رابطہ رہنمائے کراچی کالم /فیچر علم و ادب خواتین اسلام صفہ اول

26 June 2008 / 20 Jamadil Akhir 1429

آف دی ریکارڈ :رانا محمدابراہیم نفیس
ranaminafees313@hotmail.com

سزائے موت کی واپسی

حیرت انگےز بات ہے کہ پی پی پی جب بھی برسراقتدار آتی ہے کوئی نہ کو ئی انوکھا کارنامہ سرانجام دےتی ہے ۔اس بات سے قطع نظر کہ اس کارخےر کاانجام کےا ہوگا۔عوام روٹی کپڑا مکان اورامن وامان کوترس رہے ہےں۔ لاقانونےت،وارداتوں ،مہنگائی ،ذخےرہ اندوزی ،فراڈ،پولےس گردی اورقبضہ گروپوں کے ہاتھوں بے حال قوم کی آنکھوں سے لاچار ی ،بے بسی اورغربت کے بادل چھماچھم برس رہے ہےںاوروزےراعظم قوم کو محترمہ بے نظےربھٹو کی سالگرہ کے موقع پرسزائے موت کی منسوخی کاتحفہ پےش کررہے ہےں۔گوےااب سرکاری پروٹوکول کے ساتھ جےلوں کے دروازے قاتل بھےڑےے ،گےنگ رےپ کرنے والے لٹےرے کھلے عام چھوٹےں گے اورکےمروں کی چکاچوند اوراخبارات کی شہہ سرخےوں کے ساتھ اےک اورعوامی وانسانی ہمدردی کا”مےڈل“ پی پی پی کےلئے وجہ افتخاربن جائےگا۔اب بے نظےر کے قاتل بھی سکون کی نےندسوئےں گے۔کتنا”ٹرےجڈک انجام“ ہے بے نظےر کی ہلاکت کا۔جسکی ہلاکت اورخون کی سرخی کاانعام ہے کہ آج پی پی پی کے ہاتھ مےں اقتدارکی لگام ہے۔کےابی بی سے وفاداری کاےہی صلہ ہے؟؟

اللہ رب العلٰمین نے ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کی مال ،جان ،عزت وآبرو کو” حرام“ قرار دیاہے۔اور مسلمان ہی نہیں کسی بھی انسان کے قتل کو انسانیت کا قتل قرار دیاہے۔یہی وجہ ہے کہ جان کے بدلے جان،ناک کے بدلے ناک،آنکھ کے بدلے آنکھ،دانت کے بدلے دانت اورزخم کے بدلے قصاص یا متبادل تاوان اور وہ بھی مشروط کہ اگر متاثرین یا لواحقین راضی ہوں۔لیکن افسوس صد افسوس روشن خیالی کی یلغار نے حکمرانوں کی ”مَت “مار دی ہے کہ وہ اللہ کے قوانین کو پس پشت ڈالتے ہوئے فقط یورپ اور امریکہ کو خوش کرنے کیلئے سزائے موت کا خاتمہ کرکے خود کو” لبرل “ثابت کرنے کیلئے سزائے موت کے خاتمے کو تحفہ قرار دے رہے ہیں۔تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر محترمہ کے قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کروانے کی کیا ضرورت ہے۔اگر اتفاق سے محترمہ کے قاتل پکڑے بھی جاتے ہیں تو موجودہ قانون کے مطابق تو انہیں سزائے موت نہیںدی جاسکتی ۔سیدھی سادی بات ہے کہ شریعت سے ٹکراﺅ کی ”حماقت“ نے ہماری عقلوں پر جہالت کا ”پتھراﺅ“کررکھا ہے۔

قبل ازیں بھی جب پی پی پی برسراقتدار آئی تھی 1988میں تو اس وقت بھی سزائے موت کو عُمر قید میں تبدیل کردیاگیاتھا۔پورے ملک کے چاروں صوبوں میں تقریباََ 9ہزار سے زائید سزائے موت کے منتظر قیدی اس ”سخاوت“حاتم طائی کی بدولت فیض یاب ہونگے ۔صرف پنجاب میں قریباََ 6ہزار قیدی ہیں 35%ایسے قیدی بھی ہیں جو عُمر قید بھگت رہے ہیںاُنکو بھی اس قانون سے ریلیف مل جائیگا ۔لیکن اُن مظلوموں ،یتیموں اور بیواﺅں کی تکلیف کوکون محسوس کریگا جن کے پیارے بھائی ،عورتوں کے سہاگ ،بوڑھوں کے بڑھاپے کی لاٹھی اُنکے جوان بیٹے اور یتیم معصوم پھول جیسے بچے جن کے باپ قتل کے اس ”پاپ “کا شکار ہوگئے۔اُن کے زخموں پہ مرہم کون رکھے گا ۔جب وہ اپنے پیاروں کے قاتلوں کو سرعام دندناتے ،آزاد پھرتے دیکھیں گے تو کیا جوابی اشتعال کا ردِعمل اپنا ”اُبال“ نہیں نکالے گا؟اور یوں جب موت کی سزا کا خوف نہیںہوگا تو کیا ہرشخص” بے خوف“ ہوکر اپنے حریفوں کو نشانہ نہیں بنائیگا۔؟؟

جناب وزیراعظم نے سزائے موت کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے مزید ارشاد فرمایاہے کہ سنگین جرائم میں ملوث قیدیوں کو اُس کا” فائدہ“ نہیںہوگا۔گویا ایک انسان کاقتل سنگین” جُرم“ نہیں ہے ۔؟سزائے موت ہی وہ خوف تھا جو ہرکسی کو” بے خوف “نہیں ہونے دیتاتھا۔شاید اسی لیے کہا جاتا تھا کہ دفعہ302لکھ کراگر کسی درخت پہ لٹکادی جائے تو وہ درخت بھی خوف سے سُوکھ جاتا ہے۔ظاہر ہے قاتل کو ہی سزائے موت ہوتی تھی کسی چِڑے مار یا مچھر مار کو تو نہیں ۔اگر قتل سنگین جُرم نہیں تو پھر آپ کسی دہشت گرد کو بھی سزائے موت نہیں دے سکتے ۔ڈیم اُڑانے والے کو ،بجلی کے ٹاور تباہ کرنے والے کو ،خود کش بمبار کو حتیٰ کہ غیر ملکی جاسوس کو بھی سزائے موت نہیں دے سکتے جو پاکستانیوں کے قتل عام میں سزا یافتہ ہو ۔کہیں یہ سارا قانون اور اکھاڑ بچھاڑ بھارتی جاسوس سربجیت سنگھ کو ”معاف “کرنے کیلئے تو نہیں بنایا جارہا ۔؟جس کی سزائے موت کو پہلے عارضی طور پر ٹالا گیا اور بعد ازاں غیر معینہ وقت تک روک دیا گیااس قانون سے تو وہ بھی ”مستفید “ہوگا۔کیا منظر ہوگا جب ایک بم دھماکہ کا ذمہ دار دہشت گرد اور بھارتی جاسوس ”باعزت“ رہا ہوکر سرکاری پروٹوکول سے واہگہ بارڈر کراس کرے گااور ہم اُسی واہگہ بارڈر سے ”بیگناہ“ شہریوں کی کٹی پھٹی لاشیں وصول کرتے رہیںگے۔؟؟

اسلامی سزاﺅں کو ”وحشیانہ“ قراردینے والے سزائے موت کے خاتمے کو عوام کیلئے ایک تحفہ سمجھتے ہیں۔حالانکہ مجرم کو اس کے جُرم کی بروقت سزاامن وامان کا ”سنگھار“ ہے۔قاتلوں کوکھُلی چھٹی دینا معاشرے کے ”بگاڑ“ کا سبب بنے گا۔پورے کرہ ارض میں سعودی عرب وہ واحد اسلامی ریاست ہے۔جو منافقانہ سیاست کی غلاظت اور جمہوریت کی نجاست سے فی الحال بچی ہوئی ہے۔اور وہاں شریعت کے مطابق اسلامی سزاﺅں کی وجہ سے جُرم نہ ہونے کے برابر ہے۔ہمارا معاشرہ پہلے ہی اتنا بِگڑا ہوا،بکھرا ہواہے جہاں لاقانونیت عام ہو ،قتل وغارتگری معمول بن چکی ہو ،وارداتیں صبح وشام ہورہی ہوں ،لوٹ کھسوٹ کا بازارسجا ہوا ہو،اغواءبرائے تاوان کا زور شورہو ،گینگ ریپ اور ڈکیتیوں نے عوام کا جینا محال کررکھا ہو ،خودکش دھماکے عام ہوں ،امن وامان کا ”تیا پانچہ “ہوچکا ہو وہاں سزائے موت کا خاتمہ تو وارداتیوں ،لُٹیروں،ڈاکوﺅں اور قاتلوں کو کھُلی چھٹی دینے کے مترادف ہے ۔اور قوم کیلئے یہ کیسا ”انوکھاتحفہ “ہے۔؟؟

وزیراعظم کایہ بیان کہ سنگین جرائم میں ملوث لوگوں کو فائدہ نہیں ہوگا۔بالکل ویسا ہی ”لولی پاپ“ہے جیسا ہر حکومت بجٹ میں غریب کا گلا گھونٹنے کے بعد اُس کو حوصلہ اور تسلی کی صورت میں دیتی ہے کہ اس سے غریب عوام پر کوئی اثر نہیں پڑیگا۔بجلی ،گیس ،پٹرول ،اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آپے سے باہر ہوجائیں غریب عوام کو فرق نہیں پڑیگا ۔جیسے عرصہ قبل ایک ملکہ نے اپنے محل کے باہر” احتجاجی“ اجتماع دیکھ کر اپنے وزیر سے پوچھا یہ لوگ کیا چاہتے ہیں ۔تو وزیر نے بتایا کہ یہ روٹی مہنگی ہونے پر ”سیاپا“کررہے ہیں تو ملکہ نے بھولپن سے کہا روٹی مہنگی ہے توکیک کھالیں ۔اور ابھی چند روز پہلے ہی تو کمانڈومشرف نے بھی کہا ہے کہ دال مہنگی ہے تو چکن کھالیں،جیسے چکن مفت مل رہاہو۔بالکل اسی طرح واقعی سزائے موت کے خاتمے سے پورے ملک سے جرائم کا ”خاتمہ “ہوجائیگا۔ملک میں امن وامان کی بہار آجائیگی ،دشمنیاں ختم ہوجائینگی ،ہلاکتیں تھم جائینگی ۔؟؟

بدقسمتی سے آج پاکستان میں کرائے کے قاتلوں کے ذریعے مخالفوں، شریکوں ،حریفوں کو ٹھکانے لگانے کا عام ”رواج “ہے۔انسانی جان اتنی ارزاں ہے کہ محض چند ہزار روپے میں کرائے کے قاتل دستیاب ہیں۔ایسے فتنہ پرور ماحول میں سزائے موت کے خاتمے کا اعلان ایک” ظلم عظیم “ہے ۔جولوگ اسے انسانی ہمدردی ،عفوودرگزر جیسی انسانی صفات کامظہر سمجھتے ہیںاحمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔یہ ٹھیک ہے کہ دنیا کے تقریباََ 90ممالک میں سزائے موت نافذ نہیں ہے اور چند ممالک میں سزائے موت کا قانون توموجودہے لیکن کسی کو پھانسی نہیں دی گئی۔ دیکھنایہ ہے کہ کیا وہ90ممالک اسلامی ملک ہیں۔وہاں انسانی ،اخلاقی ،تہذیبی بگاڑ کا یہ عالم ہے کہ نوجوان لڑکیوں کو یہ بھی علم نہیں ہوتا کہ اُن کے پیٹ میں حرکت کرنے والا کس شخص کے نُطفے سے ہے۔ہمارا اور مغرب کا کیا تال میل ؟؟پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ایٹمی طاقت ہے اور آئین کے مطابق قرآن وسنت ”سپریم لاء“ہے۔

قاعدے ،قوانےن ،اصول وضوابط ہرمعاشرے کے زمےنی حقائق کے مطابق بنائے جاتے ہےں۔پاکستان چونکہ اسلامی جمہورےہ ملک ہے اور ےہاں کا سپرےم لاءقرآن وسنت ہے لہذاشرعی طورپرقتل کابدلہ قتل ہے ےعنی سزائے موت جوطوےل عدالتی ٹرائےل کے بعدہی دی جاتی ہے۔سزائے موت کاخوف معاشرے کےلئے اےک ”سےفٹی والو“کی حےثےت رکھتاہے۔پی پی پی اگر روشن خےالی اورلبرل ازم کا”تمغہ اعزاز“امرےکہ سے حاصل کرنے کے لئے ےہ غلطی کررہی ہے تواسے ہوش کے ناخن لےنے چاہےے ۔اللہ کے قوانےن سے ٹکرانے والی ہرقوت پاش پاش ہوکررہ جاتی ہے ۔سزائے موت کی واپسی کے نتائج اتنے ہولناک ہونگے کہ پی پی پی ہاتھ ملتے رہ جائے گی کہ کاش ہم اےسانہ کرتے۔اوروےسے بھی قتل عام جےسی درندگی اورجنگل کے قانون کی کھلی چھٹی کسی مہذب معاشرے کوزےب نہےں دےتی کہ جس کاجی چاہے اورجسکی چاہے گردن اڑادے،قتل کردے اوراحتساب کے خوف سے بے خوف بھی رہے۔اےساتجربہ کرنے کے بجائے قوم کی بنےادی ضرورےات کی طرف توجہ دی جائے۔پہلے ہی معاشرے مےں سےاسی اخلاقی اورسماجی قاتلوںلٹےروں اوراچکوں کی کوئی کمی نہ ہے۔

قارئےن محترم !سزاےافتہ قاتلوں کوجےلوں سے آزادکرناقومی وعوامی خدمت نہےں ۔کم ازکم بے نظےر کے قاتلوں کوتوپہلے سزائے موت دلوالےں ۔شائد سزائے موت کی واپسی کااصل مقصد ہندوستانی دہشت گرداور بم دھماکوں کے ملزم سر بجےت سنگھ کورہاکرانااور”کمانڈو“مشرف کوتحفظ دےناہے جنہوں نے 2مرتبہ قانون کوتاراج کےا(جسکی قانون مےں سزاموت ہے) اورآجکل انکے احتساب اورمواخذے کامطالبہ زوروشورسے ہرفورم پرہورہاہے۔کےا پی پی پی کے قائدےن عوام کواعتماد مےں لےنے کا حوصلہ کرےں گے کہ کےااین آر او مےں ےہ شق بھی ہے کہ سزائے موت کومنسوخ کےاجائےگاتاکہ کمانڈومشرف کومحفوظ راستہ دےاجاسکے۔؟؟

© Copyrights 2007, karachiupdates.com
E-mail:karachiweb@karachiupdates.com  contact: 0321-2422035