رابطہ رہنمائے کراچی کالم /فیچر علم و ادب خواتین اسلام صفہ اول

15 April 2008 /  08 Rabi-us-Sani 1429

 محمد سجاد گل
gul.sajjad@yahoo.com
موبائل03222376114

تاریخ کے چوراہے پر

دس جنوری1966ءکو تاشقند میں پاکستانی صدر ایوب خان اور بھارتی وزیر اعظم لال بہادر شاستری کے درمیان سابق سوویت یونین نے ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت کشمیر کے مسئلے کو ثانوی حیثیت دینے کا فیصلہ کیا گیا اور اس وقت کے سوویت یونین کے صدر کو سی گن نے پاکستان کو یہ مشورہ دیا کہ پہلے دوسرے مسائل کو حل کیا جائے بعد میں جب دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد قائم ہوجائے تو مسئلہ کشمیر خود ہی حل ہو جائے گا۔ حقائق کی روح سے دیکھا جائے تو اس طرح کی خوش فریبیوں میں مبتلا رکھنے والی طفل تسلوں کے باوجود دسمبر1971ءمیں دونوں ممالک کے مابین ایک خطر ناک جنگ ہوئی جس کے باعث پاکستان دولخت ہوگیا اور ہم کف افسوس ملتے رہ گئے مسئلہ کشمیر حل ہونے کے بجائے سقوط ڈھاکہ کے باعث گہری کھائی میں جا گھرا اور پھر 1988ءتک مسئلہ کشمیر عالم دنیا کی نگاہوں سے اوجھل رہا۔ لیکن آج 2008ءمیں مسئلہ کشمیر امریکہ اور یورپ سمیت پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اس حقیقت سے کوئی اہل دانش انکار نہیں کرسکتا.... چند روز قبل نجانے آصف علی زرداری کو کیا سوجھی کہ وہ ارشاد فرمانے لگے کہ” پاکستان اور بھارت کے درمیان رشتے کو کشمیر کے تنازعے سے باندھ کر نہیں رکھا جانا چاہئے۔ پاکستان اور بھارت انتظار کرسکتے ہیں۔ آنے والی نسلیں مسئلہ کشمیر کاحل تلاش کرسکتی ہیں۔ کشمیر کے مسئلے کو ویسے ہی درکنار کردیا جائے جیسے ہندوستان نے چین کے ساتھ سرحدی تنازعے کو ایک طرف رکھ کر آپس کے تعلقات کو حالیہ برسوں میں فروغ دیا ہے۔ اور پاکستان اور بھارت کو ایک دوسرے کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے چاہیں۔

اب ان مفادات کی سیاست کرنے والوں کو کون سمجھائے کہ مسئلہ کشمیر بھارت اور چین کے درمیان سرحدی تنازعہ کی نوعیت کا مسئلہ نہیں ہے۔بلکہ ےہ مسئلہ قرآن اور خطہ اسلام کا ہے یعنی
ترجمہ :اور تم کو کیا ہوا ہے کہ خدا کی راہ میں اور ا ±ن بے بس مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے جو دعائیں کیا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو اس شہر سے جس کے رہنے والے ظالم ہیں نکال کر کہیں اور لے جا۔ اور اپنی طرف سے کسی کو ہمارا حامی بنا۔ اور اپنی ہی طرف سے کسی کو ہمارا مددگار مقرر فرما( النساء :75)

زرداری صاحب کیا جانیں کہ صرف جنوری1989ءسے دسمبر2007تک کشمیر میں ڈھائے جانے والے مظالم کی تفصیل کیا ہے۔ زرداری صاحب کیا سمجھیں کہ ےہ مسئلہ سیاست چمکانے کا نہیں ےہ معاملہ تو92166شہادتوں کا ہے۔ انہیں کیا علم کہ بھارتی درندوں نے جنوری1989ءسے 2008ءتک زیر حراست 6925مسلمانوں کو وادی مرگ کی جانب بھیج دیا۔ وہ 114512گرفتار شہریوں کے کرب کا اندازہ کیا کریں۔ وہ 22593بیوہ عورتوں کے اجڑے ہوئے سہاگوں کی درد والم کی تڑپ کیا سمجھیں۔ 107054یتیم بچوں کی اجیرن زندگیوں سے کیونکر کوئی نتیجہ اخذ کریں۔ وہ اس بات سے ناآشنا ہیں کہ 9755عصمت دری اور اجتماعی زیادتیوں کی داستانیں ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہم سے کیا تقاضا کررہی ہیں۔ انہیں کیا خبر کہ کشمیر کی آزادی پاکستانی ماو ¿ں نے تن تین جگر کے ٹکڑوں کو بھی قربان کیا ہے۔ وہ کیا جانیں کہ کشمیری مسلمانوں کے علاوہ پاکستانی ہزاروں نوجوان اپنا کھلتا ہوا شباب اور گرم گرم خون لے کر اپنی زندگیاں آزادی کشمیر اور لٹتی ہوئی عزتوں کے نام کرچکے ۔

وہ تو اس مسئلے کو پس پشت ڈالنے کی باتیں کررہے ہیں۔ مسلمان کی عظمت کیا ہوا کرتا ہے ۔ وہ کیا سمجھیں مسلمان اپنی دھرتی کا ایک چپا بھی کافر کے سپرد نہیں کرسکتا۔ مسلمان اپنے مسلمان بھائی کا بہتا ہوا لہو دیکھ کر خاموش تماشائی کا کردار ادا نہیں کرتا بلکہ اس کے سینے میں انتقام کی آگ بھڑک اٹھتی ہے۔ مسلمان گرتی ہوئی مساجد کے مناظر دیکھ کر انہیں سہارا دیا کرتے ہیں۔ مسلمان لٹتی ہوئی عصمتوں کی داستانیں سن کر انہیں نذرانداز نہیں کردیتا بلکہ محمد بن قاسم کا انداز غیرت اپنا کر اپنا کردار ادا کیا کرتا ہے۔ مسلمان کٹتے بلبلاتے بچوں کی صدائیں سن کر تڑپ اٹھا کرتا ہے۔ مسلمان ان ہاتھوں کو کاٹنے کی قوت رکھتا ہے۔ جو ہاتھ مسلمانوں کی طرف ظلم کی نیت بڑھتے ہیں۔ مسلمان اس آنکھ کو نکالنے کا سلیقہ رکھتا ہے۔ جو اسلام اور اسلامیاں پر میلی نظر سے پڑے ۔ زرداری صاحب اور ان سیاسی رہنماو ¿ںسے جنہوں نے کارگل کی جیتی ہوئی بازی ٹیبل پر ہار دی تھی میں ایک مسلمان اور پاکستان ہونے کے ناطے التماس کرتاہوں کہ اگر وہ پارلیمنٹ میں آجائیںتو مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنے سیاست چمکائی بیانات کو پس پشت ڈالتے ہوئے فرائض کو سمجھ کر اس کے لئے عملی اقدامات سرانجام دیں ۔ مسئلہ کشمیر کا ےہ حل ایک بزدلی اور ناسمجھ شخص تو پیش کرسکتا ہے کہ اسے پس پشت ڈال دیا جائے اور یہ مسئلہ خود بخود حل ہوجائے گا۔ لیکن ایک مجاہدانہ اوصاف سے مزین دلیر شخص اس کا حل اس انداز سے پیش نہیں کرسکتا۔ وہ تو جانتا ہے کہ حکمرانی کیسے کی جاتی ہے۔ حکمرانی کے تقاضے کیا ہوا کرتے ہیں۔ وہ کمزور عقیدہ خرگوش دل حکمران جو مسئلہ کشمیر کو نذر انداز کرنے کی روش پر قائم وہ ایک بات سمجھ لیں کہ تارےخ انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ تارےخ عالم شاید ہے کہ جو شخص بھی اپنی دھرتی سے وفا کے تقاضے نبھانے سے قاصر رہا تارےخ نے اس کا وہ حشر کیا کہ وہ رہتی دنیا کے لئے نشان عبرت بن کر سامنے آیا۔

تاریخ کی اس حقیقت سے بھی کسی کو انکار نہیں کہ جس کسی نے دھرتی سے وفا کی اسانیت کے درد کو سمجھا اور پھر اس کے ساتھ ساتھ دلیری وشجاع اس کی زندگی کا حصہ رہی وہ لوگوں کے آئیڈیل بنے۔ دنیا نے انہیں اچھے لفظوں میں یاد کیا۔ تاریخ دانوں نے انہیں سنہرے الفاظ میں رقم کیا۔ اہل علم اور اہل دانش نے ان کی مثالیں دیں۔ ان کا عمل وکردار رہتی دنیا کے لئے بہترین نمونہ ثابت ہوا۔ جی ہاں میں اسی دلیر طبقے کی بات کر رہا ہوں تاریخ نے جسے محمد بن قاسم، طارق بن زیاد، سلطان شہاب الدین غوری، سلطان محمد فاتح، ٹیپو سلطان، صلاح الدین ایوبی، سلطان محمود غزنوی، احمد شاہ ابدالی جیسے ناموں سے رقم کیا....کہیں ایسا نہ ہو کہ کل ےہ ہوجائے کہ”تمہاری داستان بھی نہ ہو داستانوں میںتاریخ دان جب تاریخ لکھنے کو بیٹھے اور وہ یہ موضوع لے کر تاریخ رقم کرے”لوٹوں کی سیاست“ تو اس باب میں تمہارا تذکرہ قوم کے دشمن، دھرتی کے غدار، اسلام سے ناآشنا، خودعرضی کے سیاست دان، سیاسی لوٹے کوزے وغیرہ جیسے لفظوں میں آئے۔

© Copyrights 2007, karachiupdates.com
E-mail:karachiweb@karachiupdates.com  contact: 0321-2422035