|
بے تابیاں:طارق حسین
کی محمد سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں
اس نے انگریزی اخبارات میں چھپنے والے خاکوں کو میرے
سامنے رکھااور بولا” تم کیا سمجھتے ہو کہ انہوں نے چھاپ دیا تم نے اس پر اداریے لکھ
دیئے، مضامین چھاپ دیئے،پتلے جلا دیئے، پرچم نذر آتش کردیئے، کافر کافر کے نعرے
بلند کردیئے۔ آخرتم کیا سمجھتے ہو.... ریلیاں،جلسے، بیان، ہڑتالیں اور تقاریر اس
درد کا مداوا ہیں؟کیا تم بھول گئے ان کا اسلام ، کعبہ، قرآن اور محمد مصطفی صلی
اللہ علیہ وسلم سے بغض وعنادنیانہیں ہے۔ ان کے خبث باطن سے تاریخ بھری پڑی ہے۔
سنہ 1962ءمیں ڈاکٹر ہٹی نے”اسلام اور مغرب “کے چوتھے باب میں پیغمبر اسلام صلی اللہ
علیہ وسلم کی اہانت کی اور قرآن کو نعوذباللہ ایک ”بناوٹی کتاب“ قرار دیا۔ 1986ءمیں
بنگلور کے اخبار ”دکن ہیرالڈ“ نے گستاخی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی۔ 1993ءمیں
”لندن آبزرور“ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خیالی تصویر شائع کی۔
انسا ئیکلوپیڈیا آف برٹانیکا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خیالی خاکے اور فرضی
تصاویر شائع کی گئیں۔
روسی ناول ”ایڈمیٹ“ جو اکتوبر1992ءمیں شائع ہو کر منظر عام پر آیا، اس میں بھی آپ
صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں دل آزار مواد موجود ہے۔
دسمبر1997ءمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر لندن میں ایک گستاخانہ کارٹون فلم
بنائی گئی۔
اپریل 1998ءمیں کمپیوٹرڈسک پر ”کرونیکل “نامی کمپیوٹر سافٹ ویئر کمپنی نے آپ صلی
اللہ علیہ وسلم کی تصویر بنانے کی کوشش کی اور اب پھر ہالینڈ کے17اخبارات نے بیک
وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے توہین آمیز خاکے دوبارہ شائع کئے ہیں۔
اس سے قبل ہالینڈ میں ہی ایک ”سب میشن“ نامی فلم بنائی گئی، جس میں عریاں
عورتوں پر قرآنی آیات کا عکس ڈال کر اسلام میں عورتوں کے حقوق کی پامالی پر ہرزہ
سرائی کی گئی۔ یہ کہتے ہوئے اس کی آنکھوں
سے فرطِ محبت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم میں آنسورواں تھے۔ میں نے اسے سینے سے لگایا،
میرا کلیجہ بھی پھٹتا جارہا تھا۔ وہ چیخ چیخ کر مجھ سے سوال کر رہا تھا” دنیامیں
عیسائیت اور اسلام کے علاوہ دوسرے مذاہب بھی موجود ہیں، جن میں ہندومت، بدھ ازم اور
یہودیت انہیں کبھی نفرت اورتحقیرکا نشانہ نہیں بنایا جاتا یا کبھی بھگوان اور بدھا
کے بارے میں خاکے اور بیانات نہیں دیئے جاتے.... آخر مسلمان اور ان کا دین ہی کیوں
اس حقارت اور اہانت کا شکار ہے؟
روشن خیالی،رواداری اور دہشت گردی پر درس دینے والے لوگ آج کیوں گنگ ہوچکے ہیں؟ ایک
یہودی اگر پچاس نمازیوں کو شہید کردے تو وہ جنونی ہوتا ہے۔ فلسطینی اپنی سرزمین کی
حفاظت کے لئے اگر ایک چھوٹا سا پتھر بھی اٹھالے تو وہ دہشت گرد بن جاتا ہے۔ اگر ان
کی اس ناپاک جسارت کے خلاف بات کی جائے تو ہر آواز اٹھانے والا دنیا کی نظر میں
کیوں دہشت گرد بن جاتا ہے؟
آزادی اظہار کے سارے قانون اور قاعدوں کے بندھن آخرآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہانت
پر ہی کیوں دم توڑتے ہیں؟“
ہاں تم صحیح کہتے ہو....کیا کبھی تم نے ڈاکٹروں کے بلڈپریشر چیک کرنے کے طریقے کو
کبھی غور سے دیکھا ہے وہ پہلے دوا دیتے ہیں پھر ہر دو گھنٹے کے بعد بلڈپریشر چیک
کرتے ہیں۔ اس کا اندراج ایک پرچے پر کیا جاتا ہے اور پھر ڈاکٹر اس کے حساب سے اس کی
صحت میں تبدیلی کا جائزہ لیتے ہیں۔
کبھی تم نے شوگر ٹیسٹ کروانے کا طریقہ سمجھا ہے؟ وہ کھانا کھانے سے پہلے ایک ٹیسٹ
لیتے ہیں اور پھر کھانا کھانے کے بعد دوسرا ٹیسٹ لیتے ہیں۔
کبھی تم نے ایکسرے کو غور سے دیکھا ہے؟ تمہیں اس میں چند پسلیوں کے علاوہ کبھی کچھ
نظر نہیں آتا مگر ڈاکٹر دیکھ کر بتاتا ہے، اس پسلی میں فریکچر ہو چکا ہے۔
کبھی تم نے ای سی جی کروائی ہے؟ تمہارے دل کی دھٹرکن کو ایک کاغذ پر منتقل کردیا
جاتا ہے۔ اب ڈاکٹر تمہارے دل کی بجائے اس لمبی سی پٹی کو پڑھ کر تمہارے دل کی صحت
کا اندازہ لگالیتا ہے۔
بس ےہی کچھ تو ہورہا ہے، ےہودی لابی اس طرح کے حربے کرکے ےہ اندازہ لگاتا ہے کہ
مسلم امہ میں غیرت ایمان کا فوری درد کون سا ہے؟ ایک ارب مسلمانوں اور 56اسلامی
ملکوں میں سے وہ کتنے افراد، ادارے، جماعتیں اور تنظیمیں ہیں جن پر اس کا کتنا اثر
ہوا ہے؟
کراچی کی ڈیڑھ کروڑ کی آبادی میںسے کتنے لوگ اس پر آر زدہ اور دکھی ہوئے ہیں؟
پشاور،کوئٹہ، پنڈی، اسلام آباد، ریاض، جدہ، ملائشیا،جکارتہ، استنبول، انقرہ، تہران
کہاں کہاں سے آوازیں اٹھی ہیں؟ اور وہ کون لوگ ہیں جو ےہ آوازیں بلند کررہے ہیں۔
بس وہ دل کی پٹی کی طرح ہماری” ایمانی صحت“ کا اندازہ کرلیتے ہیں۔ بلڈ پریشر ٹیبل
پر نوٹ کرلیتے ہیں۔ان کے سامنے ہماری حقیقی مسلمانیت کا ایکسرے آجاتا ہے۔ اگر تمام
بین الاقوامی بڑے ذرائع ابلاغ کے مالکان کا جائزہ لیا جائے تو ان میں اکثریت
ےہودیوں کی ہی ہوگی۔ ےہودی لابی نے ہی ڈینش اخبارات میں ان خاکوں کو دوبارہ شائع
کرایا ہے کیونکہ وہاں اسرائیل کا عمل دخل بہت زیادہ ہے۔
لیکن نہیں اس پر بھی غور کرنا ہے کہ دنیا کی نئی سیاسی تقسیم کے بعد سے جس طرح
انہوں نے مسلمانوں کے خلاف تہذیبی یلغار کی تھی اور اکابرین مسلم وآپ صلی اللہ علیہ
وسلم کے خلاف ہرزہ سرائی کی تھی آج کی صورتحال اس سے بالکل یکساں ہے۔
کیونکہ کمیونزم کی شکست ور یخت کے بعد مغربی ذرائع ابلاغ نے تسلسل سے مسلمانوں کی
تہذیبی اقدار اور مسلمانوں کے وجود کو دہشت گرد کہہ کر مخاطب کیا ہے۔ وہ شب وروز
مسلمانوں پر قدامت پرستی ، تنگ نظری،رجعت پسندی اور بنیاد پرستی کے الزامات لگا کر
دنیا کی برین واشنگ کررہے ہیں۔ کیونکہ اسلام وہ ابدی دین ہے جس میں انسانیت کی فلاح
وبقاءہے کیونکہ اب ان کے اپنے ہی مغربی نظام سے گھبراگھبرا کر اسلام کی آغوش
میںپناہ لے رہے ہیں۔ جس ملک کے اخبارات نے توہین آمیز خاکے شائع کیے ہیں، ذرہ ان کی
سماجی اور اخلاقی صورتحال کا ہی جائزہ لے لو۔
ہالینڈ میںاسلام انتہائی تیزی سے پھیل رہا ہے کیونکہ ان کے معاشرے میں ہم جنس پرستی
عام ہے، خواتین تقریباً نیم عریاں ہوکر سفر کرتی ہیں۔ 15سے 20سال کی تمام لڑکیاں
کسی نہ کسی حوالے سے منشیات اور جنسی رجحانات کی عادی ہیں۔
منشیات کے استعمال کی قانونی اجازت موجود ہے، جگہ جگہ جنسی تھیٹر اور فحاشی کے اڈے
موجود ہیں۔ بے حیائی اور جنسی بے راہ روی کی اس لعنت سے تنگ افراد حلقہ اسلام
میںداخل ہورہے ہیں اور ےہ وہاں کے ڈینش اخبارات کے لئے کسی طرح بھی قابل قبول نہیں
ہے۔“
میں تمہارے دینی اور اسلامی جذبات سے آگاہ ہوں۔ کالی چرن، راج پال، نتھو رام، رحمت
مسیح، سلامت مسیح، سلمان رشدی اور پھر تسلیمہ نسرین ان تمام کے پیچھے کسی نہ کسی
اسلام دشمن کا ہاتھ ضرور ہے۔ بس تم نے اسی در پردہ ہاتھ کو تلاش کرکے اسے کاٹ ڈالنا
ہے۔اور قرآن پاک میں ارشاد ربانی تعالیٰ ہے ”اور جو لوگ بدگوئی (اہانت) کرتے ہیں۔
اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔“ (سورةتوبہ۔61)
میں جانتا ہوں، آج کی دنیا میںاگر غازی علم دین شہید ہوتا تو وہ یقیناً دہشت گرد
قرار دیا جاتا کیونکہ مغرب کا دوہرا معیار اب کھل کر سامنے آچکا ہے۔
انگلستان، جہاں اہانت عیسٰی علیہ السلام پر قانون موجود ہے مگر وہ گستاخ رسول کی
حفاظت کرتاہے۔ تم تو ےہ بھی جانتے ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت جزو ایمان ہے
اوراگر اس قلم کے معاملات پر کوئی عام مسلمان غوروفکر کرنے کی بجائے اخبار کی سرخی
سمجھ کر سرسری گزرجائے تو ےہودیوں کو ےہ بھی فائدہ پہنچتا ہے کہ وہ مسلمان کو عملی
زندگی سے دور کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔
ہمیں اس بات کو سمجھنا ہے کہ جوانوں کو میدان جہاد سے نکال کر رقص کا رسیا بنا
دو۔جن ہاتھوں سے تلوار اور قرآن اٹھانا ہے اس میں کنگن اور انگوٹھیاں پہنادو۔ جن
ذہنوں نے قوم کے مستقبل کی تعمیر کرنی ہے، ان ذہنوں کو اس قدراپاہج اور مفلوج کردو
کہ وہ فکر کی ان منزلوں کو چھو ہی نہ سکیں۔جن سے ان کا دین حقیقی تقاضاکرتا
ہے۔ذہنوں کو بدلنے کی اس مہم میںتمہارا فرض ہے قوم کے بچے بچے کو جگاواس کی سازشوں
کو ناکام کردو۔
جذبات کو عقل کی نکیل ڈال کر اپنے حقیقی مقصد کی طرف اور تیزی سے قدم بڑھادو کوئی
ہمارے محمد مصطفی کی شان میں کیا گستاخی کرے گا؟ بھلا کسی بے عقل کے کہنے سے ہمالیہ
کا پہاڑ بھی روڑا کہا جاسکتا ہے؟
کبھی آسمان کی بلندی کو پستی قرار دیا جا سکتا ہے؟ بھلا جس کا ذکر خود رب تعالیٰ
نے”ورفعنا لک ذکرک“ فرما کر بلند کردیا ہو ا س کی شان کون گھٹا سکتا ہے؟ بس تم اس
بات کو جز وایمان بنا لو کہ
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح وقلم تیرے ہیں
|