|
|
|
26 May
2008 / 21 Jamadi-ul-Awwal
1429 |
|
آف دی ریکارڈ :رانا محمدابراہیم نفیس
ranaminafees313@hotmail.com
عوامی ایکشن ، انتقام یا پیغام
وحشت اس قدر بڑھ چکی ہے یا انسان ”گوشت خور“ہوگیاہے۔روشن خیال پاکستان جس کیلئے
جناب مشرف نے گزشتہ آٹھ سالوںسے ”دیوانہ وار“ کوششیں کی ہیں۔انکے اقدامات اور
نظریات کی وجہ سے چند قدم آگے بڑھ کر آج کا انسان آدم خوربھی بن گیاہے۔کراچی کے لوگ
ہی سیماب فطرت یا پارہ صفت ہیں یامخصوص گرو ہ ہیں۔جو صرف اور صرف خون بہانے ،گردنیں
اُڑانے ،زندہ جلانے ،بھتہ اور تاوان دینے دلوانے اور لوگوں پر اپنی دہشت بٹھانے کا
کاروبار کرتے ہیں۔کراچی کو ”عروس البلاد “بھی کہاجاتا ہے یعنی روشنیوں کا شہر ۔لیکن
نہ جانے کون سے ”دیو“ یا جن کاسایہ اس شہر پہ پڑگیا ہے کہ آدمی اپنے سایہ سے بھی
ڈرنے لگاہے کہ وہاں اب انسانوں کو زندہ بھی جلایا جانے لگاہے۔یہ عوامی ایکشن !!انتقام
یا پیغام ۔؟؟
کراچی کا دامن بہت وسیع اور اُس کا حوصلہ بہت زیادہ ہے۔پاکستان کے تینوں صوبوں کے
لوگ وہاں بکثرت آباد اور کاروبار کررہے ہیں۔پھر یکایک کیا لال آندھی چھاگئی ہے کہ
کراچی کی تاریخ انسان کے تازہ بتازہ لہو کے چھینٹوں سے ”داغدار“ ہوگئی ہے۔ابھی تو
لوگ جسٹس افتخار کی کراچی آمد کے موقع پر بےگناہ لوگوں کی ہلاکت اور قتل عام کو
نہیں بھولے تھے کہ اب وہاں انسانوں کو زندہ جلانے کا عمل اور وہ بھی سرِعام اور اس
پہ مزید سِتم یہ کہ انسان کو پٹرول چھڑک کر چکن کی طرح روسٹ بروسٹ کرنا ،مرغ کی
سِجی کی طرح دہکتے کوئلوں کی آنچ پر بھوننا اور اُس پر محفوظ ہونا گویا حضرت انسان
واقعی وحشی بن گیا اور ہم روشن خیالی کی دوڑمیں بدمست ہوکر بے خیالی میں پتھروں کے
دور میں پھر سے چلے گئے ہیں۔اور جوعوام کو اس مقام تک پہنچانے کے ذمہ دار ہیںوہ تو
بڑے اطمینان سے ریٹائیرڈ ہونے کے باوجود آرمی ہاﺅس میں براجمان ہیں۔
یہ کوئی افغانستان کا واقعہ نہیں ہے جہاں امریکی افواج بیگناہ افغانیوں کو مجاہدین
قرار دیکر اُنکی شہہ رگ کاٹ کر اور تیزاب چھڑک کر مرغ بسمل کا تماشہ دیکھتی یا جان
کی امان دیکر ہتھیار ڈالنے والے اپنے ملک کا دفاع کرنے والے حریت پسندوں کو دھوکہ
دیکر سینکڑوں کی تعداد میں ائیرٹائٹ کنٹینروں میں بند کرکے اُنکی سانس کی ڈور توڑ
کر اجتماعی قبر میں دفن کردیتی ہیں۔بلکہ یہ روشنیوں کے شہر کراچی کی بات ہے۔ جہاں
لوگ مجمع لگائے ،دائرہ بنائے انسانوں کے زندہ جلنے کا تماشہ یوں دیکھ رہے تھے جیسے
یہ کوئی کتوں کی یا لڑاکا مرغوں کی لڑائی ہو۔انسان اپنی سطح سے اتنا بھی نیچے
گِرسکتا ہے۔یہ سوچ کر سچی بات ہے کپکپی طاری ہوجاتی اور رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہےں۔کہ
جلنے والے بھی گوشت پوست کے انسان تھے۔وہ بھی کسی کے بھائی ،چاچو ،دیور ،بیٹے یا
شاید کسی معصوم بچے کے باپ بھی تھے۔کوئی سہاگن بھی شاید ہوگی اور شاید کوئی اُنکی
بوڑھی ماں یا ضعیف باپ بھی ہوگا۔حکومت کافرض بنتا ہے کہ اُنکے لواحقین کی دادرسی
کرے ۔اور اُن اسباب کا سدباب کرے جوانہیں ڈاکو بنانے کا سبب بنے اور وہ عوامی
انتقام کا نشانہ بنے۔
یہ بالکل درست ہے کہ وہ ڈاکو تھے ،وارداتیے تھے ،سماج دشمن عناصر تھے ،معاشرے کیلئے
ناسور تھے ۔لیکن یہ کس نے لوگوں کو حق دے دیا کہ وہ خود ہی جج بن جائیں اور خود ہی
جلاد بھی ۔ایسا تو شاید آدم خور بستیوں میں بھی نہیں ہوتا ہوگا۔اُنکے بھی کچھ
قواعدوضوابط ہونگے ۔کیا ہم اُن سے بھی ابتر اور بدتر پوزیشن میں چلے گئے ہیں ۔کراچی
کراچی ہے کوئی افریقہ کے گھنے اور تاریک ترین جنگل کا کوئی علاقہ نہیں ہے جہاں
تہذیب وتمدن کی کوئی کِرن نہیں پہنچی ۔یہاں تو ساری قوم کو روشن خیال بنانے میں
کوئی کسراٹھا نہیں رکھی گئی ۔دھوکہ بازی ،جھوٹ ،منافقت ،دوغلے پن ،لوٹااِزم ،قانون
سے کھلواڑکرنے ،آئین کا حلیہ بگاڑنے ،مدرسہ ومساجد کو گرانے ،لال مسجد میں حافظہ
وقاریہ کو کمسن بچیوں سمیت بیگناہ مروانے بلکہ فاسفورس سے زندہ جلانے تک کون سی کمی
چھوڑی گئی تھی۔اور پھربھی اُنکی تسلی نہیںہوئی تو جناب مشرف اور شوکت عزیز نے” بنفس
نفیس“ CBRکے چیئرمین کو اپنے سامنے” سانوں نہر والے پُل تے بُلا کے “ کی لے پہ
نچایا اور کھُل کر داد بھی دی۔اسکے باوجود بھی کراچی کے تازہ ترین عوامی ایکشن کے
نتیجے میں ڈاکوﺅں کی ہلاکت شاید انکی محرومیوں کاانتقام ہے یا حکمرانوں کیلئے کوئی
پیغام۔؟؟ کہ اُنکی باری بھی آنے والی ہے۔؟؟
کوئی بھی ذی شعور ،صاحب دل اورصاحب اولاد پٹرول چھڑک کر انسان کو زندہ جلانے کے عمل
کی تائید نہیں کرسکتا ۔کوئی شک نہیں عوام بھوک ،ننگ ،بے روزگاری ،مہنگائی ،ملکی عدم
استحکام ،شخصی آمریت اور ڈکٹیٹرشپ کے ہاتھوں بے آرام ہیں۔غربت کی لکیر نے قوم کو
مفلس اورفقیر بناکررکھ دیا ہے۔ایسے میں وہ بھڑکے ہوئے ہیں ،بپھرے ہوئے ہیں ،بھنائے
ہوئے ہیں ،جھلائے ہوئے ہیں اور صبر کا دامن چھوڑ بیٹھے ہیں کہ اُن کا اپنا دامن
خالی ہے۔مایوسی جب انتہا کو پہنچتی ہے تو سرکشی اوربغاوت کی ابتداءہوتی ہے۔ انسان
اپنے سامنے آنے والی ہر چیز کو توڑ پھوڑ بلکہ مڑور کے رکھ دیتا ہے۔اور ایسی
ابتداءبہت خوفناک ہوتی ہے جو ہرغیرآئینی قوت کو بہالے جاتی ہے۔اور یہ تب ہوتا ہے جب
انصاف نہیں ملتا ،ظلم کی اخیر ہوجاتی ہے ۔تبھی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا
کہ کوئی ملک کفر کی وجہ سے تو باقی رہ سکتا ہے لیکن ظلم کی وجہ سے نہیں۔ کیا
خدانخواستہ ہم فناءکی طرف جارہے ہیں۔؟؟
جُرم سے نفرت کرو مجرم سے نہیں ۔کہ جُرم کبھی بھی کسی سے بھی نہ چاہتے ہوئے بھی
انجانے میں سرزد ہوسکتا ہے۔لیکن مجرم کو سزادینے کا اختیار فقط اور فقط متعلقہ
اداروں کو ہے”جس کی لاٹھی اُسکی بھینس “والا جنگل کا قانون توہمارے ملک میں
حکمرانوں کی حد تک گزشتہ 61سال سے چل رہاہے ۔لیکن اگر یہ عوامی سطح تک آگیا تو اس
کا کیا خوفناک اور بھیانک نتیجہ نکلے گا ۔اس کیلئے کسی ”ارسطو یا بقراط“ کی ضرورت
نہیں ہے ۔عوام کا موڈ بدل رہاہے ،اُنکے صبر کا پیمانہ چھلک رہاہے۔تبھی تو اُنکے
ہاتھ جہاں بھی ڈاکو لگے وہ اپنی محرومیوں ،نااُمیدیوں اور مایوسیوں کی انتہا کو
پہنچنے پر انہیں جلاکر راکھ کردیتے ہیں ۔کیا عقل مندکیلئے اتنا اشارہ کافی نہیںہے
کہ لوگ اب اپنے حقوق پہ شب خون مارنے والوں کو زندہ چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہےں۔یہ
جوانتقام کی چنگاری سُلگی ہے وہ ناجائز طریقے سے اقتدار پر قبضہ کرکے براجمان ہونے
والے حکمران کو بالکل صاف شفاف اور سیدھا پیغام دے رہی ہے کہ اب ”اس سے زیادہ“ ہرگز
نہیں۔لہٰذا ابھی بھی وقت ہے اس سے پہلے کہ معاشرتی ڈاکوﺅں کے بعد سیاسی لٹیروں
اورقومی مجرم وڈیروں کی باری آجائے اور امریکی یاری بھی کسی کام نہ آسکے وہ عوام کی
جان چھوڑ دیں ۔وگرنہ عوامی انتقام سے تو یہ صاف پیغام مل رہاہے کہ اب نہ کوئی مشکوک
جبہ ودستار بچے گی اور نہ ہی” میں ہی میں“کا راگ الاپنے والا قلندر ۔اور میں میں کے
مقدر میں تو ہمیشہ سے فرشتہ اجل کی ہی قربت ہوتی ہے۔کیوں قارئین میںنے کچھ غلط تو
نہیں کہہ دیا ۔؟؟ |
 |
|
|