|
|
|
07
August
2008 / 04 Shaban
1429 |
|
|
|
بے تابیاں: طارق حسین
آپ بھی کہیے
مورخہ18فروری 2008ءکو ملک میں ایک نئی نوید ابھر کر سامنے آئی۔ ق لیگ کا بستر گول
ہوا۔ دھوم دھڑکے سے اتحادی حکومت نے قلمدان سنبھالا۔ ”قدامت پرستی“ سے کوسوں دور
لبرل اور نئے روشن خیال افراد مسند اقتدار پر جلوہ افروز ہوئے۔ خوشحالی اور غربت کے
خاتمہ کے نئے ترانے بجنے لگے۔ دن ایک ایک کرکے گزرتے رہے اور دھیرے دھیرے اتحادی
خود کو بہتر اتحادی ثابت کرنے کی کوششوں میں جت گئے۔ اس عرصہ کے دوران عوام اور
حکومت کے درمیاں خلیج وسیع ہوئی اور دوریاں بڑھیں۔
ساری حکومت چند مرکزی ہاتھوں کے سامنے یرغمال ہے۔ نہ آج کسی کو مینڈیٹ یاد ہے نہ وہ
باتیں اور نہ ہی وہ وعدے.... گدھا گاڑی میں جُتے عوام کی نکیل اب اور سخت ہوچکی ہے۔
وہ پہلے بھی صرف اتنا جانتے تھے کہ کوئی اوپر سے لٹ مار رہا ہے اور آج بھی ان کی
سوچ کا محور اسی کے گرد گھوم رہا ہے۔
اگر آپ اخبارات کا مطالعہ فرمائیں تو خبر ”ہئیں ہئیں“ لگتی ہے۔ حکومت نے ججوں کی
بحالی کا وعدہ کیا اور مقررہ مدت گزر نے کے بعد کہا: ”ہئیں ہئیں“ پھر اچانک پتا چلا
کہ سرحدکے ضمنی انتخابات ملتوی ہوچکے ہیں۔ جب حکومت سے پوچھاگیا تو جواب ملا ”ہئیں
ہئیں“ ایک گمنام چٹ پیچھے سے آئی اور پھر عوام پر بجلی گرادی گئی اور سی این جی کی
قیمتیں ناقابل یقین حد تک بڑھادیں گئیں۔ جب اس کے بارے میں حکومت سے پوچھا گیا تو
جواب ملا: ”ہئیں ہئیں“ این آر او والے بڑے دھڑلے سے مواخذہ کی بات کیا کرتے تھے۔ جب
مواخذہ کا پوچھا گیا تو جواب ملا: ”ہئیں ہئیں“ ۔۔۔۔۔
ابھی ہم اسی ”ہئیں ہئیں“ کا حساب لگارہے تھے کہ پتا چلا آئی ایس آئی کو رات کے
سناٹے میں دلہن بناکر وزارت داخلہ سے بیاہ دیا گیا ہے جب اس کی سند مانگی گئی تو
جواب ملا ”ہئیں ہئیں!“ ۔۔۔۔۔
لیکن حکومتی اقدامات کی ”ہئیں ہئیں“ یہاں ختم نہیں ہوتی۔ جب وزیر اعظم صاحب کا
طیارہ ہیتھرو ائیر پورٹ پرہی گھنٹہ بھر اڑتا رہا تو اس کا جواب بھی ملا ”ہئیں ہئیں“
اور جب گیلانی صاحب ”عالم پناہ“ کی قدم بوسی کے لےے پہنچے تو گیلانی صاحب کے
امپورٹڈ جوتے سرخ قالینوں سے محروم رہے۔ اسکینگ مشینوں اورکتوں نے بھرپور طور پر
اپنے فن کامظاہرہ کیا۔ آٹھ گھنٹے کی صبرآزما امیگریشن گائیڈنس کے بعد جب وفد وائٹ
ہاو ¿س کے چرنوں پھول چڑھانے پہنچا تو امریکی عوام نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ وائٹ
ہاو ¿س کے دروازوں سے گزرنے کے لیے ”ایک ہی صف میں کھڑے ہوئے محمود وایاز“۔۔۔۔۔
جب شرف باریابی نصیب ہوا تو صرف ”فوٹوسیشن“ اور ”آٹو گراف“ سے بات آگے نہ بڑھی۔ سنا
ہے وہاں بھی کچھ یہی ”ہئیں ہئیں“ ہوئی۔
وار آن ٹیرر کے نصاب میں جس ٹیوشن کے لیے وزیر اعظم صاحب نے بش کو اپنا ٹیچر چنا اس
نے سنا ہے پہلے اپنی انگریزی درست کرنے کی تاکید فرمائی ہے۔ اور پھر تو ”ہئیں ہئیں“
کی انتہا ہوگئی جب وزیر اعظم صاحب تقریر فرما رہے تھے تو پورے ہال سے کسی کی آنکھ،
کسی کے لب اور کسی کے چہرے سے مسرت سے ”ہئیں ہئیں“ نکل رہا تھا۔ اور وہ آنکھ تو
کوئی بھی بھول نہیں سکتا جب کوئی شخص کسی دوسرے کی طرف منہ کرکے ایک آنکھ مارے کہ
یہ جو کہہ رہا ہے ”بس ایویں ای اے“ وہی آنکھ بش نے وزیر اعظم صاحب کی تقریر کے
دوران صحافیوں کی طرف کرکے ماری۔ شاید وہ بھی ”ہئیں ہئیں“ کا مطلب سمجھ گئے تھے۔
دست بدست ہاتھ باندھے وزیراعظم کا وفد واپس آچکا ہے اور جب اس دورے کے مقاصد کا
پوچھا گیا تو جواب بدستور ملا ”ہئیں ہئیں“ مگریہ ”ہئیں ہئیں“ کا مطلب کیا ہے؟ میں
تو صرف اتنا جانتا ہوں کہ میں نے اکثر سنا ہے: ”گل ہووے نہ ہووے ہر ویلے ”ہئیں ہئیں“
نہ کیتا کر اور اے کی ہیک تے غلط کم اُتوں ”ہئیں ہئیں“۔۔۔۔۔
میں چلتاہوں ورنہ کہیں میری باتیں بھی آپ نہ کہیں دیں: ”ہئیں ہئیں“ ۔۔۔۔ |
 |
|
|