رابطہ رہنمائے کراچی کالم /فیچر علم و ادب خواتین اسلام صفہ اول

14 August 2008 / 11 Shaban 1429

آف دی ریکارڈ :رانا محمدابراہیم نفیس
ranaminafees313@hotmail.com

لوٹ سیل! چار کروڑ روپے فی کس

حکمران اتحاد نے مواخذے کا اعلان کیا کردیا گویا ”بھڑوں کے چھتے“ میں ہاتھ ڈال دیا۔پہلے تو کانوں کویقین ہی نہیں آرہاتھاکہ کانوں سُنی اور آنکھوں دیکھی ایسی بھی اَنہونی ہوسکتی ہے۔جس طرح شُتر مرغ ریت میں سردبائے لمبی تان کر سوجاتا ہے اور کبوتر آنکھیں بند کرکے تصور کیے رہتاہے کہ بِلی چلی گئی ہے۔جب سے پی پی پی اور ن لےگ کے غیر فطری اتحاد کی سانجھ سے آئینی سلطان کے مواخذے کی جدوجہد کو ”بانجھ “کرکے رکھ دےا تھا۔اوپرسے اےوان صدرسے انڈرہےنڈڈےل اور بےک چےنل رابطے کے دوغلے پن نے مواخذے کے اعلان کوفقط اخباری خبروں کی بڑھک پن تک محدودکردےاتھا۔ویسے ہی ہمارا حکمران اتحاد کومے سے نکل” آئی سی سی یو“وارڈ سے بتدریج جنرل وارڈ میں منتقل ہوچکاہے ۔تو اب اُسے پتہ چلاہے کہ ہمارے ساتھ پھر سے پُرانا ہاتھ ہونے ہی والا ہے ۔ یوں انہوں نے جلدی سے ”آئینی سلطان“ریٹائیرڈ پرویز مشرف کی چال کو شہہ مات دے دی اور وہ بھی اُس وقت جب وہ بقول شخصے دانت نکو سے اسمبلیاں توڑنے کا”شب خون“ مارنے والے تھے۔

بعض اوقات ق لیگ کی” باقیات“ میں سے کوئی نہ کوئی جوہر قابل اتنی خوبصورت بات کہہ جاتا ہے کہ انسان بے اختیار پکار اُٹھتا ہے کہ یہ منہ اور مسور کی دال۔اےک تازہ ترین ارشاد ہے کہ سیاستدان پرویز مشرف کوسمجھ ہی نہیں پائے۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ پرویز مشرف صاحب کوتو بعدمیں قوم سمجھ لے گی اور یقینا اچھی طرح نمٹ بھی لے گی۔پہلے ق لیگ والوں سے کےوں نہ پوچھاجائے کہ انہوں نے ایک اےسے بھلے مانس شخص کوکیوں اکیلا اور تنہا چھوڑ دیاہے۔جس کی ساری جدوجہد کا مقصد اُنکو راتب فراہم کرنے اُن کے نازنخرے اٹھا نے اور اُنکی گائیڈ لائن سے حکومت چلانا تھا۔مشکل میں اپنے محسن کو کبھی یوں بھی کسی ”باضمیر“ نے بے ننگ ونام کرنے کی کوشش کی ہے کہ اسے مواخذے کا مقابلہ کرنے پہ اکسا ےا جائے؟؟۔۔۔۔

شاےدہمارے کالم کا عنوان تو گھوڑوں اور کھوتوں کی لوٹ سیل تھا شاید اور ہم ابتداءہی سے شایدبھٹک گئے۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ایوان صدر میں جی حضوری اورخوشامدی گوےے،کسی سے نہ ڈرنے والے ”آئینی سلطان “کو اُنکی سابقہ فتوحات کے قصے کہانیاں اورافسانے سناسنا کر اُنکو محاذآرائی کیلئے آمادہ کرنے دلدل میں دھنسانے اورگمراہی میں بھٹکانے کیلئے ”پباں پار زور“لگارہے ہیں۔پی پی پی کو پہلا جھٹکا دینے کیلئے انہوں نے اپنے ترکش سے ہارس ٹریڈنگ جو ترقی کے مراحل طے کرتے ہوئے منکی ٹریڈنگ کے نام سے معروف ہوچکی ہے ،کا تیر نکالا ہے۔جس کا نشانہ سندھ اسمبلی ہے۔تاکہ وہاں کے معزز اراکین اسمبلی کو نوٹ دکھا کرانکاضمےراور ووٹ خریدا جائے۔جس کے نتےجے مےں پی پی پی کواپنی پڑ جائے۔

پی پی پی جو اب ن لےگ کے ساتھ ملکراورتیل مَل کر میدان میں نکل آئی ہے۔اور میں نہ مانوں ،میں نہ مانوں کی گردان کرتے ہوئے ناں ناں جپ رہی ہے۔اُسکی بھاں بھاں کرادی جائے۔افسوس اس بات کاہے کہ پاکستان کو روشن خیال بنانے کی جدوجہد میں ”آئینی سلطان“کو جرنیلی تک بھی قربان کرناپڑی۔رہی سہی صدارت بھی ریت کے زروں کی طرح اُنکی ہتھیلی کے پوروں سے ”پھسل “رہی ہے۔ اب بھی اُنکے خیرخواہوں کا خیال ہے کہ سندھ کے اراکین اسمبلی گھوڑوں ،کھوتوں ، خچروں اور چوپاےوں کی طرح اپنی بولی لگوانے پہ تُل جائیں گے یوں یہودیوں کی دولت کے بل بوتے پہ ”آئینی سلطان “کو پھر سے جان کی امان مل جائیگی۔ہماراکامل یقین اور شرح صدر سے اطمینان ہے کہ ”آئینی سلطان “کی کوششوں سے اب اتنی روشن خیالی ضرور ہوچکی ہے کہ اراکین اسمبلی خود کوشرےف شرفاءاور مہذب طبقے کا فرد سمجھتے ہیں۔ وہ کبھی اس طرح کا احمقانہ قدم نہیں اٹھائینگے کہ فقط 4کروڑمیں بِک جائیں ۔آج تو اچھی بھینس ڈیڑھ لاکھ میں آتی ہے۔اور اشرف المخلوق انسان اوپرسے عوامی نمائندہ اس کی قیمت فقط 4کروڑ روپے ۔؟؟ تف ہے اےسی ہلکی سوچ اور اےسی نکمی اپروچ پر۔

اگر ماضی مےں ایم این اے کی بولی اےک ارب رہی ہے توکےا ایم این اے حضرات پھلبہری کا شکارہےں جوان کے لئے فقط چارکروڑکا چاراپھےنکا گےا ہے جبکہ مہنگائی کا دوردورہ ہے۔امرےکہ کاابھی تازہ ترےن ےہ الزام ہے کہ آئینی سلطان نے اربوں ڈالرکی دوربردکی ہے۔اس مےں سے اگر فی ضمےر اےک ارب خرچ کربھی دےا جائے توکےا حرج ہے کہ بندہ ٹہور سے کہہ تو سکے کہ ”اےں اےوےں تے نےےںوک گئے“شاہ اورشہنشاہ توداشتاﺅں اوررکھےلوں کی خاطرتخت وتاج ٹھکرادےتے تھے۔اورغرےب شاعرمحبوب کے تل پرثمرقندوبخاراواردےاکرتے تھے۔

ہمارا حُسن ظن ہے کہ آئینی سلطان کو بدنام کرنے کیلئے اُن پر الزام لگایا جارہاہے کہ پہلے اس لوٹ سےل کے لئے انہوں نے امریکی دوستوں کی طرف مالی امدا دکیلئے ترسی نگاہوں سے دیکھا ۔جب وہاں سے کورا چِٹا انکار ہوگیا توانہوں نے ہاتھوں کا پیالہ سعودی دوستوں کی طرف بڑھایا وہاں سے بھی انہیں مایوسی ہوئی ۔یہاں ہمیں اختلاف ہے ۔امریکی تو”یار مار“ کے نام سے دنیابھر میںمشہور ہیں اور وہ اپنی ساکھ کو کبھی آنچ نہیں آنے دیتے ۔وہاں سے تو یقینا ایسا ہی ہواہوگا۔لیکن سعودی عرب کو اس قصے میں کھینچ لانا سراسرزیادتی ہے۔سعودی توزکوة خیرات وصدقات ہی اتنا کرتے ہیں کہ کئی” پیشہ ور“عمرے کے ویزے پہ جاکر اگلے پورے سال کی روزی روٹی میں خود کفیل ہوجاتے ہیں۔وہ آئینی سلطان کو خالی ہاتھ نہیں لوٹا سکتے ۔اُنکی ادائیگی میں زیتون کا تیل، عجوہ کھجور ،اعلیٰ کوالٹی کی تسبیح ، کڑھائی والی ٹوپی ،سفید رومال ،گاترا ،عطر عود ، خوبصورت جائے نماز اور ایک قیمتی مشورہ ضرور شامل ہوگا کہ سائیں جتنی جلدی ہو بوریا بستر سنبھال لو،موسم کچھ زیادہ ہی” ابر آلود“ ہے۔شاید آئینی سلطان نے یہ ہدائت نامہ اپنے ساتھیوں کو نہیںبتایاجوانہےں مقابلہ پہ اکسا رہے ہےں۔؟؟

جہاں تک یہودی سرمایہ داروں کا اپنے مربی ومحسن بُش پردباﺅ کا تعلق ہے کہ وہ ریٹائیرڈ پرویز مشرف کوکسی بھی قیمت پہ مزےد رےٹائربچائیں اس کیلئے وہ اپنی تجوریوں کے منہ کھول کر معززومحترم عوامی نمائندوں کیلئے لوٹ سیل کا میلہ سجانے کوتیار ہیں۔یہ شائدممکن ہوسکتا ہے کہ ہمیں یاد آیاکہ آئینی سلطان کے امریکی دورے کے پلان میں اسرائیلی صدر کے ساتھ ون ٹو ون تنہائی میں انکی ایک طویل ملاقات بھی ہوئی تھی۔جس کے نتیجے میں اسرائیل کو حلال اور جائز قرار دے کر اس کے ساتھ سفارتکاری کی داغ بیل ڈالنے کی کوشش بھی ناکامی ونامراد ی سے ہمکنارہوئی تھی۔

اسرائیلیوں کی آمدن کاایک بہت بڑا ذریعہ شراب کی تیاری ،عورتوں کی دلالی ،زناءوفحاشی کے اڈوں کی آمدن ،نائٹ کلب ، ڈسکو کلب ،قمار خانے ،مسلمانوں کی نسل کشی کیلئے اسلحہ کی ترسیل ہے۔پوری دنیا کو اپنے حربوں ،چالاکیوں ،مکاریوں ،سازشوں کے پھندوں میں کس کر اقتصادی طور مغلوب کرکے بے حال کرنے اور سُودی نظام سے اپنی تجوریوں کو بھرنا ہے۔ہمارے آئینی سلطان پہ اُنکے” مہربان“ ہونے کا واحد مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ موصوف بھی خاصے روشن خیال اور لبرل ہیں۔ےہودی غالباََ اپنے مذہب کے مطابق اپنی ”حلال آمدن “کو محفوظ رکھنے کیلئے سالانہ کچھ نہ کچھ تو نکالتے ہی ہونگے۔جیسے ہمارے کچھ نادان مسلمان سارا سال سُودی کاروبارکرتے ہےں ۔اور بعد میں سُود کوحلال کرنے کےلئے کہتے ہیں کہ چلیں مسجد کی کچھ لیٹرینیں یعنی ٹائلٹ بنوادیتے ہیں۔گویا اندر سے وہ بھی اس آمدن کو نجس اور پلید ہی سمجھتے ہیں۔اب وہی گندا اور حرام مال ےہودےوں کی معرفت ہمارے عوامی نمائندوں کوگھوڑوں اور کھوتوں کی صف میں شامل کرنے کیلئے استعمال کیاجائے گا۔؟؟کتنی خطرناک سازش ہے۔خبیث کہیں کے!!نہ جانے وہ اسمبلی کے ارکان کو اتنا جاہل ،اَن پڑھ اور کمزور ایمان کے حامل مسلمان سمجھتے ہیں ۔لاحول ولاقوة

ہمیں تو یہ آئینی سلطان کے خلاف ایک گھناﺅنی سازش محسوس ہوتی ہے ۔جب امریکہ بہادر جواب دے گیا ہے ۔یورپی منہ موڑ گئے ہیں،سعودی معافی تلافی کاکہہ رہے ہیں ،خود آئینی سلطان کی فیملی انہیں اس تذبذب اور ابہام سے نکالنے کیلئے خیرخواہانہ مشورہ دے رہی ہے کہ ”ابوبخرےت گھر واپس لوٹ آئےں“۔توآئینی سلطان کے مستعفی ہونے مےں دےرتوہوسکتی ہے اندھےر ہرگزنہےں۔ےہ ٹھےک ہے کہ وہ غصہ کے کچھ تےز ہےں اورہر بات پر شمشےر کوبے نےام کرلےتے ہےں۔لےکن اب وہ اتنے بھی گئے گذرے اور کوتاہ اندےش نہےں ہےں کہ موسم کی تبدےلی کو”بھانپ“ نہ سکےں۔کیا انہوں نے وعدے کے مطابق وردی نہیں اتار دی تھی،کچھ تاخیر سے ہی سہی ۔اور یہ ہارس ٹریڈنگ کاتو وہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ اسی الزام کے تحت تو انہوں نے مےاں نوازشرےف کی اچھی بھلی عوامی حکومت کا” کریاکرم “کرکے رکھ دیا تھا۔

اسی غصہ مےں انہوں نے کہاتھا کہ بی بی اور بابو دونوں پاکستان کیلئے” سکیورٹی رِسک“ ہیں ۔اور پھر خود ہی الزام واپس لےکر اُنکو پاکستان نہیں بُلوالیا تھا۔اتنی گھٹیا حرکت آئینی سلطان کرے گا یہ سوچنا بھی ’کفر “ہے جوکسی سے بھی نہ ڈرنے کا اعلان کرے کمانڈوایکشن کا عادی ہو ۔وہ مواخذے کا مقابلہ سرمیدان کریگا ۔اس کی دلیل ہے کہ انہوں نے کہابزرگ سےاستدان اکبر بگٹی کو وہاں سے ماروں گا کہ اسے پتا بھی نہ چلے گا۔مارانہیں۔؟انہوں نے کہا لال مسجد والے بازآجائیں ورنہ اُڑا کے رکھ دوں گا َحافظہ قارےہ اور معصوم بچےوں کواُڑانے کے ساتھ جلا کے نہیں رکھ دیا۔؟پھراُسے ہارس ٹریڈنگ کی کیا ضرورت ہے۔الزام توکم ازکم” شریفانہ “ہونا چاہیے۔

قارئےن محترم! وہ دن لد گئے جب امرےکی ہمےں طعنہ دےتے تھے کہ پاکستانی ” ڈالروں “کے حصول کےلئے اپنی ماں بھی بےچ سکتے ہےں۔اس داغ کودھونا اوردھرتی ماں کی آبروکی لاج رکھنا ہمارے اوپر امرےکیوں اورےہودےوں کاقرض ہے۔اور ےہ قرض تب ہی ادا ہوسکتا ہے کہ ہمارے عوامی نمائندے اوراراکےن اسمبلی ےہودی کے اس لالچ کے لالی پاپ کا جوتا واپس انکے منہ پر رسےد کرنا اپنا فرض سمجھےں۔ مخدوم امین فہیم پہ اتنا بڑاالزام کہ اُن کا بیٹا وزارت سے مستعفی اس لیے ہواکہ” منہ کھائے تو آنکھ شرمائے “۔لہٰذا انہوں نے وزارت کو ٹھوکر ماردی اور یہ کہ مخدوم امین فہیم دبئی اس لیے گئے ہیں کہ کوئی ان کو اپروچ نہ کرسکے ۔اوروہ اپنا ٹارگٹ پورا کرسکیں ۔ہمارے خےال مےں ےہ زےادتی ہے۔مخدوم پہ گھٹےا الزام ہے ،مخدوم اتنا نیک نام اورشرےف بندہ کہ اُسے پی پی پی نے دیوار سے بھی لگادیا تو اُف تک نہیںکی ۔اتنے ظرف کے مالک مخدوم کے خلاف ایسی گھناﺅنی سازش کاالزام کہ مخدوم اورمخدوم زادہ ایسی اوچھی حرکت کرسکتا ۔ کم ازکم ہم تونہےں مان سکتے ۔قارئین آپ کا کیا خیال ہے؟؟۔۔۔۔۔۔۔

© Copyrights 2007, karachiupdates.com
E-mail:karachiweb@karachiupdates.com  contact: 0321-2422035