|
|
|
10 February 2008 / 2
Safra
1429 |
تحریر:طارق حسین
پھر بھی میں
مسلمان ہوں
بالا کوٹ کے
حسین پہاڑہوں یا کراچی کے ٹھاٹھیںمارتاہوا سمندر، مینار پاکستان سے سجا لاہور ہو یا
قائد کا شہر کراچی، شالامار باغ ہو یا باغ جناح کی بارہ دری، کراچی کے فائیواسٹار
ہوٹلز ہوں یا ٹنڈوآدم کے بائی پاس پر چھپر ہوٹل، احمد پو رشرقیہ کی سڑکیں ہوں یا
اسلام آبادکی شاہراہیں، کبیر والا سے لے کر سوہاوہ تک، مورو سے لے کر کالا گوجراں
تک، راجن پور سے لے کر کالاشاہ کاکو تک اور کوئٹہ سے لے کر کشمور تک، ہر جگہ تلاش
کے باوجود میرا بھائی ماڈرن ازم کے ہجوم میں کہیں کھوگیاہے۔
اسے ماڈرن اسلام، ترقی پسند اسلام، جدیدیت ، ماڈریٹ نقطہ نظر افکار کا بے حد شوق
تھا۔ اس کے نزدیک وہ تمام لوگ ماڈرن ہیں،جن کے ہاں صبح گیارہ بجے ہوتی ہے۔ جن کی
راتیں یہودوہنود کی فلمیں دیکھنے میں گزرتی ہیں۔ جوبوائے فرینڈ، گرل فرینڈ کے ساتھ
کلب جانے کو اسٹیٹس سمجھتے ہیں۔ بھوک اور افلاس کے خلاف فیشن ایبل شاہراوں پر واک
کرکے آواز حق بلند کرتے ہیں۔ جن کے لباس واطوار سے یہودیت عیسائیت کی جھلک دکھائی
دیتی ہے۔ جو راک اینڈ رول پرڈانس کرنے کو وقار جانتے ہیں۔ جوغذا کو ماڈرن کرکے
برگرز سے پیٹ بھرتے ہیں۔ جو بہن کو”بے بے“ کہنے کی بجائے”بے بی“ کہنا پسند کرتے ہیں۔
اباجان کو ”ڈیڈ“ اور والدہ کو ”مام“ کہہ کر پکارتے ہیں، جن کی جھولی میں کبھی بلی
اور کبھی کتا بیٹھ کر ان کے ماڈرن پسندی کا ثبوت فراہم کرتا ہے۔
اگر انہیں شہادت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی تاریخ یاد نہ بھی ہو تو کوئی بات نہیں،
وہ دیوالی کا دن ضرور یاد رکھتے ہیں۔ وفات صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے روز چھٹی کریں
نہ کریں کرسمس پر ضرور چھٹی کرتے ہیں۔ اُحد کا دردناک منظر یاد رہے نہ رہے، شکاگو
میں ڈھائے جانے والے ظلم پر یکم مئی ضرور مناتے ہیں۔ عید پر اتنا خوش نہیں ہوتے
جتنا نیو ائیر نائٹ منا کر خوشی محسوس کرتے ہیں۔ سیرت عائشہ رضی اللہ عنہا پڑھیں نہ
پڑھیں، ایشوریا کی بائیو گرافی اور فلم گرافی زبانی یاد رہتی ہے۔ کلمہ ٹھیک سے یاد
ہو یا نہیں، مکیش کے گانے مکمل یاد ہوتے ہیں۔ بہن کے سر پر دوپٹہ اوڑھانے کے بجائے
اس سے کلائی پر راکھی بندھواتے ہےں۔ اوقات نماز کی خبر ہو نہ ہو اسٹار پلس کے
ڈراموں کا شیڈول ازبر ہوتا ہے۔ نماز جنازہ نہیں آتی مگر پیانو پر رومانوی دھنیں
ضرور بجالیتے ہیں۔ اسلاف کے کارنامے یاد نہیں مگر برنارڈشاہ، شیکسپئراور کیٹس کے
بڑے مداح ہیں۔ خالد بن ولیدرضی اللہ عنہ، محمدبن قاسم اورٹیپو سلطان کی بجائے،
راجرمور، ریمبو، جیکسن اور شاہ رخ ان کے ہیرو ہیں۔
وہ جو غازی علم دین شہید کو انتہا پسند اور ملعون رشدی کو معصوم خیال کرتے ہیں، جو
توہین رسالت ایکٹ کو ہیومن رائٹس کے خلاف سمجھتے ہیں۔ جن کے جسموں پر پھٹی ہوئی
جینز سینے پر وہ شرٹ جس پر ریمبو کی تصویر، آنکھوں پر سیاہ چشمہ، سرپر نائیک کیپ
بائیں کان میں”بالی“ دائیں ہاتھ میں کالا کٹرا، گلے میں دل کا نشان، پیروں میں
بھاری بوٹ اور بغل میں رنگین تھیلا اٹھایا ہوتا ہے۔
جب ان سے پوچھا جائے کہ ےہ کیسا اسلام اور کیسی مسلمانی ہے کہ ایک کان میں قرآن تو
دوسرے میں میڈونا کے سریلے نغمے، ایک ٹانگ قیام میں ہے تو دوسری رقص میں، ایک آنکھ
طالب مدینہ ہے تو دوسری کرینہ کی پرستار، نطق زبان پر قرآن بھی ہے اور گانے بھی۔ شب
قدر، شب معراج کے ساتھ ساتھ بسنت، اپریل فول اور ویلنٹائن ڈے بھی منالےتے ہیں۔ جس
حلق سے زم زم کے گھونٹ اتارتے ہو اسی سے شراب بھی گزرتی ہے۔ ایک نگاہ میں حرم کعبہ
کو سمونا چاہتے ہیں تو دوسری نگاہ برہنہ جسموں کی رسیا۔ کان اگر اذان سنتے ہےں تو
روح کی غذا موسیقی ہے۔ ایک نظر میں خاک طیبہ بھرنا چاہتے ہیں تو دوسری نظر وہائٹ
ہاوس کے ٹی سے مزین کرنے کی خواہشمند، ماڈرن اسلام کے ےہ داعی مدارس ومساجد کو چرچ
کی طرز پر عملدرآمد کرونا چاہتے ہیں۔ عالم کو کیپ، کوٹ اور ٹائی پہنا کر قدامت
پرستی سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔تو جواب ملتا ہے اگر کبھی قرات کے ساتھ ساتھ گانا بھی
گنگنالیں۔ ایسی بھی کیا دقیانوسی ....کہ چلتا ہے سب چلتا ہے۔
میرا وہ بھائی جانے کہاں کھو گیا ہے، جس کے نزدیک بے حیائی، عریانی،رقص وسرور، بے
حجابی، شراب نوشی، سٹہ بازی، قماربازی، فلم بینی، انٹرنیٹ، جنسی بے راہ روی،
معاشرتی افراتفری، اس کے ایمان کو کمزور نہےں کر سکتی وہ چاہتا تھا کہ رحمن بھی
راضی رہے اور بھگوان بھی۔
میں نے چاہا تھا، وہ اس طرز کے اسلام سے دور ہوجائے۔ وہ نہےں جانتا تھا، جہاں
نگہبان ہی رہزان بن جائیں، جب محافظ ہی ایمان کے لٹیرے ہو جائیں۔ وہ مغربی تہذیب
اور مشرق پاکیزگی کو ملا کر جو نیا”بلینڈ“ بنانا چاہتا ہے۔ وہ اس کے لئے اور اس
جیسے دوسرے مسلمانوں کے لئے زہر ہلاہل ہے۔
میں نے ایک دفعہ پڑھا تھا اور اسے بھی سنایا کہ ہماری قرآن سے نسبت ہے مگر ہم اس کے
نفاذکے خلاف ہےں پھر بھی مسلمان ہیں.... ےہودو ہنود کے اور غیر اسلامی نظریات
وافکار کے مبلغ ہیں تب بھی مسلمان ہیں.... جمہوریت کو اسلامی نظام مملکت پر فوقیت
دیتے ہیں۔ ہاں پھر بھی مسلمان ہیں.... کافرانہ وضع قطع شکل وصورت بناتے ہیں۔ روز
صبح تراشیدہ چہرہ بنانے کے لئے سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو گندی نالی کی نذر
کردیتے ہیں، پھر بھی مسلمان ہیں.... سید البشر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کا
مذاق اڑاتے ہیں۔ پھر بھی مسلمان ہیں.... ےہودیوںاور عیسائیوں سے محبت رکھتے ہیں مگر
پھر بھی مسلمان ہیں....حی علی الصلوة کی پکار سن کر بھی رد کردیتے ہیں۔ پھر بھی
مسلمان ہیں.... عیسائی وصہیونی درندے مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیل رہے ہیں،
مگرہماری آنکھوں میںکوئی نمی نہیں،دل میں کوئی درد نہیں، لبوں پر مسکان، ضمیر مردہ
ہوچکا ہے.... ہم پھر بھی مسلمان ہیں!
میں نے اس سے کہا تھا، ہم مسلمان ہیں مگر کیسے مسلمان ہیں؟ایسے مسلمان کو میں کون
سا نام دوں ترقی پسند مسلمان کہوں یا ماڈریٹ مسلم، زمانہ ساز مسلمان کہوں یا باشعور
مسلمان، جدید مسلمان یا مشینی دور کا مسلمان آخر اسے کیا کہوں....؟
وہ اس بات پر مجھ سے روٹھ گیا کہ میں نے کہا تھا۔ قرآن وحدیث کے احکامات کومدنظر
رکھ کر آئینہ میں اپنا چہرہ دیکھنا، اپنی ذات کوپرکھنا، اپنے گریبان میں جھانکناکہ
ہم اللہ اور اس کے رسول محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک کتنے مسلمان ہیں۔
میرے بھائی مجھ سے مت روٹھو........!!!
میں صرف ےہ بتانا چاہتا ہوں.... کیاآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی کو ایسا ہی ہونا
چاہئے، اللہ سے محبت کادم بھرنے والے کاچلن کیا ایسا ہی ہونا چاہئے ؟آزمائش کے اس
نازک دور میں تم ہی تو اس دین کے محافظ ہو۔ اگر تمہارے دل میں بھی دین کا درد جگہ
نہ بناسکا تو اس امت کا کیا بنے گا۔ اگر تم بھی اس اخلاقی پسماندگی کے سیلاب کے
سامنے ریت کی دیوار کی طرح بکھرگئے، ان مصائب سے تمہارا جذبہ ایمانی کمزور پڑگیا تو
مغربی ایوانوں سے اٹھنے والے اس طوفان کو کون روکے گا۔
میرے بھائی مجھ سے مت روٹھو !اگر تم پلٹ کر نہ آئے، تم میرے کاندھے کے ساتھ کاندھا
ملا کر کھڑے نہ ہوئے تو ےہ طوفان بلا ہماری عزت حمیت اسلام پر مان، وقار وغرور، ملی
ودین جذبوں کوبہالے جائے گا۔ میری منتظر آنکھیں تیری راہ تک رہی ہیں۔ میں جانتا ہوں
جب تو ےہ پڑھے گا۔ تو ضرور پلٹے گا....ضرور لوٹ کر آئے گا کیونکہ تجھے لوٹ کرآنا ہے
اور میرا ساتھ نبھاناہے۔
|
 |
|
|