|
|
|
13
May 2008 /
7 Jamadi-ul-Awwal
1429 |
|
آف دی ریکارڈ :رانا محمدابراہیم نفیس
ranaminafees313@hotmail.com
ججوں کی بحالی، وعدوں کی پامالی
ساکھ بنانے کو ایک عرصہ درکار ہوتا ہے۔جبکہ راکھ بنانے کو فقط ایک ”ننھی سی چنگاری“
کافی ہوتی ہے۔ججز کی بحالی پر جناب زرداری کی نوازشریف سے کمٹمنٹ محض دیوانے کا
خواب یا بڑبولے کی ”بڑھک “نہیں تھی۔بلکہ قوم کی خواہشات سیاسی ورکر کے جذبات اور
عوام کو افتخار محمد چودھری کی طرف سے ملنے والی عزت نفس کی سوغات وہ وجوہات تھیں
جس کا اظہار 18فروری کے الیکشن میں عظیم اور ”خاموش انقلاب“ کی شکل میں سامنے آیا
کہ بڑے بڑے طُرم خان اپنی قباﺅں ،بڑے بڑے سیاستدان اپنی اداﺅں اور بے پیندے کے لوٹے
اپنی جفاﺅں سمیت شرمناک، عبرتناک شکست فاش کھاکر” گمنامی“ کے دلدل میں غرق
ہوگئے۔ایسے میںپی پی پی اور ن لیگ کا سیاسی اشتراک صدارتی محل کے عقب سے نقب لگانے
والے” خدائی فوجدار“ کو اضطراب کا شکار کرگیا۔نہ جانے اُس کے پاس کون سی گیدڑسنگھی
یا خوفزدہ کرنے والی بھبھکی تھی کہ اُس نے بہر حال نئے”لولی پاپ“ کی تھپکی دے کر
جناب زرداری کو اپنی” تابعداری“ پہ راضی کرلیا۔یوں بدقسمتی سے پی پی پی کے ماتھے پر
ججوں کی بحالی کے بجائے وعدوں کی پامالی کا ”جھُومر“سج گیا۔
مردِحُر کا خطاب زرداری کو جناب حمید نظامی نے مستقل مزاجی کے ساتھ قیدوبند جھیلنے
پردیاتھا۔آٹھ سال کی طویل قید میں یقینا انسان میں ”نکھار“ آتاہے۔جناب زرداری کے
دامن پرلگے کرپشن کے داغ ہونے کے باوجود ”آئینی سلطان “کے سامنے سرنڈر نہ کرنے پر
اُنکی شخصیت کو ”بے داغ“ بناگئے۔اوپر سے محترمہ کی المناک ہلاکت نے پی پی پی کے
ورکر کے جوش جنوں میں اضافہ کردیا۔عوام جوایک عرصہ سے کسی محب وطن سیاستدان کی راہ
تک رہے تھے۔انہوں نے پاکستان کی دوبڑی حقیقی عوامی نمائندہ سیاسی پارٹیوں کو تاریخی
مینڈیٹ دیا۔لیکن یہاں جناب زرداری بھول گئے کہ یہ ساری تحریک اور سیاسی گرماگرمی کا”
منبع “کون تھا۔اس احتجاجی تحریک سے عوام کے دِلوں تک دستک دینے والے کون تھے۔یہی
کالے کوٹوں والے وکیل اور پھر بتدریج سیاسی پارٹیاں اور سول سوسائٹی اور آخر
کارآئینی سلطان کا ”چارونا چار،وردی کاہتھیار “بھی بیکار ہوگیاتو اب یہ کہناکہ عوام
نے ہمیں روٹی ،کپڑا اور مکان پر ووٹ دیے ۔گُستاخی معاف !!وہ تو جناب بھٹو اور
دودفعہ محترمہ بھی برسراقتدار آکر نہیں دے سکیں۔جناب زرداری کوچاہیے کہ کم ازکم گھر
میں ہی مشورہ کرلیا کریں ۔اُنکے وزیراعظم یوسف رضاگیلانی جانتے اور مانتے ہیں کہ
روٹی ،کپڑا اور مکان کے علاوہ ججوں کی بحالی پرپی پی پی کو ووٹ ملے۔
جناب زرداری کی ججز کی بحالی کے معاملہ پرغیرذمہ داری اور صدارتی کیمپ کی تابعداری
نے پی پی پی کو غیراعلانیہ سرکاری پارٹی بنادیاہے۔انہوں نے کمال ہوشیاری سے پہلے
جناب نوازشریف کے ساتھ الحاق کیا۔نوازشریف نے پورے اخلاص کے ساتھ غیرمنطقی، غیرطبعی
اتحاد ہونے کے باوجود زرداری کو اپنا ہاتھ پیش کیا۔نتیجے میں جناب زرداری نے
نوازشریف کے ساتھ ”ہاتھ“ کردیا۔آمریت کاوہ سومنات جو 18فروری کے ووٹ کی چوٹ سے نیم
مدہوش بلکہ بیہوش ہوچکاتھا۔جناب زرداری کے” ڈنگ ٹپاﺅ تے مٹی پاﺅ“فلسفہ کی وجہ سے
پھراپنے قدموں پہ کھڑا ہوچکاہے۔اور عوام کے مینڈیٹ کے ساتھ ایک بار پھر قانونی
موشگافیوں ،اختیارات کی تیزی طراریوں ،لولی پاپ کے لالچ کی مکاریوں سے کھلواڑ کیا
جارہاہے۔اور تکلیف دہ بات یہ ہے کہ جناب زرداری عوام کی خواہشات کے برخلاف اسے
”نارمل“ اندا زسے لے رہے ہیں۔اوریہ بھول رہے ہیں کہ وہ صدارتی محل کے جھُولے کی جن
تنی ہوئی رسیوں پہ جھُول رہے ہیں اُنکی ہرگرہ اور بل سے بیگناہوں کا” تازہ خون“ ٹپک
رہاہے۔
اقتدار واختیارکے کردوفر ،پروٹوکول کے طلسماتی نظارے ،ہٹوبچو کے خوش کُن للکارے ،جی
حضوری اور یس سر یس سر کے دلفریب ہلکورے، محلاتی غلام گردشوں ،دریچوں اور بالکونیوں
سے اُٹھنے والے سحرانگیز مرغولے انسان کو واقعی بے اختیار کرکے رکھ دیتے ہیں ۔لیکن
عوام کے لاشوں پر ،اُنکی قربانیوں کے بل بوتے پر جب اقتدار کاکمال حاصل ہوگیا تو
عقل وشعور پہ نہ جانے کیوں ”زوال “آگیا کہ سوچ کا زاویہ ہی بدل گیابلکہ بصیرت اور
بصارت کا کانٹا بھی بدل گیا۔اتنی تیزرفتاری کہ ہاتھ میں موجود اتحاد کے ثمرات کو
بھول کر اُڑتے پنچھیوں کے شکار کے حصول میں مشغول اپنی ساکھ خطرات میں ڈالنے پر اور
قوم کو اضطراب کا شکار کرنے پہ تیار ہوگئے۔سرکاری ،درباری گوئیے ،مطلب پرست خوشامدی
،دسترخوانی مصاحبین تو دشمن کی فوج محل کے دروازے تک آجانے کے باوجود ”سب اچھا“ کی
رپورٹ دیتے رہتے ہیں۔جناب زرداری ججزبحالی کے وعدے کی پامالی پہ خلق خدا اور پی پی
پی کا ورکر آپکو کیا کہہ رہاہے۔یہ کسی چوراہے ،دوراہے ،نانبائی ،حلوائی ،قصائی یا
کسی نائی کی دوکان پر بھیس بدل کرسنئے۔بی بی سی کا”سیریبین“ شام کے بجائے ہر عوامی
جگہ پر آپکو علی الصبح ہی سننے میں ملے گا۔
اس میں کوئی کلام یا ابہام نہیں ہے کہ سیاست کے سینے میں دل نہیںہوتا،وضعداری ،بردباری
نہیںہوتی ،قول وقرار نہیں ہوتا،وعدے کی پاسداری نہیں ہوتی ،سیاسی بے حسی کی بناءپر
ضمیر کی خلفشاری نہیں ہوتی ،دین پسند پاکستانیوں کوآدھی رات اُنکے گھروں سے اُٹھا
کر غائب کرنے پرشرمساری نہیں ہوتی،پاپی پیٹ کا جہنم بھرنے کیلئے مقروض قوم کی امانت
قومی خزانے پہ منہ ماری سے بھی ندامت نہیں ہوتی،محب وطن سیاستدانوں کوغاروں میں
ہلاک کرنے سے من میں ملامت نہیں ہوتی،مساجد ومدرسوں کو بمبارطیاروں سے اُڑانے پر بے
قراری نہیں ہوتی ،لال مسجد کے خونی آپریشن میں معصوم پھول سی کلیوں ،حافظہ ،قاریہ ،معلمات
،دینی تعلیم میں مصروف طالبات اور علماءکو فاسفورس سے جلانے ،اُنکی راکھ بنانے اور
قرآنی آیات سمیت اُنکے جسم کے لوتھڑوں کو گندے نالے میں بہانے ،بچی کھچی باقیات کو
رات کی تاریکی میں اجتماعی قبرستان میں دفنانے پر دل میں ٹیس نہیں اُٹھتی ،جگریادماغ
کی شریان نہیں پھٹتی ،فالج کا حملہ یادل کا اٹیک نہیں ہوتا تو ایساہوسکتاہے کہ
سیاست بے حسی ،بے ضمیری ،قول وقرار کے ہیرپھیر ،وعدوں کوبھولنے کا نام ہے۔لیکن جناب
زرداری 18فروری کوتو عوام نے خونخوار بھیڑیوں کے منہ پر ”اب اور نہیں “کا
چھِکوچڑھادیا تھا۔اس کے باوجود بھی آپ اُسی نظام کی لگام قبول کرکے پھرسے عوام کو
آمریت کا غلام بنانا چاہتے ہیں۔ جناب زرداری آپ بھی ۔؟؟سمجھ سے باہر بات ہے۔
قارئین محترم !!ایوان صدر بھی کہتاہے افتخار محمد چودھری بحال نہیںہوسکتے ،امریکہ
بہادر بھی کہتاہے افتخار چودھری کے علاوہ بات کرو۔یہ بات بھی پیکج میں ڈالی جاتی ہے
کہ گمشدہ افراد کا باب نہ کھولا جائے ۔یہ شرط بھی لگائی جاتی ہے کہ ”آئینی سلطان“کے
سابق تمام غیرقانونی وغیرآئینی فرمان کا”احترام“ کیاجائے ۔کبھی قبل ازوقت
ریٹائیرمنٹ کا” دُم چھلہ“لگایا جاتاہے ۔کبھی غیرملک میں من مرضی کے پیکج پر سفیر
لگانے کا ہتھیار آزمایا جاتاہے۔کبھی افتخار محمدچودھری کیلئے متوازی سپریم کورٹ
بنانے کا ذکر چھیڑا جاتا ہے ۔الغرض یہ کہ کرہ ارض کی ساری بلائیں ،کالی آندھی کی
ہوائیں بن کر مردِانکار بن کر وجہ افتخار پاکستان بن جانے والے سپریم کورٹ کے چیف
جسٹس افتخار محمد چودھری کے تعاقب میں ہیں ۔ایسے میں مردِحُر جناب زرداری کی ججز کی
بحالی پر اپنے وعدے کی پامالی انتہائی ”غیرذمہ داری“ہے ۔قبل اس کے کہ یہ خاموش
انقلاب عوامی جذبات کا” اُبال“ بن جائے اور موجودہ حکومت کیلئے ”جان وبال“ بن
جائے۔جناب زرداری کو صدارتی کیمپ کے خوش آئند خواب کے” طلسماتی اتحاد“ کا یہ سنہرا
جال توڑ دینا چاہیے ۔وگرنہ سیاست کے دامن تارتار میں فقط جھُولتے ہوئے گریبان ہی رہ
جائینگے اور سیاسی پنڈت کے چیلے چانٹے حیران وپریشان رہ جائینگے۔کیوں قارئین آپکو
بھی انقلاب کی آہٹ سنائی دے رہی ہے نا۔؟؟بتائیں تو ۔؟؟ |
 |
|
|