رابطہ رہنمائے کراچی کالم /فیچر علم و ادب خواتین اسلام صفہ اول

23 January 2008 / 13 Muharram 1429

 تحریر: طارق حسین

گھنگرو


محبت اور وفا کے جو عہد وپیماں، ساتھ مرنے اور جینے کی جو قسمیں ،پہروں اپنے محبوب کے شیریں لبوں سے کچھ سن کر بجالانے کے آداب عشق، محبت کے اس اندھے پن نے عقل کے سارے کواڑوں اور دریچوں کو مقفل کر دیا تھا۔ اب دھیرے دھیرے کبھی کبھی کوئی ہوا کا تازہ جھونکا اس مقفل دروازوں سے نکل کر عقل کو بیدار کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔

کبھی کبھی کوئی ہلکی ہلکی دستک بھی دیتا ہے کہ تم نے قربانی اور ایثار کی جس صلیب کواپنے سینے پر لٹکایا تھا۔ اس مخالصانہ وفا شعاری کے بدلے میں تمیں وہ سب کچھ ملنے والا ہے۔ جسکا تمہیں اہل دل پہلے ہی بتاچکے ہیں۔ تمہاری یہ مطلبی محبت اب کسی بھی وقت اپنے منطقی انجام کو پہنچ ہی جائے گی۔

پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے غیر محفوظ ہونے کی بات ہمارے لئے نئی نہیں ہے۔ جب افغانستان پر حملہ نہیں ہوا تھا تب بھی مغربی میڈیا اور اسکے حواری یہ بیان دینے میں آگے آگے تھے کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام محفوظ نہیں اور دہشت گردوں کے ہاتھ لگ سکتا ہے۔ آج اس ساری محبت بھری دوستی اور عشق کے بعد بھی وہ سب وہیں کھڑے ہیں کہ پاکستان کے اثاثے غیر محفوظ ہیں۔

صاحب اہل نظر آگاہ ہیں کہ جب ہم نے کروسیڈ کی صلیب کو”دہشت گردی کے خلاف جنگ“ کے خوبصورت نام کے ساتھ اپنے گلے کی زینت بنایا تھا۔ تو چند دعویٰ کئے تھے اور اس جنگ کے عوض ان ثمرات کے حصول کا ڈھنڈورا پیٹا تھا کہ ایٹمی اثاثے محفوظ، کشمیر کاز اور قومی معیشت کے لئے یہ یو ٹرن ضروری ہے۔

اب دہشت گردی کے خلاف جنگ شمالی علاقوں نکل کر اسلام آباد کی سڑکوں کو لہولہان کرنے کے بعد لاہوراورکراچی میں انسانی اعضاءکے چھیتڑے بکھیر رہی ہے۔ اور ارباب اہل عقدو اقتدار محض اتنا ہی کہہ دینا کافی سمجھ لیتے ہیں۔ خودکش حملوں کا کوئی حل موجود نہیں ہے۔ یہ سب کچھ وہی ہورہا ہے جس سے اہل وفا نے پیشگی آگاہ کر دیا تھا اور ان سازشیوں کو بے نقاب کر دیا تھا کہ یہ اصل جنگ دہشت گردی کے خلاف نہیں آپ کے اپنے ہی خلاف ہے۔

اوٹاوہ یونیورسٹی کے پروفیسر ”مائیکل کو سودووسکی “جو کہ امریکہ وارآن ٹیرارزم کے استاد ہیں۔ انہوںنے اس بات کاانکشاف کیا ہے کہ پاکستان کوسیاسی عدم استحکام کا شکار کرنے کا امریکہ منصوبہ شروع ہوچکا ہے۔ وہ اپنے وسیع تر مفاد میں نہ صرف ملک پاکستان میں نسلی اور لسانی فسادات کو ہوا دینے کی کوشش کررہا ہے بلکہ وہ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی خفیہ مدد بھی فراہم کررہا ہے۔ 2005ءکے دوران امریکی نیشنل انٹیلی جنس کونسل نے اپنی رپورٹ میں یہ پیشن گوئی کی تھی کہ ایک عشرے کے اندر اندر پاکستان میں صوبائی نفرتیں اپنی انتہا کو چھولیں گی۔ جس کے نتیجے میں خانہ جنگی اور طالبان کی جانب سے مختلف علاقوں پر قبضے کا آغاز ہوگا۔ اور پاکستان میں معاشرتی نسلی اور لسانی انتشار پیدا ہوجائے گا۔ جو بالآخر پاکستان کے خاتمے پر منتج ہوگا۔

دوسری طرف امریکہ پاکستان کوان دہشت گردوں کی خلاف مدد بھی فراہم کررہا ہے تاکہ نسلی اور لسانی خلیج اور مزید گہری ہو جائے۔ بے نظیر کا قتل بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی سمجھی جارہی ہے۔ اور اس سانحہ کے بعد جس قسم کی لسانی آوازوں نے زور پکڑا ہے۔ وہ ان عزائم کی تکمیل کی طرف ایک پیش رفت ہے۔

لہٰذا جو پروپیگنڈا پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے خلاف ہورہا ہے کہ وہ دہشت گردوں سے محفوظ نہیں ہے۔ ان منصوبوں کے ذریعے کہ ملک خانہ جنگی اور بد امنی کا شکار ہے۔ وفاق کا کنٹرول ناممکن ہے ۔جیسے معاملات کھڑے کر کے انہیں ختم کرنے کی سازش درپردہ جاری ہے۔ یہ بھلا کیسے ممکن ہے کہ جو عراق کے ایٹمی اثاثے تباہ کردے۔ ایران کو جوہری طاقت نہ بننے دے۔ وہ ایک مسلمان ملک کو اس بات کی اتنی خوشی سے اجازات دے دے کہ وہ ایٹمی اثاثوں کا مالک رہے۔

وفا اور محبت کی اس کہانی میں ساری قربانیاں ہم نے دی ہیں۔ صدر صاحب نے امداد کی بیساکھی سے جومعیشت کھڑی کی تھی۔ اب وہ آہستہ آہستہ لنگڑانےلگی ہے۔ملک میں حقیقی افراط          زر25سے 30 فی صد ہے۔ جسے اسٹیٹ بینک تمام تر کوششوں کے باوجود کم سے کم ہی دکھاتا ہے  لیکن آخر اس رپورٹ میں اس بات کا عندیہ دے دیا کہ معیشت اب روبہ زوال ہے۔ کیونکہ معیشت کا سارا کھیل محض لفاظی اور اعداد وشمار کی کرشمہ سازی تھا۔

اب جب امریکہ پاکستان کو ایک ٹشوپیپر کی طرح برتاو رکھ رہا ہے صدر صاحب نے امداد کی بندش پر اپنی مستعار خدمات واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن اس سارے معاملہ میں دوسری طرف امریکہ پاکستان معیشت کو تباہ کرنے کے در پر بھی ہے۔ وہ بھارت کوان معاشی سیکڑوں میں بھرپور مالی مدد کرتا ہے۔ جہاں پاکستان کا گروتھ ریٹ بڑھ رہا ہو۔ تاکہ بین الااقوامی طور پر بھارت وہ اشیاءسستی بناکر دے سکے اور پاکستان کو نقصان اٹھانا پڑے۔ پھر بھی امریکہ ہمارا دوست ہے غم گسارہے اور مدد گار ہے۔

امریکہ کا واحد مفاد تیل اور گیس ہے ۔وہ عراق سے اسٹیل بھر بھر کر امریکہ پہنچا رہا ہے ۔ایران پر نظر ہے۔ بلوچستان اسکا ہدف ہے۔ وہ وسطی ریاستوں سے ان ذخائر کو اپنے ملک منتقل کرنا چاہتا ہے۔ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ پوری دنیا میں اگر کوئی ملک اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی جرات رکھتا ہے۔ تو وہ پاکستان ہے۔ لہٰذا اس نے ایسے مسائل پاکستان کے گرد کھڑے کرنے شروع کر دیئے ہیں۔ جن سے وہ اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب ہوسکتا ہے۔

شوکت عزیز صاحب عالمی معاشی اہداف کو اپنے دور حکمرانی میں کافی حدتک پایہ تکمیل پہنچا کر اب آرام فرمارہے ہیں۔ صدر صاحب وردی اتار کر اب ایوان صدر میں موجود ہیں۔ پاکستان کی حیثیت روبہ زوال ہے۔ سرحدوں پر خانہ جنگی کی کیفیت ہے۔ وفاداری کی بھاری قیمتوں کے باوجود پاکستان ایٹمی اثاثے ایک جنس بازار بن کر طوائف کے پیروں کاگھنگرو بن چکے ہیں۔ کشمیرکاز اب صرف پی ٹی وی کے دستاویزی پروگراموں تک محدود ہے۔ پاکستانی معےشت بیساکھیاں تلاش کررہی ہے۔ امن وامان کی فاختہ خون میں لت پت پڑی ہے۔ عوام آٹا آٹا پکار رہے ہیں۔ اور وہ عوام جن کے لئے دو وقت کی روٹی کا انتظام بھی اس قدر مشکل ہوجائے وہ ان عالمی سازشوں کی طرف کونسی فرصت میں نظر ڈالیں گے۔ وہ بے خبر یہ نہیں جانتے کہ سب کچھ خود بخود نہیں ہوتا۔ کچھ نہ کچھ ضرور در پردہ ہوتا ہے۔ انہیں کہیں اور الجھاکر کئی اور مقاصد حاصل کئے جاتے ہیں۔

لیکن اب سب جانتے ہیں۔ کون دشمن اور کون دوست ہے۔کون حقیقی محبت کرنے والااور وفاشعار ہے۔ کون خون دینے والا اور کون خون لینے والا ہے۔ اگر اب بھی ہم وفاداریوں کے گھنگرو اتار کر امریکہ کے سامنے مجرا کرنا چھوڑ دیں۔ اور اس کو ٹھے سے باہر آجائیں تواب بھی عزت اور وقارہمارا منتظر ہے۔

© Copyrights 2007, karachiupdates.com
E-mail:karachiweb@karachiupdates.com  contact: 0321-2422035