|
|
|
09
April 2008 / 02
Rabi-us-Sani
1429 |
|
بے تابیاں: طارق حسین
آخر تم کیا کرسکتے ہو؟
آخر تم کیا کر سکتے ہو اس کی خاطر....؟ اس ہستی کی خاطر.... اس حسین وجمیل ہستی کی
خاطر.... جس کی زندگی میں جلال وجمال پوری رعنائیوں کے ساتھ جھلکتا رہا۔ وہ ہستی ،جب
اس نے اس کائنات میں قدم رکھا تو ایوان کسریٰ کے کنگرے گرجاتے ہیں۔ آتش کدہ ٹھنڈے
اور گربے مہندم ہوجاتے ہیں۔ ہاں وہ ہستی سنگریزے اٹھائے تو وہ اس کی مٹھی میں کلمہ
پڑھتے ہیں اور جب وہ انگلی اٹھاتا ہے تو چاند تاب حکم نہ لا کر خود کو تقسیم کرلیتا
ہے۔ وہ مقدس آغوش جس کے دامن میں ہر آنے والا راہ ہدایت سے سرفراز ہوجاتا ہے۔ وہ
ہستی جس کی شمشیر کبھی بے گناہ پر نہیں اُٹھی۔ وہ حسین وجمیل ہستی جس کے اخلاق کی
گواہی خود قرآن نے دی ہے۔ اعلیٰ اخلاقی صفت کا وہ پیکر جس کی طبیعت میں روانی،
لفظوں میں نکھار، پیکر جودو سخا، شجاعت وبہادری، حیا وصفا، شفقت، رحم، مروت، نرم
خوئی کا پیامبر، وہ پاک دامن ہستی جسے خالق کون ومکان نے انبیاءکا امام بناکر بھیجا۔
ہاں وہ ہستی جس کی مراد کو قرآن نے اپنے دامن میں سمیٹ رکھا ہے۔ ایک طرف قرآن
”لعمرک“ فرما کر اس کی زندگی کی قسم کھاتا ہے تو دوسری طرف کفار کی طرف سے اٹھائے
جانے والے الزامات کا جواب بھی خود دیتا ہے۔ کبھی ”انک لمن المرسلین“ کہہ کر اس کی
رسالت کی توثیق کرتا ہے۔ کبھی ”وما صاحبکم بمجنون“ فرما کر اس کی عظمت پر آنے والے
ہر حرف کو باطل قرار دیتا ہے۔ ہاں وہ ہستی! جب اس پر کوئی بد بخت انگلی اٹھاتا ہے
تواسے ”تبت ید ابی لھب وتب“ کہہ کر مخاطب کرتا ہے۔
آخر تم کیا کرسکتے ہو؟ جس نے اس دین کی خاطر اپنے دندان مبارک شہید کروائے۔ جس نے
اس دین کی خاطر اپنے جسم اطہر پر زخم کھائے۔ وہ جس نے اس دین کی خاطر پیٹ پر پتھر
باندھے، جس نے اس مقدس دین کی خاطر اتنے زخم برداشت کئے کہ لہونے بہہ بہہ کر جوتے
مبارک تر کردیے۔
آخر تم کیا کرسکتے ہو! جس کے ایک جنبش ابرو پر جانثاران اپنی گردن پیش کردیتے تھے۔
جس کے گرد اُن سے محبت کرنے والوں کا نہ رکنے والاطوفان تھا، جو اس کی شان اقدس پر
ہر دم فدا ہوتا تھا۔
اور آخر تم کیا کر سکتے ہو؟ تم جس کا کلمہ پڑھتے ہو، جس کی خاطر تم نعرے لگاتے ہو،
محبت کا دم بھرتے ہو۔ ریلیاں نکالتے ہو، جلوس منعقد کرتے ہو۔ ان کی حرمت پر جان بھی
قربان کرنے کے دعوے کرتے ہو۔ بینر لگاتے ہو، پمفلٹ بانٹتے ہو۔ ہر وہ عمل جس سے تم
یہ سمجھتے ہو کہ دشمن کو زک پہنچائی جاسکتی ہے، کرتے ہو لیکن اس سب کے باوجود آخر
تم کیا کرسکتے ہو؟
کیا میں ےہ سمجھ لوں کہ اب تمہارے ہاتھوں میں ان سازشوں کی بیخ کنی کے لئے دم خم
نہیں ہے؟ تم یہودوہنود کے سامنے سر جھکا دوگے؟ کیا تمہیں یاد ہے جب غلام قادر
روہیلا نے شاہ عالم ثانی کے تخت پر قبضہ کیا تھا۔ بادشاہ کی آنکھیں نکال کر چیلوں
کو کھلادیں۔ سارے مغل شہزادوں کو جمع کیا۔ ان کے حرم کی عورتوں کو بلایا۔ سروں سے
دوپٹے اترواکر سرمحفل رقص کا حکم دیا۔ مفتوح شہزادیوں کو ناچنے پر مجبور کیا۔
شہزادے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوگئے۔ جب رقص جوبن پر پہنچا تو غلام قادر روہیلا نے وہ
خنجر نکالا جس کی دھار پر شاہ عالم ثانی کے لہو کے قطرے باقی تھے۔ روہیلا نے دھار
پر انگلی پھیری، خنجر سرہانے رکھا، پشت تخت کے ساتھ لگائی اور آنکھیں بند کرلیں۔
رقص جاری رہا۔ جب کافی وقت گزر گیا اور شہزادیوں کے پاو ¿ں سے ناچ ناچ کر لہو ٹپکنے
لگا، روہیلا اٹھا، خنجر اٹھایا اور قہقہہ لگاکر بولا: ”اے تیمور کے بیٹو! تم تالی
بجانے، حکم دینے اور تلوار اٹھانے کا خواب دیکھنا چھوڑ دو کہ تمہاری رگیں اب حمیت
سے خالی ہوچکی ہیں۔ خدا کی پناہ! تیمور کی بیٹیاں سرِمحفل ناچ رہی ہوں۔ نچانے والا
سامنے لیٹا ہو۔ کھلا خنجر سامنے سرہانے پڑا ہو اور تیمورکے بیٹے سر جھکاکر کھڑے
رہیں۔“ اتنا کہہ کر روہیلا نے تالی بجائی اور نقیب کو بلاکر حکم دیا: ”جاو ¿ شہر
میں منادی کرادو! اب سورج مغلوں کا اقتدار کبھی نہیں دیکھے گا کہ مغلوں کی رگوں سے
غیرت اُڑ چکی ہے۔“
اور آخر تم کیا کر سکتے ہو؟ کیا تم بھی ےہ چاہتے ہو کہ کوئی اور روہیلا تمہاری طرف
انگلی اٹھا کر کہے کہ ان کی رگوں سے غیرت اُڑچکی ہے۔ ےہ دیکھو اس امت محمدی کے بیٹے
سرجھکاکر کھڑے ہیں۔ ان کے سامنے جو بھی ہے مگر وہ خنجر سے دور ہیں کیونکہ ان کی
رگوں سے حمیت ختم ہوچکی ہے۔
اور سوال تو پھر وہیں پر ہے آخر تم کیا کر سکتے ہو؟ کیا تم اتنا نہیں کرسکتے ہو کہ
وہ چیزیں چھوڑدو جو چیزیں بناکر وہ تمہاری آسائشوں کا انتظام کررہے ہیں اور اپنی
جیبیں بھر رہے ہیں۔ کیا تم کم از کم اس ہستی سے اظہار محبت کرتے ہو؟ ان کی معیشت دم
توڑ دے تو کیا وہ پھر بھی ایسا کر سکتے ہیں؟ کیا تم نیسلے کا دودھ پینا چھوڑکر اپنے
رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں گائے، بھینس کے دودھ سے گزارہ نہیں کرسکتے؟
”شیل“ کے پیٹرول پمپ کو چھوڑ کر کسی اور سے اپنی گاڑی میں پیٹرول نہیں ڈلواسکتے؟
ڈنمارک اور ہالینڈ کی ہر شے جس کا بار کوڈ 57 سے شروع ہوتا ہے اسے ترک نہیں کرسکتے؟
اگر تم نے چند دن وہ برگر نہ کھائے جو وہ بناتے ہیں، وہ کپڑے نہ پہنے جن کے وہ خالق
ہیں۔ وہ رنگ، وہ روشنائی جو ان کے وجود سے منسلک ہے ترک نہیں کرسکتے؟ کیا تم وہ
صابن نہیں چھوڑ سکتے جس کے بنانے والے وہ ہیں؟ وہ مشروب، قلم اور کاغذ تم اپنے گھر
سے نکال نہیں سکتے؟
ناموس رسالت پر آخر تم کیا کر سکتے ہو؟ تمہیں اندازہ نہیں ہے۔ کیا تم ناموس رسالت
پر ایسی ایک ویب سائٹ بناسکتے ہو جس کو دنیا کے سارے مسلمان اس طرح پڑھیں اور
کھولیں کہ وہ یوٹیوب کو پیچھے چھوڑ دے؟ وہ گوگل پر سب سے اول ہو؟ وہ ویب سائٹ جس
میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اُٹھائے جانے والے ہر اعتراض کا جواب موجود ہو۔ جس کے
ہرصفحہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان سے بھرے آبگینے روشن ہوں۔
آخر تم کیا کرسکتے ہو؟ ایک ایسا ایس ایم ایس یا ای میل بناسکتے ہو جو ہر مسلمان کے
دل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو زندہ کرنے کی آرزو پیدا کرے۔ آپ کے بتائے
ہوئے تمام فرامین میں سے کم از کم ایک کو اپنانے کا وعدہ نہیں کرسکتے؟ کیا تم ےہ
نہیں کر سکتے کہ اپنے بچوں، دوستوں اور رشتہ داروں کو اپنے اس غم میں شریک کرلو جس
کے درد سے دوچار ہو؟
کیا ےہ ویڈیو، ٹی وی اور اخبار والے ےہ نہیں کرسکتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی
شان میں اٹھائے جانے والے اعتراضات کاجواب دیں؟ کیا تم یہ نہیں کرسکتے کم از کم
روزانہ ایک حدیث پڑھو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اظہارِ محبت کرو۔ ایک آیت پڑھو
اور اسے حرزِ جان بنالو۔
کیا تم کرسکتے ہو سارے مسلمان، 1.6 بلین مسلمان خط لکھ دیں خط میں صرف اتنا ہی لکھ
دیں: ” SMS، حرمت رسول پر جان بھی قربان ہے۔“ اور کم ازکم ان اداروں کو ایک فون، خط،
ٹیلیگرام،
ضرور کریں۔ انہیں بتائیں اگر تمہاری طرف سے اس کی مذمت بین الاقوامی طور پر نہ آئی
تو ہم تمہاری مصنوعات کا بائیکاٹ کردیں گے۔
اس رسول اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کوئی گھٹاسکا ہے اور نہ گھٹا سکے گا مگر تم
کم از کم اتنا کرکے ان لوگوں میں اپنا نام لکھوا سکتے ہو جو بروزِ قیامت جب اس کے
حضور پیش ہوں تو کم از کم اتنا کہہ سکیں کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! میں کمزور
وناتواں تھا، میں نے آپ کی محبت میں بھوکا رہنا گوارا کیا مگر ڈنمارک کی روٹی نہ
کھائی۔ میں نے ہر وہ شے ٹھکرادی جس سے تیری محبت میں کمی آسکتی تھی۔ میں نے ہر اس
شے سے ناتا توڑ لیا جس نے تیری مقدس ہستی پرانگلی اٹھائی تھی۔ ہو سکتا ہے آپ کا اور
ہمارا ےہ عمل راہ نجات بن جائے۔ جس طرح مصر کے بازار میں وہ بڑھیا جو حضرت یوسف
علیہ السلام کو خریدنے کے لئے محض ایک اٹی لے کر پہنچی تھی۔ جب اس سے پوچھا گیا:
”بھلا اس اٹی سے بھی یوسف خریدا جا سکتا ہے؟“ تو وہ مسکراکر بولی: ”ہاں میں جانتی
ہوں یہ اٹی اس حسن کے پیکر کا بدل نہیں ہے مگر میں تو محض یہ چاہتی ہوں کہ جب روز
قیامت یوسف کے خریداروں کا نام پکارا جائے تو ان میں میرا بھی نام شامل ہو۔“ “ |
 |
|
|