|
|
|
03
February 2008 / 24
Muharam
1429 |
تحریر:طارق حسین
یوم کشمیر کیسے منائیں
باز اڑکر بڑھیا کی کٹیا پر جابیٹھا۔ بڑھیا نے اسے پکڑا اور بولی: ”تم کتنے خوبصورت
پرندے ہو مگر دیکھو تو تمہارے ناخن اتنے بڑے ہوچکے ہےں۔ آج تک کسی نے بھی نہیں کاٹے۔“
اور اس نے باز کے ناخن کاٹ دیے۔ پھر اس کے بالوں پر ہاتھ پھیرا اور بولی: ”اتنے بڑے
بڑے بال! تم ان سے تنگ نہیں آتے۔“ اور باز کے پر بھی کاٹ دیے۔ اب باز ایک چڑیا بن
چکا تھا اور جدید زمانے کی نئی اصطلاحات کے مطابق اب باز ”انتہا پسندی“ سے یوٹرن لے
کر ”اعتدال پسند“ بن چکا تھا۔
کچھ اس قسم کی اعتدال پسندی کا مظاہرہ ہم نے کشمیر کے ساتھ بھی کیا ہے۔ اسی اعتدال
پسندی کی کوکھ سے 5 فروری کی چھٹی نے بھی جنم لیا ہے؟؟؟ اس بات سے قطع نظر کہ مسئلہ
کشمیر کی تاریخی حیثیت کیا ہے اور اس کے ممکنہ حل کون کون سے ہیں؟ ماضی کے وعدوں
اور قراردوں میں اب تک کتنی جان ہے؟ گرم خوردہ قرار دادوں سے مسئلہ کشمیر کا حل کب
تک تلاش کرلیں گے؟ دہشت گردی اور حق خود ارادیت کے مابین ہم کون سی حد فاصل قائم
رکھ کر اس کی اخلاقی، سیاسی حمایت جاری رکھ سکیں گے؟ آخر وہ کون سا طریقہ اور سلیقہ
ہے کہ حق دار کواس کا حق مل جائے؟ ان تمام سوالوں کا جواب تلاش کرتے کرتے، وقت
گزرتا جارہا ہے اور نئے قبرستانوں کی آباد کاری کا کام بھارتی افواج تیزی سے کررہی
ہیں۔ عصمتیں لٹ رہی ہیں۔ بچے شہید ہورہے ہےں۔ لیکن آج شہر میں ایک نئی بھارتی فلم
ریلیز ہورہی ہے۔ اس کے گانے پاکستان کی گلی گلی اور کوچے کوچے میں بج رہے ہےں۔ اس
کے رنگین پوسٹروں سے وڈیو شاپس سجے ہیں۔
کیبل آپریٹرز نے کم از کم دس چینل صرف انڈین فلمیں نشر کرنے کے لئے مختص کر رکھے
ہیں۔ ملک کی ساو ¿نڈ ریکارڈنگ کمپنیاں اوور ٹائم پر ادارے کو چلاکر انڈین فلموں کے
گانوں کی سی ڈیز تیار کررہے ہیں۔ پرنٹنگ پریس تیزی سے بھارتی اداکاروں کے پوسٹر
چھاپنے میں مصروف ہیں۔ پاکستان کے طول وعرض میں شاید ہی کوئی وڈیو شاپ ہو جہاں
انڈین فلم باآسانی دستیاب نہ ہو۔ اگر میں غلطی پر نہےں تو تقریباً تمام ٹیلی ویژن
رکھنے والے افراد کے ہاں کسی نہ کسی طور سے ضرور انڈین فلم دیکھی اور سنی جارہی ہے۔
میں بھی کن باتوں میں الجھ گیا۔ بھلا ان باتوں کا مسئلہ کشمیر سے کیا تعلق ہے؟ اگر
کشمیر میں کسی بیٹی کے سر سے اس کی چادر عصمت اترتی ہے تو ہم بھلا کر بھی کیا سکتے
ہیں؟ ہم نے شام کو نئی انڈین فلم کے عریاں رقص دیکھنے ہیں۔ ہمارے ہیرو اب انڈین فلم
انڈسٹری سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے ڈرامے اور پروگرام ہمیں زیادہ عزیز ہیں۔
اگرکوئی بچہ اپنی ماں کی عصمت پر قربان ہوتا ہے تو سرزمین کشمیر پر ایک نئی قبر کا
اضافہ ہوتا ہے تاہم ہمارے گھر میں ایک نئی انڈین گانوں کی سی ڈی کا اضافہ ہوتا ہے۔
کشمیر ڈے منانے کا جتنا اہتمام اب ہمارے ہاں ہوتا ہے پہلے کب ہوا کرتا تھا؟ انڈین
پروگرام اور فلموںسے سارا دن محظوظ ہواجاتا ہے تاکہ کشمیری بھائیوں سے حقیقی اظہار
ہمدردی کو ممکن بنایا جاسکے۔
سردست اس سے بے خبر ہوں کہ اس سال 5فروری کو کون سی نئی بھارتی فلم ہمارے ملک میں
ریلیز ہورہی ہے؟ اور اب ان کی طرف آئیں جن کی تقریروں اور جلسوں میں مسئلہ کشمیر
زندہ وتابندہ ہے۔ ان کے بیانات میں کشمیر کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ ”پرزور“ مطالبوں
پر مشتمل قرار دادوں کا منظور ہونا اور پھر اخباری شہ سرخی میںدفن ہوجانا ہمارا
پرانا معمول ہے کہ سب کچھ کرکے ہم اس فرض سے بحسن وخوبی سبکدوش ہوجاتے ہیں۔ پورے دن
کی چھٹی منائی جاتی ہے اور یوںسب ویسا ہی چلتا رہتا ہے جیسے پہلے چل رہا تھا۔
کیا ہمارے گردونواح میں سب کچھ اسی طرح نہیں ہورہا ہے کہ ہم نے کبھی حقیقی طورپر
کشمیر ڈے اس کی روح کے عین مطابق منانے کی کوشش کی ہے؟ آخر آپ پوچھنا چاہتے ہیں کہ
ہم یوم کشمیر کس طرح منائیں؟ چلیں آج اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم یوم کشمیر اس
طرح منائیں گے کہ ہم اپنے گھر کے تمام افراد اور کم ازکم اپنے اطراف کے دس افراد سے
کشمیر کے حوالے سے گفتگو کریں گے اور انہیں یہ بتائیں گے کشمیر پاکستان کے وجود کے
لئے کیوں ناگزیر ہے؟
آج کے دن کوئی بھی کشمیر کا ہمدرد فلم دیکھے گا نہ کوئی بھارتی گانا سنے گا۔ کوئی
انڈین ڈرامہ نہیں دیکھے گا۔ آج تاجر کوئی بھارتی فلم ریلیز نہیں کریں گے۔ آج کے دن
کم از کم ہر ایک شخص ایک فلمی سی ڈی ضرور نذرآتش کرے گا۔ کم از کم ایک شخص جو ملک
سے باہر ہو اسے راغب کرے گا کہ وہ یوم کشمیر کے حوالے سے دوسری اقوام میں اس کی
اہمیت کو اجاگر کرے۔ تمام والدین اپنے بچوں کو کشمیری بچوں کا حال سنائیں گے۔ تمام
اساتذہ اپنے شاگردوں سے مسئلہ کشمیر پر ایک مضمون لکھ کر لانے کا حکم دیں گے۔ آج
کوئی بھی ریڑھی والا یا صنعتکار امیر یا غریب حسب استطاعت کشمیر ڈے کی آمدنی کو کسی
ایسے ادارے یا جماعت کو دے گا جوآزادی کشمیر میں استعمال ہوسکے۔ آج کم از کم ہر ایک
پاکستانی کشمیر کے حوالے سے ایک SMS کرے گا۔ چھٹی کے آٹھ گھنٹوں کو صرف اسی مقصد کے
لئے استعمال کرے گا جس مقصد کے تحت آج اسے چھٹی دی گئی ہے۔ کیا آپ کے لئے یہ سب کچھ
کرنا کوئی مشکل کام ہے؟
یاد رکھےئے! آزادی کی نعمت ہمیشہ چھین کر حاصل کی جاتی ہے۔ وہ آپ سے قربانی مانگتی
ہے۔ کیا آپ کشمیر ڈے کے حوالے سے اپنے افکار ونظریات کا پرچار کرسکتے ہیں؟ اپنا
سارا وقت اس کام میں لگاسکتے ہیں؟ اگرآپ سے یہ نہیں ہوسکتا تو پھر کشمیر کی آزادی
کی جنگ کون لڑے گا؟ یہ نہ بھولیں باز کے پر اور ناخن ایک مقررہ مدت کے بعد پھر ضرور
بڑھیں گے اور پھر وہ اپنی شہبازی پرواز شروع کرے گا۔ وہ ہمیشہ چڑیا بن کر نہیں رہے
گا۔ آپ بھی اپنے حصے کا کام کیجئے۔ آپ جب اپنے حصے کا کام کردیں گے تو منزل قریب
ہوجائے گی۔ کیونکہ آزادی قربانی مانگتی ہے مگر اسے برقرار رکھنے کے لئے بھی قربانی
دینی پڑتی ہے۔ اور جو لوگ قربانی دینے کا جذبہ نہیں رکھتے وہ کبھی کامیاب نہیں
ہوسکتے۔ |
 |
|
|