|
|
|
27 August
2008 / 24 Shaban
1429 |
|
بے تابیاں: طارق حسین
کرہ ارض کے غلام مسلمان
ہم اس دھرتی پر اکیسویں صدی کے فرعون کے روپ میں نمودار ہوئے ہیں۔ چنگیزیت ہمارے
پاوں کی جوتی ہے۔ سربریت ہمارا ہنر ہے۔ اس دنیا پر حکمرانی کرنا صرف ہمارا حق ہے۔
ہم چاہیں تو دھرتی کی اینٹ سے اینٹ بجادیں۔ ہواوں سے آکسیجن کو جذب کرلیں۔ جب ہماری
خواہش ہو ہم سمندروں میں زہر گھول دیں.... اور جب جی میں آئے تمہاری لگاموں کو
کھینچ لیں۔ ذرا اپنے جھکے سروں کو اوپر اٹھاکر ہمیں دیکھو! ہم تمہارے آقا امریکا
ہیں۔ ذرا اپنے مفلوک الحال جسموں اور غذا سے محروم معدوں پر ہاتھ رکھ کر دیکھو!
تمہیں اندازہ ہو، جب ہم چاہیں تمہیں چند روٹی کے ٹکڑوں سے بھی محروم کرسکتے ہیں کہ
ہمارے ساتھ ٹکرانے والوں کا انجام بھوک، افلاس اور غربت کی شکل میں واپس لوٹادیا
جاتا ہے۔
جاو! عراق، افغانستان میں ہماری حکم عدولی کرنے والوں کو دیکھو۔ مساجد، مدارس اور
ہسپتال ہم نے جلاکر بھسم کردےے۔
جاو ¿! فلسطین میں جاکر دیکھو، انہوں نے ہمارے لے پالک اسرائیل کی آنکھوں میںآنکھیں
ڈالنے کی جرا ¿ت کی تھی۔
جاو! کشمیر کی جلتی وادیوں میں اپنی قسمت کی راکھ ڈھونڈو کہ ہمارے ہاتھ جس کی پشت
پناہی کررہا ہوتا ہے وہ ہمارے ہی نقش قدم پر چلتا ہے۔ یہ اجتماعی قبریں، جلے جلے
کٹے جسم، یہ اجڑی گودیں، پدر شفقت سے محروم یتیم بچے، یہ اجڑے سہاگ، یہ قبریں،
جنازے، کتبے ہماری ہی عنایات کی سوغات ہیں۔
کیا ہے تمہاری اوقات، جب چاہیں تمہیںاپنے قدموں تلے مل دیں، تمہاری ناک میں نکیل
ڈال کر جس کھونٹے پر چاہیں تمہیں باندھ دیں۔
جاو! جاکر اپنے گھروں میں جھانکو! کیا ہے تمہارے پاس یہ ٹی وی، موبائل، کمپیوٹرز،
جن پر تم رنگ برنگ کی دنیا کے مزے لیتے ہو۔ یہ ڈی وی ڈی، یہ سی ڈیز سب ہماری عطا
ہیں۔ یہ فرش پر لگی ٹائلز جن پر تم چلتے ہو سب ہماری ہی دی ہوئی ہیں۔ یہ تمہارے
گھروں کی جلتی بجھتی روشنی، یہ ٹیوب لائٹیں، یہ بلب سب ہمارے ہیں۔ یہ سب ہماری ہی
بدولت ہے۔ اگر ہم یہ سب روک دیںتم فٹ پاتھ پر آجاو، ایک ایک کرن کوترس جاو۔
کیا تھا تمہاری عورت کے پاس؟ بس چادر، چار دیواری اور گھٹن کے فرسودہ خیالات!
تمہارے فرسودہ خیالات کے دامن میں جکڑی عورت کو کس نے ”حقوق“ دےے؟ کس نے اسے دوپٹے
کے ”عذاب“ سے چھٹکارا دلایا؟ وہ کون ہے جس نے اسے حجاب کی سختیوں سے نجات دلائی؟ وہ
کون ہے جس نے اسے چست لباسوں کی طرف راغب کیا؟ کیا وہ ہم نہیں جس نے ان کو گھروں سے
نکال کر بازار کی زینت بنایا؟ جاودیکھو تمہارے بازار، سڑکیں، اس رنگ سے بھری پڑی
ہیں۔ ہاںہم نے انہیں بتایا کہ ماڈلنگ، فیشن تمہاری ضرورت ہے اگرتم چاہتی ہو کہ
تمہارا مقابلہ جدید معاشرہ سے ہوسکے تو میک اپ کرکے نیم عریاں لباسوں میں ہماری
عورت کامقابلہ کرو، اور پھر تم نے دیکھا تمہاری عورت ہماری بات مان گئی۔
اے رجعت پسند مسلمانو! یہ ہمارا احسان ہے۔
اور تم کس بات پراکڑتے ہو؟ اس کھوکھلی معیشت پر جس کی رگوں میں چلنے کے لےے تیل
ہمارے قبضے میں ہے۔ اس کی چلنے کی آوازیں ہمارے دم قدم سے ہے۔ یہ تمہاری دم توڑتی
معیشت جو ہمارے قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہے۔ تم قیامت تک سود دیتے رہوپھر بھی ہمارے
بچھائے ہوئے چنگل سے نکل نہیں سکتے۔ اگر ہم تمہیں ڈالروں کی خیرات نہ دیں تو تمہاری
یہ ادھار کی سانسیں چلنا بند ہوجائیں۔ کیا تمہیں نہیں معلوم تم ساری دنیا کے مسلمان
ممالک کا بجٹ ہمارے بجٹ سے کم ہے۔ یہ تمہارے اسٹاک ایکسچینج ہماری خیرات سے چلتے
ہیں۔
اچھا تو تمہیں اپنی تعلیم پر ناز ہے۔ مت بھولو ، ہم تمہارے نصاب میں وہ حصہ ڈلوا
دیتے ہیں جنہیں پڑھ پڑھ کر تم ہمیشہ نسل در نسل غلام ہی پیدا کرسکتے ہو۔ ہم نے
تمہارے نصاب سے ہر وہ شے نکال دی ہے جو تمہاری احیا کا سبب بن سکتی تھی اور تم
ناچار کچھ بھی نہیں کرسکو گے۔ ہم نے تمہاری سوچ اورفکر کے دریچوں میں اپنی عظمت
ورفعت کے بت رکھ دےے ہیں۔ جن کے سامنے سجدہ ریز ہونا تمہاری مجبوری ہے۔
ذرا عقل کے ناخن لو! یہ آبدوزیں، یہ جہاز،یہ بم اور اسلحہ ہم اس لیے دیتے ہیں کہ تم
ہمارے خلاف ہی استعمال کرو؟ اور تم اسے ہمارے خلاف ایک رکاوٹ بنا دو؟ ارے نادانو!
یہ ہم اس لیے دیتے ہیں کہ اپنے ہی مسلمانوںپر استعمال کرو، کیا تم ایسا نہیں کر رہے
ہو؟
اپنی ثقافت اور تہذیب کا اب اور رونا بند کردو۔ اب ہماری تہذیب ہی تمہاری پہچان ہے۔
تمہارا لباس، چلن اور انداز جسے اختیار کرکے تم فخر محسوس کرتے ہو۔
اورتم ان جوانوں پر ناز کرتے ہو کہ یہ تمہیں ہماری غلامی سے نکال لیں گے.... میوزک
میں مست قوم کے یہ جوان، ہاتھوں میں کڑے پہنے، کانوں میںبالیاں ڈالے، چست جینز پہنے،
عریانی اورفحاشی کی دلدل میں دھنسے بھلا تمہیں کیا نجات دلائیں گے؟
جاو ¿ کرہ ارض کے غلام مسلمانو! وہ تمدن جس پر تمہیں ناز تھا وہ ہم نے تم سے چھین
لیا ہے۔ اب تمہاری روایتیں تو ہوں گی مگر سوز بلالی نہ ہوگا۔ تمہاری نمازیں تو ہوں
گی مگرکیفیت علی ؓ نہ ہوگی۔ تم تلاوت توکرو گے مگر اس میں تڑپ ابوبکر نہ ہوگی۔ اب
تمہارے میں ہم کوئی ٹیپو، طارق بن زیاد، محمد بن قاسم، صلاح الدین ایوبی پیدا نہیں
ہونے دیں گے۔ اب ہم تمہیں زہر نہیں دیںگے بلکہ تمہیں فحاشی اور عریانی سے تڑپا تڑپا
کر ماریں گے کہ تمہارا جسم تو ہمارے لیے غلام ہو اور تمہاری سوچ ہماری اطاعت کرے۔
ہم نے تمہاری بہادری اور شجاعت کو گہنادیا ہے۔ اب تم تلوار اور قلم چھوڑکر سی ڈی
اور رقص میں مصروف ہو۔
اور اس کرہ ارض کے نادان مسلمانو! تم مجھے اپنا ہمدرد سمجھتے ہو۔ تم یہ بھی نہیں
جانتے کہ ہم نے اپنے نبی سے وفا نہیں کی، بھلا تم سے کیا کریں گے؟ میں جانتا ہوںتم
باربار آسمانوںکی طرف دیکھتے ہو کہ میں برباد ہوجاو ¿ں مگر نادانو! تم یہ بھول جاتے
ہو میں تم پر تمہارے رب کی طرف سے مسلط کردہ عذاب ہوں۔ تمہارے اعمال کا نتیجہ ہوں۔
ارے نادانو! چلو آج میں تمہیں بتاتا ہوں تم مجھ سے کیسے چھٹکارا پا سکتے ہو؟ کیا تم
اپنے رب تعالیٰ اور نبی کریم محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے ہر حکم کو ماننے کے لےے خود
کو تیار کرسکتے ہو؟ اپنے اندر ان کے ہر حکم کو داخل کرسکتے ہو تو پھر تم میری غلامی
سے چھٹکاراپا سکتے ہو....
لیکن اے غلام مسلمانو! تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کو چھوڑ کر اپنی
گردن میں خود ہماری غلامی کا پٹہ ڈالا ہے۔ اے کرہ ارض کے غلام مسلمانو! یہ حقیقت ہے
کہ میں تمہیں غلام نہیں بناسکتا تھا مگر یہ غلامی کا طوق تم نے خود پہنا ہے۔ تو پھر
مجھے کیوں کوستے ہو، برا بھلا کہتے ہو؟
ارے نادانو! خود کو بدلنے کے لےے تیارنہیںہو ا ور چاہتے ہو کہ ساری دنیا بدل جائے۔ |
 |
|
|