہ نظریہ اپنے لےے پسند کیا اور یورپی یونین کے
ممالک میں جانے کے لےے کسی ویزا کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر یہی تصور مسلمانوں میں
ہوتو ان کی جان نکل جاتی ہے۔ آج مسلمانوں کی فارن پالیسی، اکنامک پالیسی، تجارتی
پالیسی اور دفاعی پالیسی ایک ہونی چاہیے۔ بے شک وہ اپنے اندرونی معاملات کو جس طرح
چاہیں، چلائیں مگر افسوس ایسا نہیں ہے۔ یہ مسلم اسٹیٹ بے شک ایک شناخت کے طورپر ہوں
مگر اختلاف نہ رکھیں اور یونائیٹڈ اسٹیٹ آف مسلم ورلڈ بنائیں۔ یہودی مسلمانوں کو
تقسیم کرنے میں بہت حد تک کامیاب ہیں۔ یہودیوں نے ہمیں قوموں، فرقوں اور زبانوں میں
تقسیم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے کیونکہ وہ مسلمانوں کو ایک اُمت کے طورپر
دیکھنا نہیں چاہتے۔
ایک اور اہم مسئلہ مسلمانوں کو عسکری بنیاد پر پیش کرکے انہیں ”انتہا پسند“ قرار
دینا ہے۔ بنیادی طور پر دوطرح کے گروپس ہیں۔ ایک وہ جو مسلمانوں میں تباہی پھیلارہے
ہیں۔ دوسرے وہ جو اسلامی آئیڈیالوجی اور عسکری جہاد میں مصروف ہیں۔ جو پولٹیکل
اسلام کے محافظ ہیں۔ ان میں عراقی، کشمیری، فلسطینی مجاہدین ہیں۔ ان میں چیچن
مجاہدین ہیں۔ الجیریا کی مسلم تحریک حزب اللہ، مصر کی اخوان المسلمین، طالبان تحریک....
یہ انٹر نیشنل قوانین کے مطابق ہےں۔ امریکن اور یہودی اسلام کے خلاف دو طرح سے حملہ
آور ہوتے ہیں۔ ایک تو وہ ان پر حملہ کرکے انہیں تباہ کرتے ہیں یا پھر انہیں آپس میں
لڑاتے ہیں۔ آپ 9/11 کے بعد کی مثال لے لیں۔ انہوں نے افغانستان پرحملہ کیا۔ پھر
عراق پر حملہ کیا۔ پھر صومالیہ پر اور اب ہم عراق کو ایک ٹیسٹ کیس کے طور پر لیتے
ہیں۔ عراق میں شیعہ سنی علاقوں میں فرقہ ورانہ اختلافات کو تقویت دی اور سنی شیعہ
فسادات کرائے گئے۔ افغانستان میں بھی تاجکوں، پشتونوں کو لڑوایا۔
جب ہم یونائیڈ اسٹیٹس آف مسلم ورلڈ کی بات کرتے ہیں تو اس میں تمام ریاستیں شامل
ہیں۔ امریکا نے پہلے افغانستان پر حملہ کیا۔ اب وہ ایران پر حملہ کرنا چاہتا ہے
کیونکہ وہ نہ صرف اسرائیل کے لیے خطرہ ہے بلکہ ایٹمی قوت بننا چاہتا ہے۔ امریکا کو
اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ ایک شیعہ اسٹیٹ ہے۔ امریکا یہ چاہتا تھا جب
مسلمانوں کو فرقہ ورانہ طور پر توڑا جائے تو شیعہ ان کے حمایتی ہوں کیونکہ خلافت
ایک ٹوٹل سنی نظریہ ہے لیکن ایران یہ نہیں چاہتا اور وہ مسلسل مزاحمت کررہا ہے۔
سنہ 1979ءایک اہم سال تھا۔ سوویت یونین افغانستان میں داخل ہوا اور اسلامی جہاد کو
نئی روح ملتی ہے اور یہ جہاد مکمل طور پر سنی عسکریت پسند جہاد تھا۔ ایک سپرپاور کے
خلاف ساری دنیا کے عسکری مسلمان اکٹھے ہوتے ہیں اور اسے شکست سے دوچار کرتے ہیں۔
مسلمانوں میں اس آئیڈیالوجی کو فروغ ملتا ہے کہ وہ بحیثیت ایک قوت کے سپرپاور کو
ہراسکتے ہیں۔ دوسرا موقع 1979ءمیں ایران کا انقلاب ہے۔ وہ ایک پرو امریکن اسٹیٹ سے
انقلابی ریاست بن جاتا ہے اور ساری دنیا کی تحریکوں نے اس کا خیر مقدم کیا۔ تیسرا
افسو ناک موقع ایران، عراق جنگ تھی۔ یہ جنگ دو قوموں کے درمیان نہیں بلکہ ذرا
گہرائی میں جائیں تو عربوں اور عجمیوں کے درمیان تھی۔ اس ایک جنگ نے مسلمانوں کو
جتنا نقصان پہنچایا غیر مسلم بھی اتنانقصان نہ پہنچاسکتے تھے۔
مسلمانوں کے احیا پر نظر ڈالیں۔ آج کے ماسکو کو دیکھیں۔ پچھلے چار سو سالوں سے یہ
ماسکو کی اسٹیٹ پھیلتی چلی آرہی تھی۔ یہ اسٹیٹ ایک طرف چائنا، یورپ اور سینٹرل
ایشیا کی طرف بڑھ رہی تھی اور پورا سینٹرل ایشیا مسلمان ہے۔ ثمرقند، تاشقند، بخارا
سب مسلم ریاستیں تھیں۔ ازبکستان، تاجکستان، ترکمانستان، قازقستان.... یہ جو سارے
”تان“ ہیں مسلمان تھے۔ ان کو ہڑپ کرتے کرتے وہ افغانستان تک آیا اور اس کے بعد آخری
”تان“ رہ گیا تھا۔ یعنی پاکستان جسے ہڑپ کرنا تھا۔ پھر افغانستان کی جنگ جس میں 20
لاکھ سے زائد افراد شہید ہوئے۔ یہ جنگ روس کے خلاف پاکستان نے لڑی بلکہ ساری مسلم
دنیا نے لڑی۔ یہاں کا منظر بڑا دلچسپ ہوتا تھا۔ پوری دنیا سے آئے ہوئے مسلمان ایک
ایک چھت کے نیچے مختلف زبانیں بولنے والے مگر مقصد جہاد سے اکٹھے تھے۔ یہ 1991ءکی
بات ہے جب سوویت یونین کا خاتمہ افغانستان سے شروع ہو اتھا تو سینٹرل ایشیا اور
یورپ میں روس رول بیک ہوا اور گزشتہ 2سو سال سے جو علاقے اس کے قبضے میں تھے وہ
آزاد ہونا شروع ہوئے۔
جب تاجکستان کی آزادی کا وقت آرہا تھا تو روسی افواج دریائے آمو کے کنارے کھڑی
مجاہدین کو روکنا چاہتی تھیں مگر اب مجاہدین کو دریائے آمو پارکرنے کی ضرورت نہ تھی
کیونکہ جو آئیڈیالوجی تھی وہ دریا اور ان فوجیوں کے سروں کے اوپر سے گزرکر تاجکستان
میں داخل ہوچکی تھی۔ یہ افغانستان میں مسلمانوں کی جدوجہد کا وہ تاریخی مرحلہ ہے
جہاں وقت آکر تھم گیا تھا۔ کیونکہ پچھلے کئی سو سال سے مسلمان ہر مزاحمت میں شکست
کھاتے چلے آرہے تھے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ مسلمانوں نے کامیابی حاصل کی تھی اور اس
تحریک کے نتیجے میں 20 کروڑ مسلمان آزاد ہوئے۔ سینٹرل ایشیا اور یورپ میں مسلمان
ریاستوںکی صورت میں بھی اس کا ظہور ہوا۔ یہی مواقع ہوتے ہیں جب ان باتوں سے قوموں
کا عروج وزوال شروع ہوتا ہے۔
یہی وہ موقع تھا جب مسلمانوں نے اس آئیڈیالوجی کو سمجھا اور اس پر عمل شروع کیا۔
مسلمانوں کی عسکری جہادی قوت کا یہ منہ بولتا ثبوت بن گئی اورآج تک سمجھا جاتا ہے
کہ روس کی شکست یورپ کی وجہ سے ہوئی۔ یہ سراسر غلط ہے۔ یہ محض جذبہ جہاد کانتیجہ ہے
ورنہ یورپ نے اس جنگ میں صرف پروپیگنڈا کیا۔ کوئی یورپی اور امریکی افغان جہاد میں
نہیں مرا۔ تمام قربانیاں مسلمانوں نے دی تھیں۔
یہی موقع تھا جب یہودوہنود کو اندازہ ہوا کہ اس طرح سے مسلمانوں نے روس کو شکست دی۔
وہ ایک سوئے ہوئے شیر کو جگاچکے ہیں لہٰذا اس کا سدباب ضروری ہے۔ کیونکہ ان کے
درمیان ایک آئیڈیالوجی فروغ پاچکی ہے۔ وہ اب دوبارہ واپس آئے کیونکہ 1989ءمیںروس کے
بعد ان کی اس خطہ میںدلچسپی ختم ہوچکی تھی۔ مسلمان بھی منتشر ہوچکے تھے لیکن تمام
اسلامی تحریکوں کی جڑ یہ جہاد ہے۔ آپ جائزہ لیں کشمیرکی تحریک.... فلسطینی مسلمانوں
نے اسرائیل کے خلاف مزاحمت 1987ءمیں شروع ہوئی۔ چیچن مزاحمت 1991ءمیں، الجرئین
موومنٹ ایف آئی ایس 1989ءمیں شروع ہوئی۔ یا تومسلمان اسلامی نظام لانے کی کوشش
کررہے تھے یا مسلمان ملک کو آزاد کرانے کی کوشش کررہے تھے اور یہی مسلمانوں کی
سیاسی اسلامی جدوجہد کی عکاسی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جہاد کی ضرورت اور اہمیت کر مدنظر رکھتے ہوئے ہم افغانستان جہاد کی
مثال دے سکتے ہیں کہ تمام اسلامی اور بین الاقوامی قوانین کو مد نظر رکھتے ہوئے،
افغان جہاد کے ماحول کو مدنظر رکھیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ وہ کیا حالات
ہوتے ہیں جب جہاد فرض ہوجاتا ہے؟ جب کوئی غاصب قبضہ کرلے۔ لاکھوں افراد کو شہید
کردے۔ لاکھوں لوگوں کو بے گھر کردے تو اس سے معاملات مذاکرات سے نہیں جہاد سے طے
کےے جاتے ہیں۔
خلافت عثمانیہ کے ٹوٹنے کے بعد سے افغان جہاد تک ایسی بات کرنا بھی ایک واہمہ تھا
کیونکہ مسلمان خود کو قوموں میں بانٹ چکے تھے۔ عرب دنیا اور مسلمان دنیا میں ایسے
مفکرین پیدا ہوئے جنہوں نے پولیٹکل اسلام کا نظریہ پیش کیا۔ اور پھر سوشلزم، کیپٹل
ازم سارے نظام آئے مگر پولیٹکل اسلام نہیں آیا۔ 40، 50ءکی دہائی میں اخوان المسلمون
کے نام سے ایک جماعت بنائی گئی تھی۔ اس کے سربراہ حسن البناءتھے اور ان کے پولیٹکل
تھنکر محمد سید قطب تھے۔ 1960ءمیں محض پولیٹکل اسلام کی بات کرنے کی وجہ سے جمال
عبدالناصر نے انہیں تختہ دار پر چڑھادیا۔ یہ وہ موقع تھا جب مسلمان اسلام کی سیاسی
ترویج نہیں کرسکتے تھے۔ پھر 70ءکی دہائی میں بھی مسلمان پورے عرب ممالک میں پولیٹکل
اسلام کی بات نہیں کرسکتے تھے۔ انہیں کچلا جاتارہا اور پھر 1979ءمیں جب افغانستان
میں ان کو موقع ملا تو یہ ساری اسلامی قوت افغانستان میںظاہر ہوئی جو گزشتہ کئی
دہائیوں سے مسلمانوں میں اسلامی تحریک کی وجہ سے ہورہی تھی۔
آپ اسلامی جہاد اور تحریک کا اندازہ اس سے لگالیں کہ یاسر عرفات نے افغان جہاد کی
مخالفت کی تھی مگر جب افغان جہاد کے بعد سے مجاہدین واپس فلسطین گئے تو انہوں نے پی
ایل او کے مقابلے میں حماس بنائی۔ حماس کی آئیڈیالوجی پولیٹکل اسلام پر ہے۔ یہی وہ
حالات اور واقعات ہیں جو مغربی دنیا کی آنکھ میں کانٹا بن کر چبھ رہے ہیں۔ وہ نہیں
چاہتے کہ وہ آئیڈیالوجی جس نے ایک بڑی ایٹمی قوت کو تہہ وبالا کردیا وہ اس طرح ان
کے لیے بھی خطرہ بن جائے لہٰذا اس نے پورے عالم اسلام سے پولیٹکل اسلام ختم کرنے کا
فیصلہ کیا جیسا ہم نے پہلے بتایا کہ یورپ اپنے مفادات میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون
کرتے ہیں۔ انہوںنے تجارتی اورخارجی پالیسیاں ایک جیسی بنارکھی ہیں۔ وہ نہیں چاہتے
کہ اسلام کی حقیقی روح مسلم ممالک میںرائج ہو۔
کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اسلام صرف شرعی قوانین کا نام ہے۔ وہ اپنی آسانی کے لےے یہ
سمجھ لیں کہ شرعی قوانین کا عدالتی نظام بھی ہے۔ اسلام ایک پورا ضابطہ حیات ہے۔ اس
میںاور بھی نظام موجود ہیں۔ جیسے عائلی، تجارتی، معاشرتی، سیاسی، معاشی وغیرہ....
وہ زندگی کے ہر پہلو پر روشنی ڈالتا ہے۔ ہم نے آپ کے سامنے یونائیٹڈ اسٹیس آف مسلم
ورلڈ کا منظر یہ رکھا گوکہ موجودہ حالات میں اس کی عملی شکل سمجھنا ازحد مشکل ہے
مگر اس نظریہ کے پس منظر میں آئیڈیالوجی اسلامی سیاسی نظام ہے جہاں مسلم ممالک کے
درمیان اپنے خطوں کی جانب سے ایک ہی تجارتی پالیسی ہو۔ وہ دفاعی پالیسی بھی ایک
رکھیں اور خارجہ پالیسی بھی ایک رکھیں۔ یعنی تجارتی، خارجہ اور دفاعی پالیسی پوری
دنیا میں ایک رکھیں اور داخلہ پالیسی اپنی اپنی الگ الگ بنالیں۔ اس طرح مسلم ممالک
کا پیداواری اخراجات میں بے حد کمی آئے گی۔ روزگار کے نئے مواقع ملیں گے۔ خارجہ
پالیسی ایک ہونے کی وجہ سے سب کا مشترکہ دشمن ایک ہوگا۔
گوکہ آج اس نظریہ کے چار نقاد ہوں گے۔ حمایت کرنے والا شاید کوئی بھی نہ ہو.... مگر
جس طرح سے ایک گلاب کا پھول حاصل کرنے کے لیے کھاد بھی دینا پڑتی ہے۔ پانی بھی اور
نگہبانی بھی اور وقت بھی، اس طرح نظریئے اور افکار بھی ذہنوں میں داخل ہوتے ہیں۔ یہ
حتمی بات ہے کہ وہ احیاءاسلام جو افغان جہادسے شروع ہوا ابھی تک اس کے اثرات اور
آئیڈیالوجی موجود ہے۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ امریکا ناقابل شکست ہے۔ وہ صرف اتنا
یاد رکھیں کہ ایران بہت بڑا امریکن نواز تھا آج وہ آئیڈیالوجی ہی ہے جس نے اسے
امریکا کا سب سے بڑا مخالف بنادیا۔
آیئے اٹھیں آج سے ابھی اس آئیڈیالوجی کے لےے جت جائیں کہ ہم اس نسل سے ہیں جو معمار
کعبہ ہے۔ جہاں ساری کائنات رخ کرتی ہے توہم سے نئے زمانے کی تعمیر کیونکر ممکن نہیں
ہے....؟ |
 |
|
|