رابطہ رہنمائے کراچی کالم /فیچر علم و ادب خواتین اسلام صفہ اول

30 July 2008 / 26 Rajab-al-Murajjab 1429

آف دی ریکارڈ :رانا محمدابراہیم نفیس
ranaminafees313@hotmail.com

کالا باغ ڈیم پر یو ٹرن کیوں

فضاءسے بلکہ خلاءسے اُتر کر ایک آئینی حکمران کو ملک بدر کرکے بیج ،بوٹ اور بندوق کے بل بوتے پر حکومت کو جھٹ جپھا مارنے والے ”آئینی سلطان “پرویزمشرف نے پہلے تو چیف آف آرمی سٹاف کی اِسٹک کی مددسے من مرضی کی حکومت قائم کی ۔بعدازاں سیاسی لوٹوں کی لوٹ سیل کے نتیجے میں نیم سیاسی نیم قانونی پارلیمنٹ کی داغ بیل ڈالی ۔جوں جوں اُنکا حوصلہ بڑھتا گیا ،فاصلے سمٹتے گئے۔چنانچہ کہیں ایل ایف او کی پِچ کاری اورکہیں لوٹا اِزم کی مداری ،کہیں قوم کو خوش آئند ہ خواب دکھانے کی اداکاری نے رنگ دکھایا تو پرویزمشرف نے اپنے اقتدار کے سِکے کا رنگ بالآخر جمایا۔قوم سے کیے گئے خطاب ”میرے ہموطنو“کے سارے وعدے ایک رات کی بیسوا کے مصنوعی حُسن کی طرح اُتر گئے اُن میں ایک وعدہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا بھی تھا ۔کالاباغ ڈیم تو نہ بنا اب شاید موصوف خود ہی سیاسی طور پر ”کالے پانی “کی جزاءسے ہمکنار ہونے کو ہیں ۔؟؟

پرویزمشرف نے ہمیشہ امرےکہ بہادر کا کھل کر ساتھ دےا۔ نتےجے مےں آج امرےکن اور نےٹو افواج متاثرےن زلزلہ کی مدد کے بہانے ممنوعہ علاقوں مےں حسات آلات سمےت ایک عرصہ سے مورچہ زن ہیں۔ اےک ایک امرےکی فوجی کی حفاظت پرپانچ پانچ فوجی کمانڈوتعینات ہےں۔وزےرستان آپرےشن میں سےنکڑوں ہلاکتوں ،دےنی تنظموں پر پابندی اور اکاونٹ منجمند کرنے ،مدرسوں پر ےلغاراور مساجد کو مسمارکرنے سمےت دیگرفےصلے کرنے والے بزعم خود نڈر جرنےل کو کالا باغ ڈےم پر اپنے حوارےوں کی مخالفت کا سامنا ہی رہا۔اور قوم کا لاباغ ڈےم پر جنرل صاحب کے کمانڈو اےکشن کی منتظر ہی رہی ”اے بسا آرزو کہ خاک شد“آج خودجناب مشرف عملی طور پر ”کھُڈے لائن “ لگے ہوئے ہیں جبکہ ان کی آشیرباد سے قائم پی پی پی کی حکومت کالا باغ ڈیم منصوبے کو کفنانے اور دفنانے پہ تُلی ہوئی ہے ۔

کالا باغ ڈےم ہو، بھا شا ڈےم ہو ےا اکھوڑی ڈےم ،زندگی کے لےے پانی اشد ضروری ہے پانی کی فراوانی سے ہی بنجر زمےنوں کی کو کھ سے کو نپلےں پھوٹتی ہےں ،سبز انقلاب آتا ہے، جسم کی ضرورتوں کے لےے اناج کی فراہمی ممکن ہوتی ہے ۔پاکستان مےں دن بدن پانی کی قلت پےدا ہو رہی ہے اور ماہرےن کے مطابق اگر ہم نے مجرمانہ کوتاہی جاری رکھی تو2015 تک ملک مےں پانی کا بحران شدےد تر ہوجا ئےگا اور ہم زراعت مےں خود کفےل ہو نے کے بجائے زرعی اجناس امپورٹ کرنے پر مجبور ہو جائےنگے ۔ےہ بہت بڑا لمحہ فکرےہ ہے۔ مستقبل کے قحط سے نمٹنے کی بات ہے ۔زرعی ماہرےن کے مطابق ڈےم نہ بنا کر ہم اجتماعی خود کشی کی طرف جارہے ہےں ۔

آبی ذخائےر کی ضرورت ےعنی ڈےموں کی تعمےر مےں پہلے ہی بہت وقت ضائع ہو چکا ہے اور ماہرےن آئندہ پانی کے حصول کے لےے جنگ کی بات بھی کر رہے ہےں۔ تر بےلا ڈےم اور منگلا ڈےم مےں 30 تا 40 فےصد (گار) سلٹ بھر چکی ہے, پانی ذخےر ہ کرنے کی گنجائش کم ہو رہی ہے ,لےنڈ مافےا اور ہاوسنگ سکےموں کے نام پر پہلے ہی زرعی زمےن سمٹ رہی ہے اوپر سے بارش اور برف کے پگھلنے سے مےسر آنے والا پانی ذخےرہ نہ ہونے پر سمندر مےں گر کر ضائع ہو رہا ہے۔ رہی سہی زمےن کے لےے پانی مےسر نہ آسکا تو فاقوں تک نوبت پہنچنے کی توقع ہے۔ کالا باغ ڈےم کی فزیبلٹی رپورٹ اور تکنےکی معاملات تےار ہےں، اربوں روپے خرچ ہو چکے ہےں،مشینری پہنچ چکی ہے۔لہٰذاازبس ضروری ہے کہ اسکی بلا تا خےر تعمےر شروع کرنے کے ساتھ ساتھ بھا شاڈےم کی تےاری بھی کی جائے۔

ہندوستان پہلے ہی درےاﺅں پر بگلہار ڈےم اور کشن گنگاڈےم تعمےر کر رہا ہے اور پاکستان کے کسی اعتراض کو نہےں مانتا۔ اےک ہم ہےں ابھی تک ڈےم کے نام سے چڑ رہے ہےں اور سولہ کروڑ عوام کے مستقبل سے کھےل رہے ہےں ۔کا لا باغ ڈےم کی تعمےر سے ڈےرہ اسماعیل خان ،ٹانک، لکی مروت ،بنوں اور کرک کی لاکھوں اےکڑاراضی سےراب ہو گی۔ قبل ازےںپیپلز پارٹی بھی کالا باغ ڈےم کو قابل عمل منصوبہ سمجھ کراسے انڈس ڈےم کے نام سے بنا نےکی منظوری دے چکی ہے۔ کےونکہ ازسر نو منصوبے مےں بہت وقت ضائع ہوتا کالا باغ ڈےم سے بھاشاڈےم کی نسبت بجلی بھی سستی پڑتی ہے۔ بقول شیخ رشےد صاحب بجلی کایونٹ پانچ روپے کی جگہ 1 روپے مےں پڑیگا۔

سابق چیئرمےن واےڈا جناب طارق حمےد صاحب کا کہنا ہے کہ کالا باغ ڈےم خالصتاََ تکنےکی مسئلہ ہے جسے بدقسمتی سے سےاسی سٹنٹ کے طور پر اچھا لا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضع کےا ہے کہ کالا باغ ڈےم کے لےے مقررکی گئی آٹھ رکنی کمےٹی کے سات ارکان نے کالا باغ ڈےم کی تعمےر کی حمائےت کی ہے ۔دوسری طرف انسٹی ٹےوٹ آف انجینئر نگ پاکستان کے صدر آفتاب اسلام آغا اور پاکستا ن انجینئرنگ کانگریس کے صدر رانا احمد خان نے کہا ہے کہ انجینئروں کی بڑ ی تعداد نے کالا باغ ڈےم اور بھا شا ڈےم کو قابل عمل اور ملکی معیشت اور زرعی ترقی کے لےے اہم اور ناگزیرقرار دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ معمولی ترمےم سے کوئی علاقہ بھی متاثر نہےں ہو گا۔ حکومت بلا ججھک دونوں ڈےم تعمےر کرے۔دوسری طرف عالمی اداروں کادباﺅ بھی کا رفرما ہے کہ ڈےم تعمےر نہ کرنے سے زراعت کا مستقبل خطرناک اور زرعی معیشت تباہ ہو نے کے ساتھ زمےن کے بانجھ ہو نے کا بھی خطرہ ہے۔ قبل ازیںکالا باغ ڈےم کی تعمےر کے اعلان کے ساتھ ہی حکومت مخالف تندوتےز بےانات کا اےک طوفان بپا ہو چکا ہے اور تو اور خود گھر کے بھےدی لنکا ڈھا رہے ہےں اور ”مےں نہ مانوں مےں نہ مانوں “کا وِردکر رہے ہےں حالانکہ مشرف حکومت کے لےے ےہ آسان مسئلہ تھا کہ اس کے پاس بے پناہ اختیارات تھے۔ اس وقت کالا باغ ڈیم کا ایشو موجودہ حکومت کے حلق مےں ہڈی بن کر پھنس چکا ہے۔ جسے اُگلنا اور نگلنا حکومت کے لےے مشکل ہو چکا ہے خود حکومتی حلیف بھی حکومت کے نقادبن بےٹھے ہےں اور حکومتی حلقوں کا اختلاف حکومت کے لےے مزےد پر ےشانی کا سبب بن رہاہے۔

جب جنرل(ر) صدرمشرف کا اقتدار عروج پرتھاتوانہوں نے دوٹوک کہا تھا کہ مےں ملک کو خود کشی کے دہانے تک نہےں جانے دونگا اوریہ بھی کہ مےں دو سوفیصد گارنٹی دےتا ہوں کہ ڈےم ہمارے دور مےں ہی بنے گاوگرنہ ملک ریگستان بن جائیگا۔اےک سوال کے جواب مےںکہ آئندہ آنے والی حکومت تواسے ختم نہ کرےگی کہاتھا کہ ابھی تو ہم بر سراقتدار ہےں کوئی اسے ختم نہےں کر سکتا۔ ےہ منصوبہ2012 مےں مکمل ہو گا2016 مےں بھا شا ڈےم اور2018 مےں اکھوڑی ڈےم بنے گا۔ جنرل(ر)پرویز مشرف سندھی ہےں انہوں نے گارنٹی دی ہے کہ سندھ کو نقصان نہےں ہو گا تو سندھیوں کو پرویزمشرف پر اعتبار کرنا چاہےے ۔جنرل(ر)پرویزمشرف اپنے پےش رو فوجی حکمرانوں کی نسبت بہت پُراعتمادتھے۔ انہوں نے ڈےموں کی تعمےر کے پروگراموں مےں دراصل اپنے طوالت اقتدار کی خوبصورت منظر کشی کی تھی ۔انہوں نے نہ تو نظر ےہ ضرورت کاذکر کےا ،نہ نوے روزہ پروگرام دےا2018اکھوڑی ڈےم تک تو بات بالکل واضع نظر آتی ہے کہ وہ سابق فوجی حکمرانوں کے حوس اقتدار کی ہےٹ ٹرےک بہت خوبصورتی سے پوری کرےنگے ۔

قارئین محترم !! حاصل کلام یہ کہ پاکستان میں جو بھی آیا ”ڈنگ ٹپاﺅ تے مٹی پاﺅ“فلسفہ کے تحت قوم کو بیوقوف بناتارہا۔حالانکہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر آئندہ آنے والی نسلوں کیلئے بہت بڑا انعام تھا۔مگرامریکہ کے غلام حکمران اقتدار کوبچانے کیلئے مجاہدین ،محب وطن لوگوں کا قتل عام تو کرسکتے ہیں ۔حافظہ قاریہ طالبات کو فاسفورس بموں سے جلاکرراکھ تو بناسکتے ہیں ۔قومی مفاد میں کارنامہ سرانجام دینا اُن کے نصیب میں نہیں ہوتا۔ جواقتدار پرویزمشرف کو حاصل ہوا پاکستان میں کبھی کسی کو نہیں ملا ۔اگر پرویزمشرف کالا باغ ڈیم تعمیر کردیتا تو شاید اُس کے کچھ گناہوں کا کفارہ ادا ہوجاتا ۔لیکن گناہوں کا کفارہ بھی وہی دے سکتا ہے جس کے نصیب اچھے ہوں۔پرویزمشرف اورپی پی پی ایک ہی سِکے کے دو رُخ ہیں ۔تبھی تو کالا باغ ڈیم پرپی پی پی نے یوٹرن لے لیا ہے۔اور قوم کی توقعات کو بُری طرح مجروح کیا ہے ۔

© Copyrights 2007, karachiupdates.com
E-mail:karachiweb@karachiupdates.com  contact: 0321-2422035