|
|
|
16 June
2008 / 10
Jamadil Akhir
1429 |
|
|
|
آف دی ریکارڈ :رانا محمدابراہیم نفیس
ranaminafees313@hotmail.com
گمشدہ اور لاپتہ افراد میں اب مزیداضافہ کیوں۔۔۔؟؟
گمشدہ اور لاپتہ افراد کا معاملہ اب کوئی ”معمہ “نہیں رہا ۔یہی وہ حساس اور پیچیدہ
کیس ہے جس کو سُلجھانے اور لاپتہ افراد کو بازیاب کرانے کے” سزاوار“مردِانکارچیف
جسٹس سپریم کورٹ افتخار محمد چودھری کی بحالی کا قوم کے متفقہ مطالبے کا معاملہ
حکمرانوں کو درپیش ہے۔سینکڑوںدین دار اور محب وطن افراد کو جو مغرب کی بیہودہ
نظریاتی یلغار ،اقتصادی سُودی بوچھاڑ اور دین اسلام کی سدابہار قدروں کو بربادکرنے
والے” ٹاﺅٹوں“ کے خلاف مزاحمت کی” ننگی تلوار“ تھے کو آدھی رات کی دستک کے بعد
پکڑکر امریکی وحشت اور بربریت کے حوالے کردیاگیا۔18سال کے نوجوان سے لےکر 80سال کے
بوڑھوں تک کو نہیں بخشا گیا۔وہ جن کی کبھی نماز قضاءنہیں ہوئی ،جو ہمیشہ باوضو رہے
،جن کی پیشانیاں اللہ کے حضور سجدہ ریزی کے نشان لیکر اُنکے ایمان کی عظمت کا اعلان
کررہی تھیں ۔اُن گمشدہ اور لاپتہ افراد کے عزیزواقارب ، لواحقین ،مائیں بہنیں ،بیٹیاں
،بیٹے ،سہاگنیں اور ماں باپ اُنکی واپسی کے قدموں کی چاپ سننے کو ”دنوں کی گنتی
“پوری کررہے ہیں۔
پاکستانیوں کو امریکیوں کے ہاتھوں بیچنا” شرمناک “تو تھا ہی ۔خیال تھا کہ شایداب
18فروری کے” خاموش انقلاب“ کے بعد ایسی لاقانونیت اور ظلم وجبر کے عذاب کا باب
ہمیشہ کیلئے ختم ہوجائیگا۔خصوصاََ اقتدار کی عوامی حکومتوں کو منتقلی کے بعد تو
کوئی ابہام باقی نہیں رہاتھاکہ خفیہ ایجنسیوں کواب بھی” من مانی“ کی اجازت ہوگی۔مگر
افسوس کمانڈومشرف کے دور کے عمل کا تسلسل ابھی تک قائم ہے۔اور بغیر وجہ بتائے ،بغیر
جرم بتائے ،بغیر وارنٹ دکھائے دین دار اور محب وطن افراد کواٹھائے جانے کا ”سلسلہ
شدومد“سے جاری وساری ہے۔یوں لگتا ہے سٹیٹ کے اندر ایک اور سٹیٹ ہے۔جس کے اپنے قانون
اور ضابطے ہیں ۔جو آئین ،دستور، منشور سے ماوراءہیں ۔یہ کون سی ایجنسیاں ہیں جو
مقامی پولیس یا انتظامیہ کوبھی اپنے آپریشن سے آگاہ نہیں کرتیں ۔کیسی دیدہ دلیری
اور زیادتی کی ”انتہا“ ہے کہ بھرے بازار سے جس کو چاہیں اُٹھالیں ،جب چاہیں ا’ٹھا
لیںاور قصور بھی نہ بتایاجائے۔اس سے بڑی” اندھیر نگری“ اور کیا ہوگی کہ محب وطن
افراد کو جبری اُٹھا لیاجائے ،اور اُنکا نام ونشان نہ ملے۔
امریکہ کاکوئی شہری دنیا میں کہیں مشکل کاشکار ہوجائے سرکاری سطح پر اُسکی خبرگیری
کی جاتی ہے۔ایک پاکستانی قوم ہی شاید” بدقسمت “ہے کہ اس کے نصیب میں ہر طرح کی
تکلیف لکھ دی گئی ہے۔یہ بھی صحیح ہے کہ ہم پورے ساڑھے آٹھ سال تک امریکہ کے اتحادی
اور روشن خیالی کے” نقیب“ رہے ہیں ۔لیکن کیا یہ بات بڑی عجیب نہیں ہے کہ اُسکی قیمت
ہم اپنے پاکستانیوں کوامریکہ کے ہاتھ” بیچ “کر وصول کررہے ہیں۔آج جہاد کو دہشتگردی
کا لبادہ اوڑھا دیاگیا ہے ۔اور کل یہی امریکہ افغانستان میں رُوس کے خلاف اسی جہاد
کیلئے اپنے خزانوں کا منہ کھولے بیٹھا تھا۔اور اسلحہ کے انبار خود مجاہدین کو بہم
پہنچارہاتھا۔اب اگر ہوا کا رُخ بدل چکاہے اور جہاد کو نعوذبااللہ فساد کہا جارہاہے
تو کم ازکم اُن لوگوں کو ہی بخش دیاجائے جو کبھی رُوس کے خلاف جہاد میں بہت” پُرجوش“
تھے ۔کیا اُنکاسابقہ اعمال نامہ اُنکے موجودہ مواخذے کا ”سوالنامہ “بن گیا ہے ۔؟؟
گوجرانوالہ کے اڈہ گوندلانوالہ چوک میں اخوان پینٹ کے نام سے دُکانداری کرنے والے
باشرع ،ہنس مُکھ،نیک خصلت ،نیک سیرت نوجوان عنایت اللہ ارشد کو جو جماعت اسلامی کے
پُرجوش رُکن اور کبھی البدر سے بھی متعلق تھے کوگزشتہ دنوں بھرے بازار میں دن
دیہاڑے اُنکی دُکان سے سادہ کپڑوں اور ایلیٹ فورس کی وردیوں میں ملبوس مسلح افراد
سرکاری گاڑی میں” اغوائ“ کرکے لے گئے۔پہلے دوافراد سادہ کپڑوں میں دُکان میں داخل
ہوئے اُن کا نام پوچھا ۔اثبات میں جواب پاکر انہوں نے اشارہ کیا اور مسلح افراد
اُنکوزبردستی ”گھسیٹ “کر ساتھ لے گئے۔قصور اور جُرم پوچھنے پر اُنکے ساتھ بدتمیزی ،کھینچا
تانی اور زیادتی کی گئی ۔وہ دن اور آج کا دن قریب ایک ہفتہ سے کوئی خبر نہیں کہ
انہیں زمین نگل گئی یا آسمان کھاگیا۔جبکہ مقامی پولیس اور انتظامیہ واضع طور پر
”لاعلمی “کا اظہار کررہی ہے۔ایسا شخص جس کی ساکھ اور شرافت کا ہر شخص گواہ ہے اور
جوسرعام اپنا کاروبار کررہاہے اس سے تحقیقاتی ادارے جب چاہتے جہاں چاہتے رابطہ
کرسکتے تھے ،بُلا سکتے تھے،پوچھ گچھ کرسکتے تھے ۔وہ کوئی غیر ملکی جاسوس یا خودکش
بمبار نہیں تھا۔ اوراگر وہ قانون شکن ہوتا تو روپوش ہوتا یااشتہاری ہوتا۔
یہ ایک عنایت اللہ ارشد نہیں ہے ۔قوم کے کئی عنایت اللہ ارشد اور ماﺅں کے بہت سے
پھول اور لال اس روشن خیالی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔جن کا ابھی کوئی پتہ، ٹھکانہ اور
سُراغ نہیں مل رہا۔ایشین ہیومن رائٹس کمیشن جس کا مرکزی دفتر ہانگ کانگ میں ہے کی
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 52حراستی مراکز ہیں جہاں اِن لوگوں پر ٹارچر کیا
جارہاہے ۔یہ عقوبت خانے اسلام آباد ،کراچی ،حیدرآباد،جیکب آباد ،کوئٹہ ،خضدار ،تربت
،سِبی ،ڈیرہ بگٹی،کوہلو،ملتان ،راولپنڈی ،ڈیرہ غازیخان ،رحیم یار خان ،پشاور اور
چترال میں واقع ہیں۔ان افراد سے ملٹری،انٹیلی جنس ،ISI،FIA،رینجرز اور فرنٹیر
کانسٹیبلری کی جانب سے ”پوچھ گِچھ“ کی جاتی ہے۔اس کمیشن نے اقوام متحدہ اور عالمی
برادری پر زور دیاہے کہ وہ مداخلت کرکے حکومت کو” مجبور“ کریں کہ وہ ان عقوبت خانوں
سے بیگناہ لوگوں کو رہا کرائیں ۔کمیشن نے مزید یہ کہاہے کہ یہی وجہ ہے کہ یورپی
ملکوں نے کبھی سابقہ فوجی حکومت کو ہدف تنقید نہیں بنایاتھا ۔جبکہ موجودہ حکومت نے
بھی لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کرنے میں کوئی پیشرفت نہیں کی ۔جس کی وجہ سے 18فروری
کو ووٹ دیکر حکمرانوں کو کامیاب کروانے والے عوام میں مایوسی پھیل رہی ہے۔
قارئین محترم !!اگرچہ انسان سارے ایک جیسے ہی ہوتے ہیں۔کالا ہویا گورا ،عربی ہویا
عجمی وہ بنیادی طور پر گوشت پوست ،جذبات وخیالات ،خواہشات سے گندھا ہواہی تو ہوتا
ہے۔ہر انسان کے پیار کے وقار کے ”وفا “کے رشتے ہوتے ہیں ۔کیا کبھی ظلم وستم کا پہاڑ
توڑنے والوں کویہ خیال نہیں آتا کہ اگر کبھی ہمارے ایسا ہوتو کیسا ہو۔بس یہی ایک
باریک سافرق اور نہ نظر آنے والی لکیر ہے ۔جو اس طرح کے آمرانہ اور جابرانہ
ہتھکنڈوں کو اختیار کرنے والوں کو” لکیرکا فقیر“بنا کے رکھ دیتی ہے۔اگر کوئی ملک
دشمن ہے ،دہشتگرد ہے ،غدار ہے تو بھی آئین اور قانون کے ضابطے موجود ہیں ۔اُن کا
تیا پانچہ ضرور کریں بلکہ نشان عبرت بنادیں۔لیکن محض شک کی بناءپر ایک دیانتدار اور
شریف شخص کے ساتھ ایسا سلوک ہرگز ”قابل معافی “نہیں ہے۔آپ تحقیق کریں ،تفتیش کریں ،پوچھ
گچھ کریں ،عدالتی ٹرائل کریں ،آپکا حق ہے۔لیکن کسی کی عزت نفس کادامن تار تار
کرنااور ناحق خلق خدا پہ شک کا آپکو ہرگز کوئی” حق“ نہیں ہے ۔اور پھر وہ بھی اتنے
بیہودہ اور ظالمانہ انداز میں کہ کوئی” اتہ پتہ “بھی نہ چلے ۔یہ ظلم عظیم ہے اور
اللہ بلاشک وشبہ ظالموں کو ہرگز معاف نہیں کرتا ۔کیوں قارئین آپ تائید کرتے ہیں نا۔۔؟؟ |
 |
|
|