|
|
|
30
April 2008 /
24 Rabi-us-Sani 1429 |
|
آف دی ریکارڈ :رانا محمدابراہیم نفیس
ranaminafees313@hotmail.com
دورے یا ہتھوڑے
گنجا کیا نچوڑے اور
کیا سکھائے کہ اُس کے پاس ”اپنا “کچھ ہوتا ہی نہیں ۔جس طرح ایک بیسواءکو میک اپ کی
لیپا پوتی اور مصنوعی بالوں کی چوٹی کے ہار سنگھار سے نکھار کردُلہن ایک رات کی بنا
کر پیش کیا جاتا ہے۔جُوں جُوںتاریکی چھٹتی ہے اصلیت کی قلعی کھلتی ہے توخریدار کو
اندازہ ہوتاہے کہ اُس کے ساتھ کیا ”ہاتھ“ ہوگیاہے۔اِسے کہتے ہیں ”دھوکے کی ٹٹی
“یعنی پیتل کو سونا بناکے پیش کرنا ۔اسی طرح اگر حُسن اتفاق سے قومی خزانے کی چابی
ہاتھ آجائے تو حکمران کیسے اُس کا ”تِیا پانچہ“ کرتے ہیں کہ عقل حیران اور انسانیت
پریشان ہوکررہ جاتی ہے۔کیسے کیسے بظاہر معزز جب بے نقاب ہوتے ہیں کہ خود شرم
وحیاءکو حجاب آتا ہے۔جوں جوں آئینی سلطان کے اقتدار کی پرچھائیں سمٹتی جارہی
ہیں۔قومی خزانے کے ساتھ کھلواڑ کرنے کے حیرتناک اور شرمناک واقعات سامنے آرہے ہیں
کہ کس طرح سرکاری مال کو شیرمادر سمجھ کر ہڑپ کرجانے والے اقتدار واختیار کی
سُرمستی میں مدہوش ہوکر عوام کے خون پسینے کے ٹیکسوںسے جمع قومی خزانے کوٹیکہ
لگارہے ہیںاور فاقہ کشی سے بیہوش قوم کی امانت کو اپنے ذاتی پروگراموں اور
سیرسپاٹوں میں گلچھڑے اُڑانے پر صرف کرتے رہے ۔جبکہ عوام غربت کے ہاتھوں تنگ آکر
خودکشیاں کرتے رہے”آئینی سلطان“کے یہ غیرضروری دورے غربت کی لکیر سے نیچے زندہ رہنے
والے پاکستانی عوام پرآہنی ہتھوڑے بن کربرستے رہے۔
غریب عوام کو دورے پڑتے ہیں جبکہ حکمرانوں کودورے کرنے پڑتے ہیں ۔عوام کو فاقہ کشی
،غربت ،بھوک وافلاس ،بے روزگاری ،مہنگائی، بدامنی، بے سروسامانی ،بے اطمینانی،لوٹ
مار ،ٹینشن ،ڈپریشن ،بلڈپریشر اور سوچ بچار کی شوگر اور آٹے کے سیاپے ،تیل ،بجلی،
گیس کے بلوںکے دورے پڑتے ہیں۔جبکہ حکمرانوں کو غیرملکی یہودی ،عیسائی آقاﺅں کی قدم
بوسی ،کاسہ لیسی ،خوشامد،چرن چھُونے ،اُن کی آشیر باد حاصل کرنے کیلئے سر کے بل
اُنکے دربار میں حاضر ہونے کیلئے قومی خزانے کو دونوں ہاتھوں سے ”مجبوراََ“لُٹانے
کیلئے دورے کرنے پڑتے ہیں۔تاکہ اُن کے طوالت اقتدار اور لامحدود اختیار کا نشہ ہرن
نہ ہوجائے ۔بعض اوقات حکمران اپنی اوقات سے بھی نیچے آنے پر مجبور ہوجاتے ہیںاور”
بِن بلائے مہمان“ بن کر خود بخود غیرملکی دوروں پہ چلے جاتے ہیں ۔اور اپنے ساتھ جی
حضوریوں اور خوشامدیوں کا پورا ریوڑ بھی لے جاتے ہیں۔جو قومی خزانے پہ جہاں چاہے
منہ مارے کہ کوئی ”چھِکو“چڑھانے والا جونہیں۔
اس غریب ملک میں جہاں بُشریٰ جیسی بدنصیب عورت کوغربت وافلاس کی وجہ سے بچوں سمیت
ٹرین کے نیچے آکر ٹکرے ٹکرے ہونے کا دورہ پڑتا ہے ۔وہاں” آئینی سلطان“ کا ایک دورہ
قوم کو کس بھاﺅ پڑتاہے۔اگر کبھی کوئی حقیقی منصف اس ملک کو میسر آیا تو شاید ”آئینی
سلطان“ کو قومی خزانے کوبے بھاﺅ لُٹانے پر عدالتی باﺅ تاﺅ کا سامنا کرنا پڑا تو پتہ
چلے گا کہ ”مال مفت دِل بے رحم “کا انجام کیا ہوتا ہے۔چلیں یہ تو خواہشات ہیں اور
وہ بھی ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے ۔ہم بات کررہے تھے کہ” آئینی سلطان“ جوقوم پر
اتنے مہربان ہیں کہ انہیں اپنے پانچ سالہ ”تاریخ ساز“دور میں فقط 37غیرملکی دورے
بھگتنے پڑے ہیں۔جن پر قومی خزانے سے فقط ڈیڑھ ارب روپے خرچ ہوئے ہیں۔اور مزید ان
دوروں کی خوبصورتی یہ ہے کہ آئینی سلطان کے ساتھ خاتون اول بھی اپنی ہمجولیوںکے
ہمراہ اُنکے ہمرکاب رہیں۔
آئینی سلطان کتنے مہان ہیں کہ اپنی ذاتی کتاب کی رونمائی میں غیرملکی دورے پر تشریف
لے گئے تو وہ اُنکا مہنگا ترین دورہ تھا۔بعض اوقات تو آئینی سلطان کے من پسند ہوٹل
میں ایک رات کا قیام اور ملک وقوم کی خدمت کا انعام ہمارے فاقہ کش عوام کو محض
اٹھارہ لاکھ روپے میں پڑا۔ وزیروں، سفیروں ،مشیروں کی فوج ظفر موج اس بہتی گنگامیں
کس طرح” غسل صحت“ سے فیض یاب ہوتی رہی ۔اُس کی تفصیل کیلئے یقینا ایک کالم کی جگہ
کمیاب ہے۔جس طرح آئینی سلطان نے کمانڈوایکشن سے جہادیوں کو جھٹکے لگائے ۔دین داروں
کو پھندے لگائے ،محب وطن وکلاءاُلٹے لٹکائے ،ججوں کو بچوں سمیت نظر بند کرکے اُن پر
پہرے بٹھائے ،کراچی میں عوامی طاقت کے مظاہرے سے بیگناہ شہری مروائے ،اسلام کو
سربلند کرنے والوں کے پُرخچے اُڑائے،لال مسجد وجامعہ حفصہ میں” فاسفورس“ سے
طلباءوطالبات زندہ جلائے اس طرح وہ پاکستان کی تاریخ کے سب سے زیادہ غیرملکی دورے
کرنے والے حکمران بھی کہلائے ۔یہ اعزازنہ تو بھٹو کو حاصل ہوا،نہ گیارہ سالہ حکمران
ضیاءالحق کو نصیب ہوایہی وہ ”فرق“ ہے جوغریب کو دورہ پڑنے اورحکمران کے دورہ کرنے
میں ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات شیریں رحمان کے مطابق پاکستان میں غربت کی وجہ سے روزانہ 4افراد
کو فاقہ کشی کے دورے پڑتے ہےں تو بے اختیار ہوکر خودکشی کرلیتے ہےں۔جبکہ 74%لوگ
دوڈالر یومیہ یعنی 150روپے سے کم کی آمدن پر زندہ ہیں۔جو ایک شرمناک حقیقت ہے۔ان
مفلس اور غریب الحال لوگوں کے” آئینی سلطان“ قومی خزانے کی لتاڑ اور بچھاڑ میں”
شریک کار“ رہے ہیں۔بلکہ اس حمام میں اُنکے حواری بھی قومی خزانہ ہڑپ کرنے کی مداری
میں برابر کے ”ذمہ دار“ رہے ہیں۔جہاں غریب کا بچہ اپنا تن ڈھانپنے کیلئے چند گز
کپڑے کو اور پھول سی معصوم بیٹی عید پر ماں سے عیدی کیلئے ،پڑھا لکھا نوجوان روزگار
کیلئے اور ایک سفید پوش گھر کاسربراہ باورچی خانہ کی اشیاءخوردونوش کیلئے ترستا ہو
وہاں کے حکمران اپنی شوکت اور شان کیلئے اربوں روپے غیرضروری دوروں پر بلادریغ صرف
کرڈالیں تو عوام کو توجان ہارنے کے دورے ہی پڑیں گے ۔
قریباََ61سال سے پاکستان کے قومی خزانہ کو ڈکارنے والی جونکیں ،چمگادڑیں اور لگڑ
بگڑ چمٹے ہوئے ہیں ۔جن کامعدہ لکڑ ہضم اور پتھر ہضم قسم کا ہے۔کبھی یہ نجکاری کے
نام پر فنکاری دکھاتے ہیں ،قومی اثاثوں کو” ٹکہ ٹِنڈ“ ہتھیانے کی مداری دکھاتے
ہیں،کبھی عوامی حکومتوں کو لتاڑتے ہیں، ملک کے آئین وقانون کا حلیہ بگاڑتے ہیں،قوم
کو معاشی اور اقتصادی طور پر ”مقروض“ بناتے ہیں،کبھی روشن خیالی کے نام پر عوام کو
بہکاتے اور اُن کا ایمان بگاڑتے ہیں،عوام کومہنگائی کے انعام سے نوازتے ہیں ،اربوں
روپے کے قرضے ملی بھگت سے معاف کراتے ہیں ،غیرملکی ٹاﺅٹ بن کر جغرافیائی سرحدوں کو
پامال کراتے ہیں۔اور محب وطن افراد کو ملک سے آﺅٹ کرکے گوانتاناموبے جیل پہنچاتے
ہیں ”اَت خدا دا ویر “پھر جب عوام کو موقع ملتا ہے تو وہ ایسے مُہروںاور بے پیندے
کے لوٹوں کوووٹ کی چوٹ سے ”ناک آﺅٹ “کرکے رکھ دیتے ہیں۔
قارئین محترم!!اب جبکہ عوام کی نمائندہ حکومتیں قیام عمل میں آچکی ہیں توملکی خزانہ
لوٹنے والوں کا حساب آخر کب ہوگا۔؟ عوام پر سیاست کی دوغلی اور منافقانہ پالیسی کا
عذاب کب تک برقرار رہیگا۔؟کیا یہ حکومتیںبھی مصلحت کوشی کو اپنا کراپنے کولیگ ،حلیف
یا حریف سیاستدانوں کے گندپر ”مٹی پاﺅ“کہہ کر کرپشن کے طوفان بدتمیزی کو جاری رکھیں
گی ۔یا عوام کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے ان مچھندروں اور قلندروں کے پیٹ سے ”مال
مفت دل بے رحم “کے عنوان سے ہڑپ کیا جانے والا مال اگلوائینگی ۔؟چوکوں میں ٹکٹیاں
کب لگیں گی ،عدالتوں میں انصاف کب ملیگا،بے مقصد اورذاتی دورے کرنے والوں پر
جوابدہی کے احساس کے دورے کب پڑینگے ،ضمیر کے تازیانے اور احتساب کے کوڑے کب برسیں
گے،عوام کے مال پر ہاتھ ڈالنے والے کب بے حال ہونگے ،کب قانون کا پنجہ ان کیلئے
آہنی شکنجہ بنے گا ۔آخر کب ۔؟؟یا حکمرانوں کے غیر ضروری دورے عوام پر ہتھوڑے بن
کرہی برستے رہینگے ۔کیا عوام کا یہی پاکستان مقدر ہے ۔؟؟آخر کیوں |
 |
|
|