رابطہ رہنمائے کراچی کالم /فیچر علم و ادب خواتین اسلام صفہ اول

28 January 2008 / 18 Muharram 1429

 تحریر: طارق حسین

اگر تم سوچنے کا وعدہ کرو۔۔۔۔۔۔۔

شہر، گلی، گاو ں۔ رکشہ، ٹیکسی، بس ہو یا کار۔گھر، بازار، دوکان یا چوراہا تمہیں کہیں بھی اپنی تڑپتی اور سکستی تہذیب ماتم کرتے ہوئے دکھائی نہیں دیتی۔
 
گلوبل ولیج بننے کے بعد جس طرح سے میرے ملک کی فضاو یں میں رقص وگانوں کی لے گھل
 رہی ہے تم جیسے اس سے بے خبر ہو۔ نئی تہذیب کے نام پر نت نئے فسانوں کا جیسے تمہیں کوئی علم نہیں۔ کیا تم نہیں جانتے بیسویں صدی کے آخر میں ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ”سیموئیل لی ہٹنگٹن“ نے تہذیبی تصادم اور پروفیسر”فوکو یاما“ نے خاتمہ تاریخ کا نظریہ پیش کر کے اسلام کی حقانیت کو وقتی، عارضی اور خالی قرار دیا تھا۔
 
کیا تم یہ بھی بھول گئے کہ انہوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ آنے والی صدیوں میں مشرق اور مغرب کی تہذیبیں ٹکرائیں گی۔ اس طرح سے مشرقی اقدار ختم ہو جائیں گی اور مادہ پرستی کا بول بالا ہوگا۔

ہاں تم بھول ہی جاتے ہو۔ روز بلڈنگیں اور گھر بنتے دیکھتے ہو پھر بھی اس سے کچھ نہیں سیکھتے۔  تم نے دیکھا کہ سب سے پہلے بنیاد کھودی جاتی ہے۔ اسے مضبوط بنایا جاتا ہے۔ جب ےہ مضبوط بن جائے اس پر بلڈنگ کا اسٹرکچر کھڑا ہوتا ہے۔ پھر اسے بنایا جاتا ہے اور آخر میں رنگ روغن کردیا جاتا ہے۔
 
ان خوبصورت رنگوں میں کھو کر چمکتی دمکتی دیواروں اور منقش قالینوں اور دلفریب دروازوں کے نیچے تم ان بنیادوں پر کبھی غور نہیں کرتے جن کے بل پر یہ عمارت کھڑی تھی۔
تم کبھی بھی غور کرنا شروع نہیں کرو گے۔ گذشتہ کئی سالوں سے جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ جو 9/11 کے دن سے شروع ہوئی تھی۔
 
امریکہ میں 9/11 کے بعد سے کوئی بڑادہشت گردی کا واقعہ پیش نہیں آیا تاہم اس کے بعد افغانستان اور عراق کھنڈر اور معصوم انسانی جانوں کی ضیاع کا مرکز بن چکے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ خون بہانے والے قیام امن کے نام پر ناحق اور معصوم ”مسلمانوں“ کا خون بہارہے ہیں۔
اسکی دوسری دلچسپ حیثیت یہ ہے کہ یہ خون ان کے اپنے ہی گھروں میں بہایا جارہا ہے۔
تیسری دلچسپ بات یہ ہے کہ دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے غاصب افواج موجود ہیں۔ سات سمندر پار سے آنے والے خونخوار مسلح اتحادی سلامتی اور انسانیت کے دوست اور محافظ ہیں۔ باقی سارے دہشت گرد ہیں۔

لیکن تم نے تو قسم اٹھا رکھی ہے اس بات کو نہیں سمجھو گے
یہ سارا امریکن سرپرستی میں کھیلا جانے والا عالمی کھیل ہے۔ اس کے مختلف کردار ہیں۔ جن میں سے ایک اتحادی ہم یعنی پاکستان بھی ہے۔ پہلے یہی اتحادی سرخ سامراج کا مقابلہ کرتا رہا۔ وہ عالمی طاقت ریت کا ڈھیر ثابت ہوئی۔

 یہاں سے حادثات اور تہذیبی تصادم کے نئے دور کا آغاز ہوا۔ اب اگلے راونڈ نے شروع ہونا تھا۔ اس کھیل کے نگران عالمی کرداروں نے ہمدردیاں بدلنا شروع کیں اور کل کے حلیف آج کے حریف بن گئے۔
 
اب پھر دوسرے راو نڈ میں ہماری خدمات ”دہشت گردی کے خلاف جنگ“ کے نام سے متعارف ہوئیں۔ تاحال یہ مرحلہ جاری وساری ہے۔
 
دہشت گردوں کی ثقافت اب افغان سرحدوں سے باہر نکل کر سوات اور جنت نظیر وادیوں کو لہولہان کررہی ہے۔ کراچی، لاہور، راولپنڈی، کوئٹہ، پشاور تاحال یہاں کی تمام سڑکیں ناحق مسلمانوں کے لہو سے سرخ ہوچکی ہیں۔

ہاں میرا شکوہ یہی ہے تم سمجھتے ہو بس دہشت گردی ختم ہوجائے گی اور پھر تم اور امریکہ اکھٹے رات بھر سوہنی ماہیوال اور ہیر رانجھا کے قصے سنایا کرو گے۔ لیکن تم ایسا کیوں نہ سمجھو۔ تمہاری صبح گانے سے ہو اور شام رقص پر ختم ہو تم تو چاہتے ہو کہ تمہاری سمجھ میں کچھ بھی نہ آئے۔

کیا سب کچھ ایسا ہی ہوگا۔ اب دہشت گرد ختم ہوچکے ہیں۔ جیسے تم نے سمجھ رکھ ہے اس کھیل کا کوئی تیسرا راو نڈ نہیں آئے گا۔

خدا کے لئے میری بات سمجھنے کی کوشش کرو۔ اسمگلروں، ڈکیتوں، ڈاکووں، لیٹروں، قاتلوں میں ایک صفت بہت ہی مشابہ ہوتی ہے وہ ہمیشہ اپنی صفائی اور جرم کو چھپانے کے لئے ہر نشان مٹا دیتے ہیں۔ جو کل تک ان کا ہمنوا ہوتاہے۔ اگلے ہی دن اسکی لاش جھاڑیوں میں ملتی ہے۔
 
ذرا اپنا کردار بھی دیکھ لو۔ کیونکہ اس کی ضرورت اب انہیں نہیں رہی بلکہ تمہاری زندگی ان کے لئے عذاب بن سکتی ہے۔
ذرا سوچنا! کہ فرانس، اٹلی، برطانیہ، جرمنی، کینیڈا، امریکہ اور دیگر یورپی ممالک کے مقابلے میں عراق، افغانستان، اور پاکستان کے لوگ کتنے محفوظ ہیں۔
وہاں اور یہاں صرف گذشتہ سال 2006 میں کتنے انسانوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔ کتنے غیر مسلم اور کتنے مسلم اس دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مارے گئے۔ ضرور سوچنا کہ کتنے بم اور خودکش دھماکے یہاں اور کتنے وہاں پھٹے۔

اگر تم سوچنے کا وعدہ کرو تومیں تمہیں یہ بھی بتاو ں کہ عجب دہشت گرد خودکش بمبار ہیں۔ وہ ان ممالک کا رخ کرنے کے بجائے بھائیوں کو نشانہ بناتے ہیں ان کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں۔ جن کی ان سے کوئی جنگ بھی نہیں ہے۔

دیکھو تم نے سوچنے کا وعدہ کیا ہے!! یہ کیسی دہشت گردی کے خلاف جنگ ہے۔ سارے ”دہشت گرد“ اپنے ہی ملک کے خلاف کیوں سرگرم ہیں۔ کیا ایسا ہی ہے یا کچھ اور ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ اسی کے درپردہ کچھ اور مقاصد ہیں۔ آپ کے ملک کو غیر مستحکم کیا جا رہا ہے۔ بدامنی اور دہشت پھیلا کر آپ کو یہ باور کرایا جارہا ہے کہ تم ایک غیر محفوظ قوم ہو۔

عالمی کھیل کے اس مرحلے میں ذرہ اپنا کردار متعین کرنا۔ مستقبل کی فکر کرنا۔ امریکن تھنک ٹینک کا مطالعہ کرنا۔ ایک چارٹ بنانا اور دیکھنا پوری دنیا میں روزانہ کتنی ہلاکتیں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر ہوتی ہیں۔ کتنے مسلمان اور غیر مسلم مرتے ہیں۔ اس بات کا جائزہ لینا دنیا کے کس کس خطے اور علاقے میں جہاں کی اکثریت آبادی مسلمان ہے۔ کہیں وہیں پر تو دہشت گردی کے خلاف جنگ تو نہیں ہورہی ہے۔

تہذیبی یلغار کے اس مرحلے میںتم آج تک یورپ سے کتنے متاثر ہو چکے ہو۔ تمہارے افکار اور نظریات میں گذشتہ ایک سال سے 5 سالوں کے دوران کیا کیا تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں۔

تم وعدہ کرو روزانہ کم ازکم ایک گھنٹہ ضرور امت کی پستی اور اسے در پیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے غور وفکر کرو گے۔ میں جانتا ہوں تم اسے دیوانے کی بڑ سمجھتے ہو۔ لیکن میں یہ بھی جانتا ہوں۔ مسلمان اپنے اعمال وکردار میں کمزور اور کوتاہ ہوسکتا ہے۔ لیکن ایمان باللہ اور حب رسول کا بندھن کمزور نہیں ہونے دیتا۔

میں یہ بھی جانتا ہوں موسم کی تبدیلی درختوں سے ان کی ہریالی چھین لیتی ہے مگر جن درختوں کی بنیادیں مضبوط ہوں وہ نئے پتوں سے ہریالی لاکر موسم بہار کا حسن دوبالا کرتے ہیں۔

میرے بھائی مسلم امت کی ہریالی چھن گئی ہے اگر تم سب ملکر اس کی ہریالی لوٹانا چاہو تو اللہ ضرور تمہارے ساتھ ہے۔ بس اپنی بنیادوں کو کمزور نہ ہونے دو اور اگر تم سوچنے کا وعدہ یاد رکھو تو تم اپنے وجود کو بھی بچالو گے اور اپنی شخصیت کو بھی۔۔۔

© Copyrights 2007, karachiupdates.com
E-mail:karachiweb@karachiupdates.com  contact: 0321-2422035