|
|
|
04
April 2008 / 26
Rabi-ul-Awal
1429 |
|
بے تابیاں: طارق حسین
سازشوں کا ردعمل
اس کا کہنا تھا ”فرانسیسی جرنیل غورو ملک شام فتح کرلینے کے بعد دمشق پہنچا، ترک
افواج اس کے سامنے ہتھیار ڈال چکی تھیں تو وہ فوراً دمشق میں موجود اموی جامع مسجد
جہاں فاتح بیت المقدس صلاح الدین ایوبی کی قبر ہے جا پہنچا، اس متکبرجنرل نے قبرپر
ٹھوکر مارتے ہوئے کہا:” او صلاح الدین! اٹھ اور دیکھ ہم اپنی شکستوں کا بدلہ لے چکے
اور تیری سرزمین پر بطور فاتح لوٹ آئے ہیں۔“
اس کا کہنا تھا” صہیونیوں نے جب 1967ءمیں القدس پر قبضہ کیا تو اسرائیلی فوجی دیوار
گریہ کے پاس جمع ہوئے اور موشے دایان کے ساتھ مل کرےہ نعرے لگائے کہ آج کا دن خیبر
کے دن کا بدلہ ہے۔ خیبر کا انتقام لیا جا چکا۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دین (نعوذ
باللہ) بھاگ گیا۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کاانتقال ہوگیا اور وہ اپنے پیچھے بیٹیاں
چھوڑ مرے ہیں۔“(العیاذ باللہ)
اس کا کہناتھا” فرانس کا ایک مستشرق کیمون نے اپنی کتاب (Bio logical islam) میں
اپنی ترقی پسندی اور علمیت کا اظہار کرتے ہوئے لکھا، دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم
ایک جزام ہے، جو بڑی شدت کے ساتھ عالم انسانیت میں اپنی جڑیں جما کر جسدِ انسانیت
کے جملہ اعضاءکو ایک ایک کرکے تباہ وبرباد کرتا جارہا ہے۔ اسلام ایک خوفناک مرض اور
پورے کے پورے جسد انسانیت کے لئے ایک فالج کی طرح ہے۔ ےہ ایسی دیوانگی ہے، جو انسان
کو گوشہ نشین بناکر اسے کاہلی،غفلت اور سُستی کا عادی بنادیتی ہے۔ ےہ دیوانگی
مسلمانوں کا پیچھا ہی نہیں چھوڑتی اور اگر چھوڑتی ہے توا سے غفلت سے بیدار کرنے کے
لئے نہیں بلکہ اسے اس لئے بیدار کرتی ہے تاکہ وہ بے گناہ انسانوں کا خون بہائے،
شراب نوشی کرے اور ہر طرح کے شر و فساد کے لئے تگ وتازہ رہے۔ محمد صلی اللہ علیہ
وسلم کی مسجدایک ایسا پاور اسٹیشن ہے، جہاں سے مسلمانوں کے قلوب واذہان میں جنون
ودیوانگی کی لہریں پیدا کی جاتی ہیں۔ اسے دیکھ کر مسلمانوں کو بے ہوشی،مرگی اور
حواس باختگی کے ایسے دورے پڑنے لگتے ہیںکہ جو ختم ہونے کا نام نہیں لیتے۔ جب مسلمان
اس کی زیارت کرکے واپس لوٹتے ہیں تو ان کی اصل طبیعت بالکل مسخ ہوچکی ہوتی ہے۔وہ
صحیح معنوں میں ایسے بندے بن چکے ہوتے ہیں جنہیں خنزیر، شراب، موسیقی سے نفرت
وعداوت کے سوا کوئی دوسری چیز کی فکر نہیں ہوتی۔ اسلام سارے کا سارا سنگدلی اور لذت
کشی میں ڈوب جانے کے سوا کچھ نہیں۔ میرا پختہ عقیدہ ہے کہ مسلمانوں کی کل آبادی
کے1/5حصے کو توبالکل تباہ وبرباد کردینا چاہئے۔ ایسا کرنا یورپ کے وجود کو برقرار
رکھنے کے لئے انتہائی واجب ہے، پھر بقیہ 4/5مسلم آبادی کو محنت ومزدوری اور انتہائی
مشقت طلب کا موں میں لگادینا چاہئے اور ہم یورپ والوں کے لئے یہ واجب ہے کہ ہم کعبہ
کو گرادیں۔ اس لئے آگے توہین رسالت کا ارتقاب کرتے ہوئے اس ملعون شخص نے اپنے الفاظ
لکھے جن کا ذکر بھی نہیں کیا جاسکتا ۔(نعوذ باللہ)
اس کا کہنا تھا” یورپی میس مبشرولیم جیم فورڈ اہل صلیب کو مخاطب کرکے کہتا ہے،اگر
قرآن مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ عالم عرب اور تمام دنیا سے ناپید کردیئے جائیں تو
ہی ےہ دعویٰ کر سکنا ممکن ہو سکے گا کہ عرب آہستہ آہستہ مغربی تہذیب وتمدن کو قبول
کرلیں گے اور اس صورت میں تمام عرب اور دوسرے مسلمان بھی آہستہ آہستہ محمد صلی اللہ
علیہ وسلم کی ذات ،ان کی نبوت ورسالت اور قرآن سے دور ہٹ سکیں گے۔“
اس کا کہنا تھا” کمیونزم کے زوال کے بعد اہل صلیب کی سب سے بڑی جنگی تنظیم ناٹو کو
اسلامی خطرے کے پیش نظر قائم رکھا گیا، اسی تنظیم نے12اپریل1992ءکوپچاسویں سالگرہ
کے موقع پر سوویت یونین کی بربادی کے بعد اپنے نئے اغراض ومقاصد کا اعلان کیا ، جس
کی بنیادی شق سارے عالم سے دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔ یادرہے کہ عالم کفر اب جہاد کو
دہشت گردی کہتا ہے۔ 25اپریل1999ءکو واشنگٹن میں ہونے والی ناٹو کانفرنس میں نئے
میثاق ناٹو کے درج ذیل نکات منظور کئے گئے جن میں (1)اسلام دہشت گردی ہے۔(2) مسلمان
دہشت گرد ہیں۔ (3)اسلام پرچلنے والی حکومتیں دہشت گرد ہیں۔ (4)اسلام کے نفاذ کے لئے
کوشاں جماعتیں دہشت گرد گروہ ہیں۔ (5)امت مسلمہ کی نیوکلیائی اور دیگر اسلحوں کی
دوڑ اعلیٰ ترین دہشت گردی ہے۔اور اسی اجلاس میں(Beyond then borders) کا لفظ
استعمال کیا گیا کہ ان الفاظ میں تحفظ اور آزادی کے فروغ کے لئے ان کی سرحدوں سے
دور دہشت گردی اور عام ہلاکت کے ہتھیاروں کا خاتمہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ “
اس کا کہنا تھا” گلیڈاسٹون نے کہا تھا کہ جب تک قرآن مسلمانوں کے پاس رہے گا اس وقت
تک یورپ کے لئے مشرق اور بالخصوص اسلامی مشرق پر اپنا قبضہ وتسلط برقرار رکھنا کسی
بھی طرح ممکن نہیں ہے۔“
اس کا کہنا تھا” اتنا سب کچھ صدیوں سے کرنے کے باوجود وہ سب حیران وپریشان ہیں کہ
امریکہ ویورپ سمیت دنیا بھر میں مسلمانوں کی تعداد کیتھولک عیسائیوں سے بڑھ گئی ہے
جبکہ نائن الیون کے بعد امریکہ، کینیڈا اور یورپ میں عیسائی کیتھولک کی طرف سے
اسلام قبول کرنے کی نسبت میں بے حد اضافہ ہوا ہے۔
اب تو ویٹی کن کے پاپا ئے روم بھی پریشان ہو چکے ہیں کہ زیادہ شرح پیدائش اور
قبولیت اسلام کے واقعات نے مسلمانوں کی تعداد عیسائیوں سے بڑھ رہی ہے۔ ساڑھے چھ ارب
کی عالمی آبادی میں مسلمان19.2فیصد جبکہ کیتھولک عیسائی 17.2فیصد ہیں، اگر چہ
عیسائی آبادی کا ایک تہائی ہیں تاہم ان کے درمیان کیتھولک ، آیتھووڈکس، انکلیلن،
پروٹیسٹنٹ، ایڈونٹسٹنٹ اور دیگر فرقوں کی وجہ سے نمایاں اور تقسیم واضح نظر آرہی ہے۔“
وہ سب کچھ کہتا رہا اور میں سنتارہا۔ وہ ایک ایسا نوجوان ہے جس نے ابھی تک داڑھی
نہیں رکھی ہے اور دین کے معاملے میں بھی وہ کچھ کوتاہی برتتا ہے، عام سادہ سا
مسلمان ہے ۔ دین کے ساتھ ساتھ دنیا کا بھی قائل ہے، لیکن جب اس نے مجھ سے محمد صلی
اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی اور قرآن کے بارے میں ہتک آمیز فلم کے بارے میں
گفتگو کی تو میں اس نوجوان کے جذبات واحساسات کے دھارے میں بہتا چلا گیا۔ مجھے اس
نوجوان کی آنکھوں میں چمک اور دل میں تڑپ صاف دکھائی دے رہی تھی۔ قرآن سے اس کی لگن
قابل دید تھی۔ مجھے اندازہ ہوا کہ جہاں ایک طرف یہودوہنود مسلمانوں کے دینی احساسات
سے کھیلتے ہیں، ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچاتے ہیں وہیں ےہ بھی اندازہ ہوا کہ اس سے
ہماری نوجوان نسل میں دین کی محبت اور بھی بڑھ رہی ہے۔ وہ تارےخ کا مطالعہ کرتے ہیں،
قرآن فہمی میں اپنا وقت لگاتے ہیں۔ دین سے ان کی دوری ایسے واقعات کی وجہ سے کم
ہوتی ہے، وہ اور زیادہ دین کے قریب آتے ہیں۔ میں اپنے ذہن میں ان باتوں کے تانے
بانے بن ہی رہا تھا کہ وہ نوجوان پھر بولا ”کیا آپ نہیں جانتے، یورپ اور اس کے
اتحادی جس طرح سے دین کے ساتھ مذاق کرتے ہیں۔ ان کے اپنے لوگ بھی اسی تیزی کے ساتھ
دائرہ اسلام میں داخل ہورہے ہیں۔ ایک طرف وہ ایسی تضحیک سے ےہ سمجھتے ہیں کہ
مسلمانوں میں اشتعال پیدا ہو گاتو دوسری طرف وہ ےہ بھول جاتے ہیں کہ وہ از خود
اسلام کی ترویج وتبلیغ میں معاون بن رہے ہوتے ہیں۔“
میں اس نوجوان کی باتیں حیرت سے سن رہاتھا، اس نے ایک نہایت ہی اہم بات کی طرف
اشارہ کیا تھا۔ شاید جس پر خود اب تک گریٹ ولڈرنے بھی نہ سوچا ہوگا۔ شاید رشدی اور
تسلیمہ نسرین بھی اس بات سے بے بہرہ ہوںگے۔وہ نوجوان بول رہاتھا ایسا محسوس
ہورہاتھا اس کے لبوں سے پھول جھڑرہے ہوں، وہ مزید بولا ”آپ تو جانتے ہی ہوں گے، جب
سے یورپ نے مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈہ مہم میں تیزی لائی ہے دنیا بھر میں قرآن پاک
کے نسخوں کی فروخت میں کئی سوگنا اضافہ ہوا ہے۔وہ تمام یورپی جو پہلے قرآن کو پڑھنا
اور سیکھنا نہیںچاہتے تھے، اب وہ ان کی اپنی چلائی ہوئی پروپیگنڈہ مہم سے متاثر ہو
کر قرآن پاک کا مطالعے میں مصروف ہیں اور ان کے ہاتھ میں قرآن آنا اور پھر اس کا
مطالعہ ان کے قلوب پر ایسے اثرات مرتب کررہا ہے کہ وہ جوق در جوق دائرہ اسلام میں
داخل ہورہے ہیں۔“
اس نوجوان نے مزید کہا” آج تک یورپ نے اسلام کے خلاف جتنی بھی سازشیں کیں ہیں ان کے
ردعمل میں نہ صرف اسلام کی قوت میں اضافہ ہوا ہے بلکہ خود مسلمانوں کے اندر بھی ایک
نقطہ پر اتفاق اور ہم آہنگی کے فروغ کا سبب بنا ہے۔“ اس نے کہا” غازی علم الدین
شہید جیسے نوجوان انہوں نے ہی پیدا کئے ہیں، وہ ےہ بھول جاتے ہیں کہ اللہ نے اپنے
دین اور قرآن کی حفاظت کا ذمہ خود اپنے پاس رکھا ہے، ان کے بگاڑ سے کچھ نہ ہوگا۔
البتہ اس سے نہ صرف جہاد کا وہ جواز پیدا ہورہا ہے، جس سے وہ لوگوں کو ڈراتے ہیں
بلکہ اس سے مسلمانوں میں اللہ اور رسول کی محبت اور بڑھ رہی ہے۔“ نوجوان نے مسکراتے
ہوئے کہاکہ ”اگر گریٹ ولڈر کو اس بات کی سمجھ آجائے تو وہ اپنا منہ نوچ لے گا۔
تھینک یومسٹر گریٹ ولڈرتھینک یو!“ اور وہ نوجوان رخصت ہو گیا۔
مجھے اس نوجوان میں صلاح الدین ایوبی کی جھلک نظر آئی، جیسے ایوبی للکار رہا
ہو”!گورو! تم میری قبر پر ٹھوکریں مار کر خوش ہورہے ہو ،مگریہ بھول گئے کہ اس امت
کی ماو ¿ں نے کئی ایوبی پیدا کردیئے ہیں، تم کہاں کہاں تک ٹھوکریں ماروگے؟“
اب پاپائے روم کو جان لینا چاہئے کہ ان کے ماننے والے ایسی حرکتیں کرکے اسلام کی
تبلیغ کا سبب بن رہے ہیں، اگر وہ عیسائیت کو بچانا چاہتے ہیں تو وہ گریٹ ولڈراور ان
جیسے دوسرے کم عقلوں کو سمجھائیں کہ وہ اسلام کا تو کچھ بھی نہیں بگاڑسکتے تاہم
عیسائیت پر رحم کریں!!
اچانک دروازہ کھلا وہ نوجوان دوبارہ اندر داخل ہوا اور بولا۔ ہاں ایک بات تو میں
کہنا بھول ہی گیا۔ ہو سکے تو میری طرف سے کہنا کہ ان کی مہربانی سے کم از کم امت
مسلمہ قرآن ، نبی اور رسول پر ایک خاص نقطہ پر متفق ہورہی ہے کیونکہ علامہ اقبال نے
نصف صدی قبل ایک خواب دیکھا تھا جو اب تک شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔
آپ جانتے ہیں کہ علامہ نے کیا خواب دیکھا تھا۔ جواب شرمندہ تعبیر ہونے کو ہے۔
دین بھی رسول قرآن بھی ایک
کیا بڑی بات تھی جو ہوئے تم مسلمان بھی ایک “ |
 |
|
|