|
|
|
18 July
2008 / 14 Rajab-al-Murajjab
1429 |
|
|
|
بے تابیاں: طارق حسین
دہشت گردی کے خلاف
جنگ کی اصل حقیقت
یہ 11ستمبر کی
صبح تھی جب دو جہاز ٹوئن ٹاور سے ٹکرائے اور دنیا پہلی بار دہشت گردی کے نام سے
واقف ہوئی۔“ ڈاکٹر صاحب نے چشمہ اوپر اٹھایا اور بولے۔ ڈاکٹر صاحب سٹریٹجک امور کے
ماہر ہیں اور بین الاقوامی معاملات پر گہری نگاہ رکھتے ہیں۔ ان سے میری اس ملاقات
میں دہشت گردی کی حقیقت پر بات چل نکلی۔ اس وقت ہم ایک اہم دور سے گزررہے ہیں۔
پچھلے سو سال میں 10 کروڑ لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھوبیٹھے ہیں۔
یہ سب کچھ کیوں ہوا؟ ان کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے؟ ایسے بہت سے سوالوں کے جوابات میرے
اندر لاوا بن کر ابل رہے تھے۔ یہ کیسے ہوا یہ کس نے کرایا؟ کون ان کی پشت پناہی
کررہا ہے؟ آخریہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی حقیقت کیا ہے؟ امریکا کا کردار کیا ہے۔
کیا پاکستان کا کردار درست سمت میں ہے یا ایک کٹھ پتلی کا کردار ادا کررہا ہے۔ یہ
سارے سوالات لے کر میں نے ڈاکٹر صاحب کے سامنے رکھ دیئے۔
وہ مسکرائے اور بولے: ”ہاں تم ٹھیک سمجھ رہے ہو، دنیا اس وقت ایک عالمی فساد
میںمبتلا ہے، جنگیں کی جارہی ہیں۔ وار ان ٹیرر کے نام پر مڈل ایسٹ کے نقشے تبدیل
کیے جارہے ہیں۔ پاکستان داخلی اورخارجی طور پر ایک فساد میں مبتلا ہے۔ چاروں طرف سے
مسلم دنیا ایک انتشار کا شکار ہے۔ امریکا سوویت یونین کے خاتمہ کے بعد ایک سپر پاور
بن کر ابھرا ہے اور اس نے پوری دنیا میں اپنے اسٹریٹجک مفادات کی خاطر کارروائی
شروع کی۔ جنگیں برپا کیں۔ ان معاملات میں روس اور چائنا کا کیا کردار ہے؟ اسرائیل
کا کیا رول ہے؟ وار ان ٹیرر کے فسادات کس کو مل رہے ہیں؟ یہ وہ سوال ہیں جس کے جواب
سب کو مطلوب ہیں۔
انہوں نے اپنی کرسی گھمائی اور بولے: ”یہ ہفتے اور مہینے کے ایشوز نہیں ہیں۔ امریکا
جب اپنی فارن پالیسی بناتا ہے تو 25 سال، 30سال کے حالات کو مد نظر رکھتا ہے۔ میں
چاہتا ہوں تم پہلے ان دوتین باتوں پر غور کرلو۔ اس وقت میڈیا کا اس دنیا میں کیا
کردار ہے؟ جس طرح جنگوں میں دوفوجیں لڑتی ہیں۔ اسی طرح انفارمیشن اور پروپیگنڈا وار
جاری ہے۔ نفسیاتی حملے، انفارمیشن وار، ڈس انفارمیشن وار جاری ہیں۔ آج کل جنگیں
پہلے اسٹوڈیوز اور ائیرز پر لڑی جاتی ہیں۔ اس کے بعد ان کی عکس بندی میدان جنگ میں
ہوتی ہے۔ اس کی مثال عراق کے جوہری ہتھیاروں کے بارے میں بین الاقوامی میڈیا کا
پروپیگنڈہ ہے۔ پوری دنیا کو باور کرایا گیا کہ عراق کے پاس بھاری مقدار میں وسیع
پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار موجود ہیں۔ حتیٰ کہ یونائیٹڈ نیشن نے بھی یہی
کہا۔ اس کے بعد ان پر جنگ مسلط کردی گئی مگر وہاں ایسے کوئی ہتھیار نہیں ملے۔ یہ
میڈیا کے ذریعے ایک بہترین ڈس انفارمیشن جنگ تھی اور اسی کو بنیاد بناکر ملٹری
آپریشن ہوا۔“ میں نے ڈاکٹر صاحب سے کہا یہ کیسے ممکن ہے کہ سب کے ذہنوں کو ایک دفعہ
ہی میں بدل دیا جائے اور سب کے سب اس بات پر اعتبار کرنے لگیں۔
ڈاکٹر صاحب بولے: ”دو باتیں بہت اہم ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ اگر کوئی یہ کہتا ہے
مغرب کا میڈیا جو ہمارے آس پاس کی خبریں دے رہا ہے، وہ درست، غیر متعصب اور حقیقت
پر مبنی ہیں۔ بذات خود ایک مضحکہ خیز بات ہے۔ دوسری بات مغربی حکومتیں اپنی فارن
پالیسی کو آگے بڑھانے کے لیے ان میڈیا چینلز کو استعمال کرتی ہیں۔ لہٰذا یہی ان
حکومتوں کے اصل راز ہوتے ہیں۔ وہ ہم تک نہیں پہنچتے۔ عام لوگوں تک نہیں پہنچتے۔ اور
ایک اہم بات یہ بھی کہ اگر میڈیا کا کوئی چینل درست بات بتا بھی دیتا ہے تو وہ اتنی
مختصر، اتنی چھوٹی اور اتنی بکھری ہوئی ہوتی ہے کہ ایک عام آدمی میں یہ صلاحیت ہی
نہیں ہوتی کہ یہ سب مواد اکٹھا کرسکے اور ایک تصویر بناسکے۔ وہ ان کم معلومات سے
پوری بڑی تصویر نہیں بناسکتا۔ آج دہشت گردی کے خلاف جنگ کی حقیقت کے لیے میں تمہیں
معلومات نہیں دوں گا۔ وہ تو تمہیں ہر جگہ مل جائیں گی بلکہ میں تمہیں اس کا علم دوں
گا۔ میں تمہیں صرف حقائق نہیں بتاو ¿ں گا بلکہ تمہاری آنکھوں کے سامنے سے دھند ہٹاو
¿ں گا۔ میں تمہیں وہ کارنر دکھاو ¿ں گا۔ ان تاریک راہوں کی نشاندہی کروں گا۔ وہ پس
پردہ خفیہ راز بتاو ¿ں گا جو ہوسکتا ہے بڑی طاقتوں کی نیندیں حرام کردیں۔ اور تم
جانتے ہو یہ ایک خطرناک معاملہ ہے کیونکہ میں ان ڈس انفارمیشن پر سے پردہ اٹھاو ¿ں
گا جن کے بارے میںہم معلومات کے بہاو کے سامنے جان ہی نہیں سکتے کہ اصل حقیقت کیا
ہے؟
”مگر آپ یہ سب کس کے لیے بتائیںگے۔“ میں نے ڈاکٹر صاحب سے سوال کیا۔
”ہاں!“ ڈاکٹر صاحب بولے۔
”دراصل میں پاکستان اور اس کے عوام بالخصوص امت مسلمہ کے لیے ایک دوسرا پوائنٹ دینا
چاہتا ہوں اور میں انہیں کو یہ بتانا چاہتا ہوں جن کے دلوں میںیہ ساری حقیقت موجود
ہے مگر وہ پریشان ہیں۔“
”یہ سارا معاملہ کیا ہے؟“ میں نے ڈاکٹر صاحب سے کہا۔ ڈاکٹر صاحب نے گردن ہلائی۔
دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کرکے بولے: ”ہاں! آج دنیا میں تم جب
سماج کو دیکھ رہے ہو۔ یہ ایک سپر پاور کے مفادات کے گرد گھوم رہی ہے جس کی وجہ سے
ہمیں یہ حالات نظر آرہے ہیں۔ جو گزشتہ 30 سے 40 سالوں کے عرصے پر محیط ہیں۔ اس میں
ان کے کئی مفادات شامل ہیں۔
جیسے میں نے پہلے کہا تھا امریکا پالیسی بناتے وقت ایک صدی کے لیے، 25 سے 50سالوں
کا خیال رکھتا ہے۔ میں بات 1924ءسے شروع کرنا چاہتا ہوں جب خلافت عثمانیہ کا خاتمہ
کیا گیا جو کئی سو سال سے امت کی وحدت کی علامت تھی، مسمار کردی گئی۔ اس وقت اس میں
سے تقریباً 50کے قریب ممالک نکالے گئے اور امت کی بجائے نیشن اسٹیٹ”ملک“ کا تصور
دیا گیا۔ ان سامراجی فورسز نے مسلمانوں کو دیوار کے ساتھ لگانا چاہا۔ اس وقت پوری
دنیا میں بالخصوص مڈل ایسٹ، یوریشیا اور ایشیا میں جو جنگیں نظر آرہی ہیں چاہے وہ
عراق کی جنگ ہو، افغانستان کی جنگ ہو چاہے روس امریکا کنفیڈریشن ہو۔ چاہے گریٹر
اسرائیل کی بات ہو یا ایران پر حملے کی بات ہو، یہ تمام معاملات چھ اہم اہداف کی
نشاندہی کرتے ہیں۔ جو امریکن فارن پالیسی کا حصہ ہیں۔ جب ہم ان چھ اسٹریٹجک مفادات
کو جان لیں گے تو ہمارے سامنے بہت سی باتیں کھل کر آجائیں گی اور دھندلا پن کم
ہوجائے گا۔“
”اچھا!“ میں نے پلکیں جھپکیں اور بولا: ”ان چھ معاملات میں!“
”ہاں!“ ڈاکٹر صاحب بولے۔ دراصل ہمارے سامنے جو میڈیا رکھتا ہے اس کے پس منظر کو
سمجھنا آسان ہوجاتا ہے۔ کسی بھی قوم کے بہت زیادہ ابجیک ٹیوزنہیں ہوتے جو تھوڑے
ہوتے ہیں مگر انہیں حاصل کرنے کے لیے پوری دنیا میں ایک طوفان برپا کیا جاتا ہے اور
اس کے بعد اس میں مختلف قسم کی اسٹریٹجی اور میڈیا کمپین بنائی جاتی ہے اور ایشوز
کھڑے کئے جاتے ہیں۔ ہم صرف گرینڈ اسٹرٹیجک کی بات کریں گے۔ سوویت یونین کے خاتمہ کے
بعد امریکا واحد سپر پاور بن کر سامنے آیا اور اس خلا میں جب وہ یونی پاور بننا
چاہا اور اس خلا کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے یہ چھ اہم اہداف متعین کےے اور اس
پر عمل کرنے کے لیے پوری دنیا میں اپنے آپ کو ری پوزیشن کرنا شروع کیا۔ یہ ابجیکٹس
یہ ہیں: پہلا ڈیفنس سیکیونٹی آف اسرائیل ہے۔ امریکن فارن پالیسی کا یہ اہم ترین
مرحلہ ہے۔ اس وقت جو امریکا کی حکومت میں بش انتظامیہ ہے۔ اس میں کنزرویٹور،
کرسچین، صہیونی .... یہ لوگ مذہبی عقیدے کے ساتھ جنہیں نیوگارم کہا جاتا ہے۔ یہ
مکمل طورپر ایک مذہبی آئیڈیالوجی پر چل رہے ہیں اور اسرائیل کے دفاع کے لیے پورے
مڈل ایسٹ میں تلاطم برپا کرنا ضروری ہے۔ یعنی وہ تمام ممالک جو اسرائیل کے لیے خطرہ
ہوسکتے ہیں، انہیں ختم کرنا ضروری ہے اس لئے مڈل ایسٹ کے نقشے ری ڈیزائن کیے جائیں
گے۔“
”آخر اسرائیل کو خطرناک کیوں سمجھا جاتا ہے؟ وہ بھی ایک ملک ہے اور دوسروں کی طرح
اسے بھی رہنے کا حق ہے۔ یہ میرا نہیں اور بھی لوگوں کا خیال ہے۔“ میں نے کہا۔
ڈاکٹر صاحب مسکرائے اور بولے: ”ہاں! میں اس بات کا جواب بھی دوں گا مگر پہلے امریکا
کی فارن پالیسی میں اسرائیل کے تحفظ کی پالیسی کے اصل محرکات کو واضح کردوں۔ اس کی
وجوہات کیا ہیںکہ اسرائیل جیسا چھوٹا ملک امریکا کی فارن پالیسی کنٹرول کررہا ہے
اور تاریخ میں یہ کبھی نہیں ہواکہ ایک چھوٹا ملک ایک اتنے بڑے ملک کی فارن پالیسی
کنٹرول کرے۔ پہلے تمہیں کنزرویٹو، کرسچن زائنسٹ کا ذہن پڑھنا ہوگا جو مکمل طور پر
مذہبی رجحان رکھتا ہے۔“
”اور دوسرا ابجیکٹ کیا ہے؟“ میں نے کہا۔
”ہاں! یہ کہا جاتا ہے کہ امریکا کا وسطی ایشیائی ممالک میں آنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ
تیل اور انرجی کے ذخائر پرقبضہ کرنا چاہتا ہے۔ یہ بات بالکل ٹھیک ہے مگر صرف محدود
نہیں ہے کہ وہ صرف اسی مقصد کے تحت یہاں آیاہے۔“
”تو آخر وہ یہاں اور کس وجہ سے آیا ہے؟“ میں نے ڈاکٹر صاحب سے سوال کیا! ڈاکٹر صاحب
بولے: ”ہاں یہ بھی بتاتا ہوں۔“ اور بولے: ”پہلے میںتمہیں وہ چھ اہم اہداف بتادوں
پھر یہ بھی بتاو ¿ں گا۔“ میری بے چینی بڑھ رہی تھی۔ ڈاکٹر صاحب بولے: ”جیسا میں نے
پہلا ہدف بتایا گریٹر اسرائیل کاقیام اور اس کی راہ میں وہ ممالک جن کے پاس
نیوکلیئر توانائی ہے اور جو اسرائیل کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ ان رکاوٹوں کو دور
کرنا اور ان ممالک کو تباہ کرنا ضروری ہے۔ جیسے دوسراہدف تیل کے ذخائر ہیں اس کی
بھی وجہ ہے ہم اس پر بھی آئیںگے کہ کیوں امریکا اس وقت اتنا بے چین ہے کہ وہ تیل کے
ذخیروں پر براہ راست قبضہ چاہتا ہے؟ 30، 40، 50، 60، 70ءکی دہائیوں میں اسے ایسا
کوئی خیال کیوں نہیں آیا؟ یہ اچانک خیال اس کی فارن پالیسی کا حصہ کیوں بنا؟“
اور ڈاکٹر صاحب اٹھے اور بولے: ”ادھر آو ¿۔“ وہ دنیا کے نقشے کے پاس مجھے ساتھ لے
گئے اور بولے: ”یہ دیکھو دنیا کا نقشہ، ان کا تیسرا ہدف کیا ہے جس کا آج تک کسی نے
ذکر نہیں کیا۔ عالم اسلام اس طرح سے دنیا کے نقشے میں بالکل بیچ میں آتا ہے کہ دنیا
کے تمام علاقوںکو جانے والے ”واٹر ٹریڈنگ روٹ“ مسلمانوں کے علاقوں سے گزرتے ہیں۔
یعنی پوری دنیا کی تجارت مسلمانوں کے علاقوں سے گزرتی ہے۔ جس طرح تیل پر مسلمانوں
کی حکمرانی ہے بالکل اسی طرح آبی راستوں پر بھی مسلمانوں کا کنٹرول ہے۔ مثلاً: یہ
دیکھو مغربی افریقا سے جبل الطارق یا جبرالٹر کا جو علاقہ ہے وہ مسلمانوں کے علاقوں
سے ہوکر گزرتا ہے۔ تم تھوڑا سا آگے دیکھو یہ آبنائے باسفورس ہے۔ نیچے نہر سوئز ہے
جو مسلمانوں کی ہے۔ پھر یہ پان آف افریقا ہے یہ مسلمانوں کے پاس ہے۔ پھر یہ گلف ہے
یہ مسلمانوں کے پاس ہے۔ انڈونیشیا کے پاس یہ اسٹیٹس مسلمانوں کے پاس ہے۔ ان میں سے
مسلمان کسی ایک بھی راستے کو بند کردیں تو دنیا کی تجارت رک جائے گی۔ اس وقت جو
انہوں نے مسلم دنیا میں فساد برپا کررکھا ہے، انہیں خطرہ ہے کہ کہیں مسلمان یہ
راستے بند نہ کردیں۔ یہ دیکھو نقشے میں جبل الطارق اسپین کا علاقہ ہے مگر اس کے
ساوتھ میں انگلینڈ نے اپنی کالونی رکھی ہوئی ہے جبکہ افریقا کی طرف اسپین نے کالونی
رکھی ہوئی ہے کیونکہ دونوں طرف یورپین ان راستوں کو اپنے کنٹرول میںرکھنا چاہتے
ہیں۔ سوئز کینال کو جب مصر نے 50ءکی دہائی میں بند کیا تو فرانس اور انگلینڈ نے مصر
پر باقاعدہ حملہ کیا تھا۔ اس لئے امریکا پان آف افریقا میں صومالیہ اور جبوتی، جس
میں اس کا ملٹری بیس ہے اور صومالیہ وہ دخل اس لیے دے رہا ہے کہ وہ اس کو اپنے قبضے
میںرکھنا چاہتا ہے کیونکہ اس کے دونوں طرف مسلمان ممالک ہیں۔ اور پھر گلف اور انڈو
نیشیا کی ملاکا اسٹیٹ جہاں سے ساری تجارت گزرتی ہے یہ تیسرا ہدف تھا۔“ پھر ڈاکٹر
صاحب بولے: ”تواب تم چاہتے ہو کہ تمہیں چوتھا ہدف بھی بتادیں تو سنو امریکا کا
چوتھا ہدف ہے:
Defeating, attacking and destroying the except of political Islam and Ideology
اس کی بھی وجوہات ہیں۔ دنیا پچھلے 70سال سے دو نظاموں میں تقسیم تھی۔ ایک سرمایہ
درانہ اور دوسرا کمیونسٹ نظام تھا اور اب کمیونزم کوئی بھی آئیڈیالوجکل خطرہ نہیں
ہے۔ ان کا ہدف اب اسلام کی آئیڈیالوجی ہے۔ حتیٰ کہ وہ پوری دنیا میں اسلام کو دہشت
گردوں کا مذہب بناکر پیش کررہا ہے۔ اس کے باوجود یورپ اور امریکا میں اسلام انتہائی
تیزی سے پھیل رہا ہے کیونکہ اسلام بصورت پولیٹیکل آئیڈیالوجیکل پھیل رہا ہے۔ اس میں
بھی اسلام کی ایک اہم تاریخ ہے۔ اگر ہم اسلام کی تاریخ کو دیکھیں تو تاتاری جنہوں
نے پورے عالم اسلام میںایک تباہی مچادی تھی۔ جنہوں نے بغداد تک کو تباہ کیا تھا۔
انہوں نے اسلام کو ختم کرنا چاہاتھا مگر ان کی اگلی نسلیں ساری مسلمان ہوگئی تھیں۔
وہ اسلام کی آئیڈیالوجی سے متاثر ہوئے تھے اور مسلمانوں کو دو عظیم تہذیبیں دیں:
ایک مغل اور دوسری خلافت عثمانیہ دی۔ جبکہ مغل تاتاریوں کی اولاد ہیں۔ یہ اسلام کی
خوبی ہے کہ اس پر قبضہ کیا جائے یا یہ قبضہ کرے دونوں صورتوں میں یہ مخالف کو ضرور
متاثر کرتا ہے اور اس وقت کیفیت یہ ہے کہ برطانوی اور امریکی فوجی جو افغانستان میں
تعینات ہیں ان میں خاصے لوگوں نے اسلام قبول کرلیا ہے۔ یورپ میںسب سے زیادہ اسلام
پھیل رہا ہے۔“
”اور ان کا چوتھا ہدف تھا جس کے تحت انہوں نے مڈل ایسٹ کی چھوٹی چھوٹی ریاستیں
بنالی ہیں تاکہ ان بڑی ریاستوں کو چھوٹا کردو تاکہ پولٹیکل اسلام نافذ نہ ہوسکے اور
ان کا پانچواں ہدف مسلم دنیا سے باہر ہے مگر کیا؟! بعد میں بات کریں گے بہت دیر
ہوگئی ہے۔ اب چلتے ہیں۔“
میں نے رات مشکل سے گزاری اور میں صبح سے ہی ڈاکٹر صاحب کے پاس جانے کے لیے تیار
ہوگیا۔ دوپہر کو ڈاکٹر صاحب نے مجھے دیکھا تو بولے: ”ہاں! مجھے یاد ہے آج میں نے آپ
کو پانچواں ہدف بتانا ہے۔“
”جی ہاں!“ میں بولا۔ ہم لوگ چائے کی ٹیبل کے پاس بیٹھ گئے۔ ڈاکٹر صاحب نے چائے کا
ایک گھونٹ لیا اور بولے: ”ہاں! پانچواں ہدف! ان کا پانچواں ہدف، جیسے میں نے بتایا
تھا مسلم دنیا سے باہر ہے۔ یہ ہدف روس کے اندر ہے۔ صدر پیوٹن کی قیادت میں روس
دوبارہ ریوائیووہورہا ہے۔ یہ ایک مختلف روس ہے وہ نہیں ہے جو سوویت یونین ٹوٹنے کے
بعد تھا اور اب دوبارہ روس اس کو چیلنج کررہا ہے۔ یہ ایسٹ یورپ میں ”انٹی نیوکلیئر
بیلیسٹک شیٹ“ لگانے پر مجبور ہورہے ہیں کیونکہ انہیں روس سے خطرہ ہے۔“
میں نے ٹوکا: ”سر! روس تو ختم ہوچکا ہے۔“ ڈاکٹر صاحب مسکرائے اور بولے: ”نہیں ایسا
نہیں ہے وہ دوبارہ سے اپنی قوت اکٹھی کررہا ہے اور وہ مقابلے کی تیاری کررہا ہے....
اور چھٹاہدف چائنا ہے۔ پہلے یہ بات سمجھ لیں کہ امریکا اپنی سپر طاقت کے دوسوسال
مکمل کرچکا ہے۔ اس کی سوشل، فیملی لائف، اس کا اکنامک سسٹم، اس کی ڈالر کرنسی....
یہ سب کچھ تباہی کی طرف جارہا ہے۔ اس وقت دنیا کے 127 ممالک میں امریکا کی فوجیں
موجود ہیں اور اس وقت حالت یہ ہے کہ عراق جنگ ان کے بجٹ سے کھربوں ڈالر اوپر ہوچکی
ہے۔ اس وقت یہ مجبور ہیںقرض لے کر جنگیں لڑنے پر اور مکمل تباہی کی طرف رواں دواں
ہیں۔ اس کے مقابلے میں چائنا ایک ”امیج جنگ“قوم ہے۔ یہ جانتے ہیں کہ چائنا کو روکنا
ازحد ضروری ہے۔ روس اور چین نے مل کر (ایس ای او) بنایا ہے۔ پورے سینٹرل
ایشیاءمیںایک بڑا بلاک نیٹو کے مقابلے میں بنایا ہے۔ پہلے جنگیں ملکوں کے درمیان
ہوتی تھیں۔ پھر سپر طاقتوں کے درمیان.... مگر اب سیکورٹی بلاکس کے درمیان جنگیں
ہوںگی۔ چائنا کے پاس وہ استعداد نہیں ہے کہ وہ اپنی فوج کو زیادہ پروجیکشن دے سکے۔
اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکا چاہتاہے کہ چین کو انرجی کی سخت ضرورت ہے۔
چائنا پورے مڈل ایسٹ میں، ساوتھ امریکا میں، ایران میں، افریقا میں انرجی تلاش کرنے
کی کوشش کررہا ہے اور ہر جگہ امریکا اسے روکنے کی کوشش کررہا ہے۔ اس سے ان کے
درمیان اختلافات جنم لے رہے ہیں اور ایک اور اہم بات، چائنا کے پاس فارن ڈالر ذخائر
ریزرووایک ٹریلین سے زائد ہوچکے ہیں۔ اگر چائنیز یہ چاہیں کہ جنگ کے خرچے کے لیے
امریکا کو رقوم دیں، پھر سود کے ساتھ واپس ادائیگی کریں۔ اگر چائنا چاہے کہ امریکا
کی اکانومی کو تباہ کردے تو ڈالر میںتجارت کرنا بند کردے لیکن چائنیز کی کمزوری یہ
ہے کہ ان کے پاس انرجی نہیں ہے۔ تمام انرجی سمندری راستوں سے جاتی ہے جن پر امریکا
کا کنٹرول ہے۔“
”ڈاکٹر صاحب! تو کیا آپ کے خیال میں چائنا ہی اصل میںاس وقت امریکا کا مقابلہ کرنے
کی صلاحیت رکھتا ہے؟“
ڈاکٹر صاحب بولے: ”ہاں! لیکن اسے مڈل ایسٹ میں بھی عراق اور افغانستان کی صورت میں
مقابلہ کرنا پڑرہا ہے۔ لیکن چینیوں سے اس طرح کی مزاحمت امریکا کے ساتھ نہیں ہے اور
مسلمان ہی امریکا کے خلاف عسکری جدوجہد کررہے ہیں جیسے فلسطین میںحماس ہے۔ عراقی
مزاحمت کار ہیں۔ افغان طالبان ہیں۔ باقی اکانومی کی مزاحمت چائنا کی طرف سے ہے۔ ان
کی طرف سے ڈپلومیٹک مزاحمت ہے اور اس سارے مقابلے میں جو تکلیف دہ بات ہے وہ یہ کہ
میدان جنگ مڈل ایسٹ ہے اور مسلمان علاقے ہیں۔ ان آبی راستوں اور تیل کے ذخائر پر
امریکا قابض ہے۔ وہ دوسری طرف ایران پر حملے کی بات کرتا ہے مگر روس اور چائنا
ایران کی پشت پناہی کررہے ہیں۔ تمہیں ایک اور اہم بات بتاو ¿ں اس وقت افغانستان میں
مجاہدین جو مزاحمت کررہے ہیں ان کے پیچھے پاکستان نہیں ہے بلکہ روس اور چائنا سپورٹ
کررہے ہیں۔ اگرچہ یہ طاقتیں جہاد کے نظریہ کے مخالف ہیں مگر تم نے سن ہی رکھا ہے:
دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے اور یہ چھ اہداف ہیں۔“
”ڈاکٹر صاحب! اس کی اور بھی تفصیل ہے؟“ میں نے ڈاکٹر صاحب سے سوال کیا۔
”ہاں!“ ڈاکٹر صاحب بولے: ”اس کی بڑی لمبی تفصیل ہے جس میں جانا میں نہیں چاہتا۔
بہرحال! اگر آپ ری ڈرائنگ آف مڈل ایسٹ کی بات کرتے ہیں تو اس کا تعلق ڈیفنس آف
اسرائیل سے بھی ہے۔ پولٹیکل اسلام سے بھی ہے۔ اگر آپ گریٹر اسرائیل کی بات کرتے ہیں
اور اگر آپ افغان دھمکیاں، پھر پاکستان کی طرف آرہی ہیں۔ اگر پاکستان کے نیوکلیئر
پروگرام کے خلاف باتیں ہورہی ہیں، کیوں ایران کے نیوکلیئر پروگرام کے خلاف باتیں
ہورہی ہیں؟ کیوں عراق کا ایٹمی پروگرام تباہ کیا گیا؟ کیوں لیبیا کا نیوکلیئر
پروگرام تباہ کیا؟ کیوں شام کا نیوکلیئر پروگرام تباہ کیا؟ کیونکہ امریکا اور اس کے
ہمنوا یہ نہیں چاہتے۔“
ڈاکٹر صاحب کو میں نے ٹوکا اور بولا: ”ڈاکٹر صاحب! میں آپ کو دو بار ٹوک چکا ہوں آپ
برا مت منائیے گا، میرے ذہن میں ایک سوال ابھر رہا ہے کہ پاکستان کا کردار کیا ہے؟“
ڈاکٹر صاحب بولے: ”کوئی بات نہیں، تم سوال کر سکتے ہو کہ سوال سے ہی علم کی جہتیں
کھلتی ہیں۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے پاکستان دنیا بھر میں ایک خاص مقام پر واقع
ہے۔ ویسٹ افریقا سے لے کر پوری مسلمان دنیا ایک ہی بلاک ہے۔ پاکستان پر آکر یہ بلاک
ختم ہوتا ہے۔ اس کے بعد جغرافیائی طور پر اسلامی دنیا ٹوٹ جاتی ہے۔ پاکستان ایک
نیوکلیئر پاور ہے اور پاکستان دنیاکا واحد مسلم ملک ہے جو امریکن پالیسی کی مزاحمت
کرسکتا ہے۔ اسی لئے تو پاکستانی نیوکلیئر ہتھیاروں کے کنٹرول کی بات کی جاتی ہے کہ
امریکا کو پاکستان سے خطرہ ہے۔ آپ تاریخ اٹھا کر دیکھیں 1924ءکے بعد سے افغانستان
کے علاوہ پوری مسلم دنیا کفار کی کالونی تھی۔ آہستہ آہستہ ملک آزاد ہوئے۔ پہلے
ہمارے اوپر قبضہ تھا، اب ہمارے وسائل پر قبضہ ہے۔ اس کے بعد مسلمانوں پر آئیڈیالوجی
کی مزاحمت کی گئی اور اب چوتھے مرحلے میں ہم پر مشترکہ یلغار ہورہی ہے۔ اب تینوں کا
مشترکہ طورپر ہم پر حملہ کیا جارہا ہے۔ جس طرح 1924ءمیں ملکوں کو تقسیم کیا۔ اسی
طرح اب بھی کوشش ہورہی ہے۔ ہم 57 ملک ہیں جنہیں وہ 157ملک بنانا چاہتے ہیں۔ آپ
جانتے ہیں 19ویں صدی میں روس اور انگلینڈ کے مابین وسطی ایشیا میں جنگ لڑی گئی تھی۔
اسے ”گریٹ گیم“ کا نام دیا گیا تھا۔ یہ گیم آج بھی جاری ہے۔ عالمی سطح پرجو بھی
بساط بچھائی جاتی ہے۔ مہرے آگے پیچھے کیے جاتے ہیں لیکن تم یہ نہیں جانتے اس وقت تک
امریکا نے عراق میں دس لاکھ مسلمانوں کا قتل عام کیا ہے۔ عراق جو مسلمانوں کا سب سے
بڑا ملک تھا وہاں 40 لاکھ مسلمان مہاجر ہوچکے ہیں۔ وہ مسلمانوں کو ہٹ لسٹ پر رکھنا
چاہتے ہیں تاکہ اسرائیل کے لیے خطرہ نہ بنیں اور ”دہشت گردی کے خلاف جنگ“ ابھی جاری
ہے۔ جسے آج دہشت گردی کے خلاف جنگ قرار دیا جارہا ہے وہ دراصل انہی چھ ٹارگٹ کے گرد
گھوم رہی ہے۔ جس کا تذکرہ ہم نے پہلے کیا۔“
ڈاکٹر صاحب نے کہا: ”وہ جو بھی کوششیں کررہے ہیں اس کے پس پردہ وہ امریکی مفادات
ہیں جن کا ذکر میں نے کیا تھا۔ دراصل یہی اہداف دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اصل مقصد
ہیں۔“
ڈاکٹر صاحب اٹھے اور چلے گئے۔ میں سوچنے لگا ہاںڈاکٹر صاحب درست فرماتے ہیں۔
امریکی، روس کے بکھرنے کے بعد جان چکا تھا کہ یورپی دنیا میں کوئی بھی قوت اس کے
خلاف نبرد آزما ہونے کی قوت رکھتی ہے تو وہ صرف مسلمان ہیں۔ ان کے پاس وسائل ہیں
اور ذرائع بھی موجود ہیں۔ اس نے دھیرے دھیرے ان وسائل پر قابو پایا۔ میں سوچنے لگا
اس کی ایران پر بھی اس لیے نظر ہے کہ وہ اب اس کا حریف ہے کیونکہ اس کے وسائل پر اس
کا قبضہ نہیں ہے۔ عراق کا تیل براہِ راست اس کے قبضے میں ہے۔ خلیجی ریاستوں کے
وسائل وہ سیکیورٹی کے نام پر سمیٹ رہا ہے۔ اب ایران وسائل کے اعتبار سے اگلا ہدف
ہے۔ عسکری قوت میں پاکستان کو بھی ان اہداف میں رکھتا ہے جس پر اس نے بعد میں
کارروائی کرنی ہے۔ فی الوقت وہ امریکی مفادات کے لیے ایک آلہ ¿ کار کے طورپر
استعمال ہورہا ہے۔
آخر مجھے یہ سوچنے کاحق ہے کہ جنگ امریکا اور ان قوتوں کی ہے جو اس کی مخالف ہیں۔
دھماکے اور خودکش حملوں کی زد میں پاکستان کیوں ہے۔ تو یہ جاننا قطعی کسی کے لیے
بھی ناممکن نہیں ہے کہ وہ جنگ جو امریکا کی سرحدوں پر لڑی جانی تھی وہ ہماری سرحدوں
میں ہورہی ہے۔ دہشت گردی کے نام پروہ ایک ایک کرکے سب کو مار رہا ہے اور پھر دوسرا
اس لئے مطمئن ہے کہ جنگ اس کے خلاف نہیں ہے.... لیکن وہ یہ بھول جاتا ہے کہ قوموں
کے عروج وزوال میں چند دن نہیں ایک سے دو صدی کا وقت لگتا ہے جو آج اس جنگ کو یہ
کہہ کر چھوڑ دیتے ہیں کہ یہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے، دراصل وہ آنے والی مسلمان نسل کو
غلام بنانے کا بیج اپنے ذہن میں بورہے ہیں۔ اس کی فصل وہ ایک صدی بعد یا پھر اس سے
پہلے ہی دیکھ لیں گے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ دراصل انہی کے خلاف ہے جو اس کے
سرخیل بن کر آج ہر اول دستہ ہیں۔ |
 |
|
|