رابطہ رہنمائے کراچی کالم /فیچر علم و ادب خواتین اسلام صفہ اول

28 March 2008 /  19 Rabi-ul-Awal 1429

بے تابیاں: طارق حسین

کیا ہم ایک پتھر بھی نہیں مار سکتے۔۔۔؟

میں نے عرض کیا ” بھٹی صاحب ہم میڈیا کے مقابلے میں ترقی کی منز ل پاچکے ہیں۔ پاکستان بھر کے چینلز ، ریڈیو، ٹی وی، اخبارات نے ہماری امنگوں کو پیش کرنا شروع کردیا ہے۔“ بھٹی صاحب مسکرائے اور بولے آنکھیں بند کرکے اگر کبوتر خود کو محفوظ سمجھتا ہے اور بکری سر کو نیچے جھکا کر خود کو محفوظ سمجھنے لگتی ہے تو اس میں ان کا کوئی قصور بھی نہیں ہے کیونکہ وہ فطرتاً اس کے عادی ہیں مگر بحیثیت انسان اور بالخصوص بحیثیت مسلمان اور پاکستانی ہونے کے ناطے ہمارا طرزعمل بھی اگر ویسا ہی ہوتو پھر افسوس کی بات ہے۔“ انہوں نے کہا” میرا ےہ خیال ہے کہ میڈیا کے یہ ادارے اس حقیقی کردار کو ادا کرنے سے اب تک قاصر ہیں، جس کاہمارا اسلام ان سے متقاضی ہے۔ مجھے ان تمام چینلز پراسلام کی کوئی حقیقی جھلک نظر نہیں آئی۔ میں ےہ نہیں کہتا کہ اپنے چینلز کو ٹوپی اور برقعہ پہنا دیں مگر مجھے یہ ضرور کہنا ہے کہ ےہ اب تک اپنی اصل ذمہ داری سے بے بہرہ ہیں۔“

میں نے بھٹی صاحب سے کہا ”سر!آپ شاید ٹی وی نہیں دیکھتے، آپ کیو(Q) ٹی وی ہی دیکھ لیں سارا دن نعتیں اور مباحثے چلتے ہیں۔ ہر چینل کسی بھی اسلامی تہوار کے حوالے سے کچھ نہ کچھ ایسے پروگرام ضرور نشر کرتا ہے۔“ بھٹی صاحب نے میری بات سننے کے بعد ایک قہقہ لگایا اور اپنی ناک پر لگے چشمے کو بائیں ہاتھ سے پکڑ کر کچھ آگے بڑھایا ،آنکھوں کے ڈیلوں سے چشمے کے اوپر سے مجھے دیکھا اور بولے” ہو نا بھولے! تم سمجھتے ہو چند نعتیں اور ایک مخصوص طبقے کی پذیرائی سے ہم نے حقیقی اسلامی روح کو پالیا؟ ارے نادان! تم جس انداز سے سوچتے ہو ایسا نہیں ہے۔ صرف تم نہیں ہماری ساری قوم بلکہ پوری امت میں ےہ خرابی موجود ہے۔ ہم باتوں کو سطحی انداز سے دیکھتے ہیں اور پھر خوشی سے بغلیں بجانے لگتے ہیں۔ میں سمجھتا تھا ےہ چینلز کوئی ایسا کردارادا کریں گے کہ اسلام کی سربلندی میں ممدوح ومعاون ہوں گے۔ مسلمانوں کو عصر حاضر میں جن مسائل کا سامنا ہے، وہ اس کی نشاندہی کریں گے اور بالخصوص یورپی میڈیا کا مقابلہ کریںگے۔“ میں بھٹی صاحب کی باتیں غور سے سن رہاتھا ، وہ بولے ”بیٹا نسلی برتری کا غرور آج سے نہیں صدیوں سے ےہودی ذہن میں کار فرما ہے، جسے”تلموو“نے اساس فراہم کی۔ ےہ ےہودیوں کی وہ کتاب ہے جس میں ایسی روایات اور واقعات جمع کیے گئے ہیں جن سے ےہ ثابت ہوتا ہے کہ یہودی ہی اس کرہ ارض کی سب سے اعلیٰ وارفع قوم ہیں۔ اسی کتاب میں ایک جگہ درج ہے کہ یہودی اللہ کی منتخب قوم ہیں باقی تمام جانوروںسے بھی بدتر ہیں۔ 1897ءمیں سوئٹزرلینڈ کے شہر باسلز میں تین سو یہودی دانشوروں نے ہرٹزل کی قیادت میں دنیا میں یہودیت کے غلبے کا منصوبہ بنایاتھا اور جانتے ہو وہ اسے19پروٹوکول کا نام دیتے ہیں۔ اس وقت دنیا میںنہ ریڈیو تھا، نہ ٹی وی، نہ ہی سٹیلائٹ اور تمہارے یہ دنیا بھر کے نشریاتی ادارے اس وقت انہوں نے اس منصوبے میں ذرائع ابلاغ کو کلیدی اہمیت دی تھی اور آج اسی 19پروٹوکول پر کام کرتے ہوئے2008ءمیں عالمی میڈیا پر یہودیوں کا براہ راست تسلط ہے۔ ان کا اس قدر اثرورسوخ ہے کہ امریکہ خود کو سپر پاور کہتا ہے، وہ ان ےہودیوں کے ہاتھوں یرغمال ہے۔ ان کے ذرائع ابلاغ کے ادارے ان کی مرضی کے خلاف کام نہیں کرسکتے۔ ےہ جان کر حیرت ہوتی ہے کہ یہودی امریکی آبادی کا محض2فی صد ہیں مگر امریکہ میں کروڑ پتی یہودیوں کا تناسب 25فیصد ہے۔

امریکہ کی صرف ایک یہودی کمپنی نیو ہاو ¿س (New House) کے پاس 48روزنامے، 20ہفت روزہ رسالے،182ریڈیو اسٹیشن، 140کیبل ٹی وی اور1735پبلشنگ ادارے ہیں۔ اس ادارے کا مالک ایک یہودی سیموڈیل تھا۔ اس کمپنی کی جانب سے ہی ٹیڈٹرز نے1980ءمیں 20ملین ڈالر کی سرمایہ کاری سے(CNN)قائم کیا تھا۔ امریکہ میں CNNکے27اور بیرون ممالک کے اندر18مراکز ہیں۔ اور دنیا کے142ممالک تک رسائی رکھنے والا ےہ ادارہ ایک کروڑ 80لاکھ سے زائد خاندانوں کو ہرمنٹ دیکھ رہا ہوتا ہے۔آپ نیو یارک ٹائمز ہی کو لے لیں۔ اس کی اشاعت2000ءمیں10لاکھ86ہزار تھی۔ 1896ءمیں ایک دولت مند یہودی ایڈولف اوکس نے اسے خریدا تھا۔ دوسرا عالمی سطح کااخبار وال اسٹریٹ جرنل(Wall street general) ہے جو 8لاکھ کی اشاعت رکھتا ہے، اس کا مالک بھی یہودی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ تیسرا بڑا اخبار ہے جس کی اشاعت 7لاکھ 63ہزار ہے۔ اس کا مالک بھی یہودی ہے۔ اس طرح ہیرالڈ ٹریبون ٹائم میگزین جس کی اشاعت 41لاکھ کے لگ بھگ ہے، ان کے مالکان بھی یہودی ہیں۔ آج دنیا جن خبروں پر بھروسہ کرتی ہے وہ رائٹرز ہے۔ اس کا بانی بھی جولیس رائٹر بھی ایک یہودی تھا۔ اس طرح (AP) ایسوسی ایٹڈ پریس جس کے صرف امریکہ میں130روزنامے3788ریڈیو اسٹیشن اور ٹی وی چینلز منسلک ہیں۔ اسی طرح Fox tv)) کامالک بھی یہودی رابرٹ برڈاک تھا۔“

بھٹی صاحب نان اسٹاپ بول رہے تھے، میں ان کے سامنے سوائے گائے کی طرح ہاںہاں میںگردن ہلانے کے علاوہ کچھ نہیں کررہاتھا۔ انہوں نے بات آگے بڑھائی” تم اسٹار نیٹ ورک کو ہی دیکھ لو آج جس کی وجہ سے ہر عورت ایک اسٹار پلس تھنکنگ رکھتی ہے، چاہے وہ عورت ڈیفنس میں رہتی ہو یا بدین کے کسی گاو ¿ں میں۔ اگر اسٹار پلس کے ڈرامے دیکھتی ہے تو اس کے ذہن پر صرف ایک طرح کے ہی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اپنے ملک کی شادی بیاہ کی تقریبات کو دیکھ لیں۔ تمام تہذیب و ثقافت اسٹار پلس سے مستعارلی گئی ہے۔ اپنے نوجوانوں کو دیکھ لو ان کے لباس اورزبان سے اسٹار پلس کی جھلک دکھائی دے گی ، کیا تم جانتے ہو اس کا مالک بھی یہودی ہے؟ وہی رابرٹ برڈاک جس نے اسے525ملین ڈالر میں خریداتھا۔ کیا تمہیں بتانے کی ےہ ضرورت رہ جاتی ہے کہ جن اداروں کا میں نے تذکرہ کیا ہے، ان کا کام کیا ہے؟ ہمارے ملک کی خارجہ پالیسیوں، اکنامک سرووں، معاشی ومعاشرتی تبدیلیوںکے پیچھے انہی اداروں اوراخبارات کا ہاتھ ہوتا ہے۔ وہ ہمارے ملک کے بارے میں لیڈز اور آرٹیکلز شائع کرتے ہیں، پھر بعد میں ہمارا میڈیا اسے نشر کرتا ہے۔ آج کالا شاہ کاکو کے چھپرے والے ہوٹل میں چائے پینے والا ٹرک ڈرائیور بھی دہشت گردی کے جس مفہوم سے واقف ہے، ےہ اس کے ذہن تک کسی نے پہنچایا؟انہی اداروںنے ! وہ اپنی مرضی کے مطابق دنیا کے حالات وحوادث کو دیکھنے پر مجبور کردیتے ہیں۔ ہم اصل حقائق سے کوسوں دور ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اس میڈیا پرپروپیگنڈے کے ذریعے اسلام کی اصل تعلیمات اور روح کو مسخ کردیا گیا۔آج ساری دنیا میںمسلمان ہی کیوں دہشت گرد ہے؟ اس کے پیچھے انہی لوگوں کا ہاتھ ہے جو اسلام کو جنونی اور امن کا قاتل مذہب بناکر پیش کرتے ہیں اور اسلام کی تصویر کو دھندلا پیش کرتے ہیں اور تم کہتے ہو ہمارا میڈیا بھی ترقی کرگیا ہے۔“

میں بھٹی صاحب کوغور سے سن رہاتھا، وہ کہہ رہے تھے ” میں اس دن پاکستانی میڈیا کی ترقی کو مان جاو ¿ں گا، جس دن وہ اس محاذ پر مسلم کش پروپیگنڈے کے خلاف آواز اٹھائے گا۔ کم از کم اتنا تو کر سکتا ہے کہ مسلمانوں اوراسلام کی وہ حقیقی منظر کشی کرے تاکہ دنیا کے بسنے والوں کو پتا چل سکے کہ اسلام کی اصل اساس کیاہے؟ میرے نزدیک ہمارے ذارئع ابلاغ بھی کسی نہ کسی حدتک ماسوائے چند نظریاتی اور تحریکی اداروں کے سب انہی کے پروپیگنڈے کے حصہ دار بن چکے ہیں۔ اپنی کوئی سوچ اور فکر نہیں ہے، جسے وہ دنیا میں متعارف کرائیں۔ خبر تک کے لئے ہم یہودیوں کے محتاج ہیں، وہ جو فراہم کرد یں ہم اسے نشر کردیتے ہیں۔ وہ جو چھاپ دیں ہمارے لئے صحیفہ بن جاتا ہے۔ اپنے ذہنوں سے اس زنگ کی چادر کو کیسے اتاریں گے؟ ہمارے ادارے چاہیں تو اس میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ہم ایک برین واشنگ کے عمل سے روز گزر جاتے ہیں۔ کوئی آکر ہمارے احساسات خیالات سے کھیلتا ہے اور ہماری بد قسمتی ہے کہ ہم اسے نہیں سمجھتے ایک امریکی دانشور اڈریان آرکنڈر نے کہا تھا کہ”عالمی خبررساں ایجنسیوں کے ذریعے ےہودی ہمارے دل ودماغ کو دھوکہ دے رہے ہیں اور ہمارے میڈیا کے ادارے ان کے سامنے بے بس ہیں۔ ان میں اتنی اخلاقی جرا ¿ت بھی نہیں جتنی ایک فلسطینی بچے میں ہے کہ وہ ٹینک کے سامنے ڈٹ جاتا ہے کم از کم اور کچھ نہ کر سکے اسے پتھر مار کر اپنے ہونے اور وجود کو ثابت کرتا ہے ہم تو ایسی ذہنی غلامی میںمبتلا ہیں کہ ایک پتھر بھی نہیں مار سکتے“

© Copyrights 2007, karachiupdates.com
E-mail:karachiweb@karachiupdates.com  contact: 0321-2422035