|
|
|
23
April 2008 /
16 Rabi-us-Sani 1429 |
|
آف دی ریکارڈ :رانا محمدابراہیم نفیس
ranaminafees313@hotmail.com
مائنس ون نہیں نمبر ون
اس میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ سچائی کچھ نہ
کچھ” کرواہٹ “ضرور رکھتی ہے ۔لیکن یہی کھٹا س اور کرواہٹ اگر اپنا رنگ دکھانے لگے
تو پوری قوم اِس کے سنگ شانہ بشانہ کھڑی ہوجاتی ہے۔ تو نتیجہ 18فروری کے عظیم اور
خاموش متوقع انقلاب کی شکل میں سامنے آتا ہے ۔اب جبکہ نمائندہ عوامی حکومتیں اپنی
”بہار“ دکھارہی ہیں اور آمریت کا سایہ سمٹ رہاہے۔تو پھر یکایک یہ دھُواں کہاں سے
اُٹھ رہاہے۔یہ چنگاری کہاں سُلگ رہی ہے ،یہ کیسا سپیڈ بریکر آگیاہے ،یہ کون سا نیا”
ڈیڈ لاک“ پیدا ہونے کا شوشہ چھوڑا جارہا ہے۔غیر یقینی اور گومگو کی کیفیت نیم دروں
نیم بروں کی اصل حقیقت کیاہے۔مائنس ون کی حماقت کی ”پھلجڑی“ چھوڑنے والوں کی عقل
شاید گھاس چَرنے گئی ہے۔ جنہیں ابھی اندازہ نہیں ہورہا کہ مائنس ون ہی تو دراصل
نمبر ون ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ اپوزیشن اور حکومت دومتضاد چیزیں ہیں۔عوامی نعرے اور انتخابی
وعدے محض وقتی اُبال اور جذباتی چال سمجھے جاتے ہیں۔مگرجب ذمہ داری سر پہ پڑتی ہے
تو اندازہ ہوتا ہے کہ دُور کے ڈھول واقعی سہانے ہوتے ہیں ۔زمینی حقیقتیں انسان کو
پکڑ کراور حکومتی مجبوریاں جکڑ کر” بے بس“ کردیتی ہیں ۔عوام جنہوں نے اپنا تن من
دھن ”وار“ کے اپنے مستقبل کے حکمرانوں کو پایہ تخت تک پہنچایا ہوتا ہے۔پھر وہ اُن
سے اپنی قربانیوں ،مہربانیوں کا صِلہ اور انعام میں محض ڈاکٹر اے کیوخان کی رہائی ،افتخار
محمد چودھری کی باعزت واپسی ،عزت نفس کے تحفظ ،آئین وقانون کی بحالی اور ملک وقوم
کے لٹیروں ،بےگناہ عوام کے قاتلوں کی گوشمالی کی شکل میں لینا چاہتے ہوںتو پھر
کمیٹیوں کا” کھڑاک “کیا معنی رکھتا ہے۔کیا میثاق جمہوریت اور اعلان مری فقط گھڑی
دوگھڑی کیلئے تھا۔؟؟
قول کی پاسداری کیلئے کسی سمجھداری یا وضعداری کی ہرگز ضرورت نہیں ہوتی بلکہ مرد
کاقول اور معاملات کا ناپ تول ہی وہ پیمانہ ہے جو کسی بھی شخص کے حسب نسب اور سِکہ
بند خاندانی ہونے کا ثبوت مہیا کرتاہے۔وگرنہ خاردار سیاست میں بہانہ بازی ،ٹھٹھ
مخول ،کردارسازی کا جھُول اور وقت نکل جانے پر آنکھیں پھیر لینے کا عمل فضول اِن سب
چیزوں نے مل کرسیاست کے صاف ستھرے معمول کو ”گدلا“ کرکے رکھ دیاہے۔جناب آصف زرداری
بنیادی طور پر جن کی یہ بھاری بھرکم ذمہ داری ہے کہ وہ جناب نوازشریف کے دوٹوک موقف
کہ ججوں کو بمعہ جسٹس افتخار کے 30دن میں بحال کیاجائےگاکو پھول چڑھائیں اور ملک
وقوم کی بہتری کیلئے عملی اقدامات اٹھاکر عوام کی نظر میں سُرخروہوجائیں۔اب اُنکے
انداز اور نکات میں لچک اور چونکہ چنانچہ کی کھٹک اوپر سے کے وزیروں کے بیانات کی
اٹخ پٹخ اور قلابازیاں اور اُلٹی گنتی کے محض توجہ طلب نکتہ پر نکتہ چینی کہیں
سیاسی طور پر بھٹک تو نہیں رہی ۔؟؟
یہ جسٹس افتخار کا حرف اِنکار ہی ہے جس کی للکار نے عوامی پکار بن کر آئینی سلطان
کے چونا گچ قلعہ کی فصیلیں ڈھادیں ہیں،بنیاد یں اکھیڑ دی ہیں،دراڑیں ڈال دی ہیں ۔خود
محترمہ بینظیر بھٹو کا چیف جسٹس کے گھر کے باہر پوری دنیا کے سامنے یہ اقرار کہ
افتخار محمدچودھری ہمارا چیف جسٹس ہے ہم اُنکو دوبارہ بحال کرینگے۔ابھی تو اُنکی
آواز کی بازگشت فضاﺅں میں ہے،ہواﺅں میں ہے۔جن کی بیگناہ ہلاکت اور سُرخی خون کے
غازے سے PPPکے ارکان کے چہرے فرط تمازت سے سُرخ ہورہے ہیں اور وہ اقتدار کے ہار
پہنے اِترا رہے ہیں۔یہ سُرخی اور شوخی محترمہ کی جان ہار دینے کا ہی” سنگھار“
ہے۔کیا خود غرضی اتنی بڑھ چکی اور مفادات اتنے عزیز ہوچکے کہ عوام کے مُوڈ ،
وکلاءکی تحریک کے زور اور بینظیر کے قول کو نظرانداز کرکے” تنہا پرواز“کی جاسکے
گی۔ناممکن ہے لہٰذا مائنس ون نہیں” نمبر ون“جسٹس افتخار محمد چودھری کی باری پہلے
ہے۔دُولہا نہ ہو تو بارات کیسی۔؟؟سردار نہ ہو تو قوم کیسی ۔؟؟اور وفاداری نہ ہوتو
دلداری کیسی ۔؟؟
رہی بات صدارتی پیکج کی اور مراعات کے لولی پاپ کی یا ملی بھگت ،انڈر ہینڈ ڈیل سے
وکلاء کی قیادت کو ذلیل کرنے کی تو اقتدار محل کے چوبارے سے اُترنے والے تمام تر ”چارے
“بیچارے ہوچکے ہیں۔61سال کے پاکستان کو اب پیکج بازی کے تماشے ،کمیٹیوں کے تشکیل کے
پٹاخے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔دوٹوک اور ٹھوس انداز میں قطعی اور آخری فیصلہ سننے کو
قوم کے کان ترس رہے ہیں۔نواز ،زرداری ،اسفندیارولی اتحاد پاکستان کا پہلا اور شاید
آخری اتحاد ہے ۔اگر اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے گئے تو عوام کا جوش وخروش وعدہ
خلافوں کو مدہوش کرکے رکھ دے گا۔جناب زرداری یہ صلیب آپکو اٹھاناپڑیگی کہ اس وقت
بلاشک وشبہ PPPپاکستان کی واحد قومی پارٹی ہے کہ ن لیگ کی قیادت تو ملک بدر تھی۔اور
اگر آپ نے جناب زرداری اپنی ذمہ داری بھرپور اور بے دھڑک پوری کردی تو یقین مانیں
یہ ملک وقوم پر PPPکا احسان ہوگا۔دوسری شکل میں” دمادم مست قلندر“ ہوگااور سب کچھ
ہوا میں اُڑ جائیگا۔
قارئین محترم !!جناب نوازشریف نے ججوں کے موقف پر واشگاف اندازاپناکر اپنی ساکھ اور
اعتماد میں کئی گنا اضافہ کرلیاہے۔جہاں تک سیاسی پارٹیوں کے خلاف مقدمات کا تعلق ہے
۔اس سے قبل بھی ثابت ہوچکاہے کہ حکومتیں سیاسی پارٹیوں کے دباﺅ کیلئے اس طرح کے داﺅ
استعمال کرتی ہیں کہ اُنکو جھکایا جاسکے۔لہٰذا سیاسی مقدمات کے سلسلہ میں PPPکو
ججوں کی بحالی پر” تحفظات “کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔آزاد عدلیہ ،بے خوف جج ،قانون
کی حکمرانی ہی تو وہ خواب ہے جس کیلئے جان ومال اور مال واسباب نذرکرکے پاکستان کی
بنیاد رکھی گئی تھی ۔لہٰذا ازبس ضروری ہے کہ پہلی ترجیح کے طور پر اپنے پہلے قول پر
حکمران اتحاد” ثابت قدم“ رہے،اور سُرخرو ہو ۔کہیں بھول کے بھی کوئی ایسی حماقت نہ
کی جائے کہ” مائنس وَن باقی ڈَن“ تو لکھ رکھیں کہ وہ گھڑی قیامت کی گھڑی ہوگی اور
پھر جو حشر بپا ہوگا وہ کسی مائی کے لال سے سنبھالا نہ جاسکے گا۔اب کوئی بچہ جمورا
”پباں پار زور “بھی لگا لے نورا کشتی نہیں چلے گی، نہیں چل سکے گی۔لہٰذا چیف جسٹس
افتخار محمد چودھری مائنس وَن نہیں بلکہ نمبر وَن اور باقی سب اُس کے ساتھ ہی ڈَن
!!کیوں قارئین آپ بھرپور تائید فرماتے ہیں نا۔؟؟ |
 |
|
|