|
|
|
21 March 2008 / 12
Rabi-ul-Awal
1429 |
|
بے تابیاں: طارق حسین
دہشت گردی
کے خلاف جنگ اصل عزائم کیا ہیں۔
امریکا مفادات کے حوالے سے سنسنی خیز تحقیقی رپورٹ
آج پوری دنیا میں ایک ہی غلغلہ اور شور ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ساتھ دیں۔
سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔ اور
میڈیا وار کے ذریعے یورپی دنیا میں اس نئی جنگ کو متعارف کروایا گیا۔
آپ اگر دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے ماضی پر نظر ڈالیں تو محسوس ہوگا کہ مذہب کے
خلاف تمام جنگوں میں گمنام نظریہ کے تحت اس ملک کی معیشت اور جنگی نقطہ نظر سے اہم
مقامات پر یا توقبضہ کرلیا گیا یا وہاں کسی بھی بہانے سے داخل ہوگئے۔ اصل میں ےہ
جنگیں جو مذہب کے نام پرلڑی گئیں ان کے پیچھے ایک ہی مقصد تھا کہ بناءکسی غیر محسوس
تبدیلی کے ان مقامات پر دسترس حاصل کرلی جائے۔ جہاں کا روباری راستے اور قدرتی
ذرائع موجود ہیں۔ جب ہم 11ویں صدی سے14ویں صدی میں کروسیڈ کی بات کرتے ہیں۔ تو
تارےخ دانوں کے مطابق”ایک ایسی مستقل مذہبی لڑائی جس کے زیر اثر یورپین عیسائیوں کی
یہ امید کہ وہ ترکی سے، ان کی زمین چھین لیں گے اور اس جنگ کو کروسیڈ نے مددکی حاصل
ہوگی۔“ اس جنگ کے پیچھے کیتھولک چرچ مددگار تھا۔ جس نے بطور ایک آلہ کار مذہبی
پروپیگنڈہ کیا۔ اور لوگوں کے ذہنوں کی برین واشنگ بھی کی ۔جس کی وجہ سے یورپ کے
کسان، خانہ بدوش اور آوارہ گردوں کو ہزاروں کی تعداد میں اس جنگ کے لئے بھرتی کیا
گیا۔
کچھ ایساہی پروپیگنڈہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر بھی ہورہاہے۔ جس میں”صرف
جنگ“(Just War)کے تحت لوگوں کی نظروں میں ےہ مہم چلائی گئی کہ ےہ جنگ توان لوگوں کے
خلاف ہے جو مذہبی انتہا پسند ہیں اور ےہ جنگ انسانی بقا کی بنیادوں پر لڑی جارہی
ہے۔ےہ دہشت گردی کے خلاف جنگWar on Terrorismدراصل کروسیڈ کی جنگ ہے اس میںسینٹرل
ایشیا، مڈل ایسٹ بھی شامل ہیں جہاں اس وقت بظاہر کوئی جنگ نہیں ہو رہی ہے۔ اس جنگ
کا حقیقی مقصد جو سامنے آیا ہے کہ امریکی قوم اور مہذب معاشرہ کو بچایا جائے اس جنگ
کو کبھی مذہب کے خلاف جنگ (Wor of Religion) اور کبھی تہذیبوں کے تصادم کا نام دیا
جاتا ہے مگر حقیقتاً اس جنگ کا حقیقی مقصد حدنگاہ پھیلے ہوئے تیل کے وسیع ذخائر کی
دولت پر قبضہ اور تجارتی ملکیت کے تحت قبضہ کرنا ہے۔ اور دوسری طرف IMFاور ورلڈ
بینک کے دباو ¿ کے باعث وہ ممالک ان اثاثہ جات کو فروخت کریں جو سرکاری ملکیت ہیں۔
اس طرح پرائیوٹائزیشن کی چھتری تلے، اس ملک کی معیشت اور اثاثہ جات کو فارن کرنسی
میں تبدیل کردیا جائے۔
جبکہ اس جنگ کا جوحقیقی مقصد ظاہر کیا گیا ہے وہ انسانیت کی بقا کی خاطر ہے۔ اس میں
حقیقی مقاصد کو ملٹری آپریشن کے ذریعے مفلوج کیا گیا ہے۔ تاکہ حملہ آوروں کو ایک
اخلاقی جواز مہیا کیا جاسکے اس اخلاقی بنیاد پر جنگ کو ان بدمعاش ریاستوں اورجہاد
کے خلاف جواز مہیا کرنا ہے۔
اور انہی بنیادوں پر وہ عراق اور افغانستان پر قابض ہو چکا ہے۔ امریکن ملٹری
اکیڈمیز میں اس خیال اور رجحان کو متعارف کرایا گیا ہے کہ اس ماڈرن زمانے میں صرف
جنگ Just Warکے نظریہ کو اس لئے اپنانا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم نے اپنی
حفاظت کرنی ہے۔ اس لئے اس کے خلاف جنگ کی مہم جائز ہے۔ اس کے تحت آرمڈ فورسزمیں اس
بات پر اتفاق رائے قائم کیا گیا ہے کہ برائی کے خاتمہ کے لئے۔ اسے بطور ایک کازJust
Causeکے کیا جائے اور اس تھیوری کو اس دور میںایک بھر پور پروپیگنڈہ اور ڈس
انفارمیشن کے ذریعے پھیلایا گیا۔
جنگ کے لئے انسانیت کو جواز بنایاگیا۔ اور دشمن کو بد نام اور رسوا کرکے اسے ہرانا
ہے اس میں وقت زیادہ لگے گا تاہم اسے باربارکرنا ہے۔ جس طرح ترک خلافت کے خاتمہ کے
لئے کیا گیا تھا۔ اس طرح اس جنگ کے جیو پوٹیکلی اور معاشی مفادات بھی ہیں۔ جس طرح
امریکی انٹیلی جنس کی مدد سے اسلامی دہشت گردی کا اور اسلامی بنیادپرستی کا خاتمہ
اور اس کے تحت مسلمانوں کو اخلاقی طور پر پست کرنا ہے۔ اس کے اداردوں کو ہدف تنقید
بنانا، ان کی تمام پالیسیز کو رد کرنا ہے ان کے معاشرتی اقدار کی بیخ کنی کرناہے۔
سماجی ڈھانچے کو درہم برہم کرنا شامل ہے۔ اور ان معاشروں میں اسلامی اقدار کے خاتمہ
اور مغربی جمہوریت کے لئے راہیں استوار کرنا کہ فری مارکیٹ کو ان کے تمام مسائل کا
حل بنا کر پیش کیا جا سکے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ایک ایجنڈا ہے۔
اب اس جنگ کے دوسرے پہلو کی طرف آئیں کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر ان
تمام علاقوں پر اپنا کنٹرول کررہا ہے۔ جہاں تیل کی دولت موجود ہے۔ مڈل ایسٹ اور
سینٹرل ایشیاءمیں دنیا کے کل تیل کے محفوظ ذخائر کا 60فیصد ہے۔ اوروہ ان علاقوں میں
گیس کی لائنوں اور دیگر گیس کے ذخائر پر بھی کنٹرول اسی جنگ کے بنیاد پر کرے گا۔
مسلم ممالک جن میں سعودی عرب،عراق، ایران، کویت، متحدہ عرب امارات، قطر، یمن، لیبیا،
نائجیریا، الجزائر، قازقستان، آذربائیجان، ملائشیا، انڈونیشیا، برونئی دنیا کے تیل
کے محفوظ ذخائر میں سے 66.2تا75.9ان ممالک کے قبضہ میں ہے۔انہی کے مد مقابل امریکہ
محض2فیصد تیل کے محفوظ ذخائررکھتا ہے۔ مغربی ممالک میں کینیڈا، امریکہ، ناروے، یوکے،
ڈنمارک اور آسٹریلیا محض4فیصد آئل ذخائر کے مالک ہیں۔
دنیا کے وسیع تیل کے ذخائر شمال میں یمن سے کیپیسن سمندر اور مشرق میں مشرقی ساحلی
علاقوں سے خیلج فارس تک موجود میں اور آج کل ےہی علاقے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے
لئے ایک تھیٹر کا منظر پیش کررہے ہیں۔
عراق ہی امریکہ سے 5گنا زائد تیل کے ذخائر رکھتا ہے۔ اور ےہ مسلم ممالک مغربی ممالک
سے 16گنا زائد ان تیل کے ذخائر کے حامل ہیں ۔ان ذخائر کے قبضے کے لئے پینٹا گون میں
جو نعرے بنائے گئے ہیں ان میں ۔ برائی کی قوتیں، بدمعاش ریاستیں، ناکام قومیںاور
اسلامک دہشت گرد شامل ہیں۔ تیل کے ان ذخائر پر قبضہ کے لئے ضروری ہے کہ اس جنگ
کوکوئی خوبصورت بے ضرر نام دیا جائے اور امن کے پیغام کے نام پر اپنی افواج ان
علاقوں میں رکھی جائے۔ جیسےNA70کے جنگی جہاز یولین بحالی امن کے نام پر گلف کے
سمندروںمیں موجود ہیں۔ اس دہشت گردی کے خلاف جنگ کے پلان کے مطابق آخری حربہ یہ
ہوگا کہ مشترکہ ملٹری ایکشن کیا جائے۔ وار پر وپیگنڈہ کیا جائے۔ ان ممالک کے سماجی
ڈھانچوں کو تباہ کردیا جائے ان ممالک کی اقتصادی حالت تباہ کردی جائے۔ ان کے ہاں
ایسی بدامنی پیدا کی جائے کہ وہ اس طرف متوجہ ہو جائیں اوراس افراتفری میں ان ممالک
میں ان ذخائر کو لوٹ لیا جائے جن کے لئے ےہ سارا میلہ سجایا گیا ہے۔ اب اس کے لئے
وہ حربہ فری مارکیٹFree Marketکا ہوگا۔ اور آہستہ آہستہ ان ممالک کے عوام میں اس
جنگ کے خلاف ذہنوں کو واش کیا جائے۔ جیسے پاکستان میں89 خودکش حملوں کے بعد ہر آدمی
خود کو غیر محفوظ سمجھتا ہے۔ اوربعض افراد اسے جھاد تصور کر کے جھاد مخالف ایک ذہن
بنا چکا ہے اور ےہ وہی ذہن ہے جو امریکہ چاہتا ہے۔
اس جنگ کے پلان کے تحت جیسے پینٹا گون اور امریکن ملٹری انٹیلی جنس سپورٹ کررہے ہیں۔
اس میں مسلم ممالک میں انسانی جانوں کا ضیاع کرنے پر کوئی حد نہیں ہے۔ جتنے چاہو جس
طرح چاہو مار دو۔ بلکہ یورپی ممالک میں رہنے والے مسلمانوں کو بھی ٹارگیٹ بناو ¿۔
ان کے مذ ہبی شعار کی توہیں کرو۔ انہیں دہشت گرد ثابت کرنے کے لیے ان کے دینی وملی
جذبات سے کھیلو تاکہ ان کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو وہ ایسا ردعمل کریں اور ان کے
خلاف جنگ کا جواز مہیا ہو سکے۔ ایسا ماحول پیدا کرو کہ بالا آخر سول وار شروع ہو
جائے۔ اور ےہ وہی وقت ہے کہ جب ان تیل کے ذخائر پر قبضہ باآسانی ممکن ہوگا۔ اس جنگ
کے ایک اور پلان کے تحت مشرق وسطیٰ جو حال ہی میں۔ آرمڈ فورسز جنرل کے جون2006میں
یو ایس نیشنل وار اکیڈیمی میں پیش کیا گیا۔ جس کے خالق لیفٹینٹ کرنل رالپ پپٹرس ہیں
جس میںایک نیا مڈل ایسٹ دکھایا گیا ہے اور از سر نو اس کی باوانڈری کا تعین کیا گیا
ہے۔
اس جنگی پلان کے تحت گیس کی لائنوں کا روٹ بھی بنایا گیا ہے کہ گیس کے ذخائر کس طرح
امریکہ تک پہنچ جائیں۔
اس سارے کام کا ایک نام ہے اور وہ ہے”دہشت گردی کے خلاف جنگ“ لیکن اصل ےہ جنگ
مسلمانوں کے خلاف ان کے مذہبی اقدار، ان کے وسائل اورسماجی نظام کے خلاف ہے۔ اگر اب
بھی مسلمان اس جنگ کا حصہ بن کر خود کو ہی مارتے رہےں تو پھر اس جنگ سے مسلمانوں کی
بقاءکو شدید خطرات لاحق ہیں۔ اگر وہ آج بھی سوچ نہیں اور پلٹ آئیں تو منزل ابھی دور
نہیں ہے۔ ہم آج بھی منزل تک پہنچ سکتے ہیں مگر ہمیں اپنے رخ بدلنے ہوں گے۔ الٹے
قدموں لوٹنا ہوگا۔ ورنہ ےہ راستہ جیسے ہم پھولوں بھرا سمجھ رہے ہیں۔ دراصل ہمیں ایک
تاریک گڑھے میں جاگرائے گا۔ جہاں صرف کانٹے اور گدھ ہیں۔ |
 |
|
|