رابطہ رہنمائے کراچی کالم /فیچر علم و ادب خواتین اسلام صفہ اول

16 May 2008 /  10 Jamadi-ul-Awwal 1429

بے تابیاں: طارق حسین

تین ہزار آٹھ دنیا کیسی ہو گی؟؟؟

آج 12 مئی ہے....!
میں اس وقت مریخ کے ایک اپارٹمنٹ میں کھڑا زمین پر بپا ہونے والی چیزوں کو دیکھ رہا ہوں۔ ایک شخص گلاس لئے مارا مارا پھررہا ہے۔ میں اپنے سپر سونک طیارہ کے ذریعے 5 منٹ بعد زمین پر اترچکا ہوں۔ میں نے اس شخص کو روک کر پوچھا: آپ کے ہاتھ میں گھڑی کون سی ہے؟ بولے: یہ زندگی کی گھڑی ہے۔ اسے دیکھ کر مجھے اندازہ ہوجاتا ہے کہ میری صحت اب کیسی ہے؟ مجھے بخار تو نہیں ہورہا؟ میرے جسم میں اس وقت کلوریز کی مقدار کتنی ہے؟ مجھے کھانسی کاخطرہ تو نہیں ہے؟

”میں اس گھڑی کی بدولت اپنا معائنہ خود ہی کرسکتا ہوں۔ یہ گھڑی مجھے پیش آنے والے واقعات سے پہلے باخبر کردیتی ہے جس سے میری صحت کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔“

”تو خالی گلاس لے کر کہاں جارہے ہو؟“ وہ مسکرا کر بولے: ”مجھے ایک گلاس صاف پانی چاہئے، تمام دریا سمندر آلودہ اور جوہڑ بن چکے ہیں، وہ سامنے جو ادارہ ہے وہاں دس ہزار ڈالر کے بدلے یہ گلاس پانی کا ملے گا۔“

میں نے حیرت سے اس کی باتوں کو سنتا رہا اور آگے بڑھ گیا۔ آگے کیا دیکھتا ہوں ایک بلڈنگ تعمیر ہورہی ہے۔ دیو ہیکل مشنری کام کررہی ہے۔ دور دور تک کوئی انسان نظر نہیں آرہا۔ آخر ایک شخص دکھائی دیا۔ میں نے پوچھا: انسان کہاں ہیں؟ بولا: ”خاندانی منصوبہ بندی نے نسل انسانی کو مفقود کردیا ہے۔ اب سارا کام مشینیں کرتی ہیں۔“

”پھر انسان کیا کرتے ہیں؟“ اس نے سامنے ایک کمرے کی طرف اشارہ کیا اور بولا: ”آج ایک بھی شخص خودکام نہیں کرتا بلکہ صرف کمپیوٹر پر ہدایات جاری کر رہے ہیں۔ جانتے ہو اب ان کی عمریں محض 25 سے 30 سال کی ہوتی ہیں۔“

میں حیرت سے آگے بڑھا، ایک شخص نے جیب سے کار نکالی۔ اس میں ہوا بھری اور اس میں بیٹھ کر روانہ ہوگیا۔ میں نے ایک نوجوان کو دیکھا کہاں جارہے ہو اور یہ کیا ہے: ”جناب آٹا ہے۔“

”آٹا“ میں نے پوچھا۔ ”ہاں! شکر ہے کافی سستا مل گیا، صرف 7000 روپے کلو۔“

میرے دماغ میں لگی چپ نے مجھے سگنل دیا یہاں شدید خطرہ ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ میں فوراً یہ جگہ چھوڑدوں۔ میںشدید خوف زدہ ہوگیا۔ میں دوڑنے لگا۔ میری بیوی نے میرے دل پر ہاتھ رکھا اور بولی خیریت ہے۔ آدھی رات کو تمہیں کیا ہوگیا ہے؟ میں ہڑبڑاکر اٹھا۔ گھڑی دیکھی تو رات کے تین بج رہے تھے۔ تاریخ 12 مئی کی ہی تھی مگر سن 2008ءتھا۔

میں نے ایک لمبی آہ بھری، منہ سے پھونکنی بناکر ہوا نکالی۔ ماتھے سے پسینہ پونچھا۔ اللہ تیرا شکر ہے یہ تو محض ایک خواب تھا۔

کہتے ہیں کبھی کبھی خواب بھی سچے ہوجاتے ہیں۔ آخر 3008ءمیں دنیا کیسی ہو جائے گی؟ کیا انسان روٹی کھانا چھوڑ دیں گے۔ کپڑوں کی ضرورت باقی نہ رہے گی۔ مکان کی چھتیں کس طرح کی ہوں گی؟ عجیب وغریب کاریں اور گاڑیاں ہوں گی۔ اب روٹی کی جگہ روٹی کی ٹیبلٹ ملا کرے گی۔ انسان چاند پر بیٹھ کر پیزا کھایا کریں گے۔ لوگ شاپنگ کے لئے مریخ جایا کریں گے۔ یہ ہمارے بھائی ہیں۔ یہ نپچون میں رہتے ہیں۔ یہ میری بڑی بہن ہے زہرہ سیارہ پر ان کے چار پلاٹ ہیں۔ پلک جھپکتے سارے کام ہوجایا کریں گے۔ لوگ چٹکی بجاکر اپنا کام کرلیا کریں گے، آخر کیا ہوگا؟

کیا اب بھی وکیل سڑکوں پر جسٹس افتخار چودھری اور عدلیہ کی بحالی کے لئے سرگرم ہوں گے؟ نواز شریف اب 12 مئی 3008ءکی ڈیڈ لائن دے رہے ہوں گے؟ مشرف صاحب اب بھی برسراقتدار ہوں گے؟ ہر غریب کے پاس پیپلزپارٹی کے منشور کے بعد اپنی چاند گاڑی، بینک بیلنس اور بنگلہ ہوگا؟ شاید اب روٹی کپڑا مکان کا نعرہ تبدیل ہوچکا ہوگا یا اسی طرح ہوگا؟ کیا کوئی ”زردارستان“ کا ملک بھی بن چکا ہوگا؟ آخر کیا ہوگا؟

بے حیائی اور فحاشی کے جس مقام پر ہم آج کھڑے ہیں اس میں ہم نے مزید کتنی” ترقی“ کرلی ہوگی؟ بیٹی ماں اور بہن کا رشتہ باقی ہوگا۔ کیا ہمیں لباس پہن کر گھومنے کی اجازت ہوگی؟ آخر کیا ہوگا؟

کیا افغانستان، عراق، فلسطین اور کشمیر میں آج کی طرح ہی مسلمانوں کا لہو بہہ رہا ہوگا؟ آج تو محض بھیڑ کی کلوننگ سے ڈولی پیدا کی گئی ہے کیا انسان بھی کلون ہورہے ہوں گے؟ کیا انسانی اعضاءمارکیٹ میں دستیاب ہوں گے۔ بھائی صاحب! مجھے نیا گردہ دے دیں اورآپ نے جو میرے بھائی کو پھیپھڑے دیئے تھے وہ تو ایک ہفتہ بھر ہی میں جواب دے گئے۔ شاید دکاندار بولے گا: ”ان کی تین ماہ کی وارنٹی ہے آپ تبدیل کرالیں۔“

اشتہاری بورڈ لگے ہوں گے: ”آج ہی نئی ٹانگیں لگوایئے۔“ نہ جانے کیا عالم ہوگا، آخر کیا ہوگا؟

آج تو چھوٹے بڑوں کی عزت کرتے ہیں۔ کیا اس وقت بھی ایسا ہی ہوگا؟ آج خلوص، وفا اور محبت کے جذبات سرد پڑ چکے ہیں۔ اس وقت ان جذبات کا عالم کیا ہوگا، آخر کیا ہوگا؟

آج تو ہم 700 چینلز کی ڈش دیکھ سکتے ہیں۔ کیا اس وقت 70000 چینلز ہوں گے؟ انسان یہ سب کچھ کیسے دیکھے گا؟ آخر کیا ہوگا؟ کیا اس وقت بھی اس وقت کی طرح ملاوٹ، چور بازاری، کرپشن اور مہنگائی ہوگی؟ ہوسکتا ہے تب تک حکومت بھی مہنگائی پر کنٹرول کرچکی ہوگی۔ کیا درخت ہوں گے؟ کیا پٹرول اور گیس ہوگی؟ کیا اس وقت بھی لوڈشیڈنگ ہورہی ہوگی؟ اس وقت کے سیاستدان کیسے ہوں گے؟ کیا عدالتوں میں انصاف مل رہا ہوگا؟ اب غریب نہ ہوگا غربت نہ ہوگی؟ تعلیم سو فی صد ہوگی؟ صحت کی سہولتیں بھی سو فیصد موجود ہوں گی؟ ٹوٹی پھوٹی سڑکیں نہ ہوںگی، آخر کیا ہوگا؟

میںسوچ رہا تھا کیا اس وقت تک دنیا باقی بھی ہوگی۔ ماہر ماحولیات کہتے ہیں: اب دنیا میں جنگیں پانی پر ہوں گی۔ معیشت دان کہتے ہیں سارے کاروبار گھر بیٹھے ہی ہوجایا کریں گے۔ سائنس دان کہتے ہیں: اس وقت دنیا میں 8400 کے لگ بھگ ایٹم بم موجود ہیں۔ کیا اس وقت یہ استعمال ہوچکے ہوں گے، کیونکہ یہ بم پوری دنیا کو سات مرتبہ ختم کردینے کے لئے کافی ہیں!

میں سوچ رہا تھا کیا اس وقت یہ دنیا قائم بھی ہوگی؟ کیا امریکہ اسی طرح دندنارہا ہوگا؟ یا یہ دنیا کے نقشہ پر ہوگا ہی نہیں! آخر اس وقت یہ دنیا قائم بھی ہوگی یا کوئی مریخ سے اترے گا؟ اور اس کی مٹی اٹھاکر اس میں دیکھے گا؟ اوربولے گا یہ دنیا ہے جہاں انسان بسا کرتے تھے لیکن یہ قوم ختم ہوگئی ہے۔ شاید وہ راکھ لے جاکر لیبارٹری میں ٹیسٹ کرے گا اور تجزیہ کرے گا کہ اس قوم نے خود کو تباہ کرلیا۔ آخری پیغام کو چھوڑکر اس دنیا کو مسکن بناچکی تھی، اس راکھ میں کروڑوں انسان، لاکھوں طاقتور سربراہ، لاکھوں ضیاو ¿ں کے جسموں کی راکھ ہے اور یہ دیکھو یہ ہڈی بھرا چہرہ اس پر گوشت کا نقش ونگار فنا ہوچکے ہیں۔ شاید وہ ہمارے بارے میں اپنی تاریخ میں کیا لکھے گا؟

میں اپنی سوچوں میں غرق تھا کہ مجھے ”الصلوٰة خیرمن النوم“ کی صدا سنائی دی۔ اللہ اکبر کی صدائیں رات کا سکوت توڑ کر میرے کانوں میں رس گھولنے لگیں۔ مجھے سکون ملا۔ میں وضو کے لئے اٹھا۔ مجھے ہر سوال کا جواب مل گیا۔ میں نے سمجھا کہ 3008ءمیں یہ دنیا رہے یا نہ رہے۔ اس سے کوئی فرق پڑنے والا نہیں ہے لیکن اللہ اکبر کی صدا اس وقت بھی گونجتی تھی جب یہ دنیا نہ تھی اوریہ اس وقت بھی گونجے گی جب یہ دنیا نہ ہوگی۔ بس جو ”ویبقیٰ وجہ ربک ذوالجلال والاکرام“ سے رشتہ جوڑ لے گا، اس کے دامن میںپناہ لے لے گا، اس کا بن جائے گا، اس کا ہر کوئی بن جائے گا۔

© Copyrights 2007, karachiupdates.com
E-mail:karachiweb@karachiupdates.com Contact: +92-321-2422035 / +92-321-9235365