|
|
|
01 May 2008 / 24
Rabi-us-Sani
1429 |
|
بے تابیاں: طارق حسین
مشورہ مفت
”تم نے وہ کہانی تو سن ہی
رکھی ہوگی؟“
”کون سی؟“ میں نے کہا۔
اس سے قبل کہ وہ میری ”کون سی؟“ کا جواب دیتا، خود ہی فیصلہ صادر کیا، کہنے لگا:
”نہیں سنی، میں سناتا ہوں“
”جانتے ہو کئی صدیاں قبل ایک ملک پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اس کے گرد درباریوں،
مصاحبوں، خوشامدیوں اور حواریوں کا ایک ہجوم تھا۔ جو ہر دم جی حضوری کا فریضہ انجام
دیتے تھے۔ بادشاہ کی ”ہاں“ میں ”ہاں“ ملانا، ہر بات پر ”آمنا وصدقنا“ کہنا اور پھر
اس کی دلیلیں تلاش کرنا ان کا محبوب مشغلہ تھا۔ بادشاہ کے مصاحب دن بھر اس کی شان
کے قصیدے پڑھا کرتے تھے۔ اس کی اعلیٰ صفات کے بیان کے لئے زمین و آسمان کے قلابے
ملایا کرتے تھے۔ اس کے عیوب کوبھی محاسن کے کھاتے میں ڈال دیا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ
بادشاہ اپنی آنکھوں کے بجائے مصاحبوں کی آنکھوں سے دنیا کو دیکھنے لگا اور اپنے
کانوں سے نہیں بلکہ چاپلوس حواریوں کے کانوں سے دنیا کی باتیں سننے کا عادی ہوتا
چلا گیا۔ بادشاہ خود کو بڑا دانا اور عقلمند سمجھتا تھا مگر وہ خوشامدیوں کی چکنی
چپڑی باتوں میں آکر بے وقوف بنتا چلا گیا۔ ایسے میں دربار کے چند شاطر اور ذی اثر
مصاحبوں نے.... جن کے مشورے سے حکومت چلا کرتی تھی.... بادشاہ کو ایک نایاب مشورہ
دیا اور یہی بادشاہ کے زوال کا پہلادن تھا۔“
میں نے ٹوکا، کون سا دن، کب کی بات ہے؟ اس نے مجھے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔ میں نے
گردن بائیں طرف ڈھلکی اور دوبارہ اس کی بات سننے لگا۔
”اس کے مصاحبوں نے بادشاہ سے دست بستہ عرض کی: ’ظل سبحانی آپ دنیا کے سب سے بڑے
بادشاہ ہیں۔ آپ کو زیب نہیں دیتا کہ آپ ایسا شاہانہ لباس زیب تن کریں جسے دنیا کے
دیگر بادشاہ بھی پہنتے ہوں۔ لہٰذا آپ یہ شاہانہ لباس اتار پھینکیں۔ اس کی جگہ وہ
پرشکوہ ونورانی لباس پہنیں جس کو تیار کرنے والا کاریگر اس دنیا میں صرف ایک ہی رہ
گیا ہے اور اتفاق سے وہ شخص ہمارے ہی ملک میں رہتا ہے۔ یہ لباس ایسا زرق برق اور
دیدہ زیب ہوگا کہ دنیا کے سارے بادشاہ اس کی شان وشوکت دیکھ کر دانتوں میں اپنی
انگلیاں داب لیں گے۔ اس لباس کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ لباس اس شخص کو نظرآئے گا جو
نیک طبیعت، پاکباز اور اعلیٰ ظرف ہوگا۔ یہ ان اشخاص کو دکھائی نہیں دے گا جو شیطان
صفت گناہ گار اور حرام خور ہوں گے۔‘ ان خصوصیات کے بعد بادشاہ وہ لباس زیب تن کرنے
کے لئے تیار ہوگیا۔“
میں چونکا ایسا کون سا لباس ہے؟ اس نے پھر مجھے اشارہ کرکے چپ رہنے کا حکم دیا اور
خود بولنا شروع کردیا اور پھر ایک شخص کو نورانی لباس کے درزی کے طورپر دربار میں
لایا گیا۔ پھر بھرے دربار میں بادشاہ کو تخت پر بٹھایا گیا اور ماہر درزی نے بادشاہ
کے شاہی لباس کے سارے حصوں کو آہستہ آہستہ کاٹ کاٹ کر بدن سے اتار نا شروع کیا۔
یہاں تک کہ وہ بالکل برہنہ ہوگیا۔ اس کے بعد درزی نے بڑی دیر تک خلا میں ہاتھ چلائے
اور انہیں بادشاہ کے بدن کی طرف گھماتے ہوئے یہ ظاہر کیا کہ وہ بادشاہ کو نورانی
لباس پہنارہا ہے۔ وقفہ وقفہ سے کچھ دیر رک کر وہ داد طلب نظروں سے درباریوں کی طرف
بھی دیکھتا جاتا تھا۔ جیسے درزی اپنے حق کی داد وصول کرنا چاہتا ہو۔ اس کے جواب میں
سارے دربار سے شور بلند ہوجاتا تھا: ”مرحبا، واہ واہ! کیا بات ہے؟ واہ! کیا گل بوٹے
ہیں؟ کیا نقش ونگار ہیں؟ کیا طمطراق ہیں؟ آج تک کسی نے ایسا لباس نہیں دیکھا۔ عالم
پناہ کو یہ بے مثال پوشاک مبارک ہومبارک ہو!“ کسی بھی درباری میں یہ ہمت نہ تھی کہ
وہ دربار میں جاری ان سازشوں کے خلاف اپنی آواز بلند کرتا۔ کیونکہ اسے بھی اپنی جان
پیاری تھی اور بادشاہ بھی کون سا اس کی بات پر کان دھرتا۔ جب درزی بادشاہ کو
”نورانی لباس“ پہنا چکا۔ یعنی اسے مادرزاد برہنہ کردیا تو بادشاہ کے حکم پر درزی کو
انعام واکرام سے نوازا گیا۔“
میرے منہ سے بے اختیار نکلا: ”یہ کیسا بے وقوف بادشاہ تھا!؟“
اس نے ”اونہہ ہوں“ کہہ کر مجھے پھر خاموش رہنے کو کہا۔
”اور دربار سے مبارک مبارک کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔ ایک لمحہ کے لئے شاید بادشاہ
کو شبہ بھی گزرا کہ وہ اس نورانی لباس میں بالکل برہنہ ہے لیکن جب سارا دربار اس
نورانی لباس کے بے مثل ہونے کی گواہی دے رہا تھا تو وہ اپنی زبان کیسے کھولتا؟ ویسے
بھی اس لباس کی جو خصوصیات بتائی گئی تھیں، ان میں یہ لباس صرف بدمعاشوں اور حرام
خوروں کو ہی نظر نہیں آسکتا تھا۔ لہٰذا وہ خاموش ہوگیا کہ وہ اپنی ذاتی حرام خوری
کو پوشیدہ رکھ سکے۔
میں نے زور دار قہقہہ لگایا اور اس کے منہ سے ”چو“ کی آواز آئی۔ اس نے لمبی سانس
اندر لی اور بولنا شروع کیا۔
”بادشاہ اب محل میں ننگا گھومنے کے علاوہ دربار میں اسی حالت میں آنے لگا۔ رفتہ
رفتہ اس کی رعایا بھی اسے اس حالت میں دیکھنے کی عادی ہوتی چلی گئی لیکن ایک دن وہ
سیر کے ارادے سے اپنی شاہانہ سواری میں محل سے باہر نکلا۔ رعایا نے جابجا شور مچاکر
تالیوںکی گونج میں اس کا استقبال کیا اور پھر اس کی سواری جب قاضی شہر کی عدالت کے
سامنے سے گزر رہی تھی تو ملک کے قاضی نے آگے بڑھ کر بادشاہ سے عرض کی کہ بادشاہ
سلامت آپ کو یہ زیب نہیں دیتا کہ اس طرح مادر زاد ننگے ہوکر شہر میں گھومیں آپ اس
ننگے پن کو چھوڑ دیں اور لباس زیب تن فرمائیں۔ یہ سننا تھاکہ بادشاہ سیخ پا ہوگیا۔
اس نے اسے فوری طور پر عہدہ سے معزول کردیا اور حکم دیا کہ قاضی شہر کو نظر بند
کردیا جائے کیونکہ یہ جانتا تھاکہ یہ نورانی لباس شیطان صفت انسانوں اور بد معاشوں
کو نظر نہیں آتا۔“
میں نے دلچسپی سے آگے سنانے کے لئے کہا وہ اب مسکرایا اور بولا: ”ابھی کہانی مکمل
نہیں کرسکتا۔ اس کہانی کے کچھ اور بھی کردار ہیں۔ یہاں تک تو تم ایک سبق حاصل کر
سکتے ہو۔“جھوٹ نہیں بولنا چاہئے۔ سچائی چونکہ معصوم اور بے ریا ہوتی ہے اس لئے سولی
پر لٹکائی جاتی ہے۔
”آخر تم یہ کہانی سناکر کیا کہنا چاہتے ہو؟“
”بس میں کچھ نہیں کہنا چاہتا، ایک بار یہی کہانی میرے ملک میںبھی بنی تھی اور اب
دوبارہ پھر بننے جارہی ہے۔ اگرتم سے ہو سکے تو نوازشریف اور زرداری کو بھی یہ کہانی
ضرور سنانا کہ میں نے سنا ہے وہ بھی ججوں کی بحالی کے معاملہ پر یہ سوچ رہے ہیں کہ
نورانی لباس کیوں نہ پہنا جائے۔ کیونکہ یہ لباس شیطان صفت اور حرام خوروں کو نظر
نہیں آتا۔ تو اس میں ان کا کیا قصور!؟ |
 |
|
|