رابطہ رہنمائے کراچی کالم /فیچر علم و ادب خواتین اسلام صفہ اول

19 August 2008 / 16 Shaban 1429

آف دی ریکارڈ :رانا محمدابراہیم نفیس
ranaminafees313@hotmail.com

مشرف کی رخصتی، عفریت سے نجات

بندریا کے بارے مشہور ہے کہ جب اس کے پاوں جلنے لگتے ہیں تو وہ اپنے ہی بچوں کو پاوں کے نیچے رکھ کر اپنی جان بچانے کی کوشش کرتی ہے۔لیکن اشرف المخلوق انسان اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کا” آئینی سلطان“پرویز مشرف بھی اتنا قبیح ،ظالمانہ ،فاسقانہ،فاجرانہ اور گھٹیا درجے کاکردار ادا کرسکتاہے کہ اللہ کی پناہ مانگناپڑجائے۔جاہل ،گنوار ،ان پڑھ حتیٰ کہ نشئیوں ،پوستیوں،جواریوں ،چرسیوںاور بھیک منگوں میں بھی کچھ نہ کچھ جھجھک اور شرم موجود ہوتی ہے اور ان کے بھی کچھ قاعدے ،کُلیے ،ضابطے اوراصول ہوتے ہیں۔مگر کسی سے نہ ڈرنے والے پرویزمشرف نے تو” اَت خدا دا ویر “تک بیج ،بوٹ ،بندوق سے حاصل کردہ طاقت کومخبوط الحواس ،فاتر العقل اور ابنارمل انسان کی طرح اندھادھند وحشیانہ اور ظالمانہ اندازمیں استعمال کرکے اپنے ہی پاکستانیوں کی خریدوفروخت کا نیا ریکارڈ قائم کردیا۔طوالت اقتدار اورہوس اختیارات کیلئے گوروں کے ”چرنوں“میںجھک کر نہ صرف وطن کی” عزت وآبرو“ کے ساتھ کھلواڑ کیا بلکہ وطن اور اسلام کی بیٹیوں کوسرِعام ”نیلام“ کیا۔مغرب کی کاسہ لیسی اور یورپ کی خوشامد میں بھانڈوں ،جگت بازوں اور خواجہ سراوں کو شرمادیا اور محب وطن پاکستانیوں کو لہو کے آنسو رُلا دیا۔

جعفراز بنگال ،صادق ازدکن ۔ننگ دین ،ننگ ملت ،ننگ وطن !!یہ اُن غداروں کے ماضی کا عبرتناک باب ہے۔جنہوں نے اپنی دھرتی کے ساتھ” دغا“ کی،یہی وجہ ہے کہ تاریخ نے بھی ان کے ساتھ” وفا“نہ کی۔آج اُن اُچکوں ،دلالوں کی ہڈیاں بھی نامعلوم قبروں میں گل سڑ گئی ہونگی ۔لیکن قیامت کی دیواروں تک نفرت وحقارت کے تازیانے ،عبرت کے نشانے بن کر اُن وطن فروشوں ،ضمیر فروشوں پر برستے رہینگے۔ شاید پرویزمشرف کے شجرہ نسب کے تانے بانے اور ڈانڈے مینڈے بھی کہیں نہ کہیں انہی غداروں ،فریب کاروںاور سیاہ کاروں سے جاملتے ہیں۔ فرق صرف اتناہے کہ شاید اُن کے خمیر میں رَتی برابر ضمیر کی کوئی کِرن باقی ہوگی جو انہوں نے اس طرح سرِعام ڈھٹائی اور بے حیائی کے ساتھ اپنے ہم وطنوں کو فروخت کرکے ڈالر نہیں کمائے اور اگر کوئی اس طرح ذلیلانہ اور رزیلانہ کام کیابھی تو انہیں اُس کا کھلے عام اظہار کرنے کی جرات نہ ہوئی۔پرویز مشرف کی آنکھیں چونکہ روشن خیالی کی ”روسیاہی“ سے چندھیائی ہوئی تھیں ۔یہی وجہ ہے کہ اُس نے قوم کی بیٹیوں کو بھی گوروں کے حوالے کرکے ”دام“ کھرے کرلیے۔جواپنی جان بچانے کیلئے اپنی اولاد کو کھاجائے ،اُسے اگر” بلا یا عفریت“ کانام دیاجائے توکیا مذائقہ ہے۔مشرف کی واپسی گویا ایک قومی” عفریت “کی واپسی ہے۔

وِہسکی ،رقص وسُرود اور کتوں کے شوقین پرویز مشرف جوپورے عرصہ اقتدار میں قوم کو ”مُکے“لہرالہرا کر ڈراوے دیتے رہے۔دم رُخصتی اُنکے ہوش وحواس کے فیوز بھک سے اُڑ گئے ۔گارڈ آف آنر کے دوران اُنکے پاوں اِدھر اُدھر بھٹک رہے تھے۔خود کو کمانڈو اور سرنڈر نہ کرنے کا دعویٰ کرنے والا پاکستان کی تاریخ کا انتہائی قابل نفرت آمر جس نے اپنی نحوست کے سائے خونخوار بھیڑیوں اور لہوچوسنے والی چمگادڑوں کی طرح قریب نو سال تک پاکستان پر پھیلائے رکھے ۔دم رُخصتی وہ مجنون شخص کی طرح کبھی دائیں ،کبھی بائیں ،کبھی آگے ،کبھی پیچھے” پھرکی“ کی طرح سلیوٹ مارتا رہا۔یہ تو آغاز ہے بے بسی کا ،بے کسی کا ،لاچاری کا،تنہائی کی بیماری کا ،اپنے کیے پہ آہ زاری کا ،بیگناہوں کے خون پہ شرمساری کا، احتساب کے خوف کی بے قراری کا ،آئین توڑ کرناجائز جمعداری کا ،مغرب کی ناجائز دلداری کا،آگے آگے دیکھئے ہوتاہے کیا۔؟؟

بعض گھسیٹیے ،قلم فروش اور ناقص العقل دانشور گلاپھاڑ کر چیخ چِلا رہے ہیں کہ مشرف کا استعفیٰ قوم پہ بہت بڑا احسان ہے۔ان درباری بھانڈوں، میراثیوں اور زنخوں کو کیا معلوم ”احسان“کسے کہتے ہیں۔پرویز مشرف کی ساری دلیری اختیارات کی ہیراپھیری سے مشروط تھی۔پاکستان کے سیاہ سفید کا مالک ہو ،آرمی چیف ہو اور تیسرے درجے کے امریکی سرکاری ملازم کی ایک فون کال پر اُس کے چرنوں میں جھُک جائے ،ڈالروں کی چھناچھن پہ بِک جائے اور امریکی شیطانوں کی بات سچ ثابت کرجائے کہ پاکستانی ”خدانخواستہ“ڈالروں کیلئے اپنی ماں کو بھی بیچ دیتے ہیں ۔تو اس آمر نے اپنی ماں ،بیٹی کے دام تو کھرے نہ کیے ۔لیکن قوم کی ماوں ،بیٹیوں ،بہنوں کواپنے یار بُش کے پیار میں ڈالروں کے عوض بیچ دیا ۔تف ہے ایسی دلیری پر اور لعنت ہے ایسے شخص کے احسان پہ!!

حکومتی اصطبل کے کھونٹے پہ بندھے سرکاری ”راتب“ پہ منہ مارنے والے پرویزمشرف کے سارے حواری” وقت مصیبت “جواری کے وعدے کے مطابق ”نظریں چُرانے“ کی مداری دکھاگئے ۔جب اقتدار کا جوبن تھا تو اُنکی دلداری بھی قابل دید تھی ۔کوئی قانونی ماہر نِت نئی تدبیر اپنی زنبیل سے نکال کر حکومتی دلہن کے نتھنوں کی ہار سنگھار میں مصروف تھا۔کوئی قانونی مشیر اپنے بڑھاپے کے سفید بالوں کی حرمت کو پامال کرکے آئینی موشگافیوں کے جال سے طوالت اقتدار کاگاون تیار کرکے قوم کو زوال کی طرف لے جارہاتھا۔کوئی اپنی عیاری ،مکاری کو بروئے کار لاتے ہوئے پرویزمشرف کے کان میں قیامت تک ”آپ ہی آپ “کی اذان دے رہاتھا ۔اور جب دم رُخصتی کاوقت آیا تو دلہن ایک رات کی طرح دور دورتک نہ کوئی کشمالہ رہی ،نہ کوئی بی بی جمالہ رہی ،نہ کوئی چودھری نظرآیا ،نہ کوئی شیر ،نہ نیلوفر نہ امریکہ ،نہ برطانیہ ،نہ کوئی قلو پطرہ ،نہ کوئی السپراء،نہ کوئی دین نہ ایمان،یہ ہے اللہ کی شان ۔رب جب چاہے،جسے چاہے بے بس اور بے وارث کردے۔

نو سال بدترین ،منحوس ترین ،بدبخت ترین،سیاہ ترین دور حکومت میں پاکستان کے آمروں کی تاریخ میں البتہ پرویزمشرف کاایک اعزازضرور رہاکہ اس نے کسی کی نہ مانی۔ایک فوجی آمر عیاش اور کُپی کا دلدادہ تھا۔دوسرا فوجی آمر ان عیبوں سے پاک لیکن باضمیر تھا ۔جب عوام نے ایوب ۔۔۔ہائے ہائے کہا تو اُس نے اقتدار کو ٹھوکر ماردی ۔وہی جنرل ایوب آج بھی لوگوں کے دِلوں میں زندہ ہے۔ایک اور آمر جس نے طویل ترین حکمرانی کی ”تعصب اور ذاتی عداوت“ کی بات الگ ہے۔ضیاءالحق کی انکساری اور عاجزانہ انداز سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ۔اُس کے بہت سے اچھے کام ایسے بھی ہیں جن سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔لیکن امریکہ سے یارانہ ،زندگی سے رخصتی کا پروانہ بن کر اُسے” انعام“ میں ملا۔آج بھی 17اگست کو فیصل مسجد میں لوگ حاضری دیتے ہیں یہ اور بات ہے کہ اُس کی اولاد نے باپ کی عزت کوبھی سیاسی ”لوٹ سیل“ میں گنوا کے رکھ دیا۔

پرویز مشرف جیسے قومی ”عفریت“نے 9سالہ طویل سیاہ ترین آمریت سے پاکستان کی بنیادوں کو کھدیڑ کے رکھ دیا۔اس عظیم تاج محل پاکستان کے ستونوں کو اُدھیڑکے رکھ دیا۔قانون کے ساتھ ”باندر کِلے“والا کھیل کھیلا۔عدلیہ کے ساتھ ”لُکن میٹی“کھیلی ۔سیاستدانوں کے ساتھ منافقت بھی کی ۔دین پسندوں اور مجاہدین کے ساتھ غداری کی ۔دستور کو لتاڑا ۔ملک کی معیشت کو پٹری سے اتارا۔روشن خیالی کے نام پہ اسلامی معاشرے کا حلیہ بگاڑا۔چمنستان پاکستان کو بے دردی سے اُجاڑا۔لال مسجد میںعفت مآب پھول سی بچیوں کو فاسفورس سے جلامارا۔ سانپ تو اپنے انڈے پی جاتا ہے یہ تو شیش ناگ تھا جو نوبرس تک اپنی قوم کا خون پیتا رہا۔ایسے خونی اور جنونی سے نجات باعث برکات ہے۔

قارئین محترم !!جونہی اتاترک کے معشوق بُش اور اس کے کتوں کے محبوب نے محسوس کیا کہ اب کے مچان پر ن لیگ کے شیر اورپی پی پی کے آصف زرداری تیر کمان سنبھالے ہوئے ہیںاور حکمران قومی اتحاد نے لوہا توڑگھات لگائی ہوئی ہے تو وہ اپنی نئی واردات سے باز آیا۔اور ویسے بھی اگر ناگ کا زہر نکال دیاجائے تو وہ ”حقیر سا کینچوا“ہی بن کے رہ جاتاہے۔ہوشیار اور سمجھدار نئے سیاسی کھلاڑی ، پرانے ”پاپی“ شکاری کی لگام قابو کرنے اور اُسے نکیل ڈالنے میں بالآخر کامیاب ہوہی گئے۔اور آج وہ شخص ”بڑے بے آبرو ہوکر تیرے کوچے سے ہم نکلے“کی عبرتناک تصویر ہے۔ عزت سادات تو اسی دن غارت ہوگئی تھی جب محسنوں کوہی ڈسنے کا شب خون ماراتھا۔9سال تک گندے جوہڑ کی جونک کی طرح عوام کا خون چوسنے والے ڈریکولا سے نجات پر قوم کو مبارک ہو۔اور اب شاید ججوں کی بحالی بھی گھنٹوں کی بات رہ گئی ہے،شاید لاپتہ افراد کابھی اتہ پتہ چل جائے۔عوام الناس کو اس قومی ”عفریت“کی واپسی پہ دونفل شکرانے کے ادا کرلینے چاہیں ۔کیوں قارئین تو پھر دیر کیوں ۔ابھی کیوں نہیں؟؟۔۔۔۔۔۔

© Copyrights 2007, karachiupdates.com
E-mail:karachiweb@karachiupdates.com  contact: 0321-2422035