|
|
|
18 June
2008 / 12
Jamadil Akhir
1429 |
|
|
|
آف دی ریکارڈ :رانا محمدابراہیم نفیس
ranaminafees313@hotmail.com
اختتام مارچ
نو سالہ طویل ڈکٹیٹرشپ اور بنیادی انسانی حقوق ہی نہیں سیاسی،اسلامی ،اخلاقی وآئینی
حدود وقیود کو” تہہ تیغ“ کرنے والے” رانگ مارچ“ کے خلاف وکلاء،سِول سوسائٹی ،ایکس
سروس مین سوسائٹی،سیاسی تنظیموں کے لانگ مارچ کو تاریخی ،فقیدالمثال ،عظیم الشان،
انسانوں کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر یا بحربیکراں کی اُچھلتی مچلتی موجوں سے ہی کیوں نہ
تشبیہ دی جائے کم ہے ۔دیانتداری کی بات ہے کہ استحکام پاکستان اور آئین وقانون کی
پاسداری کیلئے غیرسیاسی تنظیم وکلاءکی جدوجہد اور کامیابی کی لازوال ،بے مثال روح
پرور داستان ہے اور عوامی استقبال کا ایک” شاندار ریکارڈ“ہے ۔جس نے اپنی شائستگی ،اخلاق
،تحمل وبردباری سے عوامی سیل رواں کے جوش وخروش کوکنٹرول میں رکھتے ہوئے لانگ مارچ
کے کارواں کو رواں دواں رکھا ۔کراچی سے کمانڈو مشرف کی پناہ گاہ تک نہ کوئی شیشہ
ٹوٹا ،نہ کہیں افراتفری پھیلی ،نہ دُھواں اُٹھا ،نہ چنگاری سُلگی ،نہ ٹائر جلا ،نہ
ٹریفک بلاک ہوئی ۔یہ اگر جمہور کا ”سیاسی شعور “نہیں تو اور کیاہے۔؟؟
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ لانگ مارچ کے جلسہ عام کے بعددھرنا دیے بغیر” اختتام
مارچ “کا اعلان کرنے میں کس کا قصور ہے ۔تو اِسکو سمجھنے کیلئے بہت دور جانے اور”
اٹکل بچو “لڑانے کی ضرورت نہیں ہے۔ایک لحاظ سے یہ بات درست ہے کہ دھرنا دینے بارے
پالیسی کو ابہام میں کیوں رکھا گیا ۔یہ دعویٰ کیوں کیا گیا کہ ہم آمر کو قصرِصدارت
سے نکال کر لوٹیں گے ۔اور پھر جب چشم فلک نے یہ منظر دیکھا کہ بڑے ،بوڑھے ،جوان ،بچے
حتیٰ کہ عورتیں بھی شیر خوار بچوں کو گود میں لیے بیک آواز ”گومشرف گو“کے نعرے
لگارہی تھیں ۔اور لاکھوں کا مجمع رکاوٹیں روندتا ،پھلانگتا قصرِصدارت کے گھیراﺅ کو
بے تاب ہورہاتھا تواُسے اچانک واپسی کا حکم سُنا دیاگیا”کھایا نہ پیا ،گلاس توڑا
بارہ آنے “یہ واقعی ایک صدمہ دینے والی بات تھی ۔تبھی تو بعض منچلے اور زیادہ
جذباتی وکلاءنے اس فیصلہ کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرایاجبکہ ایکس سروس مین
سوسائٹی نے ایمبیسی روڈاسلام آباد میں ابھی تک ”دھرنا کیمپ “لگایا ہوا ہے۔
چودھری اعتزاز احسن ،علی احمد کرد ،منیراے ملک ،جسٹس (ر)طارق محمود ،حامدخان اور
دیگر وکلاءلیڈروں کی موجودہ تحریک میں راست گوئی، دیانتداری ،اپنے پیشے سے کمٹمنٹ
اور جدوجہد سے کوئی ناقد بھی انکار نہیں کرسکتا۔انہوں نے جس مہارت ،ذمہ داری سے
اتنے طویل لانگ مارچ کی قیادت کی اور ہرطرح کی افواہ ساز فیکٹریوں کی” شرارت“ کو
ناکام ونامرادکیا ۔یہ کیسے ہوسکتا تھا کہ وہ” کامیاب آغاز“سے عظیم الشان اختتام کو
پہنچ کرخود” اپنے ہی ہاتھ“ کاٹ دیتے ۔بغیر انتظام وانصرام اور راشن پانی کے بغیر
لاکھوں لوگوں کو بھوکے ،پیاسے کھُلے آسمان اور چلچلاتی دھُوپ میں عورتوں بچوں سمیت
ننگی سڑکوں پربیٹھنے کی ”آزمائش“میں ڈال دیتے ۔ایسی حالت میں جبکہ غیور اور خوددار
عوام نے جُوس اور کھانے کے ”سرکاری اعلان “اورانتظام کو بھی قبول کرنے سے انکار
کردیا تھا۔انسانی فطرت کے تقاضے انسانی ”مجبوری“ ہیں۔وہاں لاکھوں لوگوں کے اس
امتحان میں کیا آئینی سلطان نے قصرِصدارت کے ،ایم این اے حضرات نے پارلیمانی لاجز
کے،اسپیکر قومی اسمبلی نے اسمبلی ہاﺅس کے گیٹ کھُلے رکھے ہوئے تھے کہ” اہلََا
وسھلََا مرحباََ “ہمارے باتھ روم اور ٹائلٹ حاضر ہیں وہاں تو کنٹینروں نے روڈ بھی
بلاک کررکھے تھے پھر عوام کہاں جاتے۔؟؟
زمینی حقائق کا ادراک کرنا اور اُن حقائق کو قبول کرنا یہی ایک” اہل“ لیڈرشپ کی
نشانی ہے۔قوم کے جوش جنوں کو اندھا دھُند استعمال کرتے ہوئے اُسے بے سروسامانی کے
عالم میں بھوک پیاس سے بے حال کردینا بہرحال” عقلمندی “نہیں تھی۔یہی وجہ ہے کہ
چودھری اعتزاز احسن اور اُنکی ٹیم ،سِول سوسائٹی کے ذمہ داروں اور سیاسی پارٹیوں کے
لیڈروں نے قصرِصدارت کے پناہ گزین کو جس کو ”شکوہ“ ہوتا تھا کہ میری کھڑکی سے کوئی
احتجاج کرنے والا نظر نہیں آتا۔اس عظیم لانگ مارچ سے واضع ”پیغام“ دیا کہ ملک وقوم
کو آپکی خدمات کی ضرورت اب باقی نہیں رہی ۔یہ لانگ مارچ بنیادی طور پر ایک اخلاقی
اور سیاسی ریفرنڈم تھا جس میں پوری قوم جوش وجذبے سے شامل تھی ۔جس میں پاکستان بھر
کے شہروں ،قصبوں اور دیہات تک کی نمائندگی تھی ۔ایک دنیا نے دیکھ لیا کہ پاکستانی
قوم” پُرامن“ طریقے سے غاصب کے خلاف اتنا ”طویل مارچ “بھی کرسکتی ہے۔جس میں درخت
کاایک پتہ بھی نہ ٹوٹے اس سے بڑی کامیابی اور کیا ہوسکتی ہے۔؟؟
بی بی سی نے کیا خوبصورت تبصرہ کیا ہے کہ 14جون کی شب اسلام آباد میں5لاکھ افراد
جمع ہوئے یا بیس ہزار ،دھرنا دیناچاہیے تھا یا نہیں، ان باتوں اور دعوﺅں کے برعکس
لانگ مارچ نے کئی ایسے زاویے واضع کیے ہیں جو اب تک” دھندلے“ تھے۔عام آدمی اس قابل
ہوگیا ہے کہ وہ عوامی نمائندگی کے روایتی اشارے سے بے نیاز ہوکر مایوسی ،لاچاری میں
گھِرے ہونے کے باوجود” پُرامن“ لانگ مارچ میں نکل پڑے۔اور حکومت کو کچے پکے اور
آدھے پونے وعدے پورے کرنے کی مہلت بھی دےدے۔حصول انصاف کیلئے جون کی دوپہر کی
صعوبتیں گلے سے لگائے صرف اس ”آس “پر کہ انصاف ہوگا تو شاید اُسے بھی اپنے حصے کی
ایک روٹی مل جائیگی۔اور جنگل کا قانون ہوگا تو طاقتور اُس کا فاقہ ،تن کا ننگ ،بے
گھری اور عزت بھی بیچ کھائیگا۔عام آدمی کواب اقتصادی وقانونی موشگافیوں سے قائل
نہیں کیا جاسکتا اس پر سب کچھ کھُل چکا ہے۔یہ ازبس ضروری ہے کہ ایسے لشکر سے ڈرنا
چاہیے جو ہدف تک پہنچ کرلوٹ جائے ،ایسے لشکر کے صبر اور اعتماد کو”کمزوری“ سمجھنے
کانتیجہ تاریخ میں جابجا بکھرا پڑا ہے۔ایسا لشکر ”سٹیٹس کو“کے حامیوں پرایک بار
دوبار اعتبار کرتا ہے اور تیسری دفعہ اپنانظریہ ،اپنی قیادت اور اپنا” نظام“پوری
قوت کے ساتھ لاتا ہے۔اور ریاست کے سُتونوں کواپنے ساتھ بہالے جاتا ہے۔
قارئین محترم !!کچھ ناعاقبت اندیش ہیں جو بے پرکی اُڑاتے ہیںکہ پُرامن لانگ مارچ نے
کسی کا کچھ نہیں بگاڑا۔کراچی سے خیبرتک اس لانگ مارچ کی دھڑدھڑاہٹ اور تھڑتھڑاہٹ نے
آئینی سلطان پر مواخذے اور محاسبے کی ”کپکپاہٹ “طاری کردی ہے۔اگر کسی کو شک ہے تو
خود جاکر بنفس نفیس دیکھ لے کہ کسی سے نہ ڈرنے والے کا رنگ متوقع اندیشوں کے خوف سے
کتنا ”فق“ہے کہ اب تو اُنکے پاس اتنا فارغ وقت ہے کہ وہ ایک کالم نگار کو ون ٹو ون
ملاقات کیلئے سوا گھنٹہ تک وقت دے سکتے ہیں اور وہ بھی خود بُلوا کر ”قدرت کے رنگ
نِرالے ہیں “لانگ مارچ کااہتمام وانصرام کرنے والے سارے کردار باعث تحسین وآفرین
ہیں جنہوں نے انتہائی حوصلہ وصبر کے ساتھ” جبر کے قہر “کا مقابلہ کیا اور لانگ مارچ
کا پُرامن ”اختتام مارچ“کیا۔کیا ہی کمال ہوتا اگر وکلاءکی قیادت عوام کو فقط چند
گھنٹوں کے دھرنے کی مزیداجازت بھی دے دیتی تو شاید شرکاءکے جذبات کا ”اُبال “کچھ
ٹھنڈا ہوجاتااور آمر کے ”زوال“ کی گھڑی تھوڑا اور جلدی آن پہنچتی۔بہرحال گورنر
پنجاب کایہ بیان کہ حاضری فقط بیس ہزار اور جناب زرداری کا بیان فقط تیس ہزار ،حیرت
ہے کہ دن دیہاڑے اتنی ”غیرذمہ داری“شاید اقتدار میں آکر ہرکسی کے چشمے کا نمبر بدل
جاتا ہے ۔آخرایسا کیوں ہوتا ہے کہ عوام کو خود پرہنسنے کا موقع دیاجائے ۔اتنا کھُلا
جھوٹ اور اتنا سرِعام تو پھر سیاست کیوں نہ ہو بدنام۔ ۔؟؟ |
 |
|
|