|
|
|
18 April 2008 / 11
Rabi-us-Sani
1429 |
|
بے تابیاں: طارق حسین
توہین رسالت قرآن کی نظر میں
میں نے راہ رشدوہدایت، وہ مقدس کتاب جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب اطہر پر نازل
ہوئی۔ جو دنیا وکائنات کی وہ واحد دستاویز ہے، جسے رب کا کلام ہونے کاشرف حاصل ہے۔
جسے جبرئیل امین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچایا۔ وہ کتاب جس میں رہتی دنیا تک
کے سارے معاملات لکھے ہیں۔ یہ زندگی گزارنے کا ڈھنگ بھی سکھاتی ہے اور روز قیامت کے
حالات بھی بتاتی ہے۔ وہ کتاب جو پیدائش سے پہلے کے حال بھی بتاتی ہے اور آنے والے
واقعات کی نشاندہی بھی کرتی ہے جو ہدایت کے نور سے لبالب ہے۔ آج تک ہرتشنہ لب روح
کی تسکین ہے۔
میں نے سوچا، میں نے چاہا، توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ارشاد باری
تعالیٰ کیا احکامات دیتے ہیں اور قرآن ہماری کیا رہنمائی کرتا ہے؟ سورہ احزاب کی
آیت مبارک 6نے آواز دی:
ترجمہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم مومنوں کے لئے اپنی جانوں سے بڑھ کر عزیز ہیں۔
میں محبت سے سرشار، قرآن کی تلاوت کرتا چلا گیا تو آل عمران میں رب تعالیٰ نے
فرمایا
ترجمہ: اے نبی کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو محبت کے ساتھ میری
پیروی کرو، اللہ بھی تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف کردے گا اور اللہ
بخشنے والا مہربان ہے۔
اور پھر قرآن نے توجیسے فیصلہ کن اعلان فرمادیا:
ترجمہ: کہہ دیجئے اے نبی! اگر تمہارے باپ دادا اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی
اور تمہاری بیویاں اور تمہارے رشتہ دار اور وہ مال جو تم نے محنت سے کمائے ہیں۔ اور
وہ تجارت جس میں خسارے سے تم ڈرتے ہو اور وہ گھر جو تمہیں پسند ہیں۔ اگر تمہیں
زیادہ محبوب ہیں، اللہ سے اور اس کے رسول سے اور اس کی راہ میں جہاد سے تو انتظار
کرو یہاں تک کہ لے آئے اللہ اپنا فیصلہ اور اللہ ایسے نافرمانوں کو ہدایت نہیں دیا
کرتا۔
اور پھر قرآن میں اللہ تعالیٰ نے سورہ فرقان میں اعلان کردیا:
ترجمہ: اور اسی طرح ہم نے مجرموں میںسے ہی نبی کے دشمن بنادیئے اور اے نبی آپ کا رب
ہدایت دینے اور مدد کرنے کو کافی ہے۔
اور اللہ نے نبی کو ستانے والوں سے سخت اظہار ناراضگی کیا اور فرمایا:
ترجمہ: جو لوگ اللہ کو ناراض کرتے ہیں اور رسول کو ستاتے ہیں۔ ان پر اللہ دنیا اور
آخرت میں لعنت کرتا ہے۔ اور ان کے لئے اس نے رسوا کرنے والا عذاب تیار کررکھا ہے۔
سورة الانبیاءمیں رب تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
ترجمہ: اور (اے نبی
) جب بھی کافر آپ کو دیکھتے ہیں تو ہنسی کرتے ہیں کہ کیا یہی
ہے وہ شخص جو تمہارے معبودوں کا ذکر (انکار) کیا کرتا ہے؟ حالانکہ وہ خود رحمن کے
ذکر سے انکاری ہیں۔
سورہ زخرف میں ارشاد ہوا:
ترجمہ: اور انہوں نے کہا کہ یہ قرآن ان دونوں بستیوں (مکہ، طائف) میں سے کسی بڑے
آدمی پر نازل کیوں نہ کیا گیا؟
اور سورہ حجر میںرب تعالیٰ نے فرمایا:
ترجمہ: اور انہوں نے کہا کہ وہ شخص جو سمجھتا ہے کہ اس پر نصیحت نازل ہوئی بلاشبہ
تم تو یقینا پاگل ہو۔
ارشاد باری تعالیٰ ہوا:
ترجمہ: اور انہوں نے تعصب کیا کہ ان کے پاس انہی میں سے ایک خبردار کرنے والا آیا
اور کافر کہنے لگے یہ تو جادوگر ہے بہت بڑا جھوٹا۔
سورة النساءمیں ارشاد ہوا:
ترجمہ: اور جب انہیں کہا جاتا ہے کہ آواس کلام کی طرف جو اللہ نے نازل فرمایا
اور رسول کی طرف تو آپ کو دیکھتے ہیں کہ منافق آپ کے پاس آنے سے کتراتے ہیں۔
ارشاد ہوا:
ترجمہ: اور ان میںسے وہ بھی ہیں جو پیغمبر کو ایذا دیتے ہیں اور کہتے ہیں ہلکے کان
کا ہے۔ آپ کہہ دیجیے وہ کان تمہارے بھلے کے لیے ہے۔ وہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور
مسلمانوں کی بات کا یقین کرتا ہے اور تم میں سے جو اہلِ ایمان ہیں یہ ان کے لیے
رحمت ہے۔ رسول اللہ کو جو لوگ ایذا دیتے ہیں ان کے لیے دکھ کی مار ہے۔
اور رب تعالیٰ نے سزا بھی سنائی گستاخان رسول کو کہ ارشاد ہوا:
ترجمہ: اے نبی خواہ آپ ان کے لئے بخشش مانگیں یا نہ مانگیں اگر آپ ان کے لئے ستر
مرتبہ بھی بخشش مانگیں گے تب بھی اللہ ہرگز ان کو معاف نہ فرمائے گا۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ: اور یہ جویہودی ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ کلمات کو ان کے اصل محل
ومقام سے بدل دیتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور نہیں مانا۔ اور سنئے، نہ
سننے والے ہوتے ہوئے اور زبان کو مروڑ کر اور دین میں طعن کی راہ سے (آپ کے گفتگو
کے وقت) ”راعنا“ کہتے ہیں۔ اور اگر وہ یوں کہتے کہ ہم نے سن لیا اور مان لیا اور (صرف)
اسمع اور (راعنا کی جگہ) انظرنا کہتے تو ان کے حق میں بہتر ہوتا۔ اوربات بھی بہت
درست ہوتی لیکن اللہ نے ان کے کفر کے سبب ان پر لعنت کررکھی ہے۔ پس ایمان نہیں
لائیںگے۔ (النسا:46
اور اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ، آپ کی شان میں گستاخیوں کے
مرتکب ہونے والوں کو کتنی بڑی سزا دیتا ہے تو
سورہ لھب کا مطالعہ فرمائیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ: ٹوٹ جائیں ابو لہب کے دونوں ہاتھ اور وہ ہلاک ہو۔ اور نہ تو اس کا مال ہی اس
کے کچھ کام آیا اور نہ وہ جو اس نے کمایا تھا۔ وہ جلد بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگا۔
اور اس کے بعد ام جمیل جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخیاں کرتی تھی اس
کے انجام کا ذکر ہے۔ اس کی اولاد کے ساتھ جو کچھ ہوا تاریخ اس کی گوا ہے۔
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر شدیداذیتیں ڈھائی گئیں توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے
بارگاہ ایزدی میں عرض کی:
”یاالٰہی میں تجھ ہی سے اپنی کمزوری و بے بسی اور لوگوں کے نزدیک اپنی بے قدری کا
شکوہ کرتا ہوں۔ یا ارحم الرحمین! تو کمزوروں کا رب ہے تو ہی میرابھی رب ہے۔ تومجھے
کس کے حوالے کررہا ہے؟ کیا کسی بیگانے کے جو میرے ساتھ سختی سے پیش آئے یا کسی دشمن
کے جس کے تونے میرے معاملے کا مالک بنادیا ہے؟
تو رب تعالیٰ کی طرف سے تسلی آئی اور ارشاد ہوا:
اے نبی ہم کافی ہیں آپ کی طرف سے ان مذاق اڑانے والوں کے خلاف۔ یہ وہ ہیں جنہوں نے
اللہ کے ساتھ اور معبود بنائے ہیں۔ پس وہ عنقریب جان لیں گے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم
کی توہین اور اللہ کے ساتھ شرک کا انجام) اور ہم جانتے ہیں کہ ان کی باتوں سے آپ کا
سینہ تنگ ہوتا ہے۔ سوآپ اپنے پروردگار کی تسبیح کیجئے۔ اور اس کی حمد کے ساتھ
ہوجائے سجدہ کرنے والوں میں سے اوراپنے پروردگار کی عبادت کرتے رہیے یہا ں تک کہ آپ
کے پاس یقینی شئے (موت) نہ آجائے۔ (حجر95۔99
اور بخاری ومسلم کی متفقہ علیہ حدیث ہے کہ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
” تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اسے محبوب نہ ہوجاو ¿ں اس کے
مال، اس کی اولاد اور یہاں تک کہ تمام انسانوں سے۔“
اور میں قرآن پاک کا مطالعہ کرنے کے بعد اسے شیلف میں رکھنے لگا تو مجھے یہ آیات
پڑھ کر خیال آیا کہ توہین رسالت کی مذمت کرنا صرف آپ کا کام نہیں ہے بلکہ یہ تو سنت
الٰہی ہے۔ رب خود اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت کو مقدم جانتا ہے تو جو
پھر جو آج اس قافلے کا حصہ ہےں وہ یقینا رب کی سنت پرعمل پیرا ہیں۔“ “ |
 |
|
|