|
|
|
07 August
2008 / 04 Shaban
1429 |
|
|
|
محمد سجاد گل
gul.sajjad@yahoo.com
موبائل03222376114
ہم زندہ قوم ہیں۔
امریکا نے صاف لفظوں میں یہ کہہ دیا ہے کہ عراق اور افغانستان سے بڑا چیلنج ہمارے
لیے پاکستان ہے۔ ازل ہی سے امریکا نے پاکستان سے کبھی دوستی کے تقاضوں کو نہیں
نبھایا بلکہ اپنے مفادات کے لیے دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔ مفادات میسر آگئے تو اس کی
دوستی دشمنی کے سانچے میں ڈھل گئی۔ سقوط ڈھاکہ کے وقت بھی ہمیں یہ کہا گیا کہ
امریکا کا بحری بیڑا پہنچنے والا ہے جبکہ امریکا نے جان بوجھ کر بحری بیڑا بھیجنے
میں تاخیر کی۔ جب امریکا کابحری بیڑا یہاں پہنچا تو پاکستان اپنا بازو کٹواکر ٹھنڈا
پڑچکا تھا۔
اب کی بار تو صورت حال مختلف ہے۔ اُس وقت انڈیا کی ہٹ دھرمی باعث سقوط ڈھاکہ بنی
تھی، اب امریکا براہِ راست پاکستان کے گلے میں ہڈی کی مانند اٹکا ہوا ہے۔ امریکا نے
جہاں پر بھی حملہ کیا پہلے وہاں پر مذہبی ولسانی اور علاقائی بنیادوں پر متعلقہ خطے
کے لوگوں کو آپس میں لڑایا۔ اس کی دو مثالیں تو عراق اور افغانستان ہیں۔ عراق میں
پہلے فرقہ ورانہ اختلافات کو ہوا دے کر آپس کی پھوٹ ڈالی گئی۔ جب عراق اندرونی طور
پر کمزور ہوگیا تو امریکا نے عراق پر حملہ کردیا۔ اسی طرح افغانستان میں طالبان اور
شمالی اتحاد کو آپس میں لڑایا گیا۔ آسمانِ دنیا نے وہ منظر بھی دیکھا کہ آپس میں
خون خرابے کی گہری لکیریں کھینچی گئیں۔ مسلمان مسلمان کے خون کا پیاسا ٹھہرا۔ ایک
ہی قرآن، ایک ہی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والوں نے اپنے ہی مسلم بھائی کا
لہو پیا۔ یوں افغانستان کو بھی اندرونی طور پر غیر مستحکم کرکے اس پر حملہ کردیا
گیا۔
امریکا اب جس چیلنج کی بات کررہا ہے اندرونی طور پر یہ چیلنج بھی مستحکم کرکے رکھ
دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکی طیاروں کی پاکستانی حدود کے اندر پروازیں.... یہ
سارے سلسلے کسی خاص سمت کی طرف ہمیں متوجہ کررہے ہیں۔ یعنی امریکا کو تو ایک بڑے
چیلنج کا سامنا ہے تو ہمیں بھی امریکا جیسے چیلنج کو قبول کرنا چاہےے اور اس چیلنج
کے لیے تیاری کرنی چاہیے۔ وہ چیلنج یہی ہے کہ امریکا کے جو ناپاک عزائم ہیں دنیا کے
نقشہ سے پاکستان کو مٹادیا جائے۔ اس کے لیے وہ 9/11 کے بعد اپنا سفر رواں کیے رکھا
ہے۔ 9/11 سے لے کر جولائی 2008ءتک کا پاکستان انتہائی پستی میں دکھائی دے رہا ہے۔
جو ہوا سو ہوا۔ آگے کیا کرنا ہے یہ ہم نے اپنے گزرے ہوئے کل سے سبق لے کر آگے کا
سفر جاری رکھنا ہے۔ امریکا سے دوستی ہمیں مہنگی ہی نہیں پڑی بلکہ پاکستان کے لیے
خسارے اور بحران کا باعث بنی۔ اس رفاقت کے بوجھ کو ہمیں اب اتارنا ہوگا اور مزید
امریکا کے آگے جھکنے سے باز رہنا ہوگا۔
اس کے علاوہ جن قبائلیوں سے ہم نے دشمنی مول لی ہے اس دشمنی اور انا کو پس پشت ڈال
کر ان سے اخوت اسلامی کی بنیاد پر دوستی کا رشتہ جوڑنا پڑے گا۔ انہیں اپنے ساتھ
ملانا ہوگا۔ ان کے جائز مطالبات کو تسلیم کرنا ہوگا۔ قبائلی علاقوں میں غیر ملکی
مداخلت کو روکنا ہوگا۔ چاہے اس کے لیے مزاحمت ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔ جب یہ سارے کام
ہوجائیں گے تو پھر پاکستان غیرمستحکم نہیں رہے گا بلکہ ایک مضبوط قوت بن کر کسی بھی
چیلنج کا سامنا کرسکے گا۔
بلاشبہ دنیا میں پہلے بھی ایک سپر پاور ہوا کرتی تھی۔ جسے روس کہتے ہیں۔ وہ امریکا
سے کئی گناہ زیادہ سپر پاور ملک تھا لیکن جب اس کا ٹکراو مجاہدین کے ساتھ ہوا تو
دنیا بھر میں اس کی ذلت رقص کرتی پھرتی تھی۔ یہی ہمارا گزرا ہوا کل ہے اور اسی کل
سے سبق لینا ہے۔ ہماری پاک فوج کو مجاہدین سے دوستی کرنی ہوگی۔ ان ساری بکھری ہوئی
قوتوں کو مجتمع کرنا ہوگا۔ سب مل کر جب امریکا کا مقابلہ کریں گے تو پھر عراق اور
افغانستان میں جو کچھ امریکا نے کیا یہ نہیں ہوگا۔ بلکہ منظر کچھ عجب ہوگا۔ منظر
وہی روس والا ہوگا۔ (ان شاءاللہ) لیکن اس کے لیے ہمیں اپنے کل کو بھولنا نہیں ہے۔
ہمارا ماضی ہمارا استاد ہے۔ ہمارا کل ہمارا سبق ہے۔ ہم نے گزرے کل سے سبق لینا ہے
اور ہم نے ثابت کرنا ہے کہ ہم مسلمان ہیں۔ ہم اخوت اسلامی کی مضبوط بنیادوں پر قائم
ہیں۔ ہم مسلم قوم ہیں اور ہم زندہ قوم ہیں۔ جو قوم اس زندہ قوم کی طرف میلی نگاہ سے
دیکھے گی اس قوم کو یہ زندہ قوم زندگی سے محروم کردے گی۔ جو قوم زندہ رہنا چاہتی ہو
تو وہ اس زندہ قوم سے میلی اور ناپاک عزائم رکھنے والی نگاہ ہٹادے وگرنہ ہم محمد
صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں۔ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم مہروالفت کی پر فصاحت
اور شرینی بولی تو سکھاکر گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ باطل کی جڑ کاٹنے کے لیے اپنی امت
کو تلوار بھی دے کر گیا۔ جس کے ماننے والوں ابوبکررضی اللہ عنہ، عثمان رضی اللہ عنہ،
عمررضی اللہ عنہ وعلی رضی اللہ عنہ نے دنیا سے باطل کا قلع قمع کردکھایا۔ ہم انہی
کے راستے پر قائم ہیں۔ ہم ٹیپو سلطان، صلاح الدین ایوبی، محمد بن قاسم، نورالدین
زنگی اور سلطان محمود غزنوی کے بیٹے ہیں۔ جو باطل قوتوں سے ٹکرائے اور دنیا کو
دکھایا کہ باطل مٹ کر رہتا ہے اور حق آکر رہتا ہے اور اسلام حق ہے۔ امت مسلمہ حق کا
پرچار کرتی ہے ۔۔۔۔ |
 |
|
|