رابطہ رہنمائے کراچی کالم /فیچر علم و ادب خواتین اسلام صفہ اول

18 April 2008 /  11 Rabi-us-Sani 1429

 محمد سجاد گل
gul.sajjad@yahoo.com
موبائل03222376114

خیر کا راستہ

”ماشاءاللہ تم ان امتحانات میں کامیاب ہوگئے ہو، ساتھ نوکری بھی کررہے ہو، بس اسی طرح تعلیم جاری رکھنا، جو شخص بھی محنت کرتا ہے کامیابی اس کے قدم چومتی ہے۔ اب تم تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے کے لئے یونیورسٹی میں داخلہ لے لو، نوکری تو خیر ابھی بھی تمہاری بری نہیں لیکن بہتر سے بہترین کی طرف بڑھو۔ تعلیم اچھی ہو تو کوئی نہ کوئی اچھی نوکری بھی مل ہی جاتی ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے بعد کسی کمپنی، سرکاری ادارے یا نیم سرکاری ادارے میں تمہیں اچھے عہدے پر فائز ہونے کے بعد اچھی تنخواہ مل سکتی ہے۔ جو شخص جوانی میں محنت کرتا ہے اس کی بعد کی عمر آرام وسکون سے گزرتی ہے۔ خوب پیسہ کماو ¿، پیسہ کمانے کا ڈھنگ سیکھو۔ میں نے ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں جنہوں نے کیبن، چھابڑی سے کاروبار شروع کیا تھا لیکن آج ان کے پلازے کھڑے ہیں۔ پیسہ ہوگا تو آپ کی معاشرے میں عزت ہوگی۔ بغیر پیسے کے آپ کتنے ہی اعلیٰ انسان کیوں نہ ہوں آپ کو وہ عزت وتکریم حاصل نہیں ہوسکتی جو ایک امیر آدمی کو میسر ہوتی ہے۔ ابھی پیسہ کماو ¿، کل تمہاری شادی ہوگی، بچے ہوں گے۔ پیسہ ہوگا تو زندگی آرام سے گزرے گی۔ بڑھاپے میں در در کی ٹھوکریں نہیں کھانی پڑیں گی۔“ کچھ دن پہلے ان باتوں سے میرے ایک عزیز مجھے وعظ ونصیحت کررہے تھے۔ انہوں نے پوری زندگی کا منظرنامہ دکھا دیا۔ پڑھائی، محنت، پیسہ، عہدہ، اسٹیٹس، ترقی، جوانی اور پھر بڑھاپے کی جھلکیاں.... سب ہی کچھ تو وہ بیان کرچکے تھے مگر میں تو ایک مسلمان ہوں۔ زندگی آگے وفا کرتی بھی ہے تو کیا میری سوچ صرف بڑھاپے تک ہی محدود ہونی چاہئے؟

کاش! میرے وہ عزیز صرف بڑھاپے تک ہی محدود نہ رہتے۔ کاش! وہ ایک قدم اور آگے بڑھے ہوتے توانہیں ساری بات ہی سمجھ آجانی تھی۔ یعنی ”ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔“ آخر انہوں نے موت کے بعد کی زندگی پر روشنی کیوں نہیں ڈالی؟ کیا زندگی وموت کا ےہ فلسفہ ان کی فہم میں نہ تھا؟ کیا واقعتاً وہ اس اٹل اور کڑوی حقیقت سے سرے سے ہی ناآشنا تھے۔ ےہ تو ایک ان صاحب کی مثال تھی۔ آج معاشرے میں کثیر تعداد اسی محدود سوچ کی حامل ہے۔ دنیا دنیا بس دنیا.... دنیا بن جائے اور کیا چاہئے؟ قبر میں جانا ہے۔ سزا وجزاءکے معاملے سے گزرنا ہے۔ عقبیٰ میں اللہ کے حضور حاضر ہونا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ ہم سے پوچھے گا ”بتا! میرے بندے دنیا میں کیا کرکے آئے ہو؟ جوانی کہاں گزاری؟ عمر کیسے بیتی؟ میرے دیئے ہوئے مال میں سے میرے راستے میں کتنا خرچ کیا؟ میں نے تجھے صلاحیتیں، نعمتیں، توانائیاں عطا کی تھیں، ذرا جواب تو دو، ان کو کہاں اور کیسے صرف کیا؟ تیری آنکھوں کے سامنے میرے احکام کو پاو ¿ں تلے روندا گیا۔ شیطان کی پیروی کی گئی۔ میرے قرآن کو کافروں نے شہید کیا، بے حرمتی کی، پاو ¿ں تلے روندا۔ میرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے خاکے بناکر گستاخی کی گئی۔ امت محمد کی بیٹیوں کی ےہودیوں، عیسائیوں اور مشرکوں نے عزتوں کو پامال کیا۔ افغانوں کو ستم ظریف طوفانوں کا سامنا صرف اس جرم کی پاداش میں کرنا پڑا کہ وہ اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام نافذ کرنا چاہتے تھے۔ عراقیوں کی خطا یہ تھی کہ وہ اسلام کو عسکری طور پر مضبوط دیکھنے کے متمنی تھے، جس کے باعث لاکھوں عراقی مسلمانوں کو اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھونا پڑے۔ ان کا جرم ےہ تھا کہ توحید پر پیدا ہوئے۔ کشمیری مسلمانوں کا جرم ےہ ٹھہرا کہ وہ مشرکین کے اقتدار تلے دب کر زندگی گزارنے کی بجائے اُس ملک کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں جس کی بنیاد میں لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا مضبوط نظریہ شامل ہے۔ کتنی کشمیری ماو ¿ں، بہنوں کی عصمت دری کی گئی۔ نوجوانوں کو سینوں میں گولیوں کے برسٹ کھانے پڑے۔ فلسطین اور دیگر مسلم خطوں کا جرم ےہ تھا کہ وہ ےہودیوں اور غاصب قوتوں کے زیر سایہ زندگی گزارنے پر موت کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس جرم کے سبب ان کو اپنے بیٹوں، گھروں، خاندانوں اور جان تک کی قربانی دینا پڑی۔ اللہ پوچھے گا ذرا بتاو ¿ تو قرآن کی سورہ النساءکی آیت نمبر 75 میں مَیں نے کہا تھا ”اور تمہیں کیا ہوگیا ہے تم اللہ کی راہ میں ان کمزور مردوں، عورتوں اور بچوں کو چھڑانے کے لئے نہیں لڑتے، جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمیں اس بستی سے نکال لے جس کے رہنے والے ظالم ہیں اور ہمارے لئے اپنی طرف سے کوئی حمایتی مقرر فرمادے اور ہمارے لئے اپنی طرف سے کوئی مددگار عطا فرمادے۔“

اللہ کہے گا، ہاں تم نے قرآن پڑھا ہی کب، تم نے قرآن کو ریشمی کپڑوں میں لپیٹ کر الماریوں میں سجادیا تھا۔ اگر پڑھا بھی تو رسمی طور پر.... نہ کہ لائحہ عمل کے لئے۔ اب ذرا بتاﺅ! جب میرے دین پر حملے ہورہے تھے۔ اسم محمد رسوا کرنے کی کوششیں کی جارہی تھیں۔ تم اس وقت کہاں تھے؟ بتاو ¿ جب ےہ فتنے عام ہوگئے تھے۔ کیا تم نے ان فتنوں کا حل قرآن سے لیا تھا؟ ”اور ان سے لڑتے رہو یہاں تک کہ کوئی فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کے لئے خالص ہو جائے اور اگر وہ باز آجائیں تو ظالموں کے علاوہ کسی پر زیادتی نہ کرو۔“ بتاو ¿ تو سہی کیا اس آیت پر عمل کیا تھا یا بس یونہی بیٹھے بٹھائے باتیں ہی بناتے رہے؟ اللہ رب العالمین جب ہم سے ےہ سوال کرے گا تو ہمارا جواب کیا ہوگا؟ اللہ ہم دنیا کے چکروں میں پڑے رہے۔ روپے اور پیسے کی دوڑ میں بھاگتے رہے۔ ڈگریوں اور نوکریوں کے تعاقب میں جیتے رہے۔ تیری نعمت زندگی کو ترقی، اسٹیٹس اور دنیا کی بھول بھلیوں کے نام کردیا تھا۔ جواب تو اس کے سوا کوئی اور بنتا ہی نہیں ہے تو پھر اس کا صلہ بڑا ہیبت ناک نظر آتا ہے۔ لہٰذا دنیا ہی تک محدود افراد کو اپنا محاسبہ کرلینا چاہئے۔ کاروان زیست کو رخ صراط مستقیم پر ڈال دینا چاہئے تاکہ ہم عذاب الہٰی سے محفوظ رہ سکیں۔ ان باتوں کا مقصد قطعاً یہ نہیں کہ ہم دنیا سے بے نیاز ہوکر کسی کونے میں بیٹھ کر اللہ اللہ کا ورد کرتے رہیں بلکہ دنیا کو بھی ساتھ ساتھ لے کر چلیں۔ معاشروں کی اصلاح معیار اسلام کے مطابق کریں۔ دنیا کی ترجیحات کو اسلامی رنگ میں رنگ دیں۔ معاشرے میں شریعت محمدی کو عام کریں۔ مسلمان ہونے کے ناطے ہمارے دلوں میں مظلوم مسلمانوں کا درد ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں جیسے جسم کے کسی ایک جزو میں تکلیف ہو تو پورا جسم اسے محسوس کرتا ہے۔“ علمی میدان میں بھی ہم عاجز نظر نہ آئیں بلکہ سائنس وٹیکنالوجی کی دوڑ میں بھی ہم اپنی پہچان آپ بنیں۔ تمدن وثقافت کے معرکوں میں بھی ہماری جھولیوں میں مغرب کی بھیک نہ ہو بلکہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کردار جھلکتا دکھائی دے۔ ہماری محنتیں، کوششیں، کاوشیں دین کی سربلندی کے لئے صرف ہوں۔ جب ہمارا انداز زندگی ایسی صورت اختیار کرے گا تو خود بخود ہی غاصب قوتیں ہم سے خوف کھائیں گی۔ معاشی بحران اور دیگر پریشانیاں ہمارا دامن چھوڑ دیں گی۔ کیونکہ دین اسلام کامل اور فطرت پر قائم دین ہے جو زندگی گزارنے کا اعلیٰ واحسن سلیقہ فراہم کرتا ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ اسے مسجدوں اور مقبروں یا چند ایک رسمی عبادات کا مذہب نہ سمجھا جائے بلکہ اسلام کے اندر پورے کا پورا داخل ہوجانا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے، جب ہم اسلام میں کامل اتباع و اطاعت کے ساتھ داخل ہو ں گے تب اسلام ہمیں سلامتی دے گا۔ عزت وتکریم، شان وشوکت فراہم کرے گا۔ شر سے محفوظ اورخیر سے ہمکنار کرے گا کیونکہ خیر کا راستہ صرف اور صرف اسلام ہے۔

© Copyrights 2007, karachiupdates.com
E-mail:karachiweb@karachiupdates.com  contact: 0321-2422035