|
|
|
13
March 2008 / 04
Rabi-ul-Awal
1429 |
|
محمد
سجاد گل
موبائل03222376114
کاش
نومبر 2005ءمیں امریکہ اور اسرائیل کے مابین ایک کانفرنس کا اسرائیل میں انعقاد کیا
گیا۔ جس میںمسئلہ فلسطین پرتفصیلی بات چیت ہوئی۔یورپی کانفرنس میں قابل غور بات ےہ
تھی کہ مسئلہ فلسطین کا حل ےہ پیش کیا گیا کہ اہل فلسطین کو مکمل کچل دیا جائے۔ ان
کی نسل کشی کی جائے، جس سے گریٹر اسرائیل کو فروغ ملے گا۔
اب جو بات منظر عام پر گردش کررہی ہے، وہ ےہ ہے کہ اسرائیلی فوج نے150سے زائد
فلسطینی مسلمانوں کو ظالمانہ طریقہ سے قتل کردیا ہے۔ قتل ہونے والوں کا تعلق کسی
فلسطینی مزاحمت کار گروہ سے نہیں تھا بلکہ وادی مرگ کی جانب سفر کرنے والے
معصوم بچے، مظلوم عورتیں اور بے گناہ عام شہری ہیں۔
ےہ واقعہ ان دنوں پیش آیاہے، جب امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزارائس اسرائیل کا دورہ
کرنے والی تھیں، جس کا مقصد مسئلہ فلسطین پر بات چیت کرناتھا۔ اسرائیل نے اس پرتشدد
کارروائی کا سبب ےہ پیش کیا کہ حماس کی جانب سے اسرائیل پر راکٹ داغے گئے ہیں۔ یہ
بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اسرائیل اور امریکہ حماس کو کسی صورت برداشت
نہیں کرسکتے ۔
خیر ےہ معاملہ حماس تک ہی محدود نہیں بلکہ ےہ وہی سلسلہ ہے، جس کی طرف قرآنِ کریم
میں اللہ رب العزت نے اشارہ فرمایا ہے کہ ”ےہودونصاریٰ کبھی تمہارے دوست نہیں
ہوسکتے۔“یہ الگ بحث ہے کہ آج کے حکمرانوں کی نزدیک ان کا کوئی محسن ہے تو وہ اللہ
تعالیٰ کا باغی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منکر ےہودی اور عیسائی ہے۔
اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانبردار بندے یا تو انتہا پسند ہیں یا پھر
بنیاد پرست۔
اگر حقائق کی رو سے دیکھا جائے تو اسرائیل خطہ ارض پر ایک ناجائز ریاست ہے، جسے ایک
آزاد ریاست تسلیم کرنا فلسطینیوں کے ساتھ زیادتی ہی نہیں بلکہ دنیا کہ سب سے بڑے
بدمعاش اور جگے کو ظلم و سفاکیت کی کھلی چھٹی دےنے کے مترادف ہے۔
اسرائیل نے ظلم وستم کی ان رفعتوں کو چھوا ہے، جن کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ ےہ سارا
ظلم وستم صرف اسلام دشمنی کی بنیاد پر ہو رہا ہے۔ جس کے پیچھے ہمارے”عظیم محسن“
امریکہ کا ہاتھ ہے، جو اسرائیل کا ہر لحاظ سے پشتی بان ہے۔
فلسطینی مسلمان عرصہ دراز سے سخت ستم ظریف آندھیوں کی زد میں ہیں ،جس پر UNOکی
خاموشی بھی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ پوری دنیا کے کافر ایک طرف ہیں۔ اگر
امریکہ میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر گرتا ہے تو دنیا بھر کے درجنوں غیر مسلم ممالک امریکہ
کے اتحادی ہوکر ےہ الزام مسلمانوں کے سر منڈھ کر انہیں تشدد کا نشانہ بناتے ہیں، ان
کے ملکوں پر حملے کرتے ہیں لیکن جب باری مسلمانوں کے حقوق کی آتی ہے تو مسئلہ کشمیر
کا ہو یا فلسطین کا UNOاپنے فرائض ادا کرنے سے قاصر نظر آتی ہے۔ او آئی سی
مسلمانوںممالک کے لئے ایک خوش آئند قدم تھا لیکن ےہ ادارہ بھی پروان نہ چڑھ سکا
کیونکہ اس کے اندر ہونے والے فیصلے بھی امریکہ ویورپ کی مرضی کے بغیر نہیں ہوتے ۔
کوئی قرارداد منظور ہوتی بھی ہے تو وہ فائلوں میں دب کر الماریوں کی نذر ہوجاتی ہے،
اس پر عمل نہیں ہو پاتا۔ اس کی سب بڑی وجہ ےہ ہے کہ مسلم ممالک کے حکمرا ن نہ صرف
اسلام کی محبت سے محروم ہیں بلکہ ظلم وستم، جبرو سفاکیت کا بازار گرم کرنے والوں سے
بھی متاثرہیں۔
یہ حکمران نہ صرف فلسطین میں ہونے والے مظالم اور کشمیر میںتوڑے جانے والے ستم کے
پہاڑوںکو نظر انداز کئے ہوئے ہے بلکہ انہیں فکر ہے تو صرف اس بات کی کہ اگر
مسلمانوں کے حقوق کی بات کی تو امریکہ اور مغربی آقاوں کو کیا جواب دیںگے؟ کاش یہ
لولے لنگڑے، بہرے گونگے حکمران بزدلی کے دائرہ سے باہر نکل کر اپنے اقتدار کا صحیح
حق ادا کریں۔
مسلمانوں کے حقوق کی بات کریں ۔ امریکہ بھارت اسرائیل اور روس کی دہشت گری کی مذمت
کریں۔ ذلت اور رسوائی کی روش کو خیر آباد کہیں۔ سسک سسک کر جینے پر عزت کی
موت کو ترجیح دیں۔ حکمرانیت کے جو اصول اور ضابطے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے
دئیے ہیں، ان کے مطابق اپنے فرائض سرانجام دیں۔ جب مسلمان حکمرانوں کا انداز
حکمرانیت یہ ہو جائے گا تو دنیا کے کسی جگے اور بدمعاش کو یہ ہمت بھی نہیں ہوگی کہ
وہ مسلمانوں کی جانب میلی نظر سے بھی دیکھے۔
باطل سنبھل نہ سکے روبرو تیرے
سکتِ بازو میں کر وہ د َم پیدا |
 |
|
|