رابطہ رہنمائے کراچی کالم /فیچر علم و ادب خواتین اسلام صفہ اول

06 May 2008 / 29 Rabi-us-Sani 1429

آف دی ریکارڈ :رانا محمدابراہیم نفیس
ranaminafees313@hotmail.com

کشمیرسنگھ ، سربجیت سنگھ اور انصار برنی

شہ رگ پاکستان مسئلہ کشمیر تو ہمارے سابق حکمران اور” آئینی سلطان “کمال فنکاری اور چابکدستی سے کھڈے لائین لگا چکے ہیں ۔وہ ہی کشمیر جس کے تنازعہ پر پوری قوم کے خون پسینے کی کمائی سے ٹیکسوں کی شکل میں کٹوتی کرکے جمع شدہ قو می خزانے کا ایک بڑا حصہ فوج پہ صرف ہو رہا ہے ۔بلکہ سیا چن پر ہمارے فوجی نوجوان ٹھٹھرتی قیامت خیز برف باری میں اپنے قیمتی اعضاءبلکہ جانوں کا نذرانہ پیش کرکے ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کررہے ہیں ہمارا وہ مسئلہ کشمیر تو سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے باوجود حل نہ ہوپایابلکہ سرد خانوں میں” فریز “کر دیا گیا ہے۔البتہ پچھلے دنوں بھارتی جاسوس کو سرکاری پروٹو کول کے ساتھ آزاد کیا گیا ۔ یقینا اس منظر نے کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کے دلوں پر نشتر لگائے ہونگے اور اب سربجیت سنگھ جیسے دہشتگرد اور بم دھماکوں کے مجرم کی معافی تلافی کی باتیں متاثرین اورلواحقین بم دھماکہ کے لئے زخم تازہ کرنے کی” وارداتیں “ہیں ۔

کبھی کبھار انسان کو قوم کی طرف سے عزت اور احترام کا انعام مل جائے تووہ خوشی سے بے لگام ہو جاتا ہے۔پھر وہ اپنی پھر تیوں اور چستیوں سے وہ شعبدے دکھاتا ہے کہ اس کے عقل اور شعور کا فیوز بھک سے اڑ کر” ڈی فیوز“ ہو جاتا ہے۔نام نہاد عوامی حقوق کے” چمپئن “اور ایک این جی او کے سربراہ انصار برنی جنہوں نے© بھاگتے چور کی لنگوٹی ہی سہی کے مترادف چند روز کی نگران وزارت کے حصول کیلئے اپنی عزت سادات کا جوا کھیلا اور جب دانشوروں اور کالم نگاروں نے انکے اس فاﺅل کا احتساب کیاتو ”بادل نخواستہ“ انہوں نے گونگلوں سے مٹی جھاڑنے کے لئے حکومت سے کئی امور پر وضاحت طلب کرکے ”نیکوکار“ ہونا چاہا۔لیکن اس دوران انکے چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ الیکشن کے بعد انکی وزارت کا قلمدا ن پاندان کے اگالدان میں بدل گیااور وہ یوں ساری عمر حقوق انسانی کا دعویٰ کرتے کرتے ایک آمرانہ جابرانہ نظام کے کل پرزے بن کر اپنی” اصلیت “ثابت کرگئے کہ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور ہوتے ہیں۔

کسی بھی طور پر خبروں اور پرنٹ میڈیا میں اِن رہنے کی چاٹ انسان کو بعض اوقات ”دو کوڑی“کا کر کے رکھ دیتی ہے ۔شہرت کے حصول کے مریض کا جب یہ ”جنون“ شدت اختیار کرتا ہے تو وہ کار فضول کو بھی اپنا معمول بنا لیتا ہے ۔یہی انصار برنی کے ساتھ ہوا اسکو اپنے ملک کے حقوق کی پامالی نظر نہیں آتی، لا پتہ افراد کے لوحقین کے آہ و پکار سے اس کے کان بند رہے ،وکلاءکی سر پھٹو ل سے انکی آنکھیں بند رہیں، آئین اورقانون سے کھلواڑ ا نظر نہیں آتا،استقامت کے پہاڑ اور محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نظر بندی سے انہیں کوئی غرض نہیں،حرف انکار کی وجہ سے افتخار پاکستان بننے والے جسٹس افتخار محمد چودھری اور دیگر ججوں کی بچوں سمیت ناجائز نظربندی سے وہ آنکھیں پھیرے ہوئے ہیں،لال مسجد اور جامعہ حفصہ کی معلمات ،طالبات اور قرآن کریم کی حافظہ اور قاریہ کے فاسفورس سے جلے ہوئے انسانی اعضاءکے ڈھیر کو دیکھ کر انسانیت کی بلند ہونے والی چیخوں ، سسکیوں ،آہوں اور فریادوں سے بچنے کے لئے کیا انہوں نے کانوں میں روئی ٹھونس رکھی ہے۔؟ ہا ں اگر اُنکو کوئی مظلوم نظر آتا ہے تو وہ بھی پاکستان کا مجرم اور غیر ملکی جاسوس جو کبھی اسلام قبول کرنے کا اعلان کرتا ہے اورکبھی ہندوستان جاکر مسلمانوں کا مضحکہ اڑاتا ہے کہ نہیں میں ہندو ہوں اور میں نے بھارت کی بطور جاسوس خدمت کی ۔عزت اور غیرت کا یہ ایک ہی تازیانہ انصار برنی کےلئے کافی نہیں تھا کہ ا ب اسے ایک اوردہشتگرد اور بم دھماکوںمیں پاکستانیوں کی ہلاکتوں کے ذمہ وار سربجیت سنگھ سے ہمدرد ی کا مروڑ اٹھا ہے۔

کشمیر سنگھ کی رہائی کا” ایصال ثواب“ جو پوری قوم کے لئے ایک اذیت ناک عذاب تھا اور تاریخ کا بدترین باب تھا ،حاصل کرکے بھی انصا ر برنی کے کلیجے میں ٹھنڈ نہیں پڑی ۔کیا سارے سکھوں کی رہائی کااس نے ٹھیکہ لے رکھا ہے۔اور سکھ بھی وہ جو ملک اور قوم کے مجرم ہوں ۔یہ کوئی بے گناہ بھارتی شہری نہ تھے جو غلطی سے باڈر پار کر کے پاکستان میں آگئے اور پھر کشمیر سنگھ کی رہائی میں انصار برنی کو یقینا نیک کمائی بھی ہوئی ہوگی جو انہوں نے ایک کام کرکے دوسرے کا بیڑا اٹھا لیا ہے۔ہمارے ہاں ایسے ایسے عجوبے سیاستدان پائے جاتے ہیں کہ جو معافی مانگ کر ہندستان کی آغوش میںپناہ لینے چلے گئے۔وہاں محبت کی پینگیں چڑھاتے اور بھڑ کیں مارتے رہے کہ ہم ہندستانی ٹینکوں میں بیٹھ کر پاکستان آئینگے ۔ انکا یہ دیوانے کا خواب تو پورا نہ ہونے پایا لیکن اسی نسل اور قبیل کے اور بھی نمونے پاکستان میں پائے جاتے ہیں ،جن کا کام صرف اور صرف غیر ملکی دہشت گردوں اور مجرموں کو بچانا ہے ۔اور پھر کشمیر سنگھ کے اس حسن سلوک کا جواب ہمیں کیا ملا ہمارے نام نہاد خلوص کے جواب میں پاکستانی شہری خالد محمود کی کٹی پھٹی لاش جسمانی اعضاءنکال کر تابوت میں بند کر کے واہگہ بارڈر پر ہمارے حوالے کرکے بھارت نے جو ہمیں لات ماری اگر رتی برابر غیرت و حمیت انصار برنی میں ہوتی تو وہ چلو بھر پانی میں ڈوب کر مر جاتا بلکہ مرد ہوتاتو اس وہگہ بارڈر پر تا مرگ بھوک ہڑتال کرکے اپنی حماقت کی تلافی کرتا۔ کہ میںنے ایک جاسوس کو رہا کرایا ہے ۔یا کم از کم بدلے میں ہندوستان میںقید کسی نام نہاد پاکستانی جاسوس کو زندہ واپس منگوایا جاتا ۔ تب بھی کوئی بات تھی۔

اب کشمیر سنگھ کے بعد سر بجیت سنگھ کی معافی کا ہواکھڑا کیا جارہا ہے ۔بم دھماکہ کے اس مجرم کو جس نے سانگلہ ہل میں 1991 ءکو بم دھماکہ کیا اور کئی پاکستانی شہید ہوئے اس کو اب بے گناہ قرار دینے کی کو شش کی جارہی ہیں ۔سر بجیت سنگھ کا پورا خاندان شاہی پروٹو کول کے ساتھ پاکستان آیا ۔میڈیا کی بریکنگ نیوز پر بتایاگیا کہ خصوصی ملاقات کا اہتمام کیا گیا۔اور اب انصار برنی کا یہ بیان کہ سر بجیت سنگھ کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ ہندوستانی ہے اور غیر مسلم ہے ۔اور وہ اسی قصور کی 18 سال سے سزا کاٹ رہا ہے ”گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے“ گویا انصار برنی نے ہمارے عدالتی نظام کو موروالزام ٹھہرایا ہے تو اس پر توہین عدالت کا مقدمہ کرکے اسے اندر بند کیوں نہیں کیا جا تا اوپر سے یہ منطق کہ 18سال جیل کاٹنے والے کو سزائے موت نہیں د ی جاسکتی ،کیا بیہودہ اور واہیات دلیل ہے ۔یہاں پاکستان میں ہزاروں قاتل سالوں سے اپنے مقدمات کے منتظر ہیںسر بجیت سنگھ کے سر پر کوئی سینگ نکلے ہوئے ہیں یا کلغی اگ آئی ہے جو اسے بطور دہشت گرداور بم دھماکہ کے مجرم کے18سال بعد سزائے موت نہیں دی جا سکتی ۔سر بجیت سنگھ تو ابھی رہا نہیں ہو ا ۔لیکن ہندوستان سے ایڈوانس سلامی کے طو ر پر ایک اور پاکستانی محمد اکرم کی لاش واہگہ باڈر پر ہما رے حوالے کر دی ہے جو فیصل آباد کا رہنے والاتھا اور جیل میں مار دیا گیا۔

سربجیت سنگھ جسے یکم مئی کو پھانسی دی جانا تھی جبکہ انصار برنی نے دعویٰ کیا تھا سر بجیت سنگھ کو سزائے موت نہیں دی جا سکتی ۔جس کے جواب میں صدارتی ترجمان راشد قریشی نے وضاحت کی تھی صدر کے پاس سر بجیت سنگھ کی رحم کی کوئی اپیل زیر غور نہیں ہے۔سر بجیت کی سزائے موت برقرار اور پھانسی کا شیڈول تیار ہے حکومتی موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ابھی صدارتی ترجمان کے بیان کی باز گشت فضاﺅں اور ہواﺅں میں موجود ہے کہ قوم اور خصوصا متاثرین و لواحقین بم دھماکہ پریہ خبر” بجلی“ بن کر گری کہ سر بجیت سنگھ کی سزائے موت 21مئی تک موخر کر دی گئی ہے ۔اب تازہ ترین یہ کہ اس کی پھانسی غیر معینہ مدت تک موخر کر دی گئی ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ دال میں کچھ کا لا کالا بلکہ سب کالا ہی کالاہے۔ گو یا چائے کی پیالی میں جو طوفان پیداکیا گیا تھا اپنے منطقی انجام کو پہنچ رہا ہے۔اور سربجیت سنگھ کی رہا ئی میں صدارتی کیمپ بھی حلیف بن چکا ہے ۔ادھر بم دھماکہ کے متاثرین اور لواحقین نے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا ہے اور سربجیت سنگھ کی رہائی کے خلاف دھائی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے زخموں پر نمک نہ چھڑکا جائے وگرنہ ہم احتجاجاََ خود سوزی کر لینگے ۔اسکی رہائی ہمیں دوبارہ قتل کرنے کے مترادف ہے لہذا اسے جلد ازجلد پھانسی دی جائے۔سربجیت سنگھ کی پھانسی لا محدود مدت تک کےلئے مو خر کرنا اور اسکی رحم کی اپیل صدر کے زیر غور ہونا بتارہا ہے کہ اندرون خانہ سربجیت سنگھ کی کی رہائی کا فیصلہ ہو چکا ہے ۔انا للہ وانا الیہ راجعون ۔۔۔

قارئین محترم : پہلا یہ کہ بھارت سے یاری ،دلداری ،وفاداری اور رواداری کا ہمیں ہی دورہ پڑا ہے یا اس ”نیک کام“ کے وائرس کی کچھ علامات بھارتی حکمرانوں میں بھی دیکھنے میں آرہی ہیں یا ہم ہی ون وے ٹریفک چلا رہے ہیں ۔دوسرا یہ کہ شاید انصار برنی کومقبولیت راس نہیں آئی جو وہ نا معقولیت کی راہ پر چل نکلے ہیں ۔اگر انہیں بھارتی سکھوں سے خصوصا دشمن جاسوسوں اور بم دھماکوں کے مجرموں سے بہت ہی ہمدردی ہے تو زیادہ بہتر ہے کہ وہ بھارت میں ہی اپنا ٹھکانہ کر لیں ۔کہیں ایسا نہ ہو کہ احمد رضا قصوری ،نعیم بخاری ،شیر افگن نیازی، ارباب غلام رحیم کی طرح کبھی قوم کو انکی بھی کوئی خاص ادا یاد آجائے تو خدانخواستہ اپنی ٹھکائی ،منہ چھپائی کے بعد ہڈیوں کی سنکائی کے دوران وہ اقبال جرم کرتے ہوئے اعجاز الحق کی طرح یہ بیان دینے پر مجبور ہو جائیں کہ مجھے لال مسجد کے ناجائز خونی آپریشن کے بعد مستعفی ہو جانا چاہیے تھا ۔یا مشاہد حسین کی طرح کہ مشرف نے بہت غلطیاں کیں اور نتیجہ ہمیں بھگتنا پڑا ۔اب اٹارنی جنرل ملک قیوم نے بھی کہہ دیا کہ مشرف میرے دوست نہیں ۔لہذا ہمارا انصار برنی کو” دوستانہ مشورہ“ ہے کہ اے میرے دوست قبل اس کے کہ زیادہ دیر ہو جائے اور نتیجے میں ٹھو کا ٹھکائی ،ہاتھا پائی اور اٹخ پٹخ کا اندھیر مچ جائے۔وہ واپس اپنے ٹریک پر آجائیں کہ صبح کا بھولاشام کو گھر آجائے تو اسے بھولا نہیں کہتے ۔ہماری قوم کا ویسے بھی حافظہ کمزور ہے کہ وہ جلد بھول جاتی ہے ۔انسانی حقوق کا معاملہ تو اول خویش بعد درویش ، اپنے ملک میں ہی ”رفو گری“ کا بہت کام ہے ۔لیکن یہ ضروری ہے کہ آنکھیں ،کان اور ناک کام کرتا ہو۔ کیوں قارئین آپ تا ئید کرتے ہیں نا ۔؟؟

© Copyrights 2007, karachiupdates.com
E-mail:karachiweb@karachiupdates.com  contact: 0321-2422035