|
|
|
27
July 2007 / 11 Rajab 1428 AH |
|
آف دی ریکارڈ:رانامحمد ابراہیم نفیس
ranaminafees313@hotmail.com
شہداءکی
باقیات ،قرآن کے مقدس اوراق
وہ دین کے ”متوالے“ تھے ۔بہنوں کی عزتوں کے رکھوالے
تھے۔گوشت پوست کے انسان تھے۔وہ بھی دنیا کی رنگینی کو کھلی آنکھوں سے دیکھتے
تھے۔لیکن میدان حشر کی باز پُرس کی سنگینی کو”پیش نظر“ رکھتے تھے۔انکا ٹکراﺅ اللہ
کے گھروں کو مسمار کرنے والوں سے تھا۔وہ مساجد کی دوبارہ تعمیر کے” سرکاری وعدے “کی
تکمیل چاہتے تھے۔اس بارے وہ کسی” ڈیل یا ڈھیل “کے قائل نہیں تھے۔
وہ معصوم پاکیزہ تتلیاں ایسی کمسن پھول جیسی بیٹیاں تھیں۔جو جامعہ حفصہ کی طالبات
کے ساتھ اپنی شہادت سے پہلے ننھے ننھے بازو اٹھا کرایمان کی حرارت سے سرکاری جسارت
کے خلاف ”احتجاج “کررہی تھیں۔ملکی تاریخ کے ہولناک زلزلہ میں لاوارث ان بچیوں کو
جامعہ حفصہ کی شکل میں ماں کی گود جیسی” آغوش“ محسوس ہوئی تو احسان کے طور پر انہوں
نے خونی آپریشن کے امکان کے باوجود مدرسہ چھوڑنے سے ”انکار“ کردیا۔
وہ حافظہ اورقارےہ تھیں۔مدرس اورمعلمہ تھیں۔قال اللہ وقال الرسول کا پیغام انکی”
پہچان“ تھا۔وہ نئی نسل کی رہنمائی کررہی تھیں ۔وہ نوجوان طالبات کو دین کے رنگ میں
رنگ کر روشن خیالی کی روسیاہی کا ”زنگ“ اتار رہی تھیں۔وہ نسوانی شرم وحیاءکی زندہ
تصویر تھیں۔وہ عصری اور بصری علوم کی ماہر تھیں ۔فحاشی وبے حیائی کو روکنا اور مادر
پدر آزادی کو ٹوکنا ان کا” قصور“ تھا۔اسی جُرم کی ان کو سزا دی گئی ۔جب وہ رُکی یا
جھُکی نہیں تو فاسفورس بموں کی بارش سے انہیں جھُلسا دیا گیا ،جلادیا گیا،کوئلہ بنا
دیا گیا۔اور رات کی تاریکی میں ”اجتماعی طور “پر دفنا دیا گیا۔
نہ زمین کا نپی نہ زمین پھٹی ،نہ لال آندھی چلی اگرچہ لال مسجد لہو رنگ ہوکر لال
ہوگئی۔دنیا کی تاریخ میں اس سے بدترین واقعہ اس لحاظ سے نہیں ہوا کہ ان کا مطالبہ
اقتدار نہیں تھا۔مساجد کی تعمیر ،فحاشی کی روک تھام اور شریعت کے نفاذ کا تھا۔پہلے
پہل علماءنے بھی ان کا ساتھ دیا لیکن ان کے موقف کی سختی کے باعث پیچھے ہٹ گئے۔ہم
نے اس وقت بھی اپنے کالم میں لکھا تھا کہ غازی برادران کو اکیلا نہ چھوڑا جائے ۔لیکن
مصلحتیں اور ضرورتیں انسان کو کس قدر خودغرض کر دیتی ہیں کہ لال مسجد کا گھیراﺅ
ہورہا تھا۔لیکن کوئی NGOانسانی حقوق کی چیمپیئن تنظیم یا علماءکا کوئی ہراول دستہ
کفن پہنے ان معصوموں کو بچانے نہ آیا ۔کہ پہلے ہمیں گولی مارو پھر محصور لوگوں کو
شہید کرو۔ان سے تو وہ غیر مسلم خاتون ہزار درجے بہتر ہے ۔جواسرائیلی ٹینکوں کے آگے
لیٹ گئی کہ مظلوم مسلمان فلسطینی کا گھر مسمار نہیں کرنے دونگی۔اور اسرائیلی ٹینک
نے اس کا بھرکس نکال دیا ۔بھرتہ بنادیا۔اور وہ تاریخ میں امر ہوگئی ۔
نہ زلزلہ آیا، نہ آسمان سے کوئی شہاب ثاقب گرا،نہ بجلی کڑکی ۔کیسے تاک تاک کے سپیشل
سروسز کے کمانڈوز نے نہتی ،فاقہ زدہ ،پردہ دار ،باکردار حفاظ اور قاریہ طالبات کو
نشانہ بنایا۔گولیوں کی بارش نے ایک ایک جسم میں درجنوں راستے بنائے کہ خون کی روانی
ہو اور روح کو جسم وجان سے بچھڑنے میں آسانی ہو۔کتنا بڑا دھوکہ تھا۔فراڈتھا اور
امیدوں کا سراب تھا۔کہ کیسے ممکن ہے کہ انسان درندگی کی معراج کو چھُولے ۔وحشت اور
بربریت کی نئی داستان رقم کردے کہ نہتی طالبات کا قتل عام کرے۔ایسا تو ہلاکو خان
اور چنگیز خان نے بھی نہ کیا تھا۔ایسا ظلم تو ہٹلر نے بھی نہ توڑا ۔ایسا اندھیر تو
قیام پاکستان کے وقت بھی نہ ہوا کہ مزاحمت کے خدشہ کے پیش نظر ہر چیز کو بارود کے
زور پر اڑا دیا گیا ۔عمارتوں کا ملبہ بنادیا گیا۔لیکن اس ملبہ سے ملنے والی باقیات
بے حس قوم سے سوال کرتی ہیں۔پوچھ رہی ہیں کہ ہمیں کس جُرم میں قتل کیا گیا۔کیا اللہ
کے گھر کی پہرہ داری ہمارا جُرم تھا۔؟؟
نہ کسی کو ہارٹ اٹیک ہوا۔نہ کسی کی شریان پھٹی۔نہ کسی کا جگر چاک ہوا کہ رزق خاک
بننے والے بھی کسی کے دل کاٹکرا ،کسی کی آنکھ کا نور ،کسی کے بڑھاپے کی لاٹھی ،کسی
کی عزت کے رکھوالے تھے۔وہ معصوم کلی جو پھول نہ بن سکی ۔وہ پھول جو دینی تعلیمات کی
خوشبو نہ پھیلا سکا ۔وہ پاکیزہ تتلیاں ، شرافت کا مجسمہ سفید آنچل اوڑھے پریاں جو
اس اجتماعی قتل عام میں ٹکرے ٹکرے ہوکر لوتھڑے بن کر قیمہ ہوکر جامعہ حفصہ کے ملبے
کا حصہ بن گئیں۔کسی کا جگر گوشہ تھیں۔کسی کی نورنظر تھیں۔کسی کے دل کا قرار
تھیں۔کسی کے چمن کی بہار تھیں۔آنکھوں کی ٹھنڈک تھیں۔قرار کا سامان تھیں۔ان کی بھی
خواہشیں ہونگی۔ارمان ہونگے۔سپنوں کی دنیا ہوگی۔خوابوں کی تعبیرکی حسرت ہوگی۔کچھ
پانے کی کچھ اپنانے کی اور کچھ چاہنے کی بشری کمزوری انہیں بھی ستاتی ہوگی۔تو پھر
وہ کیوں اس طرح مار دی گئیں۔چلیں چھوڑیں آپ کے اور ہمارے بچے تو ہمارے آس پاس خیریت
سے موجو د ہی ہیں نا۔۔؟؟
بدترین دشمن ۔خون کا پیاسا جنونی ۔طاقت کے نشے میں بدمست انسان بھی اس طرح حیوانی
جبلت اختیار نہیں کرتا جو لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے خونی آپریشن کے دوران اختیار
کی گئی۔گولہ بارود کی بارش سے جسموں کو ادھیڑنے کے علاوہ جامعہ حفصہ کے درودیوار کو
کھدیڑنے کا پروگرام بھی طے شدہ تھا۔کہ بموں کی بارش سے بلڈنگ کو کمزور کرکے مخدوش
ظاہر کرنے گرانے کا پکا بندوبست کیا جائے کہ خطرناک ہے۔اور وہی کیا گیا۔آپریشن تو
پہلے مرحلے میں مکمل ہوچکا تھا۔باقی وقت تو لاشوں کو ٹھکانے کیلئے درکار تھا۔لیکن ”
اے بساآرزو کہ خاک شد “کچھ نہ تدبیر نے کام کیا جامعہ حفصہ کے ملبے سے ملنے والی
جسمانی باقیات نے حکومتی بربریت کو بے نقاب کردیا ۔انسانی جسموں کے ٹکڑے ،پریوں کے
آنچل ،تتلیوں کی کٹی انگلیاں،شہداءکے سروں کے بالوں سمیت حصے چیخ چیخ کر اپنے اوپر
ہونے والے ظلم کی داستان سنا رہے تھے۔لیکن ان شہیدوں کے لواحقین کے آنسو تو خشک
ہوچکے ہیں۔اور جب آنسو جم جاتے ہیں۔تو جذبات کے بم بن جاتے ہیں۔
کاش ہم کشمیر ہی حاصل کرلیتے جس کی خاطر مجاہدین نے ہزاروں جانیں قربان کیں۔کاش
مشرقی پاکستان ذلت آمیز طریقے سے ہتھیار ڈالنے کی وجہ سے بنگلہ دیش نہ بنتا۔چلیں کا
ش کارگل کا معرکہ ہی ہم جیت جاتے تو شائد لال مسجد اور جامعہ حفصہ کو سینکڑوں نہیں
بلکہ ہزاروں ہلاکتوں کے بعد فتح کرنے کا ،وکٹری کا نشان بناکر اس سے مسرور ہونے کا
حق بھی فوج کے کریڈٹ میں چلا جاتا تو ہمیں شائد افسوس کم ہوتا۔اپنے ملک میں،اپنے ہی
لوگوں کوطاقت کے زور پر تہہ تیغ کرنے،معصوم بے گناہ طالبات کو شہید کرنے ،مدرسہ کو
مسمار کرنے ،اللہ کے گھر میں بم برسانے اور نمازیوں کو شہید کرنے ،سینکڑوں قرآن پاک
شہید کرنے ،احادیث نبوی کی بے حرمتی کرنے اور سب سے بڑھ کر مقدس اوراق سمیت شہداءکی
باقیات کو گندے نالے میں پھینکنے پر بھی ابھی قومی بے حسی نہیں ٹوٹی۔توپھر جناب
اعجازالحق کایہ اعتراف شائد انکی آنکھیں کھول دے کہ اس آپریشن میںفاسفورس بم بھی
برسائے گئے ۔اور یہ اقدام فقط اس لیے کیا گیا کہ ہلاکتیں کم سے کم ہوں یعنی”زندہ
سلامت“ لاش نہ بچ پائے۔
قارئین محترم !! جب زیادہ گھٹن اور حبس ہوتو سانس نہ جانے کیوں حلق میں پھندہ سا بن
جاتی ہے۔میری تو راتوں میں ہڑبڑاہٹ سے نیند اچٹ جاتی ہے۔تو کیا اس ظلم عظیم کے
کرداروں کو رات بھر نیند آجاتی ہے۔؟؟معصوم پاکیزہ معطر روحیں کیا انہیں ڈسٹرب نہیں
کرتیں کہ انکل آپ اتنے بڑے ہوکر اتنے جھوٹ بولتے ہیں کہ مدرسہ میں بنکرتھے۔سرنگیں
تھیں۔غیرملکی تھے۔لیکن آپ کچھ بھی ثابت نہ کرسکے۔انکل” چھی چھی چھی“کتنی بری بات ہے۔
یہ آپ نے ہمارے ساتھ کیا کیا۔انکل کیا آپ کی کوئی بیٹی،بہن ،آپی،ممی نہیں ہے۔انکل
یہ آپ نے ہمارے جسموں پر کیا چھڑکا تھا جو ایک دم سے آگ نے ہمیں راکھ بنادیا۔لیکن
انکل دیکھ لیں ہم تو بہشت کے نظاروں میں اپنے اللہ کی مہمان ہیں۔لیکن انکل ذرا یہ
تو بتائیں آپ کا کیا بنے گا۔آخر آپ نے ایک دن ہمارے پاس آنا ہی تو ہے۔پھر آپ کا
گریبان ہوگا اور ہمارا ہاتھ ہوگاانکل۔۔۔ کیوں قارئین آپ کا اس پر اےمان ہے نا۔۔؟؟بولیں
تو سہی کوئی سن تو نہیں رہا۔۔؟؟ڈرتے کےوںہےں۔۔؟؟
|
|
|