رابطہ رہنمائے کراچی کالم /فیچر علم و ادب خواتین اسلام صفہ اول

10 February 2008 / 2 Safra 1429

تحریر:طارق حسین


آبلے اور چھالے

چمن گُل اپنی ضعیف العمری کے باوجود آج بھی کھدائی کرتاہے، اینٹیں اٹھاتا اور بجری ڈھوتاہے۔ وہ گارا بناتے ہوئے اس میں اپنے بچوں کا مضبوط مستقبل تلاش کرتاہے۔ اینٹوں سے دیوار تعمیر کرتے کرتے سپنوں میں اپنے بچوں کے اعلیٰ مستقبل کے محل بھی بنانے لگتاہے، لیکن محض ڈیڑھ سوروپے روزانہ کمانے والا یہ چمن گل جب اپنی پیرانہ سالی سے لڑکھڑا کر گرتاہے تو سارے سپنے ریت کے گھروندے ثابت ہوتے ہیں۔ ادھر بچے روٹی کے انتظار میں ہیں، تاکہ سانس کی ڈوری چلتی رہے۔ یہ بچے اکثر بھوکے رہنے کی وجہ سے اب زیادہ روٹی کا اصرار بھی نہیں کرتے اور اکثر بھوکے ہی سوجاتے ہیں۔ دودن سے بخار میں مبتلا چمن گل اپنے بچوں کو ”پیٹ بھر“روٹی کھلانے کی خاطر آج پھر نکل کھڑا ہوا ہے۔ اس کے ناتواں کاندھے بیلچے کے بوجھ سے جھکے جارہے ہیں، شاید اس کے جسم کی تپش سے اس کے کاندھے پر رکھی کدال کو بھی پسینہ آگیا ہوگا۔

یہ بھوک اور افلاس کی وہ جھلک ہے جو ہمارے معاشرے میں آج بھی موجود ہے، جب کہ بقول صدرمملکت آج ہر شخص کے پاس موبائل موجود ہے،لیکن ہمارے معاشرے میں ایسے لاکھوں چمن گل پیدا ہوتے ہیں اور پھر اپنی آرزوﺅں اور تمناوں سمیت بھوک کے قبرستان میں ہمیشہ کے لئے دفن ہوجاتے ہیں، مگر اب ایسے چمن گل ہمارے معاشرے میں پیدا نہیں ہوں گے، بھوک اور افلاس کا جڑ سے خاتمہ ہوجائے گا۔ اب غریب غریب نہیں رہے گا، ہر شخص کے پاس تعلیم اور روزگار ہوگا، اس کا اپنا گھر ہوگا۔ اب اسے آٹا 28روپے کلو خریدنا نہےں پڑے گا، اب اسے کوئی دہشت گرد نہیں سمجھے گا۔اس کی آزادی اور خودمختاری کا احترام ہوگا۔ بس اب شہد اور دودھ کی نہریں اس کی منتظر ہیں کیونکہ ملک کی بڑی سیاسی پارٹیوں نے انتخابی منشور دے دیا ہے۔ چند صفحات پر مشتمل منشور خوبصورت اور رنگین چھپا ہوا،آنکھوں کو بہت بھلا لگتا ہے ۔جس میں چمن گل کا مستقبل چھپا ہوا ہے۔ اب چمن گل کوپریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ ق لیگ نے”دین“ کو پاکستان سے پہلے کردیا ہے، اب وہ فیصلے پاکستان کی بجائے دین کی بنیادوں پر کریںگے۔ن لیگ نے بتایا ہے کہ آپ کی تنخواہ چھ ہزار کردی جائے گی۔ متحدہ بے زمین ہاریوں کے لئے زمین کی نوید لے کر آئی ہے۔ پیپلز پارٹی عدالتی بحرانوں سے دور رہ کر روٹی کپڑااور مکان کے منشور میں نئے رنگ بھر کر لائی ہے۔کچھ ایسے ہی وعدے2002ءکے الیکشن میں بھی سنائی دیئے تھے، ان میں سے کتنے وعدے پورے ہوئے؟18فروری اب اسی کے احتساب کا دن ہے۔

سیاستدان بزبان حال کہتے دکھائی دے رہے ہیں کہ چمن گل آج پھر ہمیں آپ کی ضرورت ہے،ہم جانتے ہیں کہ تم آج سے پانچ سال قبل بھی کھدائی کرتے تھے اور اب بھی یہی کام کررہے ہو۔ اس سے قبل بھی جب تمہارا بڑا بیٹا چارسال کا تھا وہ اسکول نہیںجاتاتھا اور اب بھی نہیں جاتاہے۔لیکن چمن گل آج ہم تم سے اس لئے ملنے آ ئے ہیں کہ اگر تم چاہو تو تمہاری تقدیر بدلی جاسکتی ہے، تمہیں اب پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ تمہارا مطالبہ تھا نا کہ تمہاری رائے کا بھی احترام کیا جائے۔ تم نے سوچاتھا نا کہ شفاف انتخابات کے لئے نواز شریف کی شمولیت ضروری ہے، وہ بھی ہوگئی۔ تمہارا خیال تھا کہ وردی کا اترنا ضروری ہے، وہ مرحلہ بھی مکمل ہوا۔ تم ایمرجنسی سے پریشان تھے وہ بھی اٹھالی گئی اور چمن گل تم بالکل فکر نہ کرو۔میڈیا پر دوبارہ پابندی نہیںلگائی جائے گی۔ اور ہاں دیکھو چمن گل تم ججوں کی بحالی کا مطالبہ نییں کروگے۔ یہ دیکھو چمن گل ہم نے اپنے منشور میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمہ کا بھی وعدہ کیا ہے، اس نئی شق سے تمہیں خوش ہونا چاہےے۔ ہمیں ووٹ دے کر تم کتنے محفوظ ہوسکتے ہو؟ اب بتاو چمن گل تمہیںاور کیا چاہئے۔ تمہارے سارے مطالبات تو پورے ہوگئے ، اب تم اپنا فرض پورا کرو اور صرف اور صرف ہمیں ووٹ دو کیونکہ ہم سب سے زیادہ تمہارے ووٹ کے حق دار ہیں۔اپنے کاندھے سے ےہ کدال اوربیلچہ پھینک کر اپنے کاندھے خالی کرو تاکہ ہم ان پر قدم رکھ کر اقتدار کے ایوانوں تک رسائی حاصل کرسکیں۔

مجھے نہیں خبر کہ چمن گل نے ان کی بات مانی یا نہےں، مگر میں اتنا ضرورجانتاہوں۔ ایسے نظام اور معاشرے میں چمن گل جیسے افراد محض ایک مہرہ ہوتے ہیں، وہ پیادے جو شطرنج کی بساط پر بادشاہ کو بچاتے بچاتے پہلے خود مرتے ہیں اور وہ ان ثمرات سے ہمیشہ محروم رہتے ہیں جن کاانہیں خواب دکھایا جاتاہے۔

میرے سامنے اس وقت امیدواروں کی وہ فہرست موجود ہے جسے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے حتمی قرار دیا ہے۔ اس فہرست میں مجھے ایسا کوئی دوسرا ”چمن گل“ نظر نہیں آیا جو چمن گل کی مشکلات سے آگاہ ہو، جو اس کی طرح ڈیڑھ سو روپے کی مزدوری کرتاہو، جس کے بچے بھی رات کو بھوکے سوتے ہوں۔ ان افراد میں کوئی چمن گل کا نمائیندہ فرد نظر نہیں آیا۔ بس ایک ےہی اختلاف ہے مغربی طرز حکومت اور اسلامی حکومت میں کہ اسلامی خلافت کا حکمران اینٹ اور چٹائی پر سوتا ہے، جیسے آج کا چمن گل سوتا ہے۔ وہ اسے ایک فرض سمجھ کر اس کی ادائیگی میں کوتاہی کے ڈرسے خود کو اس کا اہل نہیں سمجھتا تھا اور آج کا امیدوار اس بات کا دعویدار ہے کہ وہی اس کا اصل”مشکل کشا“ہے۔

چمن گل حسرت بھری نگاہوں سے میری طرف دیکھتا رہا، پھر اس نے اپنے جھریوں زدہ ہاتھوں سے کدال اور بیلچہ اٹھایا اور یہ کہہ کر آگے بڑھ گیا” بھائی جان! مجھے معاف کرنا، میرے گھر کا چولہا پچھلے دوروز سے نہیں جلا۔ آپ یہ انتخاب وغیرہ لڑیں میںتو غریب آدمی ہوں۔ میرا بھلا اس میں کیا کام، آج نہیں کمایا تو بچوں کو کیا کھلاﺅں گا؟“
ہاں !چمن گل ٹھیک ہی تو کہتا ہے۔
ق لیگ کہتی ہے کہ عدلیہ آزاد ہوگی، مگر کیسے؟ منشور خاموش ہے۔ہر سیاسی جماعت کہتی ہے کہ ہم مہنگائی کم کرنے کی کوشش کریںگے۔ یہ الگ بات ہے کہ شاید اب کی بار بھی یہ کوشش کامیاب نہ ہوسکے۔ ان کے منشور میں لکھا ہے کہ وہ صحت کے شعبہ میں انقلاب لائیں گے، لیکن یہ انقلابی عمل کیسے ممکن ہوگا؟ ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ پاکستان کی چربہ جمہوریت میں ایسا کوئی بھی نظریہ پیش نہیںکیا جاسکتا، مگر اس کی تکمیل کس قدر ممکن ہے اس پر کوئی بات نہیں ہوتی۔ ان تمام پارٹیوں کے سربراہوں سے پوچھ لیا جائے آپ 30لاکھ روزگار دینے کا وعدہ کررہے ہیں، مگر یہ کس طرح پایہ تکمیل تک پہنچے گا؟ کوئی ایسا طریقہ، منصوبہ، کوئی فزیبلیٹی رپورٹ، کوئی اعدادو شمار ، کوئی ڈھنگ تو عوام کو بتائیں۔ آبی ذخائر کو بڑھایا جائے گا ، مگر کس طرح؟ کوئی ایسا نیا منصوبہ جو بنایا ہو، عوام کے سامنے رکھیں۔

ےہ مزین منشور چمن گل کے بچوں کو دو وقت کی روٹی نہیں دے سکتے ۔ اس پورے نظام میں اس جیسے لوگوں کے مقدر میں صرف دو ہی چیزیں ہوا کرتی ہیں....ایک ہاتھوں میںآبلے اور دوسرا پاوں میں چھالے

© Copyrights 2007, karachiupdates.com
E-mail:karachiweb@karachiupdates.com  contact: 0321-2422035