|
|
|
05 August
2008 / 02 Shaban
1429 |
|
|
|
آف دی ریکارڈ :رانا محمدابراہیم نفیس
ranaminafees313@hotmail.com
سعودی سفیر کا مستحسن فیصلہ
ویسے تو سفیر ہرملک کے ہوتے ہیں ۔جواپنے اپنے ممالک کی نمائندگی کرتے ہیں ۔اور عرصہ
سفارت گزار کر واپس چلے جاتے ہیں۔پاکستان میں کسی نئے سفیر کی آمد کی خبر اور
فوٹواخبارات میں تب ہی چھپتی ہے جب وہ اپنی سفارت سے متعلقہ کاغذات صدر پاکستان کو
پیش کرتے ہیں ۔اور اگر کسی ملک کے سفیر کی کارکردگی کچھ نمایاں ہو تو اُس کے مدت
سفارت کے اختتام پر کوئی ہلکی پھلکی خبر بھی اخبار کی زینت بنتی ہے کہ اُس کے اعزاز
میں کوئی الوداعی پارٹی دی گئی ہو۔عزت مآب سعودی سفیر محترم جناب علی عواض العسیری
کو جو سفارتی، سیاسی ،اخلاقی عزت وشہرت ”نصیب“ ہوئی ہے وہ نہ تو گزشتہ دوعشروں میں
کسی اور کوملی ہے اور نہ آئندہ ہی اس کا تصور کیا جاسکتاہے۔
اتنی عزت ،احترام ،شان اورمان جو سعودی سفیر کو ملاہے اُسکی ایک وجہ اگر اُنکی
پاکستان کے ساتھ محبت واُخوت ہے تو دوسری وجہ اُن کا سعودی عرب کا سفیر ہونا ہے۔وہ
عرب ملک کہ جس کے ساتھ عالم اسلام اور کرہ ارض کے مسلمانوں کا روحانی ،قلبی ،ایمانی
اور اسلامی رشتہ قائم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی سفیر نے اپنی لازوال اور بے مثال
کارکردگی اور خدمات کے اعتراف میں ملنے والے حکومت پاکستان کے پیش کردہ دس ایکڑ
پلاٹ کی پیشکش کو انکار کرتے ہوئے اعلیٰ ظرفی ،دانشمندی کا ثبوت دیکر خودداری کی
”بلند پایہ مثال“ قائم کی ۔اور کہا کہ میری خدمات حکومت سعودیہ کا مجھ پر اعتماد
ہے۔ایسی نفسانفسی میں کروڑوں بلکہ اربوں کا پلاٹ ٹھکرا کر سعودی سفیر نے ثابت
کردیاہے کہ وہ پاکستانیوں کی محبت کے اسیرہونے کے ساتھ ساتھ قلبی رشتوں کے سفیربھی
ہیں۔
سعودی سفیر نے دس ایکڑ پلاٹ کی پیشکش قبول نہ کرنے کی بہت خوبصورت تفسیر بیان کی ہے
کہ پاکستان اور سعودی عرب کو قریب لانا میں اپنا مذہبی اور اخلاقی فریضہ سمجھتا ہوں
۔شاید پاکستان کی تاریخ کی یہ واحد اور انوکھی مثال ہے کہ بِن مانگے ملنے والے تحفہ
کو شائستگی کے ساتھ انکار کردیا جائے۔حالانکہ تحفہ قبول کرنا سُنت رسول ہے لیکن
شاید سعودی سفیر بالکل بھی نہیں چاہتے کہ اُنکی تگ ودو،جدوجہد اور کارکردگی پر شکوک
وشبہات کی پرچھائیں بھی پڑیں۔
بلاشک وشبہ کسی بھی ملک کے سفیر کا اُس ملک کی اندرونی سیاست سے براہ راست کوئی
تعلق نہیں ہوتا ۔لیکن یہ شرف بھی سعودی سفیر کو حاصل رہاکہ وہ ملکی سیاست کے اُتار
چڑھاﺅ ،مدوجذرمیں بھی بالکل فعال رہے،بلکہ بہت سے نازک اور سنگین مواقع پرانہوں نے
اپنی فہم وفراست، سیاسی بصیرت وبصارت کا ثبوت دیا اور ملک کوبحرانوں سے نکالنے میں
بھرپور مدد دی ۔اس فعال کردار پہ ہی سعودی سفیر کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے حکومت
پاکستان نے انہیں دس ایکڑ فارم کی پیشکش کی ۔
جس طرح سعودی عرب کے ساتھ اسلامی رشتہ کے حوالے سے پاکستانیوں کا دل اُن کے ساتھ
دھڑکتا ہے ۔اسی طرح سعودی عرب نے بھی کبھی پاکستانی قوم کو ابتلاءوآزمائش میں تنہا
نہیں چھوڑا۔پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا تسلسل ہو سعودی ریال مسلسل بہار کی پھوار
کی طرح برستا رہا۔پاکستان کو درپیش اقتصادی شکایات ہوں سعودی عر ب کی مالی عنایات
ہمیں میسر آتی رہیں۔اُدھار تیل کے قرضوںکا طور پہاڑجتنا پھیلاﺅ ہو اربوں ریال کی
سہولت کا بہاو ہمیں حاصل رہا ۔زلزلہ زدگان کی معاونت کا معاملہ ہو ،سعودی عرب کے
حکمرانوں اور شہریوںنے انصار مدینہ کی یاد تازہ کردی۔
سعودی سفیر محترم علی عواض العسیری سفیرکم اور مشیر زیادہ محسوس ہوتے ہیں۔وہ
پاکستان کو اپنا گھر سمجھتے ہیں تو بلاجھجھک ”بے خطر کود پڑا آتش نمرور میں عشق“ کے
مصداق امن ،صلح جوئی ،مفاہمت کیلئے سیاسی رقیبوں کو حلیف بنانے کی کوشش میں مگن
رہتے ہیں۔اور بسا اوقات ملکی سیاست میں ان کا کردار اتنانمایاں ہوجاتا ہے کہ سوالیہ
نشان بن جاتا ہے ۔تو معروف کالم نگار محترم عرفان صدیقی صاحب کو بھی گمان ہونے
لگتاہے کہ یہ ضرورت سے کچھ زیادہ ہی ہے۔
لیکن کیا کیا جائے نظریہ ضرورت کی پذیرائی ہی اتنی ہوچکی ہے کہ دوٹوک موقف کی
شنوائی ممکن نہیںرہی۔یہی وجہ ہے کہ زمینی حقیقت کاادراک کرتے ہوئے محترم عرفان
صدیقی صاحب کو ایک وضاحتی کالم بھی لکھنا پڑا جس میں انہوں نے سعودی سفیر کے دستر
خوان کی وسعت اور میزبانی کی روایت اتنے دل نشین انداز میں بیان فرمائی کہ یقین
مانیں ہمیں اُن پہ رشک آگیا۔عربوں کے بارے ایک کہاوت مشہور ہے کہ وہ ناں کو ہاں میں
نہیں بدلتے ۔لیکن سعودی سفیر نے کبھی بھولے سے بھی پاکستان بارے اپنا کردار ادا
کرنے کے حوالے سے ”نِکی جئی ناں “بھی نہیں کی۔
یقینی طور پر سعودی سفیر بطور سفیر پاکستان میں متحرک ترین شخصیت ہیں شاید یہی وجہ
ہے کہ وہ گوناں گوں مصروفیات اور پاکستان کے سیاسی بحران کی وجہ سے سفارتخانہ
کومکمل وقت نہیں دے پاتے۔ماضی قریب میں ہم نے ویزہ قونصلیٹ کی ایک ”ناانصافی“ پہ
معافی تلافی کیلئے قونصلیٹ کے علاوہ سعودی سفارتخانہ کے ہرممکن رابطہ پر کوشش کی
لیکن کیا مجال کہ کسی نیک بخت نے ہمیں کوئی” رسید“ تک دی ہو۔ٹیلی فون ،فیکس حتیٰ کہ
بذریعہ کورئیر ڈاک کابھی کوئی جواب نہ مل سکا ۔محترم سعودی سفیرکو حکمرانوں کے
علاوہ عوام الناس کی اپنے تک رسائی کو بھی یقینی بنانا چاہیے۔تاکہ ضرورت مندوں کو
بھی اُن کی اچھائی اور راہنمائی میسر آسکے ۔اس کیلئے انہیں کسی نیک وکار اور ذمہ
دار شخص کو اپنی عدم موجودگی میں مقرر کرناچاہیے جو ضرورت مندوں کی دادرسی کرسکے۔
واللہ ہمیں آج تک سعودی سفیر کی ہمسری تو کجا قربت بھی حاصل نہیں ہوئی کہ سکیورٹی
کے بھی کچھ تقاضے ہوتے ہیں۔جب اکثر کالم نگار یہ لکھتے ہیں کہ ہمیں ”ظِل
سبحانی“جنرل ریٹائیرڈ پرویزمشرف نے اکیلے میں ایک گھنٹہ وقت دیا۔یا یہ کہ ہماری
سعودی سفیر سے فقط دوچار ہی ملاقاتیں ہیں یا یہ کہ ان کادستر خوان بہت وسیع ہے۔ان
کا فرمان بہت فصیح وبلیغ ہے۔ان کا انداز بہت نفیس ہے۔یا یہ کہ سعودی سفیر اتنا پاور
فُل ہوتاہے کہ جس کو چاہے وِزٹ ویزہ دے یا حج ویزہ سے نوازدے۔توہم یہ باتیں سُن کر
حیران ہوجایاکرتے تھے۔لیکن یقین مانیں ہم سعودی سفیر علی عواض العسیری کے اس انکار
سے پریشان ہوکررہ گئے ہیں کہ انہوں نے دس ایکڑ پلاٹ کو ”کورا چِٹا “جواب دے دیا۔
قارئین محترم !!انسان کتنا بھی امیرو کبیر کیوں نہ ہو اس کے خمیر میں ”ھل من
مزید“کی خواہش غالب ہی رہتی ہے۔لیکن سعودی سفیر محترم نے باضمیر ہی نہیں صاحب کردار
ہونے کابھی کھُلا ثبوت مہیا کردیاہے کہ اُنکی خدمات لین دین اور ماپ تول کے پیمانے
سے ”ماورا“ ہیں۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ کے مطابق عربوں
کا احترام تو ہمارے دل میں پہلے ہی بہت تھا۔عزت مآب سعودی سفیر علی عواض العسیری نے
اُسے دُگنا ،چُگنا بلکہ کئی گنابڑھا دیاہے ۔بلاشک وشبہ اُن کا یہ اقدام ایک مستحسن
فیصلہ ہے ۔جس کی جتنی بھی” داد“ دی جائے کم ہے۔کیوں قارئین آپ بھی ہمارے ساتھ متفق
ہیں نا۔؟؟ |
 |
|
|