|
|
|
20
June
2008 / 14
Jamadil Akhir
1429 |
|
|
|
بے تابیاں: طارق حسین
آج میں دکھی ہوں!
ڈیوڈ کی عمر 65 برس کے لگ بھگ ہے۔ وہ لندن کے اولڈ ہوم میں دوسرے بوڑھوں کے ساتھ
رہتا ہے۔ اس کی صبح وشام اپنے بیٹے کے انتظار میں گزرتی ہے۔ آج وہ بہت خوش تھا کہ
آج اس کا بیٹا اس سے ملنے ضرور آئے گا۔ کیونکہ ہر سال 15 جون کو اس کا بیٹا ”فادرز
ڈے“ پر اپنے باپ سے ضرور ملتا ہے۔ وہ صبح سے ہی منتظر تھا۔ صبح ہوئی، دوپہر ہوئی
اور پھر شام کے سائے پھیلنا شروع ہوئے۔ وہ ڈیوڈ کی زندگی کی بے حد دردناک شام تھی....
لیکن اس کی پریشانی کو عروج اس وقت ملا جب اسے ایک کارڈ موصول ہوا۔ ڈیوڈ کو ملے
ہوئے کارڈ پر لکھا تھا: ”ڈئیر فادر! آپ کو فادرز ڈے مبارک ہو۔ آپ کا بیٹا: ہنری۔“
....اور اس خوبصورت پیپر، پر عمدہ ڈیزائن اور مہنگے ملفوف میں رکھا یہ خط ہنری نے
اپنے والد ڈیوڈ کو بھیجا تھا کیونکہ وہ انتہائی مصروف تھا اور اسے ایک ضروری میٹنگ
پر جانا تھا لہٰذا وہ اپنے والد سے اس دن بھی ملنے نہ آسکا تھا جس کا انتظار ڈیوڈ
سارا سال کرتا ہے۔
جدید ٹیکنالوجی، تیز رفتار زندگی، پڑھا لکھا طبقہ، تہذیب وثقافت کے علمبردار معاشرہ
میں ڈیوڈ اکیلا نہیں ہے ایسے لاکھوں بوڑھے اپنی بیویوں کے ہمراہ اولڈ ہومز میں رہتے
ہیں۔ مغربی معاشرے میں ٹوٹتا بکھرا ہوا خاندانی نظام اب آخری سانسیں لے رہا ہے۔ ایک
وقت ہوتا ہے جب والد کے پاس اولاد کے لیے وقت نہیں ہوتا اور پھر بچے جوان ہوجاتے
ہیں تو وہ بھی مصروف ہوکر اپنے ”فادر“ کے لیے وقت نہیں نکال سکتے۔
ہر سال جون کے تیسرا اتوار ”فادرز ڈے“ کے طورپر یورپ اور امریکا میں منایا جاتا ہے
لیکن ہمارا مغربی معاشرہ سے متاثر میڈیا ابھی پچھلے ماہ ”مدرز ڈے“ سے فارغ ہوا ہی
تھا کہ فادرز ڈے کے گن گانے لگا۔ مغرب پروردہ میڈیا کبھی شہادتِ عمر فاروق رضی اللہ
عنہ، شہادت عثمان رضی اللہ عنہ اور علی رضی اللہ عنہ پر کوئی پروگرام نشر نہیں کرتا
مگر انہیں یورپ کا فادرز ڈے بے حد یاد رہتا ہے۔ انہیں یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ
کشمیر میں ایسے ہزاروں یتیم بچے ہیں جنہیں اپنے باپ کی قبر کا بھی پتا نہیں جہاں
جاکر وہ ”فادرز ڈے“ مناسکیں۔ یہ ان عراقی بچوں کا دن نہیں جو امریکی گولیوں کی زد
میں آکر اپنے والد کو کھوچکے ہیں۔ یہ ان فلسطینی بچیوں کا دن نہیں جن کے سامنے ان
کے والد کو گولی ماردی گئی۔ یہ ان محروم بچوں کا دن نہیں جن کی بہارِ حیات پر وقت
سے پہلے خزاں نے غلبہ پالیا۔ باپ کی شفقت سے محروم ہونے والوں کا تذکرہ ہی کیا!
اُلفتوں اور محبتوں کے کنارے پر کھڑے پیاسے کا ذکر ہی کیا! اپنے معصوم ہاتھوں سے
پہلی مٹھی مٹی ڈال کر باپ کو خاک کے حوالے کرنے والے بچوں کا فادرز ڈے ہی کیا! ان
چھوٹی سے سوختہ جانوں کا.... جنہوں نے آگ وبارود اور لوہا برسنے کے منظر، پرخچے
اُڑتے انسانوں کے نظارے، راکھ ہوتی بستیوں، آباد ہوتے قبرستانوں کے مناظر دیکھے ہوں
جنہیں اپنے باپ کی قبر کی ہی خبر نہ ہو ان کی زندگی میں فادر ڈے کی حیثیت ہی کیا!؟
ہم بھول جاتے ہیں یہ تو واشنگٹن، لندن اور پیرس میں بسنے والے بچوں کا فادرز ڈے ہے۔
یہ تو رنگ ونور کی طلسماتی دنیا کے بسنے والوں کا دن ہے۔ یہ تو تہذیب اخلاق، شرف
انسانیت کے جھوٹے دعوے داروں کا دن ہے۔ یہ تو دانش وحکمت اور ثقافت کے خود ساختہ
علمبرداروں کا دن ہے۔ یہ تو اس امریکی فوجی کا دن ہے جو ہزاروں معصوم عراقی بچوں کو
معذور وہلاک کرنے کے بعد کیلی فورنیا کے ساحل پر اُترتا ہے تو اپنے بچوں کو گلے سے
لگانے پر اس کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو چھلکنے لگتے ہیں۔
یہ ان خاک نشین بچوں کا دن نہیں جن کی زندگی سے امریکیوں نے باپ کا سایہ شفقت ہمیشہ
کے لیے چھین لیا۔ یہ ان کشمیری بچوں کا دن نہیں جو انڈین افواج کے ظلم سہ سہ کر جن
کے ہونٹ مسکراہٹ سے ناآشنا ہوچکے ہیں۔ لب ہنسنے سے محروم ہوچکے ہیں۔ جن کی زندگیوں
سے باپ کی محبت کی روشنی چھین کر، اندھیروں میں بھٹکنے کے لیے زندہ چھوڑدیا گیا۔
میں یہ سوچ رہا ہوں 15 جون تو مقبوضہ کشمیر میں بھی آئی ہوگی۔ اس دن کا سورج فلسطین
میں بھی طلوع ہوا ہوگا۔ عراق میں اس دن سورج کی کرنیں چمکی ہوں گی۔ کشمیر کے ایک
لاکھ 3 ہزار انتالیس یتیم بچوں پر یہ دن آیا ہوگا جن کے باپ کو برہمن نے چھین لیا
ہے۔ وہ باپ کی شفقت اور حلاوت سے محروم جانے کہاں کہاں بھٹک رہے ہوں گے؟ جنہیں باپ
کی گود میں سر رکھے بغیر نیند نہیں آتی تھی نہ جانے آج کے دن وہ کس قبر پر سر رکھ
کر سوئے ہوں گے؟ یہ ان والدین کی زندگی میں بھی آیا ہوگا جنہیں فادرز ڈے کا تہنیتی
کارڈ اور پیغام بھیجنے والے بچے قبرستانوں میں جاکر روٹھے بیٹھے ہوں۔ آج ان کی بے
قرار مائیں اور تڑپتے باپ اپنے جگر گوشوں کو پیار کیسے کرےں گے؟
اس دن نے ان 12 لاکھ باپوں کے جگر کو بھی چھلنی کردیا ہوگا جن کے جگر گوشے ان سے
چھین کر قبرستانوں میں دفنادیے گئے۔ آج انہیں محبت بھرا پیغام کون دے گا؟ والد کی
لمبی عمر کی دُعا کون کرے گا؟ باپ کی اُنگلی پکڑ کر ضد کرنے والا وہ کہاں تلاش کرے
جس کے ہنستے بستے آنگن سے درندوں نے سارے پھول نوچ ڈالے ہیں؟ وہ ان معصوم گلوں کو
اب کہاں ڈھونڈے جن کے معصوم لب بڑھ کر باپ کے قدموں کے بوسے لیا کرتے تھے؟
پندرہ جون کی صبح فلسطین میں ان والدین کے ساتھ شبنم بھی روئی ہوگی جسے ایسی کوئی
کلی نہ ملی، ایسا کوئی گلاب نہ ملا جس کے دامن میں وہ منہ چھپاکر اپنے آنسوﺅں کو
جذب کرسکتی۔ آج فادرز ڈے منانے والے فلسطینی بچے بھی قبرستانوں کی طرف گئے ہوں گے۔
تڑپتے والدین نے اپنے جگر گوشوں کے کفن کے ٹکڑوں کو لمبی عمر کی دُعائیں دی ہوں گی۔
برستی شبنم کی طرح فلسطینی بچے بھی اپنے باپ کے دامن کو منہ چھپانے کے لیے ڈھونڈتے
ہوں گے اور وہ خوف سے اس باپ کو تلاش کرتے ہوں گے جو باوجود گرنے پر اپنے جگر گوشہ
کو اپنے دامن میں سمولیتا تھا مگر آج وہ کہاں!؟
کیا کروں! اپنے دکھوں اور غموں کو کیسے چھپاﺅں؟ آنسوﺅں کی جھڑی تھمتی ہی نہیں۔
دکھوں سے لفظ تڑپ کر رہ جاتے ہیں۔ قلم کا جگر آج لہو لہو ہے لیکن کیا کروں کشمیری
ماﺅں اور باپوں کی پلکوں پر جھلملائے آنسوﺅں میں ان کے خون آلود بچے کی لاش کا تعلق
کیسے چھپاﺅں؟ ان کشمیری بچوں کو کیسے جگادوں جنہیں صرف باپ کی قبر پر سر رکھ کر ہی
نیند آتی ہے۔ آج اس عراقی بچے کو فادرز ڈے کے فلسفہ سے کیسے آشنا کروں جو اَب اکیلا
ہی زمانے کے تھپیڑوں کو سہہ رہا ہے۔ اس فلسطینی سوختہ جگر لال سے کیسے کہوں آج
فادرز ڈے ہے؟ وہ اپنی ماں کے لیے دُعا کیوں نہیں کرتا؟ آج ان شوخ ومعصوم پھول جیسے
کشمیری، عراقی، افغان اور فلسطینی بچوں کو یہ کیسے کہہ دوں کہ وہ بھی فادرز ڈے
منائیں۔ آج 15 جون ہے جن کی پلکوں سے نمی نے بڑھ کر گالوں کی حدود سے نکل کر دامن
تک کو رنجیدہ وافسردہ کردیا ہے۔
ذرا سوچیں تو سہی! اس کشمیری ماں کے جگر کے کتنے ٹکڑے ہوئے ہوں گے؟ اس کا باپ اس سے
کتنا تڑپا ہوگا جن کے لخت جگر کو ان کے سامنے ذبح کردیا جائے۔
کتنے سنگ دل ہیں وہ لوگ جو اپنے آشیانوں میں تو رنگ ونور بسانا چاہتے ہیں مگر انہیں
دوسروں کے گھر کا ٹمٹماتا دیا بھی گوارا نہیں ہوتا۔ کتنے سفاک ہیں وہ درندے جو
مائیں چھین کر مدرز ڈے منانے کی تلقین اور باپ کا سایہ چھین کر فادرز ڈے منانے کی
نصیحت کرتے ہیں۔ کتنے کھٹور ہیں وہ لوگ جو اپنے عشرت کدے سجانے کے لیے دوسروں کے
گھروں کو غم کدے بنادیتے ہیں!
میرا فادرز ڈے اور مدرز ڈے منانے والوں سے صرف ایک ہی سوال ہے! کیا فلسطینی،
کشمیری، افغان اور عراقی مرجھائے ہوئے بچوں کے سینے میں دھڑکتا دل نہیں؟ کیا ان کے
احساسات کے بندھن کی نازک آبگینوں کی طرح نہیں ہیں؟ کیا ان کے دل کے چھوٹے سے
آبگینے پر جب سے ٹھیس لگتی ہوگی کہ درندوں نے اس کے باپ کا سایہ چھین لیا وہ آبگینہ
کس طرح برستا ہوگا؟
آج ڈیوڈ تو اپنے بچے سے اس لیے محروم ہے کہ یہ اس معاشرے کا عکس ہے لیکن ان مسلمان
بچوں کا کیا قصور، جو مدری وپدری شفقت سے محروم کردیے گئے۔ مجھے نہیں معلوم اس دن
ان بچوں نے فادرز ڈے پر اپنے باپ کو کیا پیغام لکھا ہوگا؟ شاید یہی لکھا ہوگا:
”اباجان! یہ لوگ بہت ظالم ہیں۔ ہمیں بموں سے بہت ڈر لگتا ہے، آپ ہمیں سینے سے لگایا
کرتے تھے۔ آج آپ اس مٹی کے ڈھیر سے باہر کیوں نہیں آتے؟ ہمیں اپنے سینے سے کیوں
نہیں لگاتے؟ اپنی پلکوں میں کیوں نہیں بساتے؟“ ہاں! آج میں دکھی ہوں۔ آج میں غمزدہ
ہوں۔ آج میں رنجیدہ ہوں! |
 |
|
|