|
|
|
30 August
2008 / 27 Shaban
1429 |
|
بے تابیاں: طارق حسین
ہمیں آٹا چور نہ بنائیں
چائے کی نشست پر شاہ صاحب مسکرائے اور بولے: ”جانتے ہو آج تم ایک آمر سے نجات پا
چکے ہو۔ تم نے مٹھائیاں بانٹیں اور خوشیاں منائیں کیا تم بھی خوش ہو؟!“ میں نے شاہ
صاحب کی سوالیہ نظروں میں دیکھا اور بولا: ”ہاں! یہ الگ بات ہے کہ وہ لمحہ خوشی کا
تھا یا نہیں مگر عبرت کا ضرور تھا۔ ان کے لیے جوآیندہ ان عہدوں پر فائز ہونا چاہتے
ہیں یا ان کے متمنی ہیں۔ شاہ صاحب! اگر محض چہرے بدل جانے سے مسائل حل ہوجاتے تو
دنیا میں آج کوئی پریشانی نہ ہو یہ تو بدلاو تو نظریئے، طریقے اور عقیدے سے تعلق
رکھتا ہے۔ تھانے کا ایس ایچ او بدل جائے مگر علاقے میں قتل، ڈکیتی اور امن وامان
میں کوئی تبدیلی نہ ہو۔ ایجوکیشن آفیسر بدل جائے مگر گھوسٹ اسکول اور اساتذہ بدستور
قائم رہیں۔ میڈیکل سپریٹنڈنٹ چارج لے لے مگر لوگوں کے لیے بھی سہولتیں ایک خواب بن
جائیں۔
شاہ صاحب بڑے بڑے گندم کے ذخیرے تو موجود ہوں مگر بھوک اور افلاس موت بن کر لوگوں
کے سروں پر منڈلاتی رہے۔ ایسے خوشہ ¿ گندم کے لیے علامہ اقبال نے فرمایا تھا کہ تم
ایسے خوشہ ¿ گندم کو جلادو، جس سے دہقان کو میسر نہ ہو روزی۔ یقینا آپ نے درست
فرمایا کہ اونچے ایوانوں میں یہ جشن منایا جارہا ہے۔ فتح کے شادیانے بج رہے ہیں۔
ایک آمر سے نجات کے گن گائے جارہے ہیں مگر آپ جانتے ہیں شاہ صاحب! کل ایک صاحب میرے
پاس تشریف لائے تھے۔ ان کے بقول سندھ کے ایک چھوٹے سے شہر میں ایک صاحب نے آٹا
خریدا اور جیسے ہی وہ آٹا لے کر چلا، ایک نو عمر لڑکے نے ان سے آٹا چھینا اور بھاگ
گیا۔ وہ جب اس کا پیچھا کرنے لگے تو دکاندار نے کہا: ”رک جائیں! اس لڑکے کو میں
جانتا ہوں آپ اور سامان خریدلیں پھر اس کے گھر چلتے ہیں۔“ اور پھر وہ دونوں اصحاب
اس گھر پہنچے تو عجیب منظر دیکھا۔ اس لڑکے کے گھر کے افراد نے آٹے کی وہ دس کلو کی
تھیلی تب تک گوندھ کر کھارہے تھے۔ چھوٹے چھوٹے بچے کچی پکی روٹیوں کو مرچ سے کھارہے
تھے جیسے کئی دن سے بھوکے ہوں۔ وہ دونوں شاید اس آٹا چور سے یہ پوچھنے کی جسارت نہ
کرسکے کہ تم نے آٹا کیوں چرایا؟ کیونکہ وہ اپنی اشکبار آنکھوں سے تڑپتی بھوک اور
افلاس کو اپنی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔
شاہ صاحب! ایسے لاکھوں گھرانے پاکستان میں عین اس وقت موجود تھے جب صدر مشرف استعفا
دے رہے تھے۔ ایک ایسا دوسرا واقعہ جو اخبارات کی زینت بنا وہ بھی آٹے کی چوری سے
متعلق ہے۔ شاہ صاحب ”آٹا چور“ شاید آپ نے پہلی بار سنا ہوگا یہ آٹا چور اس معاشرے
کو کس نے دےے ہیں۔ میں نے، آپ نے، مشرف یا موجودہ حکومت کا انعام ہے۔
شاہ صاحب! کیا آپ نہیں جانتے پاکستان کی کل آبادی میں سے 13 کروڑ 50لاکھ افراد جو
کل آبادی کا 80فیصد بنتے ہیں، اس غربت کی سطح سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔
کیا آپ نہیں جانتے غریب اور امیر کے درمیان فرق مزید بڑھ رہا ہے اور ہر سال 36لاکھ
افراد متوسط طبقے سے نکل کر غربت کی سطح سے نیچے چلے جاتے ہیں۔ چائے، سبزی، پتی،
چینی، دالیں، چاول، گھی، تیل، مرچ اور اس کے علاوہ کون سی اشیائے صرف ہےں جن کی
قیمتیں موجودہ دور حکومت میں 3گنا نہیں ہوئی ہےں۔
شاہ صاحب! میں آپ کو ایک اور دلچسپ مذاق بتانا چاہتا ہوں جو آج کے پاکستانی کے ساتھ
ہورہا ہے۔ جیسا آپ جانتے ہیں یہ 80 فیصد آبادی بالواسطہ ٹیکس ادا کررہی ہے۔ مثلا آپ
صابن کی خریداری پر 16 فیصد ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ وہ ہر سو روپے کی خریداری پر 16
روپے حکومت کو ادا کرتی ہے لہٰذا اگر کم از کم تنخواہ 6000 روپے ماہوار ہوتو اس میں
سے بالواسطہ ٹیکسوں کی مد میں حکومت کو960 روپے ادا کرنے پڑتے ہیں اور اس غریب پر
حکومت کی دوغلی پالیسی ابھی ختم نہیں ہوتی۔ وہ محض ایک لیٹر پٹرول پر38 روپے کا
منافع کمارہی ہے۔ اس تمام کی ادائیگی ایک صارف کو کرنا پڑتی ہے کیونکہ وہ آخری
استعمال کنندہ ہوتا ہے۔ شاہ صاحب! ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک طرف 80 فی صد
طبقہ ہرشے کی خریداری پر سیلز ٹیکس ادا کرتا ہے اور دوسری طرف طبقہ امرا سرمائے پر
ہونے والے منافع، ویلتھ ٹیکس، جائیداد کی منتقلی ٹیکس سے مستثنیٰ ہے۔
شاہ صاحب! آپ کس خوشی کی بات کرتے ہیں؟ لینڈ کروزروں، مرسیڈز اور پراڈو میںسفر کرنے
والوں کو اس بات کا اندازہ کہاں کہ ایک مزدور کو محض ایک دن میں سفری اخراجات کی مد
میں 60 روپے سے زائد برداشت کرنے پڑرہے ہیں؟ اربوں روپے کا منرل واٹر پی جانے والوں
کو کیا پتا محض روٹی اور زندہ رہنے کی خاطر روزانہ کے 100 سے 150 روپے خرچ کرنے
پڑتے ہیں اور یہ اخراجات صرف ایک فرد کے ہیں۔ جس گھر میں پانچ سے چھ افراد ہوں وہاں
کی صورتِ حال کا اندازہ آپ خود لگاسکتے ہیں۔
شاہ صاحب! میں آپ کو ایک اور حیرت انگیز بات بتاو ¿ں۔ موجودہ حکومت کے دور میں آٹے
کی خریداری میں کمی واقع ہوئی ہے کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے وہ گھرانہ جو پہلے 50
کلو آٹا استعمال کررہا تھا، قوت خرید نہ ہونے کے باعث اس نے کم آٹا خریدا یعنی اب
لوگ اس مقام پر آچکے ہیں کہ وہ اپنا اور اپنے بچوں کاپیٹ کاٹنے پر مجبور ہیں....
....اور شاہ صاحب آپ مجھ سے پوچھتے ہیں ایک آمر کے جانے سے مجھے خوشی ہوئی کہ نہیں!
مجھے خوشی اس وقت ہوتی جب متوقع صدر این آر اوزدہ 98 ارب روپے کی رقم واپس قوم کے
خزانے میں جمع کراتے اور فرماتے: ”یہ رقم ملک کے غربا میں تقسیم کردو کہ ملک سے
غربت ختم ہوجائے۔“ میں اس وقت خوش ہوتا جب قانون کی حکمرانی قائم ہوتی اور وعدے،
قسمیں اور حلف توڑنے والے، امریکی جھولی میں بیٹھ کر فیڈر لینے کے بجائے اپنے فیصلے
خود کرنے کی ہمت رکھتے۔ شاہ صاحب! مجھے مشرف اور موجودہ حکومت میں صرف اتنا فرق
محسوس ہوتا ہے کہ مشرف علی الاعلان امریکا کی حمایت کرتا تھا اور یہ حکمران پس چلمن
دوستانے رکھتے ہیں۔ موجودہ وزیر اعظم صاحب کے غیر ملکی دوروں پر جس طرح اخراجات
اُٹھے ہیں اور قومی دولت کا زیاں ہوا ہے۔ شاہ صاحب! وہ رقم ایک غریب مزدور نے صابن
خریدا کر ادا کی تھی۔ اس نے جب آٹا خریدا تھا، اس وقت اس کی جیب سے نکلی تھی جب اس
نے سبزی لی تھی، اپنے بچوں کا پیٹ کاٹ کر حکمرانوں کو دی تھی۔
شاہ صاحب! آج وہی گیلانی صاحب جو وکلا تحریک کا حصہ ہوا کرتے تھے، مال روڈ کی سڑکوں
پر دھرنے دیتے اور احتجاجی صدائیں بلند کرتے تھے اور تمام پبلک کا حصہ تھے، آج وسیع
وعریض پروٹو کول ضروری سمجھتے ہیں کیونکہ اب وہ حکومت کا حصہ ہیں۔
شاہ صاحب! یہ دو غلا پن مفاہمت نہیں تو اور کیا ہے؟ شاہ صاحب! ہمیں اپنے گریبانوں
میں جھانکنا ہوگا۔ اگر موجودہ حکومت یہ کہہ کر کہ عالمی منڈی میں منہگائی ہے وہ کیا
کر سکتے ہیں؟ تو افسوس کا مقام ہے۔ پھر وہ مسند اقتدار سے نیچے آئیں کیونکہ اگر وہ
نہ تھے تو تب بھی ایسا ہی نظام تھا۔ آخر انہوں نے آکر کیا بدلا۔؟ سب ویسا ہی ہے۔
شاہ صاحب یاد رکھیں! مشرف صاحب ماضی بن گئے مگر وہ جب اکےلے بیٹھے ہوںگے تو ضرور
سوچتے ہوںگے ان سے کیا کیا غلطیاں ہوئیں؟ انہیں کون سے کام کرنے اور کون سے نہیں
کرنے چاہیے تھے؟ اگر موجودہ حکومت آج ہی سوچ لے تو بہتر ہے اور مشرف صاحب کے تجربہ
سے فائدہ اٹھالیں۔ کسی کو کتنا بھی عروج ملے زوال ضرور دیکھنا پڑتا ہے۔ آج اگر اوج
ثریا پر بیٹھے حکمرانوں کی نگاہوں سے وہ منظر اوجھل ہیں تو نہ بھولیں آج بھی امریکا
نے مشرف کا ساتھ نہ دیا۔ شاید کل آپ کا تجربہ بھی کچھ ایسا ہی ہو۔ عدلیہ بحال اور
منہگائی روک لو۔ معاشرے سے اگر بھوک اور افلاس پھیل جائے اور انصاف مٹ جائے تو پھر
انقلاب کی راہیں اور مضبوط ہوجایا کرتی ہیں۔ خدارا! قوم کو اس مقام تک مت پہنچاو
کہ اس کے بچے آٹا چوری کرنے پر مجبور ہوجائیں۔۔ |
 |
|
|