رابطہ رہنمائے کراچی کالم /فیچر علم و ادب خواتین اسلام صفہ اول

17 June 2008 / 11 Jamadil Akhir 1429

بے تابیاں: طارق حسین

کریڈٹ کارڈ.... ایک معاشی قاتل

ا
یک بھلے مانس شخص کو کسی نے یہ بتادیا کہ روپیہ، روپےہ کو کھینچتا ہے۔ وہ دس روپے کا نوٹ لے کر بینک کیشئر کے سامنے کھڑا ہوگیا اور نوٹ کے اشارے سے بینک کیشئر کے نوٹوں کو کھینچنے کی کوشش کرنے لگا۔ یکایک ہوا کا ایک جھونکا آیا اور اس شخص کے ہاتھ سے وہ نوٹ اُڑکر کیشئر کے پیسوں میں شامل ہوگیا۔ وہ شخص اپنا اکلوتا دس کا نوٹ لینے کے لیے کیشئر کی طرف بڑھا مگر کیشئر نے اسے پکڑلیا کہ اس نے رقم چھیننے کی کوشش کی ہے۔ منیجر نے اس شخص سے پوچھا تو اس نے کہا اس کے دس کا نوٹ کیشئر کے پیسوں میں مل گیا ہے۔ وہ یہی سوچ کر آیا تھا کہ نوٹ نوٹ کو کھینچ لیتا ہے۔

منیجر مسکرایا اور بولا: ”ہاں تم نے صحیح سنا تھا مگر جس نے تمہیں یہ بتایا اس نے تمہیں محض آدھی بات بتائی ہے کیونکہ نوٹ، نوٹ کو ضرور کھینچتا ہے مگر زائد نوٹ کم نوٹ کو کھینچ لیتے ہےں۔ یہاں بھی تمہارا محض ایک دس کا نوٹ ان لاکھوں نوٹوں نے کھینچ لیا لہٰذا تم اب بینک سے باہر چلے جاو ¿ ورنہ پولیس کے حوالے کردےے جاو ¿گے۔“ یہی اصول ہے جسے ہر سرمایہ کار اور بینکر سوچتا اور کرتا ہے لہٰذا....

چلیں بات یہاں سے شروع کرتے ہیں۔ آپ کسی ادارے میں ملازمت کرتے ہیں اور آپ کو وہاں سے روزانہ دو سو روپے کا معاوضہ ملتا ہے۔ آپ کا گزارہ اس رقم میں ہورہا ہے۔ ایک دن کوئی شخص آکر آپ کو اکٹھے چھ ہزار روپے دے اور کہے: ”یہ رقم بھی رکھ لیں، آپ کے کام آئے گی مگر شرط یہ ہے کہ یہ رقم جو میں آپ کو اُدھار دے رہا ہوں، یہ مجھے اگلے ماہ واپس کردیجیے گا ورنہ آپ میری رقم استعمال کرنا چاہیں تو کرتے رہیں بس قسط دیتے رہےے گا۔ اور ہاں! آپ تو جانتے ہیں میری رقم پھنس جائے گی اس لیے اس رقم پر کچھ مخصوص اضافی رقم بھی دیتے رہیے گا۔“ اور آپ ان چکنی چپڑی باتوں میں آکر حامی بھرلیتے ہیں۔

اب دو مختلف صورتِ حال آپ کے سامنے در پیش ہیں۔ یہ رقم آپ کہاں خرچ کریں؟ آپ یہ رقم ان معاملات پر خرچ کردیتے ہیں جو آپ دوسوکی آمدنی میں نہیں کرپارہے تھے اور اب مہینہ گزر گیا۔ جب وہ صاحب اپنی رقم لینے پہنچے تو آپ کو معلوم ہوا کہ آپ اس رقم کو ”غیر پیدواری“ کاموں میں خرچ کرچکے ہیں لہٰذا اب دو سو روپے کمانے والے کے پاس اس کی ادائیگی کا حل نہ ہوگا۔ اب کیا ہوگا؟ ان صاحب نے کہا کوئی مشکل نہیں ہے، صرف سو روپیہ رقم میں سے اور بیس روپیہ منافع کا دے دیں اور یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ باقی اگلے ماہ دے دیجےے گا۔ وہ شخص یہ رقم دے کر خوش ہوجاتا ہے کہ اس نے کم سے کم ادائیگی (Minimum Payment) کرکے معاملہ حل کردیا۔

لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوتی۔ اب ہر ماہ آپ کی تنخواہ سے 120 روپے کم ہونا شروع ہوگئے اور یہ 120 روپے پورے کرنے کے لیے آپ نے کسی بھی ذریعہ سے یہ 120 روپے حاصل کرکے اپنا بجٹ بنایا.... بات یہاں آکر بھی ختم نہیں ہوتی اور اس کے اگلے ماہ 120 روپے قرض دار کے، 120 روپے اس صاحب کے جنہوں نے 6000 دیا اور اب اس ماہ 240 روپے کی کمی کو پورا کرنے کے لیے 240 روپے کی ضرورت ہے.... لیکن بات یہاں بھی ختم نہیں ہوتی۔ اب تیسرے ماہ یہ 240 روپے اور 120 اس صاحب کو، 360 روپے کی ضرورت ہے تاکہ گھر کا بجٹ متاثر نہ ہو اور اب یہ سلسلہ چل پڑا ہے کہ ہر ماہ اس کے قرض میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ جس دفعہ آپ ان صاحب کو رقم نہ دے سکے اس نے 120 کی بجائے 130 روپے لیے۔ اس طرح اس کی اصل رقم میں اس طرح کمی نہ آئی جس طرح سے ادائیگی ہوئی۔ اب نہ تو یہ رقم آپ کے پاس آئے گی اور نہ ہی آپ اسے ادا کرپائیں گے۔

یہ کریڈٹ کارڈ کی کہانی ہے جو دھیرے دھیرے آپ کے بجٹ کو تباہ وبرباد کردیتی ہے اور پھر نہ دینے کی صورت میں بینک کے ساتھ ایک محاذ آرائی جنم لے لیتی ہے اور آپ نہ نکلنے والی دلدل میں دھنس جاتے ہیں۔ آپ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ آپ ادائیگی کے لیے اپنی محنت اور پیسہ سے کمائی ہوئی رقم ادا کرتے ہیں۔ بینک آپ کو محض ایک پلاسٹک کارڈ دیتا ہے، آپ نے اس سے خریداری کی اور اس پر سود اور کمیشن آپ کے نام پر اندراج ہوگیا۔ بینک اس دکاندار کو اس کی مد میں چیک ادا کرتا ہے جو وہ اپنے اکاو ¿نٹ میں جمع کرتا ہے۔ وہیں سے وہ دکاندار مزید خریداری کے لیے کسی دوسرے کو چیک دے دیتا ہے اور یہ سلسلہ بینک کے اندر چلتا رہتا ہے مگر آپ اگر پہلے دو گھنٹے کام کرتے تھے، اب چار گھنٹے کام کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ آپ نے ایک اضافی رقم ادا کرنی ہے۔

پاکستان اس وقت دنیا بھر کے بینکوں کے لیے ایک زرخیز کھیتی کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان کی بینکنگ انڈسٹری جس تیزی سے بڑھ رہی ہے اس کے پیچھے یہی راز ہے کہ یہاں وہ پاکستان کے وسائل استعمال کرتے ہیں، خود سے کچھ بھی نہیں لگانا پڑتا اور اربوں روپے کا منافع حاصل کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ ایک شخص کو محض دو سے ڈھائی فیصد منافع دے کر رقم لیتا ہے جسے 35 سے 40فیصد تک آگے دیتا ہے لہٰذا منافع ہی منافع۔ اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق 2005ئ، 2004ءکے دوران کارفنانسنگ، ہاو ¿س فنانسنگ اور ذاتی قرضوں.... غرض کنزیومر فنانسنگ کی مد میں مجموعی طور پر بینکوں نے دو کھرب، چھ ارب کے قرضے جاری کیے جبکہ مالی سال 2003-2004ءکے دوران بینکوں نے کنزیومر فنانسنگ کی مد میں ایک کھرب تین ارب کے قرضے جاری کیے تھے۔ اس طرح محض ایک سال کے دوران سوفیصد اضافہ ہوا۔ 2004-05ءکے دوران محض گاڑیوں کی خریداری کے لیے مجموعی طورپر 66 ارب روپے کے قرضے جاری کیے گئے جو 2003-04ءکے حساب سے سوفیصد زائد ہیں۔ اس سال 2004-05ءکے دوران ذاتی قرضوں کی شرح میں بھی اضافہ ہوا اور 49 ارب سے بڑھ کر 92 ارب روپے ہوگئے۔

اتنی بڑی رقم آخر کریڈٹ کارڈ اور لون سے حاصل کرنے والوں نے کہاں خرچ کی؟ کسی نے KFC اور Mcdonlad کے برگرکھائے، کسی نے جوتے خریدے، کسی نے پتلون اور کسی نے پن اور گھڑی۔ مثلاً: آپ کے پاس ایک بینک کا کریڈٹ کارڈ ہے اور اس میں سے آپ نے اپنے اہل وعیال کے ساتھ کسی بھی مکڈونلڈ پر کھانا تناول فرمایا۔ آپ نے ادائیگی بذریعہ کارڈ کی۔ اب آپ غور فرمائیں آپ نے جس رقم کی غذا خریدی، اس رقم میں آدھے سے زائد منافع مکڈونلڈ نے لیا۔ دوسرا آپ نے اس خریداری کے لیے دو فیصد چارجز ادا کیے۔ تیسرا، جو رقم آپ نے خرچ کی اس پرآپ کے کھانا کھانے سے پہلے ہی سود لگنا شروع ہوجاتا ہے۔

آپ نے جو رقم خرچ کی اس میں دونوں طرف ملٹی نیشنل کو فائدہ ہوا اور اگر آپ وہی دو سوروپے کی، نقد مرغی گھر میں لاکر خود پکاکر کھالیتے تو آپ 2 سے 3 ہزار کے اس خرچ سے بچ سکتے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اتنی بڑی رقم بازار میں داخل (Injcet) کردی گئی اور اس کے بدلے میں واپسی کا راستہ صرف ایک تھا اور وہ کریڈٹ کارڈ ہولڈر کی تنخواہ! دوسرا دلچسپ پہلو یہ ہے جو رقم ان کنزیومر نے خرچ کی، انہیں خبر ہی نہیں کہ وہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے شکنجے میں مکمل طور پر پھنس چکے ہیں۔ ایک طرف ایک ملٹی نیشنل بینک قرض دیتا ہے، دوسری طرف دوسرا ملٹی نیشنل بینک اس کارڈ پر برگر دیتا ہے۔ کارڈ ہولڈر اس پر خوش ہے کہ وہ ایک کریڈٹ کارڈ رکھتا ہے۔ پہلے سنا کرتے تھے جو ادارے قرض لیتے ہیں وہ تباہ حال ہوجاتے ہیں مگر اب ایک عام شخص بھی قرض لے کر خود کو معاشی طور پر برباد کرسکتا ہے۔

یہ اعداد وشمار کا ایسا گورکھ دھندا ہے کہ کریڈٹ کارڈ ہولڈر کو محسوس ہی نہیں ہوتا اس کی کمائی دھیرے دھیرے اس کارڈ کے راستے بینک منتقل ہوتی رہتی ہے اور وہ محض ایک پلاسٹک کارڈ لے کر خوش ہوتارہتا ہے۔ مثلاً: بینک کارڈ آپ کو ملتا ہے تو اس میں آپ کے نام پر فرض کریں ایک لاکھ لکھ کر آپ کا حساب بنادیا جاتا ہے۔ آپ کے نام سالانہ فیس یا جوائننگ فیس کے نام پر رقم لکھ کر بقایا 95000 کردیا جاتا ہے اورآپ کو بلا استعمال 5ہزار ادا کرنے ہوتے ہیں۔ اسی طرح لیٹ فیس، اگر آپ نے بینک کا محض ایک روپیہ بھی وقت پر ادا نہ کیا تو وہ کم از کم چھ سو روپے لیٹ فیس عائد کردیتا ہے۔ اس طرح کے دوسرے بھی کئی اعدادوشمار ہیں جو کارڈ ہولڈر کو محسوس نہیں ہوتا اور وہ اس چنگل میں پھنس جاتا ہے۔

اور ویسے بھی فطری بات ہے آپ کارڈ کا استعمال تب کرتے ہیں جب جیب میں رقم نہ ہو۔ تو کبھی سوچا ہے کہ آج جیب میں رقم نہیں ہے لیکن استعمال کررہے ہیں، اس کی ادائیگی کیسے کریں گے؟ آپ پورے یورپی اور امریکی ممالک میں دیکھ لیں وہاں کا ہر شخص اس کنزیومر فنانسنگ کے بدلے میں مقروض ہے اور یہ پیسہ بٹورنے کا ایک بہت ہی بہترین ذریعہ ہے۔ مضمون کے ساتھ شیڈول بھی دیا گیا ہے جس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ ایک کریڈٹ کارڈ ہولڈر کو کن کن اخراجات سے گزرنا پڑتا ہے۔ ان کارڈز میں کچھ Limit کیش ایڈوانس اور کچھ صرف خریداری کے لیے ہوتی ہے تاکہ آپ خریداری ضرور کریں کیونکہ بینک اور پروڈکٹ فراہم کرنے والا وہ ملٹی نیشنل ادارہ آپس میں کمیشن طے کرتے ہیں۔ اگر اس کارڈ سے خریداری ہوگی تو کارڈ ہولڈر سے حاصل کی گئی رقم میں سے بینک کو کمیشن دے گا۔ دوسرا، ہر ماہ کارڈ ہولڈر کو ان اشیاءکی فہرست، کیٹلاگ اور دیگر ترغیبی پمفلٹ کے ہمراہ بل بھیجے جاتے ہیں تاکہ وہ ان میں سے کوئی بھی شے پسند کرلے۔

پھر اس میں ایک خوبصورت پھندا اور بھی ہے جسے سپلیمنٹری کارڈ کہا جاتا ہے کہ آپ کی رقم، جسے آپ منتخب کریں وہ بھی خرچ کرسکتا ہے کہ جتنا خرچ کرو گے اتنا ہی بینک کا فائدہ ہے۔ اگر آپ کو کیش کی ضرورت ہو تو وہاں پر دس ہزار نکالنے کے لیے آپ کے اکاو ¿نٹ سے 500 روپے عائد کردیتے ہیں جو cash advance fee کہلاتی ہے۔ دردناک بات یہ ہے کہ اس سارے کام کے لیے بینکوں کے صوابدیدی اختیارات میں کوئی بھی ریگولیٹری اتھارٹی موجود نہیں ہے جو صارف کے مسائل کو دیکھ سکے۔ جس کے نتیجے میں اس دلدل میں پھنس جانے کے بعد نہ صرف بینک مقروض خودکشی کررہے ہیں بلکہ نفسیاتی مریض اور ہراساں ہورہے ہیں لیکن ابھی تک تو حکومت نے واضح طریقہ ¿ کار وضع نہیں کیا ہے۔

گلوبلائزیشن میں بھی اس طرح کے کارڈز نے ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ ایک زمانہ قبل پرونو گرافی (Pronography) کا مواد بذریعہ اسمگلنگ مسلم ممالک میں پہنچایا جاتا تھا لیکن کریڈٹ کارڈ نے یہ سہولت آسان کردی ہے اور اب فحش مواد کے خریداروں کو زیادہ ”زحمت“ نہیں اٹھانا پڑتی کیونکہ کارڈز سے رقم بذریعہ WEB آسانی سے ادا کرکے (Pronography) فلمیں اور غیر اخلاقی مواد ڈاو ¿ن لوڈ کرکے معاشرے میں پھیلایا جاسکتا ہے۔ عالمی گلوبلائزیشن میں کریڈٹ کارڈ سے کی جانے والی ادائیگی اس ملک کے فارن ایکسچینج پر اثر انداز ہوتی ہے کیونکہ ویزا اور ماسٹر کی ضمانت کے تحت وہ غیرملکی پرونو گرافی بنانے والے ادارہ سے باآسانی رقم حاصل کرسکتا ہے۔ لہٰذا وہ اپنے مواد تک کارڈ سے ادائیگی کرنے والے کو بذریعہ خفیہ کوڈ (Access) دیتا ہے۔ اس کارڈ کی بدولت آپ یورپ اور امریکا کی کسی بھی مارکیٹ سے خریداری کرسکتے ہیں اور پھر بذریعہ کوریئر وہ شے آپ تک پہنچ جاتی ہے۔

ان کارڈوں کی وجہ سے نہ صرف لوگوں کی قوتِ خرید پر اثر پڑا ہے اور لوگ فضول خرچ ہوئے ہیں بلکہ اس سے کئی گھروں کا بجٹ بھی متاثر ہوا ہے کیونکہ بینک اسٹیٹمنٹ جب آتی ہے تو ہائی انٹرسٹ ریٹ لگ چکا ہوتا ہے۔ جتنے بڑے پیمانے پررقم ان کارڈز کی وجہ سے مارکیٹ میں داخل ہورہی ہے اس کی وجہ سے مارکیٹ پرائس پر بھی فرق پڑا ہے کیونکہ معیشت کا اصول ہے جب ڈیمانڈ بڑھتی ہے تو قیمت بھی بڑھ جاتی ہے۔ اس کی وجہ سے لوگوں کی ڈیمانڈ بڑھی جس کی وجہ سے مارکیٹ میں اشیاءکی قیمت بھی بڑھی۔ اس میں یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ آپ ایک بار رقم یا سامان خرید لیں تو آپ پوری رقم آسانی سے واپس کرسکیں لہٰذا آپ نے کسی نہ کسی حوالے سے اضافی رقم دینی ہوتی ہے۔ دوسرا بینک آپ کے ادا کردہ رقم میں سے پہلے سود کی ادائیگی کرتا ہے، اس کے بعد پھر وہ اصل رقم منہا کرتا ہے۔ لہٰذا اصل رقم تو اپنی جگہ پر ہی رہتی ہے۔ اگر آپ نے 600 کی خریداری کی تھی۔ اس پر مارک اَپ 50 روپے بنا، آپ کو Minimum Payment کا بل 150 کا ملا تو بینک کو جب آپ 150 روپے ادا کریں گے وہ پیسے 50 روپے سود کے کاٹے گا اور آپ کی اصل رقم میں سے صرف سو روپے کم ہوں گے۔ اگر کسی قاری نے کارڈ بنوارکھا ہے تو وہ اپنا بیلنس گھر پر بناکر دیکھے۔ وہ حیران رہ جائیں گے کہ وہ کافی بڑی رقم ادا کرنے کے باوجود اب تک مقروض ہیں۔

اگر خدا نخواستہ آپ بھی اس گورکھ دھندے میں پھنس چکے ہیں تو ایک لمحے کے لیے سارے کام چھوڑ کر بیٹھ جائیں اور سوچیں! آج تک اس کارڈ کی وجہ سے آپ کتنی اضافی رقم بینک کو دے چکے ہیں؟ کیا فوائد ہوئے اور کن نقصانات میں گھرچکے ہیں؟ اور جو ابھی اس آفت سے دور ہیں، وہ یاد رکھیں! سانپ جتنا بھی حسین ہو، اسے لاپروائی سے حاصل کرنے کی خواہش موت سے ہمکنار کرسکتی ہے اور یہ سارا نظام سود کے گرد گھوم رہا ہے۔ وہ کام جو اللہ کے ساتھ جنگ کرنے والوں میں شامل کردے، بہتر ہے اسے ترک کردیا جائے۔ اگر آپ کے پاس کارڈ ہے تو آج ہی بینک کو واپس کریں کہ بینک! میں آپ سے تو جنگ کرسکتا ہوں مگر اپنے رب تعالیٰ سے نہیں لڑسکتا۔

تو پھر آپ کوشش کریں کہ اپنے وسائل میں رہیں اور قناعت کو زندگی کا حصہ بنائیں۔ اگر آپ بھی لالچ میں آگئے کہ چلو کارڈ بنوالیتے ہیں خرچ نہیں کریں گے، یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے آپ سانپ پال لیں۔ پھر آپ کا حال بھی اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جو نوٹ کھینچنے پہنچا تھا۔ آپ دیکھ لیں ایک طرف بینک ہے اور دوسری طرف آپ کی جیب! فلسفہ تو آپ جان ہی چکے ہیں کہ بڑی رقم چھوٹی رقم کو کھینچ لیا کرتی ہے۔ تو پھر اپنی جیب کو محفوظ بنائیں۔ اگر آپ نے کارڈ جیب میں رکھا تو یہ آپ کی جیب میں آپ کی معیشت کو قتل کردے گا کیونکہ یہ کارڈ نہیں ایک معاشی قاتل ہے۔

© Copyrights 2007, karachiupdates.com
E-mail:karachiweb@karachiupdates.com Contact: +92-321-2422035 / +92-321-9235365