|
|
|
26
June
2008 / 20
Jamadil Akhir
1429 |
|
|
|
بے تابیاں: طارق حسین
مجھے تم سے شکوہ ہے۔
رات کے اِس پہر میں جب ہر طرف ایک سکوت سا طاری تھا۔ ہر شے آرام کی غرض سے خاموش
تھی۔ کبھی کبھی کوئی تیز ہوا کا جھونکا جب پردے سے لگتا تو پردہ کچھ پھسلتا، ہلکی
سرسراہٹ پیدا ہوتی اور پھر خاموشی طار ی ہوجاتی۔ بالکل ایسی ہی خاموشی جیسی اس وقت
مسلم ضمیر پر چھائی ہوئی ہے۔ اپنے وجود پر لگے نشتروں کو دیکھ کر روز اُن کے لیے
نئے بہانے تراشنے کے فن میں پوری اُمت اب کافی حد تک پیشہ ورانہ حیثیت اختیار کرچکی
ہے۔ اب وہ دہشت گردی، حق خوداریت، جدو جہد، عالمی امن جیسے لفظوں کے پنہاں معنوں سے
خود کو شناسا کرچکا ہے۔
اب وہ اپنی بے بسی اور لاچاری کے لیے نت نئے بہانے تراش سکتی ہے۔ وہ خود کو ایک بے
جان پتھر سے زیادہ نہیں سمجھتے، جسے ایک مجسمہ ساز نے تراش کر وہ شکل دے دی ہے۔ جو
شکل و صورت میں انسان دکھائی دیتا ہے مگر اس کے کان سننے سے محروم، آنکھیں بصیرت سے
عاری اور زبان گنگ ہے۔ دور آسمانوں پر جھلملاتے تاروں کو دیکھ کر دل میں ایک ٹھیس
سے اُٹھتی اور نگاہیں پلٹ کر اپنے دامن میں کہیں گم ہوجاتی۔
بے بسی اور تباہی کے اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں جب جھانکا تو محسوس ہوا زندگی کا وہ
کون سا شعبہ ہے جسے یہودو ہنود نے متاثر نہ کیا ہو۔ چھابڑی لگانے والے سے لے کر
سرمایہ کار تک سارے اس ایک ہی لاٹھی سے ہانکے جارہے ہیں او وہ گردن ہلاتے ہوئے نہ
جانے کس منزل کی طرف چل رہے ہیں؟ آج کا مسلمان یہودی مکرو فریب کا اسیر ہوچکا ہے۔
اب ملک و ملت کی حفاظت کرنے والے نوجوانوں کے ایمانی کردار اور زور بازو کو ختم
کرکے اقبال کے شاہین کو کرگس بناکر انہیں طاﺅس و رباب کی ذلیل راہوں پر گامزن کیا
جاچکا ہے۔ افلاک اور ستاروں کی بلندی کو چھولینے والے مسلم اذہان اب مکروہ یہود
ونصاریٰ اور ہندووں کی کیچڑ بھری غلاظت میں اوجِ ثریا تلاش کرنے لگ پڑا ہے۔
آج دنیا کا باطل فرعون سے بڑا فرعون، قوم عاد کے تکبر اور قوم ثمود کے نحوت سے
لبریز اپنی طاقت کے نشہ میں مست ابرہہ بن کر وہ کس طرح سے مسلمانوں کو روند رہا ہے؟
اور وہ سارے جی سارے دہشت گردی کی صف میں امریکا کی امامت میں دست بستہ ہاتھ باندھے
کھڑے ہیں۔
اس نے افغانستان اور عراق پر بارود مسلط کررکھا ہے۔ ایران پر اس کی نظریں گڑیں ہوئی
ہیں۔ وہ ارباب اقتدار کو ڈالروں کی بھینٹ چڑھا چڑھاکر ان سے اپنی دہلیز پر سجدے
کروارہا ہے۔ قلم کار ہوں یا کالم نگار، ادیب ہوں یا دانشور، خود کو اس کے دےے ہوئے
سیم وزر سے اپنے افکار کو تو ل رہے ہیں۔ دوسری طرف وہ وظیفہ خور انڈین طبقہ ہے جو
ایک طرف مسلمانوں کے دشمن سے گٹھ جوڑ میں پیش پیش ہے اور دوسری طرف کشمیرکے گلے پر
چھری پھیررہا ہے۔ مسلم کے خون کی اتنی ارزانی تاریخ میں نظر نہیں آتی۔ ظلم کی یہ
رات اب اور طویل ہوتی نظر آرہی ہے۔ کیونکہ تلوار اٹھانے والے ہاتھوں نے اب کڑے پہن
لیے ہیں۔
اے مسلم! مجھے تجھ سے شکوہ ہے! کیا تو وہی ہے جس نے کلمہ تو پڑھا ہے مگر اس کا وجود
اس کلمے سے سجا نظر نہیں آتا۔ تیری حرکتوں سے یہ نہیں لگتا ہے کہ تو امت محمدیہ صلی
اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ کا فرد ہے۔ کیا تو بھول گیا ہے! حضور سرکار دوعالم صلی
اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ تعلیم و تربیت کی بدولت گمراہ انسانیت کی امامت تو تیرا
فرض تھا۔ تجھے یاد نہیں تو ظلم کے شکار انسانوں کے زخموں پر مرہم رکھا کرتا تھا؟
تیرے طفیل سے لوگ راحت و سکون کی زندگی گزارا کرتے تھے۔
ہاں! تو بھول گیاہے۔ اوس و خزرج کے بھڑکتے شعلے تیری برکت سے بجھا کرتے تھے۔ تو صرف
گفتار کا نہیں کردار کا بھی غازی ہوا کرتا تھا۔ تیری رحمت سے ڈاکو محافظ، ظالم
مسیحا اور رنگ شباب و کباب کے رسیا محبت ربانی کے جام پینے والے بنا کرتے تھے۔ گٹار
اور کڑے پہننے والے مسلمان تلوار تیرا زیور ہوا کرتا تھا۔ ہاں تو بھول رہا ہے شایان
تحت تیرے سامنے تاراج ہوا کرتے تھے۔ روم وفارس، قیصر وکسریٰ ہی نہیں ساری دنیا کے
سرکش تیری ہیبت کے سامنے سرنگوں ہوا کرتے تھے۔
آج بھارتی اور انگریزی گانوں پر تیرے دھڑکتے وجود کو یاد دلا وں کہ تو صدائے تکبیر
بلند کیا کرتا تھا۔ تو تلاوت قرآن سے مسحور ہوا کرتا تھا۔ تلواروں کی جھنکار تیرا
نغمہ ہوا کرتی تھی۔ آسمان ہی نہیں عرش معلیٰ بھی تجھ پر فخر و رشک کیا کرتا تھا مگر
صد افسوس! تو سب کچھ بھول چکا ہے۔ ہماری بربادی میں اتنا غیر کا ہاتھ نہیں جتنا
اپنا ہاتھ ہے کہ آج تو مقصدِ حیات ہی بھول چکا ہے۔
تو اس کشتی کا مسافر ہے جس میں تیرے اپنے ہی سوراخ کررہے ہیں۔ آج تو نے اسے اپنا
راہبر بنالیا جو خود منزل سے شناسا نہیں ہے۔ تو میدان جنگ کے غبار، تلواروں کی
جھنکار، گھوڑوںکی سبک رفتار، نیزوں کی یلغار سے آشنائی کو چھوڑ کر طاﺅس ورباب، شراب
و کباب، راگ و رنگ کا شیدائی بن چکا ہے۔ شمشیر سے مزین ہاتھوں میں ٹی وی، ڈی وی ڈی
کے ریموٹ اور موبائل آچکے ہیں۔ اخلاص و پاکیزگی کا پیکر اب گندی تہذیب کے جوہڑ میں
غوطے کھارہا ہے۔
راتوں کو مصلے آباد کرنے والا اب عریاں فلموں کا رسیا بن چکا ہے۔ اب بے حیائی اسے
بے حیائی نہیں لگتی۔ تو مشرک ہندو کے لبو سے نکلنے والے گانوں پر اپنی حلال کمائی
خرچ کررہا ہے۔ تو یہودی تہذیب، سود خوری، رشوت بازاری، گانے، فلمیں، شراب، جوا،
حرام کاری، بدکاری، بد نظری کے بھنور میں پھنس چکا ہے۔ ایک طرف تو کشمیر پر اپنے حق
کا دعویٰ کرتا ہے تو دوسری طرف تیرا سارا وجود، تیری سوچ و فکر بھارتی اداکاروں کے
پاس گروی ہوچکی ہے۔ ایک طرف تو نبی کی سیرت کا دعویٰ کرتا ہے تو دوسرف طرف بسنت،
مایوں، رسم حنا اور گلے کے دوپٹے اور عورتوں کی طرح بال رکھتا ہے۔ کیا تیرا یہ رویہ
مسلم امت کے نشاة ثانیہ اور احیاءکے لیے ہونا چاہےے۔ کیا تو اور تیرا عمل اس قابل
ہے کہ تو پنجہ ¿ یہود اور شکنجہ ہنود سے اپنے آپ کو چھڑا سکے گا؟
مجھے تجھ سے شکوہ ہے تو جن راہوں پر چل پڑا ہے، تیرے قدموں کو ان سے دور ہوجانا
چاہیے۔ جن راہوں کا تو مسافر ہے ان نقش قدم کو نہ بھول۔ تیرے وجود سے ابوبکر کی
صداقت کی جھلک نظر آنا چاہیے۔ تجھ میں عمر جیسی عدالت ہونی چاہیے۔ عثمان غنی
جیسی سخاوت تیری زندگی کا حصہ ہونی چاہیے اور علی کی شجاعت تیرے بازووں میں نظر آنی
چاہیے۔
مجھے تم سے شکوہ ہے تو غیر کی دہلیز پر سجدہ ریز ہے۔ تجھے موت کے خوف نے یہود کے
سامنے ڈھیر بنادیا ہے۔ آ! پلٹ کر اپنے اسلاف کی طر ف دیکھ! مچھر کے پر کی دنیا کو
چھوڑ کر اپنے حقیقی رب کی طرف پلٹ۔ کہ تیرا پلٹنا، ہاں صرف ایک تیرا پلٹ آنا اس
پوری امت کے پلٹ آنے طرف پہلا قدم ہوگا۔ میں بازو کھولے تیرا منتظر ہوں۔ مجھے یقین
ہے تو ضرور واپس آئے گا اور اس امت کی کھوئی ہوئی عظمت رفتہ کو واپس چھیننے والا
نقیب بنے گا۔ |
 |
|
|