|
|
|
09
May 2008 /
3
Jamadi-ul-Awwal
1429 |
|
آف دی ریکارڈ :رانا محمدابراہیم نفیس
ranaminafees313@hotmail.com
زرداری کی تیز رفتار اور ق
لیگ کی سجھ داری
شہرت کے عرش سے اچانک زمین
کے فرش تک آجانے کی مثال اگر کسی کی” سمجھ شریف“ میں آسکے تو وہ جناب زرداری کی تیز
رفتاری کا کمال ہے ۔کل تک بلاشک وشبہ جو شخص پوری قوم کی اُمید کا تارا تھا۔وہ آج
غیر یقینی ،تذبذب اور دوراہے کا سہارا لیے ہوئے” بے کنارہ“ ہونے کو جارہاہے۔قوم نے
جواُمیدوآس اُنکی ذات سے وابستہ کرلی تھیں۔جناب زرداری کی جلدبازی ،تیزی وطراری اور
سُبک رفتاری نے عوام کی توقعات کو بُری طرح مجروح کرکے رکھ دیا ہے ”پورا چاند“ چھوُ
لینے کی خواہش نے اُنکی شخصیت ،رُعب اوردبدبہ کو ماند کرکے اورگہناکے رکھ دیا
ہے۔اُوپر سے اُنکا یہ بیان کہ اعلان مری کون سی حدیث ہے اور یہ کہ قوم نےپی پی پی
کو ججوں کے ایشو پر ووٹ نہیں دیے ۔سچی بات ہے یہ بیان محب وطن عوام کے دل پہ ایک
ظالمانہ چوٹ ہے ۔اگر اعلان مری نہیں تھا تو اُس پرونوٹ پر دستخط جناب زرداری کے تھے
یا رحمان ملک کے !!مرد کا اگر قول نہیں ہے تو پھر اُس کا ہر بول محض ”اسبغول تے کچھ
نہ پھَول “بن کے رہ جاتاہے۔
اٹھارہ فروری کو جناب زرداری کی کیا اُٹھان اور پہچان تھی ۔اور آج جناب زرداری
سیاسی لحاظ سے نہیں ذاتی اعتبار سے بھی کس پوزیشن پہ آچکے ہیں۔کم ازکم انہیں ضرور
اُس کاادراک ہونا چاہیے۔حاشیہ نشین اور دسترخوانی مصاحبین تو اُنکی ہر بات پہ”
مُستند ہے آپکا فرمایا ہوا“ حضور پُرنورکا تڑکہ ہی لگائینگے لیکن عوامی حیققت کیا
ہے۔ایک نانبائی ،حلوائی اور قصائی بھی آج ججوں کے مسئلہ پر پی پی پی کی ڈنگ ٹپائی
سیاست پر کھُلے عام سیر حاصل تبصرہ کرتا نظر آتا ہے۔یہ ٹھیک ہے کہ خدا جب حسن دیتا
ہے نزاکت بھی آجاتی ہے۔لیکن ایسا حسن کس کام کا جو دیکھنے والے کو جھُلسا دے، قریب
آنے والے کو تڑپا دے ،ہاتھ ملانے والے کو تلملادے ،ساتھ دینے والے کو گرادے ،وفا
کرنے والے کو شرما دے ،اچھی توقع رکھنے والے کو باندھ کر پھنسوا دے ،سیاسی حسن تو
یہ ہے کہ قول پر گو جان چلی جائے پرشان نہ جائے ،بات پہ ڈٹ جائے کہ ایمان نہ جائے ۔رہی
بات کہ قوم نے ججوںکی بحالی کے ایشو پہ ووٹ نہیں دیے ۔یہ جج اور مردِانکار جسٹس
محمد افتخار نہ ہوتے تو زرداری آج بھی بیرون ملک ہی سرمایہ کاری کررہے ہوتے ،پاکستان
کے بے تاج بادشاہ نہ ہوتے۔انہیں یہ بات ہرگز نہیں بھولنی چاہیے۔
ساری دنیا جانتی اور مانتی ہے کہ ن لیگ کا پی پی پی سے اشتراک موجودہ صدی کا انوکھا
اورعجوبہ قسم کا ”کھڑاک“ ہے لیکن جس جرات رندانہ اور حوصلہ قلندرانہ سے نوازشریف نے
دو قدم آگے بڑھ کر ملک کو شخصی آمریت سے نکالنے کیلئے جناب زرداری کا ساتھ دیا ،اُن
کے ہاتھ میںاپنا ہاتھ دیا۔اس میں کوئی فریب کاری ،اداکاری یا صداکاری کا” پَرتو“
نہیں تھا۔اقتدار سنبھالتے ہی پی پی پی کو شاید اپنے بے اختیار ہونے
کاکوئی ”کمپلیکس“ہوگیاجواُس نے قوم کی آوازسے بے نیاز ہوکر قصرصدارت سے محبت کی
پینگیں چڑھانا شروع کیں۔
بھانت بھانت کے بیان پی پی پیکے سیاسی قلندر دیتے رہے۔یہاں تک کہ ایک اچھے بھلے حسب
نسب اور خاندانی شخص نے بھی جناب ”آئینی سلطان “کوقومی اثاثہ بنا دیا ۔اُس بھلے
مانس سے کوئی پوچھے کہ قومی اثاثہ تو موہنجو ڈاروکے کھنڈرات بھی ہےں،ہڑپہ کے آثار
قدیمہ بھی ہیں ،جہلم کا قلعہ روہتاس بھی ہے ۔قومی اثاثے تو عجائب گھر کی زینت بنائے
جاتے ہیں۔انٹرنیشنل لیول کے اثاثے ہوں تو اُنکی منوط شدہ” ممیاں “آج بھی عبرت کا
نشان بنے ہوئے دیکھنے والوں کی حیرت کا سامان ہیں۔اور یہاں خیر سے زندہ وتابندہ صدر
کو” قومی اثاثہ“ بنا دیا گیا ہے۔اور اپنی سیاسی عقل وبصیرت کو طُرفہ تماشہ بنا
دیاگیاہے۔
جناب زرداری میں سیاسی ”یکسوئی“ کا فقدان حکمران اتحاد کیلئے بہت بڑا نقصان ہے ۔حلیفوں
کو چھوڑ کر حریفوں کے کیمپ میں جانا اگرچہ سیاست میں شجر ممنوعہ نہیں ہے ۔لیکن
قواعدوضوابط ،رکھ رکھاﺅ ،قول وفعل اور وعدے وعید میںبھی تو تضاد نہیں ہونا
چاہیے۔ابھی تو حکمران اتحاد کی ابتداءتھی ،جمعہ جمعہ آٹھ دن ہی ہوئے تھے کہ جناب
زرداری کی راہ کچھ الگ الگ سی نظر آنے لگی۔اُنکے لہجے کا جوش ،اُنکے قول کا وزن ،اُنکی
شہرت اور ساکھ دن بدِن نہ جانے کیوں کمزور ،بے وزن اور غیر مقبولیت کی ”راکھ “میں
بدلتی جارہی ہے۔پاکستان کی تاریخ کا پہلا مرحلہ ہے کہ آگ اور پانی اکٹھے ہوئے ہیں ۔اور
آگ اور پانی کا ہمیشہ سے ساتھ بھی رہاہے ۔آگ لگتی ہے تو بجھانے کو پانی کی ضرورت
پڑتی ہے۔اگر حکمران اتحاد نے دوراندیشی سے کام نہ لیا تو مُدتوں سے ستائے عوام کے
غیض وغضب سے کوئی” گریبان“ بچ نہیں پائےگا۔بہتر یہی ہے کہ عوام کے صبرکا مزید
امتحان نہ ہی لیاجائے ۔اس لیے ازبس ضروری ہے کہ جناب زرداری اپنی تیزرفتاری کو
کنٹرول کریں اس سے پہلے کہ کوئی سیاسی” شرمساری“ حکمران اتحاد کے گلے میں اٹک جائے
اور قوم پھر سے راہ سے بھٹک جائے ۔
ق لیگ جس کی بیساکھی کے سہارے اور جسکی کھڑاویں پہن کر آئینی سلطان اقتدار کے
چوبارے پہ پہنچے ۔موجودہ الیکشن میں عبرتناک اور شرمناک شکست فاش کے بعد پہلی دفعہ
کچھ کچھ سمجھداری سے کام لیتی نظر آرہی ہے ۔چودھری برادران پہلے پہل تو وضعداری
نبھانے، یاری کے تقاضے پورے کرتے رہے ۔لیکن جب خود اُنکی اپنی باری ہی آگئی تو پھر
انہوں نے کمال ہوشیاری سے قصرِصدارت کے پھندوں سے بچنے کیلئے ”عقلمندوں“ والاکام یہ
کیا کہ ظفراللہ جمالی کے باس ،شیخ رشید کے مائی باپ ،شیرافگن کے آپ جناب اور وصی
ظفر کے جدھر دیکھتا ہوں ”تو ہی توہے“آئینی سلطان کے روبرواور ہوبہو وہی گفتگو
دُہرادی ہے جو مردِانکار بن کر وجہ افتخار پاکستان بن جانے والے جسٹس افتخارمحمد
چودھری نے جی ایچ کیو میں غیراعلانیہ حراست میں آئینی سلطان کو” دُو بدُو“کہہ دی
تھی۔کہتے ہیں کہ بندر کے پاﺅںجلتے ہیں تو وہ اپنے بچوں کو ہی پاﺅں کے نیچے رکھ لیتا
ہے۔کچھ ایسا ہی حسن ظن یا گمان آئینی سلطان کو چودھری برادران کے اوپر ہوگا لیکن
”بات پہنچی تیری جوانی تک “یہ تو اُنکے وہم وگمان میں بھی نہ ہوگاکہ سیر کو سوا سیر
سے بھی پالا پڑسکتا ہے اور اب بھی” فرعون“ کے گھر موسیٰ پیدا ہوسکتا ہے۔
گو چودھری شجاعت حسین نے کئی معاملات پر آئینی سلطان سے اختلاف کیا۔لیکن اُنکی یہ
دادشجاعت کسی محب وطن قوم کی بہن ،بیٹی یا بھائی کو ہلاکت سے نہ بچا سکی ۔ ق لیگ
کوکوئی قاتل لیگ کہے ،قینچی لیگ کہے ،قحط لیگ کہے اسے صرف سیاسی اختلاف کہہ کر صرف
نظر نہیں کیا جاسکتا ۔قاتل لیگ کا ٹھپہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے ظالمانہ سانحہ
کے بعد وہ انمٹ نقش ہے جس کا ٹھپہ ق لیگ کا بھٹہ بٹھانے کیلئے کافی اور شافی ہے اور
اس کا نتیجہ 18فروری کے الیکشن میں پوری دنیا نے دیکھا۔قینچی لیگ اس لحاظ سے
کہاجاتا ہے کہ نوازشریف کی اچھی بھلی عوامی حکومت کو فضاءسے بلکہ خلاءسے
کمانڈوایکشن کرکے اقتدار کا جٹ جپھا جب جناب مشرف نے مارا تو انہی چودھری برادران
نے سیاسی قینچی چلاتے ہوئے آئینی سلطان کا” صدارتی گاﺅن“تیارکیا۔قحط لیگ اس لیے ق
لیگ پہ کوئی الزام نہیں ہے کہ اُنکے دورحکومت میں مہنگائی ،قتل وغارتگری ،چوری
ڈکیتی ،اغواءبرائے تاوان ،اشیاءخوردونوش آٹا ،چینی ،گھی کے فقدان نے عوام کو دن میں
تارے دکھادیے اور ابھی تک عوام کے ہوش ٹھکانے نہیں آرہے۔
اب جبکہ عوام کا فیصلہ آچکاہے شکر ہے کہ ق لیگ کے سیاستدان بھی” سیاسی بلوغت “کا
ثبوت دے رہے ہیں ۔اعجازالحق فرماتے ہیں سانحہ لال مسجد پر مجھے استعفیٰ دے دینا
چاہیے تھا۔مشاہد حسین سید برملا اعتراف کرتے ہیں کہ صدر مشرف نے غلطیاں کیں اور
نتیجہ ہم بھگت رہے ہیں ۔یہاں تک کہ ہر معاملہ پر ”مٹی پاﺅ“فیم سیاستدان چودھری
شجاعت حسین کایہ بیان حالات کی سنگینی اور سیاسی رنگینی کی وضاحت کیلئے کافی وشافی
ہے کہ ق لیگ کی قیادت تبدیل کرنے کا فورم ایوان صدر نہیں ہے پارٹی نے ہمیں4سال
کیلئے منتخب کیا ہے۔ہم یہ بالکل بھی نہیں سمجھتے کہ خدانخواستہ آئینی سلطان کا
حافظہ کمزور ہے ۔جو وہ یہ بھول گئے ہیں کہ وہ قوم سے اور پوری دنیا سے وردی اتارنے
کا وعدہ کرکے کئی سال نکال گئے ۔اور پھر ایک بے اختیار اسمبلی سے مزید اگلے 5سال
کیلئے خودبخود صدر منتخب ہوگئے اور جن کے مرہون منت وہ آج صدارتی جھولا جھُلا رہے
ہیں انہی چودھری برادران کو وہ صدارت سے” جھنڈی“ کرارہے ہیں تو پرویزالٰہی کا یہ
بیان کہ ہم 18گریڈ کے افسر نہیں ہیں کہ مشرف ہمیں ریٹائیرڈ کرکے گھر بھیج دے ۔سمجھدار
کیلئے تو اشارہ ہی کافی ہے۔دوسرے لفظوں میںوہ آئینی سلطان کو کہہ رہے ہیں کہ ہماری
بلی اور ہمارے ساتھ ہی میاﺅںمیاﺅں ،چیاﺅں چیاﺅں۔۔۔۔۔۔
قارئین محترم !!ہمیںیقین ہے کہ چودھری برادران کے انکارسے ایک بار پھر زمین آئینی
سلطان کے پاﺅں کے نیچے سے” کھِسکی“ ہوگی تب شاید انہیں یاد آیاہوگا کہ
پہلامردِانکار بھی افتخار محمد چودھری تھا اور یہ بھی چودھری ہیں اور اگر چودھری
اپنی لاج رکھنے پہ آجائیں تو وہ لاعلاج کینسر کی بھی” سرجری“ کرسکتے ہیں۔سچی بات ہے
کہ موجودہ آمریت کے ذمہ دار بھی چودھری برادران ہی ہیں اور اس سے گوروخلاصی اور
چھُڑانے کی ذمہ داری بھی اُنکے کاندھوں پر ہی ہے۔61سالہ پاکستان” فوجی آمریت “کے
زخموں سے چُور چُور ہے ۔اگر آج خدانے ق لیگ کے سیاستدان کویہ عقل وشعور ”بخش “ہی
دیاہے اور اُنہیں بھی آئینی سلطان کی ٹھوکر لگی ہے توتب کہیں جاکر انہیں قوم کی
تکلیف کا احساس ہوا ہے تو ہماری درخواست ہے کہ اس احساس کو زندہ وتابندہ رکھا جائے
۔فوجی حکمرانی کے مقابلہ میں بدترین جمہوریت بھی بہترین طرزحکومت ہے۔آج ضرورت اس
بات کی ہے جناب زرداری اپنے قول کی پاسداری کریں ،ق لیگ حقیقی سمجھداری کا مظاہرہ
کرے ،جناب نوازشریف اپنی سیاسی ہوشیاری کا ثبوت دیں،دیگر اتحادی بھی اپنی ذمہ داری
کو نبھائیں۔اور عوام کی آس اور اُمید جسٹس افتخار محمد چودھری کودیگر ججوں سمیت
بحال کرکے قوم کو اُنکے خواب کی تعبیر کی نوید دیں تو پھرآئندہ کوئی فوجی آمریاغاصب
کسی قاتل لیگ ،قحط لیگ یا قینچی لیگ کی مدد سے صدارتی محل کے” عقب سے نقب“ لگاکر
قوم کو یرغمال نہیں بناسکے گا۔کیوں قارئین آپکا کیا خیال ہے۔؟؟ |
 |
|
|