رابطہ رہنمائے کراچی کالم /فیچر علم و ادب خواتین اسلام صفہ اول

18 August 2008 / 15 Shaban 1429

بے تابیاں: طارق حسین

ترقی کا راز

ایک اعشاریہ تین بلین نفوس اور نو اعشاریہ چھ ملین اسکوائرکلومیٹر پر پھیلا یہ ملک جو دنیا کے نقشے پر 1949ءمیں دنیا کا غریب ترین ملک تھا۔ جس نے اپنی پالیسی سے اس غریب ترین ملک کو دنیا کا امیر ترین ملک بنادیا۔ 1978ءمیں اس ملک میں غربت کی سطح 30.7 فیصد تھی جسے انہوں نے 1998ءمیں محض 4.6فیصد کردیا اور امریکی ماہرین معاشیات کا یہ خیال ہے کہ اگلی صدی میں دنیا میں وہ سب سے بڑی اکانومی ہوگا۔ اس کے پاس دنیا کے کل رقبہ کا محض 7فیصد ہے جو قابل کاشت ہے اور وہ اس میں سے اپنے عوام کو اگاکر کھلاتا ہے۔

جی ہاں! یہ ملک یکم اکتوبر 1949ءکو دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ اس کا نام ”چین“ ہے۔ اس ملک کے عوام بانی چیئرمین ”ماو ¿زے تنگ“ سے آج بھی محبت کرتے ہیں۔ وہ ہم سے دو سال ایک ماہ سترہ دن چھوٹا ہے۔ مگر آج جب ہم 14 اگست 1947ءکا دن منارہے ہیں۔ ہم پر بیرونی قرضوں کا بوجھ 54 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ آخر ہم سے بعد میں آزاد ہونے والا ملک ہم سے اتنا آگے کیسے نکل گیا؟ کیا ان کے چار ہاتھ دو دماغ ہیں؟ وہ ہم سے زیادہ کھاتے ہیں؟ ہم سے زیادہ سمجھ دار ہیں؟ آخر وہ کون سا فرق ہے کہ ایک اوج ثریا کو چھورہا ہے اور دوسرا آج بھی کسی کا دست نگر ہے۔ وہ آج بھی دامن پھیلائے امداد کی طرف بھوکی نظروں سے دیکھ رہا ہے۔

ہاں فرق ہے! چیئرمین ماو ¿ے نے جب چینی قوم سے آزادی کے بعد خطاب کیا تو اس نے کہا تھا: ”آج سے یہ ملک تمہارا ہے۔ تم نے اسے چلانا اور بنانا ہے۔ یاد رکھنا مجھے ہر وقت اپنے ساتھ سمجھنا۔ کوئی بھی ایساکام نہ کرنا جس سے ملک کانقصان ہو۔ اس کی ترقی میں آج سے جت جاو ¿ اور یاد رکھو! یہ مت بھولنا کہ میں ہر وقت تمہیں دیکھ رہا ہوں۔“ پھر چینی تاریخ گواہ ہے کہ ہر چینی کی شرٹ میں لگے بٹنوں میں ماو ¿زے کی تصویر ہوتی تھی۔ وہ چینی ایسا لباس پہنتے تھے جن میں ماو ¿ کی تصویرتھی۔ ان کا خیال تھا کہ چیئرمین ماو ¿ انہیں ہر وقت دیکھ رہا ہے اس لیے وہ کام کریں اور صرف کام! یہ چائنا کی ترقی کا پہلا راز ہے۔

میں آپ کو چائنا کی ترقی کا دوسرا راز بھی بتاتا ہوں۔ نیڈل سوئی جو پوری دنیا میں صر ف چین سپلائی کرتا ہے۔ امریکا ہو یا افریقا.... دنیا کے ہر ملک میں آپ کو چائناکی سوئیاں ملیں گی۔ یہ اس قوم کی یکجہتی، محنت اور اتحاد کی ایک بہت بڑی مثال ہے کیونکہ سوئی بنانا،۔ چائنا کی قومی پیداوار ہے۔ اس میں چائنا کا ہر شخص اپنا حصہ ڈالتا ہے۔ کیونکہ چرواہوں، بس اسٹاپوں، اسٹیشنوں پر ہر جگہ گزرگاہوں پر اس کی مشینیں نصب ہیں۔ جب لوگ قطار میں ہوکر اس مشین کے اندر سے گزرتے ہیں تو اس پیہہ کو گماکر دوسری طرف جاتے ہیں۔ اس گھومنے کے دوران مشین چلتی ہے اور سوئیاں بن جاتی ہےں۔ بچہ ،مرد، نوجوان، بوڑھا ساری قوم اس سوئی بنانے میں حصہ دار ہوتی ہے۔
اور چائنا کی ترقی کا تیسرا راز ان کی ”دیانت داری“ ہے۔ وہ پوری دنیامیں اشیاءفروخت کرتے ہیں لیکن انہوں نے ہر ملک کے لوگوں کی قوت خرید کو سامنے رکھ کر پروڈکشن کی ہے۔ وہ ایشیا کے غریب ممالک میں ایسی چیزیں ایکسپورٹ کرتے ہیں جو نہایت سستی ہو مگر ہلکے معیار کی ہےں۔ وہ متمول ممالک میں وہی چیز بھیجتے ہیں مگر وہ مہنگی ہے مگر اعلیٰ معیار کی ہے۔

سوال یہ ہے کیا یہ تینوں راز ہماری قومی زندگی کا حصہ نہیں بن سکتے مگر ایسا ممکن نہیں ہوگا کیونکہ ہمارے ہاتھ فارغ نہیں کیونکہ ہم نے کاسہ اٹھا رکھا ہے۔ ہمارے ذہن ترانوں، جھنڈیوں اور گانوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ جب تک ہماری سوچ اور فکر کے معیار نہیں بدلیں گے ہماری زندگی میں کیسے تبدیلی آسکتی ہے؟ چائنا کی ترقی کا یہ بھی راز ہے جو میں بتانا بھول گیا کہ وہ قوم جو صرف مادیت پر یقین رکھتی ہے اور اپنے کام میں لگ گئی۔ ترقی کی منزل پائی مگر ہم جو ایک ابدی حقیقت پر یقین رکھتے ہیں مگر ہمارے وجود میں اس کی جھلک نظر نہیں آتی۔ ہمارا یقین ہے اللہ ہر جگہ ہر لمحہ دیکھ رہا ہے مگر یقین عمل میں تبدیل نہیں ہورہا۔ وہ قوم جسے ماو ¿ نہیں دیکھ سکتا تھا مگر انہوں نے اپنی شرٹ پر بٹن لگاکر یہ یقین بنایا کہ ہم ترقی کے لےے کام کریں گے کیوں کہ ماو ¿ ہمیں دیکھ رہا ہے۔ تو پھر آپ کو اور مجھے گلہ کرنے کا کوئی حق نہیں کیونکہ منزل اسے ملتی ہے جو منزل کی طرف چلتا ہے۔

© Copyrights 2007, karachiupdates.com
E-mail:karachiweb@karachiupdates.com Contact: +92-321-2422035 / +92-321-9235365