رابطہ رہنمائے کراچی کالم /فیچر علم و ادب خواتین اسلام صفہ اول

23 May 2008 /  15 Jamadi-ul-Awwal 1429

بے تابیاں: طارق حسین

ہر پہاڑ پر راستہ موجود ہوتا ہے۔

طفیل صاحب میرے دوست ہیں۔ بااصول آدمی ہیں۔ سیاست کو مثبت اور منفی سمجھتے ہیں۔ سیاست کو اس طرح سے نہیں دیکھتے جیسے عام آدمی دیکھتا ہے۔ انہیں سچ بولنے کی جیسے ”بیماری“ ہے۔ پچھلے ایک سال میں جتنے لوگوں سے بھی ملا ہوں صدر مشرف اور اٹارنی جنرل کے بعد تیسرے آدمی ہیں جن کا خیال ہے کہ عدلیہ بھی اب سیاست کا شکار ہوچکی ہے لہٰذا ججوں کو بحال نہیں ہونا چاہئے۔ غربت مہنگائی اور امن عامہ کے مسائل ان سے نہیں زیادہ اہم ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ دواشخاص کی ذاتی لڑائی ہے، اسے عدلیہ کا نام نہ دیا جائے۔

گزشتہ روزان سے چائے پر ملاقات ہوئی اور وہ مسکراتے ہوئے بولے: ”چلو اب 10 جون کا انتظار کرتے ہیں۔“ میں ان کا اشارہ سمجھ گیا۔ وہ وکلاءتحریک کی نشاندہی کررہے تھے۔ وہ بولے: ”بتاو ¿! اب سیاست دانوں کو بھی سیاست کرنے کا موقع مل گیا۔ ان میں بعض تو ”احتجاجی ایکسپرٹ“ ہیں۔ میں نہ کہتا تھا جج بحال نہیں ہوںگے۔ اورتم دیکھ لینا پہلی بات تو یہ کہ جج بحال ہی نہ ہوں گے۔ اگر بحال ہوئے بھی تو اس طرح سے ہوں گے کہ وہ شاید عدالتوں میں واپس جانا پسند نہ کریں۔“ ویسے وہ میرے ہم خیال ہیں لیکن اس موضوع پر ہم گزشتہ کئی ماہ سے بحث کررہے ہیں آج پھر یہ موضوع چھڑچکا تھا۔

میں نے طفیل صاحب سے سوال کیا: ”آپ جانتے ہیں یہ جج بحال کیوں نہیں ہوپارہے ہیں؟ آخر ایک ایگزیکٹیو آرڈر میں اتنی تاخیر کی وجہ کیا ہے؟!“

وہ پھر مسکرائے اور بولے: ”کیا عدالتیں فیصلے نہیں دے رہی ہیں جو ججوں کو دوبارہ بٹھانا ضروری ہے۔ آخر 10 دس ماہ سے لوگوں کو انصاف مل ہی رہا ہے۔ کون سے ان ججوں کی بحالی سے انصاف میں اضافہ ہو جائے گا؟“ میں نے عرض کی: ہاں ٹھیک ہے مگر بات اصولوں کی ہے۔ وہ پھر ایک بار مسکرائے اور بولے: ”چھوڑو، جانے دو۔ یہ اصول اس وقت کہاں تھے جب انہی جج صاحبان نے پی سی او کے تحت نہ صرف حلف اٹھایا تھا بلکہ ایل ایف او کو بھی تصدیق کیا تھا؟“

”ہاں ٹھیک ہے مگر طفیل صاحب! اگر یہ بات درست ہے تو یہ بات بھی آپ درست مانیں کہ انہی ججوں نے اپنے ”گناہ“ کا ازالہ کردیا اور دوبارہ پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کردیا۔ آپ آخر اس پہلو سے بھی تو سوچیں اگر یہ جج بحال ہوگئے تو کم از کم عدلیہ کے چہرے سے یہ داغ دھل جائے گا کہ عدلیہ نے غاصبوں کے خلاف آواز بلند کی تھی۔“
”بات صرف اتنی نہیں ہے اصل جھگڑا اسٹیبلشمنٹ اورعدلیہ کے درمیان موجود ہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جج بحال نہیں ہورہے ہیں۔“ میں نے کہا۔
”اور آپ جانتے ہیں آج جس افتخار چوہدری پر الزامات عائد کئے جاتے ہیں جن میں سے ایک بھی ثابت نہ کیا جا سکا ہے۔ اگر میں آپ کو ان کے ان ”گناہوں“ کی تفصیل بتاو ¿ں جو انہوں نے بحیثیت چیف جسٹس آف پاکستان اٹھائے تھے۔ وہی اقدامات ان کی بحالی کی اصل رکاوٹیں ہیں۔ سب سے پہلے چیف جسٹس اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تناو ¿ کی صورتحال اس وقت پیدا ہوئی تھی جب معزول چیف جسٹس نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے عام آدمی کے مسائل سے براہِ راست تعلق رکھنے والے ایشوز پر نوٹس لیئے۔ آمریت اور اسٹیبلشمنٹ کو یہ طریقہ پسند نہ آیا اور سرد جنگ کا آغاز ہوا۔ اختلاف کا سب سے پہلا سبب پتنگ بازی کا از خود نوٹس بنا جب 25اکتوبر2005کو معزول چیف جسٹس نے اس پر مکمل پابندی عائد کردی اور دوسری طرف پنجاب کی حکومت اس کی مکمل تیاریوں میں مصروف تھی اور خود صدر صاحب بھی بسنت کے موقعوں پر ان تقاریب میں شرکت فرمایا کرتے تھے۔

شاید طفیل صاحب پہلی بار میری بات سننے کے موڈ میں تھے اور بولے: اچھا اور کیا کیا ہوا؟
میں بولا: اور پھر 8 اکتوبر 2007ءکو معزول چیف جسٹس سی ڈی اے حکام کو چک شہباز میں قائم تمام فارمز کی الاٹمنٹ منسوخ کرنے کا حکم دیا تھا جہاں ان فارمز کورہائشی مقاصد کے لئے استعمال کیا جارہا تھا۔ ان کی مالیت کھربوں میں تھی۔ ان کے الاٹیوں میں نہ صرف شوکت عزیز بلکہ خود صدر صاحب بھی شامل تھے۔ جنہیں انتہائی معمولی قیمت پر یہ 2003ءمیں الاٹ کئے گئے تھے۔ صدر صاحب کے حمایت یافتہ لینڈ مافیا کے سربراہ کی طرف سے سیکٹر ایف سیون میں کچی آبادی کو خالی کرانے اور پبلک پارک کو تجارتی منصوبے میں بدلنے کی کوششوں پر از خود نوٹس لیا اور غریب رہائشی بے دخل نہ کئے جاسکے۔ بات یہاں ختم نہیں ہوتی۔ 5 اپریل 2005ءکو معزول چیف جسٹس نے اسٹیٹ بینک کو ہدایات دیں کہ یوٹیلٹی بلوں کی ادائیگی کے لئے بینکوں کے سامنے شیڈز لگائے جائیں۔ پنجاب میں 14 اپریل 2006ءکو گلبرگ کے ایک پارک ڈونگی گراو ¿نڈ کو کمرشل کرنے کے کام سے روک دیا اور وہاں سینما اور پلازہ تعمیر نہ ہوگا۔ اسی طرح سی ڈی اے کو اسلام آباد کے سیکٹر ایف میں ایک پبلک پارک کو گالف گراو ¿نڈ بنانے سے عدالت نے روک دیا کیونکہ اس گالف کلب سے چند امراءکوفائدہ ہوتا اور عام آدمی اس سہولت سے محروم ہوجاتا۔ اسی طرح سیکٹر ایف نائن میں فاطمہ جناح پارک میں ایک عالمی ادارے کے ریسٹورنٹ کی تعمیر رکوادی۔ جون 2007ءمیں عدالت عظمیٰ نے حکومت پنجاب کو حکم دیا کہ بااثر لینڈ مافیا نے جو کثیر المنزلہ عمارت غیر قانونی تعمیر کی ہے اسے گرادیا جائے۔ اسی طرح 14ستمبر2006کو سٹی گورنمنٹ کراچی کی یہ اپیل مسترد کردی کہ کراچی کی چھ اہم سٹرکوں پر کمرشل پلاٹ بنانے کی اجازت ہو۔ 21 اکتوبر 2006ءمیں سپریم کورٹ نے گوادر میں ارکان قومی اسمبلی، سینیٹرز، صوبائی اسمبلی، وزراءاور دیگر اہم شخصیات کو حکومت کی طرف سے خصوصی کوٹہ کے تحت الاٹ کئے گئے 50 صنعتی ورہائشی پلاٹوں کی الاٹمنٹ منسوخ کرنے کے احکامات دیئے۔ اس طرح گوادر میں دو لاکھ 41 ہزار 6سو ایکڑ اراضی کی صنعتی اور غیر قانونی الاٹمنٹ پربورڈ آف ریونیو سے تفصیلات طلب کیں اور سرکاری زمین کووزراءاور دیگر حکمرانوں کو الاٹ نہ کی جائے اور اسے نجی زمین میں نہ بدلا جائے کیونکہ اس کے بعد بلوچستان حکومت کے پاس صرف 25ہزار ایکڑاراضی رہ گئی تھی۔“ طفیل صاحب غور سے میری بات سن رہے تھے۔

”طفیل صاحب! اسی عدالت نے پاکستان کی سب سے بڑی کرپشن کو روکنے کا تاریخ ساز فیصلہ دیا اور اسٹیل ملز کی نجکاری کو روک دیا کیونکہ مارکیٹ ویلیو کے مطابق صرف زمین کی قیمت 250ارب روپے تھی جبکہ پورے یونٹ کو مخص 21.68 ارب ڈالر میں فروخت کیا جارہا تھا۔ اسٹیل ملز کے خریدار صدر مشرف کے انتہائی قریبی دوست تھے۔ 27 جون 2006ءکو معزول چیف جسٹس نے پنچائیت کوروکنے کا حکم دیا جس میں ”ونی“ اور ”سوارہ“ کے نام پر نابالغ بچیوں کی شادیاں ہورہی تھیں۔ اور اس ظالمانہ اقدام کے خلاف جسٹس افتخار چوہدری نے اقدامات اٹھائے۔ معزول جسٹس نے رہائشی علاقوں میں صنعتی قیام کے خلاف بھی نوٹس لیا۔ جس میں پاکستانی شہری کا منصوبہ شامل تھا اور ”نیو مری پروجیکٹ“ کو روک دیا جس میں بڑے بڑوں کے مفادات متاثر ہوئے مگر مری کی خوبصورتی بچ گئی تھی۔
....اور اس عدالت نے یکم جولائی 2006ءکو ایک اور اہم فیصلہ دیا کہ ماتحت عدالتوں کے وہ فیصلے جن میں کرپشن اور غلط سماعت کے آثار نظر آئیں گے انہیں کالعدم قرار دے دیا جائے گا۔ 25 جون 2007ءکو مہنگائی کے خلاف نوٹس لیا۔ 2007ءمیں انسانی اعضا کی پیوند کاری کے حوالے سے حکومت کو آرڈیننس جاری کرنے کا حکم دیا کیونکہ انسانی گردوں کا کاروبار بند ہوسکے۔ منو بھیل کیس، جس میں غریب ہاری کو وڈیرے سے بازیابی اور انصاف کی فراہمی اور لینڈ لارڈ کی زمینوں سے 71 کاشت کاروں کی بازیابی اور پھر ملزموں کی گرفتاری.... اور جانتے ہیں چوہدری کا آخری کارنامہ پی سی او اور ایمرجنسی کے اقدام کو 3 نومبر 2007ءکو کالعدم قرار دینا تھا۔“


”طفیل صاحب! میں یہ نہیں کہتا کہ انصاف مل چکا ہے، انصاف ابھی باقی ہے مگر اس تک رسائی سے کوئی بھی روک نہیں سکے گا۔ آپ یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر پہاڑ پر چڑھنے کا ایک راستہ موجود ہوتا ہے اور آخر کار اس پہاڑ نے انسانی قدموں کے نیچے آنا ہوتا ہے۔ ایورسٹ، کے ٹو اور ہمالیہ بھی انسانی قدموں تلے ہیں تو پھر مایوسی کیوں! آپ بے شک نہ مانیں مگر حقیقت آخر حقیقت ہے جسے جھٹلایا نہیں جاسکتا۔

© Copyrights 2007, karachiupdates.com
E-mail:karachiweb@karachiupdates.com Contact: +92-321-2422035 / +92-321-9235365