رابطہ رہنمائے کراچی کالم /فیچر علم و ادب خواتین اسلام صفہ اول

17 June 2008 / 11 Jamadil Akhir 1429

محمد سجاد گل
gul.sajjad@yahoo.com
موبائل03222376114

پریشان جگنو

گلشن میں مہکتے ہوئے ہزاروں پھولوں میں سے دو چار پھول اگر ہوا کی ستم ظریفی کی نذر ہوجائیں تو کوئی یہ نہیں کہے گا کہ ”پل بھر میں اجڑے گلستان کا افسانہ سنائیں کیا“ لیکن اسی گلشن میں جب خزاں کی پہلی ہوا دھر آتی ہے تو پھول بکھر جاتے ہیں۔ خوشبوئیں فضا کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں۔ پتے ہوا کی نذر ہوکر خاک کے ساتھ خاک ہوجاتے ہیں۔ پھر گلستان کا یہ حال رو رو کر کہہ رہا ہوتا ہے: ”زخم زخم ہے بدن سارا سو اِک زخم دکھائیں کیا؟“ مگر اپنے چمن کا تو یہ حال ہے کہ کوئی اس چمن کی حالتِ قابل رحم کے کسی ایک جز کے بارے میں بھی سوال کرے تو دل خون کے آنسو روتا ہے اور ذہن میں کچھ ایسے فقرے رقص کرنے لگتے ہیں ”مری حجاب نشینی کی خاطر مرا حال تم نہ پوچھو“

فرض کریں آپ سے کوئی دس بارہ سال کا بچہ یہ سوال کردے کہ ذرا بتایئے تو یہ ملک جس کانام پاکستان ہے، اس کو وجود میں لانے کا مقصد کیا تھا؟ اگر اس کے ننھے ذہن میں یہ سوال بھی آجائے اور وہ پوچھے: انکل انکل! یہ کالی وردی میں ملبوس پولیس کا کیا کام ہوتا ہے؟ عدالتوں اور وکیلوں کا کیا کام ہوتا ہے؟ یہ بجلی ہوائی روزی کی طرح کبھی آتی اور کبھی جاتی کیوں ہے؟ یہ یوٹیلٹی اسٹوروں پر بچوں، بوڑھوں، نوجوانوں اور عورتوں کی لمبی لمبی قطاریں کیوں لگی ہوتی ہیں؟ کیا وہاں سے راشن مفت میں بٹتا ہے؟ یقینا ان سوالوں کا جواب دینے کے لئے لمبے چوڑے حساب یا اعلیٰ تعلیم کی ضرورت نہیں بلکہ ان سوالوں کا جواب ”ماماجی پان شاپ“ پر بیٹھا ”ماما سردار“ بھی دے سکتا ہے۔ ” نیو کوئٹہ ہوٹل“ پر بیٹھا شیر خان بھی جواب میں دیر نہیں کرے گا۔ ان سوالات کا جواب آسانی سے کموں مستری بھی دے سکتا ہے لیکن یہ سوال ایسے ہیں جن کا جواب دینے کے لئے بہت بڑا جگر چاہیے، پتھر کا دل چاہیے
حوصلہ تو بہت تھا مجھ میں مگر کیا کہوں
یہ دکھ ہی تھا کچھ ایسا جو رُلا گیا مجھے

پہلا سوال جو بچے نے کیا کہ پاکستان کو حاصل کرنے کا مقصد کیا تھا؟ جواب دینے والا بڑے آرام سے کہہ دے گا یہ ملک دو قومی نظریئے کے تحت وجود میں آیا۔ یعنی دو الگ الگ قوموں کے نظریات، رسومات، سوچ وافکار، ترجیحات ، تہذیب وتمدن اور سب سے بڑھ کر یہ کہ عقائد کا تضاد۔ بنیاد یہی تھی کہ ہندو ایک الگ قوم ہے جس کی تہذیب وتمدن، رسومات، نظریات، سوچ وافکار.... ہر ہر چیز مسلم قوم سے مختلف ہے لہٰذا یہ دو منفرد قومیں کسی صورت ایک ہی خطے میں سفر زیست کو قائم نہیں رکھ سکتیں۔ اس بنیاد پر مسلمان اپنے لئے ایک ریاست حاصل کریں جس میں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کے مطابق نظام قائم کیا جائے۔ اگر سوال کرنے والے بچے کو اس انداز کا جواب دے دیا جائے تو یقینا وہ کہے گا کہ نہیں نہیں! انکل آپ غلطی پر ہیں، اس ملک میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کا نظام ہوگا۔ اگر آپ کی یہ بات ٹھیک ہے تو پاکستان کا نظام قرآن وسنت پر منحصر ہونا چاہیے۔ پاکستان کے فیصلے اللہ تعالیٰ اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں ہونے چاہیے.... لیکن اس ملک کے فیصلے قرآن وسنت کے بجائے واشنگٹن اور نیویارک سے آتے ہیں۔ جہاں تک تہذیب وتمدن اور رسومات کا سوال ہے تو ہماری تہذیب وتمدن کوئی ہے بھی سہی یا نہیں، اگر ہے تو کہاں ہے؟ اگر نہیں تھی تو ہندوو ¿ں سے علیحدگی کا جواز کیوں؟ اس اسلامی ملک کے رہنے والے مسلمانوں کے گھروں میں ہندوو ¿ں کی فلمیں کیوں ذوق وشوق سے دیکھی جاتی ہیں؟ یہ معاملہ صرف فلموں کے دیکھنے تک ہی محدود نہیں بلکہ جیسے ہی انڈیا کی فلم ریلیز ہوکر پاکستان آتی ہے اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بالوں کا ایک نیا اسٹائل بھی ریلیز ہوجاتا ہے۔ لڑکیوں کے کپڑوں اور بناو ¿ سنگار میں نمایاں قسم کی تبدیلی دیکھی جاتی ہے۔ اور کچھ نئے ڈائیلاگ بھی انڈیا سے درآمد ہوتے ہیں۔ گویا وہ انڈیا میں بیٹھ کر ہماری تہذیب وتمدن پر راج کرتے ہیں۔ ہماری تہذیب وتمدن کی ڈوری ان کے ہاتھوں میں ہے۔ وہ جیسے چاہتے ہیں، جدھر چاہتے ہیں اس کا رُخ کردیتے ہیں۔ انڈین فلموں کے شوقین ہمارے یہ مسلمان بھائی جن کی اپنی کوئی سوچ نہ کوئی افکار، کوئی اعلیٰ ترجیحات نہ اپنے تمدن کی چاہ اور اپنی تہذیب سے محبت.... بیچارے ہندو کے رنگ میں ڈھلنے کے متلاشی۔ اس قوم کو یہ بات بھولنی نہیں چاہیے کہ وہ ہم سے معرکہ تہذیب وتمدن میں بازی لے گئے اور ہم یہاں ”ثم µ بکم µ“ کی روش اپنائے ہاتھ پہ ہاتھ دھرے تماشا ہی دیکھتے رہ گئے۔

اگلا سوال یہ کہ پولیس کا کیا کام ہوتا ہے؟ تو جواب یہ ہونا چاہیے کہ معاشرتی برائیوں، جرائم اور ظلم کو روکنا پولیس کا کام ہے لیکن بچہ یہ جواب سن کر مطمئن نہیں ہوتا اور کہے گا۔ پولیس کا کام یہ ہے کہ روڈ پر کھڑے ہوکر پریشان لوگوں کو مزید پریشان کرے۔ کسی چلتی ہوئی ٹیکسی کو روک کر کہے: ہاں بھائی کاغذ ہیں؟ ٹیکسی والا پچاس کا ”کاغذ“ تھماکر آگے چل دے تو ٹھیک.... ورنہ گھنٹہ روڈ پر کھڑا رہنے کے بعد چالان کی پرچی تھامے اور پریشان ہوکر آگے چل دے۔ اگر پولیس کا کام جرائم روکنا ہی ہے تو واردات سے قبل ہی پولیس کو مطلع کردیا جائے کہ فلاں جگہ یہ کارروائی ہونے والی ہے تو پولیس ”کارروائی“ کا انتظار کیوں کرتی رہتی ہے؟ کیایہ جھوٹ ہے کہ پاکستان میں ہونے والے کرائم کی تاریں کسی نہ کسی طرح ضرور پولیس سے ملتی ہیں۔ کیا اس حقیقت کا انکار ممکن ہے کہ پاکستان میں قائم جسم فروشی کے اڈے پولیس کی سرپرستی میں چلتے ہیں۔ کیا یہ کوئی الزام ہے کہ منشیات کے اسمگلروں کو ان کی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے؟ کیا پولیس والے روڈ سے گزرتے ہوئے سی ڈیز کے اسٹالز پر نگاہیں نہیں ڈالتے کہ جس پر رکھی ہوئی بےہودہ قسم کی سی ڈیز اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے
امت مسلمہ سوتی ہے
جو ایسی تباہی ہوتی ہے
کیا پولیس کی وردی میں اتنی طاقت نہیں کہ وہ اسٹالز پر پڑی اخلاق سوز سی ڈیز کی روک تھام کرسکے؟ اگر واقعی اس وردی میں اتنی طاقت نہیں تو پھر پولیس کو چاہےے کہ یہ کالی خاکی وردی اتارکر ہرے رنگ کا چوغہ پہنے ہاتھ میں کشکول پکڑکر کسی چلتی ہوئی نہیں بلکہ ٹیکسی اسٹینڈ پر کھڑی ٹیکسی کے ڈرائیور سے جاکر کہیں: ”اللہ کے نام پر بابا! دو چار روپے کی مدد کردو۔“

بچے کا اگلا سوال بجلی کی آنکھ مچولی پر تھا۔ اس سوال کا بھی کوئی مثبت جواب نہیں۔ اس بچے کو اس حقیقت سے آشنا کون کرے کہ ہمارے ملک کو سیراب کرنے والے دریا کشمیر سے آتے ہیں جس پر بھارت کا ظالمانہ قبضہ ہے۔ 1960ءمیں سندھ طاس معاہدے کے تحت تین دریاو ¿ں پر پاکستان کو اختیار دیا گیا تھا لیکن بھارت اس معاہدے کو پس پشت ڈال کر ان دریاو ¿ں کا پانی روک رہا ہے۔ چاہے تو وہاں ڈیم بنادے، اسے روکنے والا کوئی نہیں۔ کشمیر جو پاکستان کی شہ رگ ہے ہم یہاں بیٹھے دن بہ دن کشمیر پر پاکستانی موقف میں لچک دکھائے جارہے ہیں۔

بچے کے آخری سوال کا جواب کیا دیا جائے کہ یہ یوٹیلیٹی اسٹورز پرلمبی لمبی قطاریں اور کرائے میں بے پناہ اضافہ.... یہ سارا کھیل آخر ہے کیا؟ ظاہر ہے کچھ تو سابقہ حکومت کی نااہلی کا بویا ہمیں کاٹنا پڑرہا ہے اور کچھ موجودہ حکومت کی نورا کشتی عجیب وغریب نظر آتی ہے۔ معاملہ کچھ یوں ہے کہ ایک ہی کشتی کے دو مسافر ہیں لیکن راستے اور منزلیں دونوں کی الگ الگ۔ ایک کا دعویٰ ہے کہ پہلے لوگوں کو روٹی، آٹا اور روزگار ملنا چاہیے اور دوسرے کا کہنا یہ ہے کہ پہلے عدلیہ بحال کی جائے۔ اگر عدلیہ بحال ہوگئی تو لوگوں کو انصاف ملے گا۔ ذخیرہ اندوزوں کو سزاملے گی اور مہنگائی کے شعلے بجھ جائیں گے اور یوں سارے معاملات ٹھیک ہو جائیںگے۔ یہ تو چند سوال تھے لیکن اس چمن کے کسی بھی پھول پر نگاہ ڈالی جائے تو کوئی پھول مہکتا ہوا کھلا ہوا نظر نہیں آتا، ہر طرف مرجھائے ہوئے پھول اور زرد پیلے پتے ہی دکھائی دے رہے ہیں۔ بلبلوں کی خاموشی اس بات کی خبر دے رہی ہے کہ خزاں تو بہت دور ہے لیکن مالی بھی تان کے سو رہا ہے۔ کوئل خاموش ہے، بلبل ناراض ہیں، تتلیوں کے رنگ پھیکے پھیکے اور جگنو پریشان ہیں۔ اس اثناءمیں اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا
ہر سو چمن میں سقوط کا یہ عالم کیسا
اب کی بار یہ کیسی بہار آئی

© Copyrights 2007, karachiupdates.com
E-mail:karachiweb@karachiupdates.com Contact: +92-321-2422035 / +92-321-9235365