|
|
|
11 August
2008 / 07 Shaban
1429 |
|
|
|
آف دی ریکارڈ :رانا محمدابراہیم نفیس
ranaminafees313@hotmail.com
یومِ آزادی ۔ کیا ہم واقعی آزاد ہیں
ہندوستان کی غلامی سے نجات کو آج 61سال ہونے کو ہیں ۔ہم جسمانی طور پر تو رہاہوچکے
ہیں لیکن روحانی اور ذہنی طورپر آج بھی ہندوانہ رسم ورواج اور رسومات کے غلام ہیں ۔نہ
تو ہمیں ایسی لیڈر شپ نصیب ہوئی جوعوام کے قریب رہنے والی ہو، اور نہ ہی ہمیں حقیقی
آزادی کے ثمرات وبرکات سے فیض یاب ہونے کا موقع ملا۔یہ آزادی ہمیں کس بھاو تاو میں
حاصل ہوئی ،بہت طویل، غمناک اور خونچکاں داستان ہے ۔کوئی شک نہیں کہ آزادی کی کوئی
قیمت مقرر نہیں کی جاسکتی۔لیکن جان ،مال، اولاد کی قربانی دینے کے بعد بھی ہم غیروں
کے محتاج رہیں ،ہمارے حکمران یہودوہنود کے پرستار رہیں ،ملک وقوم اقتصادی قرضوں سے
بے حال رہیں، اسلحہ کیلئے یورپ کے محتاج رہیں ،حصول اقتدار کیلئے دین کے دشمنوں کے
ہمرکاب رہیں تو پھر ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہم واقعی آزاد ہیں۔
”آزادی“کتنا خوبصورت تصور ہے ۔بندھن سے،غلامی سے ،قید سے آزادی ،اظہار رائے کی
آزادی اپنا دیس ،پیارا وطن ،دھرتی ماںیہ آزادی ہمیں سستی نہیں پڑی ۔لیکن آزادی کی
کوئی قیمت بھی تو نہیں ہوتی۔اسے اعدادوشمار یا مال واسباب کے پیمانے سے نہیں ماپا
جاسکتا۔ایک دنیا اِدھر سے اُدھر ہوئی ،لاکھوں گاجر مولی کی طرح کٹے ۔ہزاروں
دوشیزائیں کنووں میں،دریاوں میں کود کرعزت کو تار تار ہونے سے بچاگئیں۔بوڑھوں کی
لاشوں کی کھاد سے آج بھی باڈر کے پار سبز فصل لہلا رہی ہے۔آج بھی ہندوستان میں رہ
جانے والی دوشیزائیں بڑھاپے میں پہنچنے کے باوجودحسرت ناک آنکھوں سے پاکستان کی
سرزمین کو تَک رہی ہیںاور اپنی بے بسی پہ ماتم کررہی ہیں۔
آزادی ہمیں موروثی جائیداد کی طرح نہیں ملی۔ قیامت کا سماں اور حشر کانظارہ تھا۔باپ
بیٹے کو اور ماں بےٹی کو دیوانہ وار ڈھونڈ رہی تھی۔ کہیں والدین شہید ہو چکے تھے ۔تو
کہیں اولادیں قربانی دے چکی تھی ۔خون کے دریا عبور کر کے پیا را وطن پاکستان معرض
وجود میں آیا ۔جسکا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان رکھا گیا ۔ آزادی کے اس عمل میں
”خاندانی“ امیر فقیر ہو گئے اورکنگلے فقیر جعلی کلیموں سے امیر ہو گئے ۔ قوم کو
اکسٹھویں یوم آزادی مبارک ہو ۔
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آزادی ہوتو گٹھن کیسی ۔تشدد کیسا ۔ظلم و زیادتی کیوں
۔لوٹ کھسوٹ کا کاروبار کیوں ۔عدم انصاف کا واویلا کیوں ۔خودکشیوں کا تسلسل کیوں ۔خود
سوزیوں کا دھواں کیوں ۔مہنگائی اور گرانی کا جن آزاد کیوں ،فراڈی ظالم قبضہ گروپ کی
حکمرانی کیوں،ٹیکسوں کی بھرمار کیوں،یوٹیلیٹی اسٹور کی ضرورت کیوں ،بنکوں کے باہر
لائنوں میں لگنے کی ذلالت کیوں،مقدمات کا فیصلہ 25سال بعد کیوں،حقوق انسانی کی
پامالی کیوں۔
آزادی ہوتو آدھی رات کی دستک کیوں،تھانوں میں تشدد کیوں،کچہریوں میں ناانصافی کیوں
،ادویات دو نمبری کیوں ،اشیائے خوردونوش میں ملاوٹ کیوں ،پلاٹوں اور مکانوں پر قبضہ
کیوں، ہاوسنگ اسکیموں کے نام پر فراڈ کیوں ، سرکاری اہلکار بے لگام کیوں،خوراک کی
راشن بندی کیوں ،ذخیرہ اندوزی کی اجازت کیوں ،رشوت ستانی میں پاکستان سر فہرست کیوں
،جعلی پولےس مقابلے کےوں،بےگناہوں کی ہلاکتےں کےوں،جگہ جگہ ناکے کیوں،شرفاءکا
واردات کے بعد تھانے جانے سے انکار کیوں۔۔؟؟
آزادی ہو توامن وامان کی زبوں حالی کیوں ،اغوا برائے تاوان کی کھلی چھٹی کیوں ،گٹروں
کے ڈھکن نہ ہونے سے بچوں کی ہلاکتیں کیوں ،پتنگ بازی سے پھول سے بچوں کی گردنوں کا
کٹنا کیوں ،ون ویلنگ کی اجازت کیوں ،پینے کیلیے آلودہ پانی کیوں ،فاریکس فنانس کا
فراڈ کیوں،ڈاکا زنی اور گینگ ریپ کیوں،سرکاری ہسپتالوں میں بیماروں کی زبوں حالی
کیوں ،لوڈ شیڈنگ کاعذاب کیوں۔ پٹرول کی قیمت سے عوام کوئلہ کباب کیوں ۔؟؟
آزادی ہو توسود خوری کا دھندہ کیوں ،بھتہ خوری کی اجازت کیوں ،جہاد کے فلسفہ سے
انکار کیوں ،مادرپدر آزادی کا اصرار کیوں، ہندوستان سے ےارانے کےوں،مسئلہ کشمےر سرد
خانے کےوں ،یہودیوں سے دوستی کا اقرار کیوں ۔بنیاد پرستی سے انکارکیوں ،اسلام کی
شناخت سے انکار کیوں ،پاکستان غیر مسلموں کے حوالے کیوں،مساجد پر جوتوں سمےت دھاوا
کےوں،مدارس کی تعلےم پر شورشرابا کےوں،غےرملکی طلباءکودےس نکالا کےوں،قاتل اعظم بش
کا حکم ماناکےوں، نصاب تعلےم سے جہادی آےات کااخراج کےوں،جنسی لٹرےچرکی خرافات
کےوں،دونمبری کالجوںاورےونےورسٹےوںکی بھرمار کےوں،ایٹمی حیثیت پہ شرم ساری کیوں ،شاہین
اور غوری میزائل کے ماڈل اُتارے کیوں، چاغی پہاڑ کے ماڈل کا انہدام کیوں ، محسن قوم
ڈاکٹر قدیر خان”حراستی “مہمان کیوں۔ ۔؟
آزادی ہو تو نصف سے زائد عرصہ ملک عزیز پر وردی کی حکومت کیوں ،منتخب وزرائے اعظم
کا دھڑن تختہ کیوں،ملکی دفاع کی ذمہ دارفوج کا تخت حکومت پہ قبضہ کیوں،سیاسی قیادت
کی جبری ملک بدری کیوں، اسٹاک مارکیٹ کریش کیوں ،اسٹیل مل کی نجکاری کا فراڈ
کیوں،چینی مافیا کی بالادستی کیوں،سیمنٹ مافیا کو کھلی چھٹی کیوں ،دھرتی ماں کے
سینے پہ ناپاک قدموں کی چاپ کیوں،پاکستانی شہریوں کا غیر ملکیوں کے ہاتھوں قتل عام
کیوں ۔
آزادی ہو تووطن عزیز کی سرحدوں کی پامالی کیوں ،جرات رندانہ کی زبوں حالی
کیوں،عوامی نمائندوں کی سر عام نیلامی کیوں ،عوامی مینڈیٹ کی یوں پامالی
کیوں،حکمرانوں کی حفاظت کےلئے جنگلے کےوں،وزراءکےلئے اسلام آباد مےں بنگلے کےوں
،غریبوں کو وعدوں کا لولی پاپ کیوں اور وزیروں کی تنخواہ کئی لاکھ کیوں ۔گریجویٹ
نوجوانوں کو بے روزگاری کا فاقہ کیوں،وزراءاور بیورو کریٹس کی مراعات میں 100
فیصداضافہ کیوں،مجبور اور بے بس عوام کا تماشہ کیوں ،سیاسی لیڈروں کی بے حسی کا
سناٹا کیوں،خون انسانی کی ارزانی کیوں ۔بے شرم امریکہ کی شیطانی کیوں۔؟؟
قارئین محترم !!آزادی ہو تواشیائے ضروریہ کی گرانی کیوں ،مراعات کیلئے اپوزیشن اور
صاحب اقتدار کا ایکہ کیوں ۔لُٹے،پِسے غریب عوام کوباربارمہنگائی کا ٹیکہ کیوں
۔آزادی ہو تو عوامی مینڈیٹ کی توہین کیوں ،لوٹوں اور نوٹوں کا گٹھ جوڑ کیوں ،آزادی
رائے پر قدغن کیوں ،چند سیاسی خاندانوں کی اُجارہ داری کیوں ،پڑھے لکھے نوجوانوں کو
بے روزگاری کی لاچاری کیوں۔ کیوں۔آخرکیوں! آج یوم آزادی ہے ”بول کہ لب آزاد ہیں
تیرے “کیوں قارئین کیاہم واقعی آزاد ہیں ۔؟؟یہ کیسی آزادی ہے۔ کیایہی حقیقی آزادی
ہے؟؟بتائیں تو؟؟؟؟؟؟؟۔ |
 |
|
|