رابطہ رہنمائے کراچی کالم /فیچر علم و ادب خواتین اسلام صفہ اول

12 May 2008 /  06 Jamadi-ul-Awwal  1429

 محمد سجاد گل
gul.sajjad@yahoo.com
موبائل03222376114

غازیان رسالت صلی اللہ علیہ وسلم

ستمبر 1927ءمیں ”رنگیلا رسول“ نامی ایک کتاب منظر عام پر آئی جس کا مصنف ملعون راج پال تھا۔ اس شاتم رسول نے کتاب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نازیبا الفاظ استعمال کئے۔ اس سے ہندوستان کے مسلمانوں میں غم وغصے کی لہر دوڑ گئی اور مسلمانوں نے مختلف انداز میں راج پال سے نفرت کا اظہار کیا۔ 27 ستمبر 1927ءکو راج پال اپنی دکان پر موجود کاروبار میں مشغول تھا کہ ایک مردِ مجاہد ”خدا بخش“ نے اس لعنتی پر چاقو کے وار سے حملہ کردیا لیکن راج پال اس وقت بھاگنے میں کامیاب ہوگیا اور خدا بخش کو قاتلانہ حملے کے جرم میں گرفتار کرکے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ لاہور ”سی ایم جی اوگلولی“ کی عدالت میں مقدمہ کی سماعت کے لئے پیش کیا گیا۔ خدا بخش سے عدالت نے حملہ کی وجہ دریافت کی تو وہ گرج کر بولا: ”میں مسلمان ہوں، ناموس رسالت کا تحفظ مجھ پر فرض ہے۔ میں اپنے آقاصلی اللہ علیہ وسلم کی توہین برداشت نہیں کرسکتا۔“ خدابخش نے راج پال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس نے میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کی ہے۔ اس لئے میں نے اس پر قاتلانہ حملہ کیا لیکن یہ اس وقت میرے ہاتھ سے بچ نکلا۔“ اقرار جرم کے بعد غازی خدا بخش کو سات سال قید کی سزا سنادی گئی۔ اس واقعہ کے چند دن بعد ایک اور شجاعت کا پیکر عبدالعزیز جو افغانستان سے لاہور صرف اس مقصد کی تکمیل کے لئے پہنچا کہ وہ گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جہنم واصل کرے۔ 19 اکتوبر 1927ءکی شام غازی عبدالعزیز راج پال کی دکان پر پہنچا۔ اتفاقاً اس وقت راج پال کا ایک دوست سوامی ستیانند بیٹھا تھا۔ اس پر عبدالعزیز نے شاتم رسول سمجھ کر چاقو سے حملہ کرکے اسے زخمی کردیا اور عبدالعزیز گرفتار کرلیا گیا۔ اسی ڈسٹرکٹ اوگلوی نے سرسری سماعت کے بعد 12 اکتوبر 1927ءکو غازی عبدالعزیز کو وہی سزا سنائی جو خدا بخش کو دی گئی تھی۔

ملعون راج پال گستاخی ¿ رسول کے دوسال بعد تک زندہ رہا۔ 5 ستمبر 1929ءعاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم زندہ دل مردِ مجاہد غازی علَم دین، راج پال کو جہنم واصل کرنے کا منصوبہ بناتا ہے اوراپنے باپ سے پوچھنے لگا کہ کوئی شخص ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کرکے زندہ رہ سکتا ہے؟ باپ نے جواب دیا: نہیں! مسلمانوں پر واجب ہے کہ ایسے ملعون کوقتل کردیں۔ علم دین نے پھر پوچھا: کیا گستاخ رسول کو قتل کرنے والے کو سزا ملے گی؟ باپ نے جواب دیا: ہاں بیٹا! یہاں انگریزوں کے قانون کے مطابق اسے پھا نسی کی سزا دی جائے گی۔ سوال وجواب کی یہ نشست ختم کرکے وہ رات کو سوگیا۔ صبح سویرے اٹھا، نماز ادا کی اور اس کے بعد اپنے جگری دوست عبدالرشید کے پاس پہنچ کر اسے اپنے عزم عظیم سے آگاہ کیا۔ عبدالرشید اپنے دوست کے جذبہ ¿ ایمان اور حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر رشک کرنے لگا۔

چھ ستمبر 1929 دوپہر کے وقت غازی علم دین نے ذہن میں اپنا منصوبہ ترتیب دیا، اس کے بعد غسل کیا۔ سرخ دھاری دار قمیص اور سفید شلوار پہنی۔ سر پر امامہ باندھا، جسم پر خوشبو لگائی۔ یوں سج دھج کر وہ مجاہد بغیر بتائے گھر سے نکلا، کسی کو نہیں معلوم تھا کہ وہ کس مقصد کے لئے اتنا بن ٹھن کر جارہا ہے؟ علم دین نے گٹی بازار پہنچ کر وہاں آتی رام کباڑے کی دکان سے ایک روپے میں ایک لمبا چاقو خریدا اور اسے تیز کرنے کے بعد شلوار کے نیفے میں رکھ لیا۔ 2بجے وہ سیدھا انار کلی ہسپتال روڈ پر راج پال کی دکان کے سامنے والی ٹال پر پہنچا۔ اسی دن راج پال نے ”ہردوار“ سے لاہور پہنچا تھا۔ غازی علم دین بڑی بے صبری سے اس کا انتظار کرنے لگا۔ آخر امید کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور راج پال دکان پر پہنچا۔ راج پال کی دکان پر آمد کے ساتھ ہی اس نے اپنی آمدکی خبر پولیس کو دی تاکہ وہ اس کی حفاظت کے لئے گارڈ کا انتظام کرلے لیکن گارڈ کی آمد سے پہلے ہی اس کی موت غازی علم دین کی شکل میں اس کی آمد کا انتظار کررہی تھی۔ غازی علم دین راج پال کی دکان میںداخل ہوا، راج پال کو دیکھتے ہی غازی علم دین کا گرم خون ٹھاٹھیں مارنے لگا۔ اس کی عقابی روح بیدار ہوئی وہ چیتے کے جیسی پھرتی کے ساتھ بدبخت وملعون راج پال پر حملہ آور ہوا اور خنجر اس کے پیٹ میں اس طرح پیوست کیا کہ اس کے گستاخ سینے کو چیرتا ہوا پیٹھ سے جانکلا اور وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اوندھے منہ زمین پر گرا۔ وہیں اس کی گستاخیوں سے پُر زندگی کا چراغ گل ہوگیا۔ راج پال کو کیفر کردار پر پہنچا نے کے بعد غازی علم دین دکان سے باہر نکلا تو مقتول کے ملازمین نے شوروغل مچانا شروع کردیا۔ شور سن کر قریب کے ایک ہندو دکاندار سیتا رام کے لڑکے اورا س کے ساتھیوں نے غازی علم دین کو پکڑلیا۔ علم دین نے خوشی خوشی کہا: آج میں نے اپنے رسولﷺ کا بدلہ لے لیا ہے۔ میں نے گستاخ رسول کو قتل کرنے کی سعادت حاصل کرلی ہے۔ مجھے گرفتاری، پھانسی یا کسی بھی سزا کی کوئی پرواہ نہیں۔ کچھ دیر بعد پولیس بھی جائے واردات پر پہنچ آئی اور غازی علم دین کوگرفتا ر کرلیا گیا۔ دورانِ تفتیش غازی کے والد کو بھی گرفتار کرلیا گیا لیکن چند دنوں بعد انہیں چھوڑ دیا گیا۔

دس اپریل 1929ءکو مسٹر لویئس ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ لاہور کی عدالت میں علم دین کے خلاف دفعہ 302 تعزیرات ہند مقدمہ قتل کی کارروائی شروع ہوئی۔ مقدمہ کی سماعت کے دوران علم دین مسکرا مسکرا کر ہر سوال کا جواب دیتا رہا ۔ شہادت قلم بند ہونے کے بعد مقدمہ سیشن کے سپرد کردیا گیا۔ سیشن کورٹ نے 22 مئی 1929ءکو سزائے موت کافیصلہ سنایا۔ والدین کے حکم کی تعمیل میں علم دین کی جانب سے بھی اس فیصلہ کے خلاف اپیل دائر کی گئی جس کی پیروی اس وقت کے چوٹی کے قانون دان محمد علی جناح نے کی جبکہ دیوان رام لال وکیلِ سرکار تھا۔ مقدمہ کی سماعت جسٹس براڈوے اور جسٹس جان اسٹون نے کی۔ محمد علی جناح کے بحث کا سب سے اہم نکتہ یہ تھا کہ راج پال نے ”رنگیلا رسول“ جیسی قابل اعتراض کتاب شائع کرکے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی ہے جسے کوئی مسلمان ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کرسکتا۔ چونکہ یہ کتاب اشتعال انگیزی کا باعث بنی اس لئے ملزم نے قتل عمد کا اتکاب نہیں کیا۔ لہٰذا اسے سزائے موت نہیں دی جاسکتی۔ اس کے جواب میں وکیل سرکار نے یہ موقف اختیار کیا کہ پیغمبر اسلام کی اہانت واقعی افسوس ناک ہے لیکن تعزیرات ہند میں اس جرم کی کوئی سزا مقرر نہیں اس لئے راج پال نے کوئی خلافِ قانون جرم نہیں کیا تھا۔ فریقین کے دلائل سننے کے بعد لاہور ہائی کورٹ نے 17 جولائی 1929ءسیشن کورٹ کی سزائے موت کا فیصلہ بحال رکھا۔ یہ فیصلہ غازی علم دین نے سنا تواس کی خوشی انتہا نہ رہی کہ بہت جلد وہ شہادت کا رتبہ پاکر اللہ کے ہاں سرخرو ہو جائیں گے۔

انجام کار 13 اکتوبر 1929ءکا وہ دن آپہنچا جس کے لئے علم دین کی جان بے تاب تڑپ رہی تھی۔ رات کو اس جوان نے ذکر الٰہی میں گزار نے کے بعد نماز تہجد ادا کی اور اس کے بعد نماز فجر انتہائی خشوع وخضوع کے ساتھ پڑھی۔ پھر جلد ہی وہ حسین ساعتیں بھی آپہنچی جب غازی سے پوچھا گیا کہ تمہاری کوئی آخری خواہش ہو تو بتاو ¿؟ غازی نے کہا: ہاں دو رکعت نفل کی اجازت! اسے نماز نفل کی اجازت دے دی گئی۔ نفل ادا کرنے کے بعد وہ داروغہ جیل سے مخاطب ہوا اور کہا: گواہ رہنا ایک پروانہ ¿ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے شوقِ شہادت اور آخری سجدہ ¿ نماز کے.... پھر خوشی کے ساتھ اس کے سوئے دار چل پڑے۔ اس وقت جیل کے قیدی اپنی اپنی کوٹھڑیوں اور بیرکوں میں اس فدائی ¿ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری جھلک دیکھنے کے لئے تعظیماً کھڑے تھے اور تکبیر کے نعرے بلند ہونے لگے۔ مردِ مجاہد پیکر حبِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم، فدائی ¿ اسلام غازی علم دین نے جب تختہ دار کو دیکھا تو فرط مسرت سے جھوم اٹھے
جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے اس کی جان کی کوئی بات نہیں

© Copyrights 2007, karachiupdates.com
E-mail:karachiweb@karachiupdates.com  contact: 0321-2422035