|
|
|
19 April 2008 /
12 Rabi-us-Sani 1429 |
|
آف دی ریکارڈ :رانا محمدابراہیم نفیس
ranaminafees313@hotmail.com
موبائل فون یا
نقصانات کی تکون ۔؟؟
ضرورت ایجاد کی ماں
ہے۔اس میں کوئی کلام یا ابہام نہیں ہے۔لیکن یہ دیکھنا بھی ازبس ضروری ہے کہ اگر ہم
کسی چیز کو غیر ضروری طور پر اپنے اوپر سوار کرلینگے تو اُس کے نتائج کیا ہونگے ۔بحیثیت
ایجاد کسی بھی نئی چیز کی شروعات کی اہمیت وافادیت سے کوئی انکار نہیں لیکن اُسکا
استعمال کیسے کیا جائے یہ ایک بنیادی سوال ہے ۔ایٹم بم کا نام جہاں اپنی ہلاکت خیزی
, خوفناکی اور دہشت ناکی کا تصور لیے ہوئے ہے۔وہاں ایٹمی صلاحیت کی موجودگی دشمن کے
مقابلہ میں تحفظ اور آسودگی بھی فراہم کرتی ہے ۔گویا کسی نئی تکنیک یا مشینری کا
استعمال شجر ممنوعہ نہیں ہے۔لیکن کسی چیز کا بے تحاشہ استعمال کس طرح کسی مہذب
معاشرے کو اسلامی ،اخلاقی ،معاشی اور معاشرتی زوال کی طرف لے جاتاہے۔اُس کیلئے
موبائل فون کو ہی لے لیں جو غیر ضروری استعمال سے نقصانات کی تکون بن چکا ہے ۔
اعتدال اور میانہ روی بہترین طرزِزندگی ہے جس کی تائید وتوثیق خود نبی مکرم صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے۔ حضرت انسان اگر کبھی روٹین کی ڈگر سے ہٹ کر غیرضروری
تیزی وطراری اختیار کرے تو وہ بے اختیاری کی کیفیت میں مبتلا ہوکر کئی غلطیاں
کرجاتا ہے۔تبھی تو کہتے ہیں کہ اتنا میٹھا نہ ہوجانا کہ سب تم کو کھاجائیں اور اتنا
کڑوا نہ بن جانا کہ وہ تھُو تھُو کریں ۔یہ بھی ٹھیک ہے کہ عزیزواقارب کا آپس میں
رابطہ زندگانی کا ہی ضابطہ ہے ۔اور زندگی ملنے جلنے ،خیر خیریت پوچھنے ،حال احوال
کا خیال رکھنے کا ہی نام ہے۔لیکن ایسا بھی رابطہ کس کام کا جو ہر لمحہ آپکو ”بے
آرام“ ہی کرے اور آپکے پاس اپنے چند ذاتی لمحات بھی نہ رہیں ۔کبھی نامہ بری کیلئے
کبوتربازی کا استعمال ہوتا تھا ۔پھر پیغام رسانی کیلئے گھوڑسوار دستے حرکت میں رہتے
تھے۔یہاں تک کہ ٹیلی فون ایجاد ہوگیا اُس پرموبائل فون نے معاشرے میں ہیجان خیز
انقلاب پیدا کردیا ۔جس طرح شہد کی مکھی میٹھے پر لپکتی ہے اسی طر ح نوجوان نسل آجکل
کیمرے والے موبائل فون سے لیس ہوکر گمراہیوں کی دیس میں بھٹکتی ہے۔
ابتداءمیں موبائل فون اُمراءوروساءکے خاصے کی چیز سمجھا جاتا تھا۔لیکن رفتار زمانہ
نے اِسے یوں دوکوڑی کا کرکے رکھ دیا کہ محلے کا خاکروب کیا بلکہ بھکاری بھی موبائل
رابطے سے بروقت اپنی ڈیوٹیاں بدل کر اپنا قیمتی وقت بچارہے ہیں۔موبائل فون کنکشن کی
بہتات نے جہاں رابطے آسان کیے ہیں وہاں سکون واطمینان کے نجی لمحات میں کمی کرکے
حضرت انسان کو اعصابی ونفسیاتی طور پر پریشان کرکے رکھ دیا ہے ۔اب موبائل فون ضرورت
سے زیادہ فیشن اور دکھاوے کی چیز بن چکا ہے۔اُوپر سے نت نئے ماڈلوں کی بھرمار نے
نوجوان نسل کو بے اختیار کرکے رکھ دیاہے۔اور وہ ماڈل بدلنے کے شوق میں اپنے جیب کے
بجٹ کا دھڑن تختہ کررہے ہیں،مجموعی طورپر مالی نقصان ہورہاہے۔ لیکن مسابقت کے عمل
نے عقل وشعور کا فقدان پیدا کررکھا ہے ۔ایک شخص کے پاس پانچ پانچ کمپنیوں کے کنکشن
ہیں ۔لہٰذا وہ ایک سے زیا فون سیٹ رکھنے پر مجبور ہے ۔جبکہ ڈائل کرنے والوں کو علم
نہیں ہوتا کہ وہ کس نمبر پررابطہ کرے ۔وقت کے ضیاع کے ساتھ ساتھ فون لائنوں کے
استعمال کا دباﺅ ضرورتمندوں کیلئے رابطے کے بہاﺅ میںبھی رکاوٹ ڈالتا ہے۔
موبائل فون کابنیادی مقصد ایمرجنسی رابطہ ہے ۔لیکن ہمارے ہاں عقل وشعور ۔فہم وادراک
اور بنیادی تربیت کی کمی نے موبائل کو گویا کھانے پینے ۔پہننے اور اوڑھنے کی کوئی
چیز سمجھ لیا ہے۔مغرب والے ایڈورٹائزمنٹ کا ہتھیار استعمال کرکے مٹی کو سونا کرکے
بیچ دیتے ہیں اور ہم سادہ لوح پاکستانی اس کا حصول اپنی زندگی کا” مقصد “سمجھ لیتے
ہیں ۔شروع شروع میں جب موبائل فون ابھی (ٹکا ٹِند )نہیں ہوا تھا تو ایک لطیفہ بہت
مشہور ہوا تھا کہ ایک بوڑھی اماں طویل علالت سے شفایاب ہوکر اپنی بیٹی کے ہمراہ
ہسپتال سے باہر نکلی تو اُس نے دیکھا کہ ہسپتال کی وارڈوں ،برآمدوں ،صحن بلکہ باہر
بس اسٹاپ پر مردوخواتین حتیٰ کہ بچے بھی اپنے کانوں پر ہاتھ رکھے کھُسر پھُسر کررہے
ہیں تو اُس بڑھیا اماں نے بے اختیار ہوکر اپنی بیٹی سے پوچھا بیٹی یہ ساری قوم کو
کیا کانوں کی بیماری لاحق ہوچکی ہے۔جو ہرشخص اپنا ہاتھ کان پررکھے چل پھر رہا
ہے۔مختلف کمپنیوں کے ایک ہی نمبر کا حصول اب فیشن بن چکا اور ہر نوجوان اس کارفضول
میں مشغول ہوچکاہے۔بے احتیاطی سے اندھا دھند کنکشنوں کے اجراءمیں حقیقی صارفین کے
شناختی کارڈ کا بوگس استعمال کرکے نامعلوم افراد کوکنکشن مہیا کرنا بذات خود ایک
مذموم ،تکلیف دہ اور پریشان کن عمل بن چکا ہے۔اور یہی کنکشن بم دھماکوں ،اغواءبرائے
تاوان ،بھتہ خوری اور رینٹ پہ گاڑی حاصل کرنے اور لوٹ مار کی وارداتوں میں استعمال
کیے جارہے ہیں۔جبکہ شناختی کارڈ ہولڈر کے فرشتوں کو بھی علم نہیں ہوتا کہ اچانک اُس
پر کیا آفت نازل ہونے والی ہے۔
جب زندگی سادہ سی تھی اور شرم وحیاءکی فراوانی تھی ۔بچے یوں باادب رہتے تھے کہ بڑوں
کی نظر میں نظر ڈالنا گستاخی تصور کیا جاتا تھا۔جوں جوں ترقی کا پہیہ رفتار پکڑتا
گیاانسان کا اخلاق اور مزاج بھی بگڑتا چلاگیا۔مجھے آج بھی ایک دانشور اور عالم دین
کی بات بے چین کرکے رکھ دیتی ہے ۔وہ فرمایا کرتے تھے کہ داستان ہیررانجھاکو پکے راگ
اور اونچے سُروں میں لہک لہک کر گانے والے ناعاقبت اندیش یہ کیوں نہیںسوچتے کہ عشق
معشوقی کی انہی لوک کہانیوں سے متاثر ہوکر ہرروز کوئی نہ کوئی نوجوان لڑکی گمراہی
کے راستے پہ چل کر اپنے بابل کی دہلیز پار کرکے اپنے رانجھے کی تلاش میں ماں باپ کی
عزت کو پاﺅں کی دھُول بنادیتی ہے۔اب سات پردوں میں پرورش پانے والی ہماری عفت مآب
بہن ،بیٹیاں اس موبائل فون کی گمراہ کن یلغار سے بچنا بھی چاہیں تو ممکن نہیں
ہے۔راہ چلتے نوجوان موبائل کیمرہ فون سے اُنکے فوٹو کھینچ کر کمپیوٹر کی تکنیک سے
ری مکسنگ کرکے قابل اعتراض بناکر بلیک میلنگ کیلئے استعمال کررہے ہیں۔ایک اور سنگین
اور شرمناک بات مختلف نوعیت کے بیہودہ ،واہیات پیغامات ہیں جسے روکنا آپکے بس کی
بات نہیں ہے۔اس SMSکے پیچیدہ جال نے اخلاقیات کو بے حال کرکے رکھ دیا ہے ۔ایک شریف
النفس خاندانی اور مذہبی شخص کو جو ذہنی اور قلبی کوفت اور تکلیف ہوتی ہے فقط وہی
جانتا ہے۔ پھر موبائل کا بے جا استعمال وقت اور پیسے کا ضیاع بھی ہے۔چونکہ نوجوان
نسل کان کی کچی ہوتی ہے ۔لہٰذا موبائل فون کے بکثرت استعمال کی بیماری کچی لسی کی
طرح بڑھتی جارہی ہے۔
موبائل کے اندھا دھند استعمال نے ہر شخص کے بجٹ کو ڈسٹرب کرکے رکھ دیاہے۔طالبعلم
اپناجیب خرچ بلکہ دوپہر کی ریفریشمنٹ کی رقم بھی موبائل فون کے استعمال میں لاکر
چوراکاری میں مبتلاہورہے ہیں۔اور والدین سے کاپیوں اور کتابوں کے نام پر پیسے حاصل
کرکے اپنے دوستوں اور دوستیوں کو بہلانے اور پھسلانے میں مشغول رہتے ہیں۔جس کے
نتیجے میں انکا تعلیمی نقصان تو ہو ہی رہاہے ۔وہ وقت سے پہلے بالغ ہوتے جارہے ہیں
۔اور یہی بات انسانی فطرت کے خلاف ہے۔قدرت کاملہ نے جن اسرارورموز کو سمجھنے کیلئے
بلوغت کی عُمر کے حدودوقیود کا بطور خالق حقیقی نوجوان نسل کی بہتری کیلئے نفوذ کیا
تھا۔وقت سے پہلے اُنکی آگہی نوجوان نسل کے اخلاق ،حُسن اعمال اور نشودنما کی تازگی
اور قوت شباب کیلئے وہ سریع الاثر زہر ہے جو جوانی کی جڑوں کو کھوکھلا کررہاہے۔ یہی
وجہ ہے کہ بات بڑوں کے ہاتھوں سے نکل رہی ہے۔
موبائل فون کے ملعون پیغامات نے پورے معاشرے کی فضاءکو بے سکون کرکے رکھ دیا ہے
اوپر سے رانگ کالیں اور اُس بہانے یارانے بڑھانے کے ہتھکنڈے ریشمی پھندے بن کر
بلڈپریشر اور ٹینشن میں اضافہ کررہے ہیں۔خاندانی اور مشترکہ نظام بُری طرح متاثر
ہورہاہے۔خصوصاََمیاں بیوی میں غلط فہمیاں بڑھ رہی ہیں۔دوسری اخلاقی بیماری مِس
کالیں ہیں۔آجکل یہ فیشن عام ہے کہ مِس کال کے جواب میں دوسری طرف سے کوئی لڑکا یا
لڑکی آپ سے بیلنس لوڈکرانے کی درخواست کرنے کے بہانے یارانے بڑھا رہے ہوتے ہیں۔
موبائل فون بارے مجھے ایک چٹکلہ بہت پسند آیا کہ مِس کال کرنے والاشخص بھکاری سے
بھی بدتر ہے۔بھکاری تو پھر بھی عزت نفس رکھتا ہے کہ کم ازکم دس روپے کا سوال کرتا
ہے۔جبکہ مِس کال کرنے والاصرف ایک روپے کی بھیک مانگتا ہے۔لہٰذا معاشرے کا فرض ہے
کہ وہ ایسے بھکاریوں سے ہوشیار رہےں۔میرے خیال میں عزت داراور غیرت مند شخص کیلئے
یہ چھوٹا سا چٹکلہ ہی کافی وشافی ہے اگر وہ آئندہ سے ایسی گداگری سے توبہ کرلے
۔ویسے بھی مِس کال انتہائی کمینگی اور بخیلی کے ضمن میں آتی ہے ۔مجبوری ہو تو الگ
بات ہے۔
موبائل فون کا ایک اہم نقصان آپکی ذاتی زندگی اور پرائیویسی کے لمحات کا فقدان تو
ہے ہی اس کاایک اور نقصان یہ بھی ہے کہ جب خالق کائنات کی بندگی میں مشغول اُس کا
بندہ اُس کے دربار میں مقبول ہونے کیلئے دوران نماز اپنی پیشانی کو اُس کے آگے ٹیکے
یکسوئی اور سکون سے اپنی پریشانی سے نجات حاصل کرنے کیلئے اُس کے حضور گڑگڑا
رہاہوتا ہے تو یہ ملعون موبائل فون اپنی ٹرن ٹرن سے اُس کا سارا ارتکاز اور یکسوئی
درہم برہم کرکے رکھ دیتا ہے۔اُدھر جمعہ اور عید کی نماز ہورہی ہوتی ہے اُدھر موبائل
فون کی چیاﺅں چیاﺅں اورمیاﺅں میاﺅں ہورہی ہوتی ہے۔
رات کو بروقت سونا اور علی الصبح اُٹھنا سنت نبوی ہے ۔ماں باپ بچوں کو جلد سونے کی
تلقین کررہے ہوتے ہیں اور یہ چالاک بچے لحاف
اوڑھے نرم گرم SMSبازی میں مصروف ہوتے ہیں ۔ماں باپ سمجھتے ہیں کہ ہمارے نونہال
تھکے ماندے آرام کررہے ہیں جبکہ وہ اندر کھاتے دوسروں کو بے آرام کررہے ہوتے ہیں
۔جو بچے زیادہ کاریگر نہیں ہوتے وہ گیم کھیل کھیل کر اور کارٹونوں کو دیکھ دیکھ کر
اپنی آنکھوں کی بینائی کو داﺅ پہ لگالیتے ہیں۔اب انٹرنیٹ اور موبائل TVسسٹم نے رہی
سہی کسر نکال کررکھ دی ہے۔پوری قوم کو اعصابی اور نفسیاتی بیماری لاحق ہونے کی اصل
وجہ موبائل فون کا بے محابہ اور بے تحاشہ استعمال ہے ۔سب سے بڑی بدتمیزی ،بدتہذیبی
اورزیادتی یہ ہے کہ آپ غیرضروری کالوں ،گندے پیغامات اور فحش تصاویر کو روک نہیں
سکتے۔اس ناجائز اور بے جا مداخلت نے آپکی پرسکون زندگی کو بے سکون کرکے رکھ
دیاہے۔آپ چاہنے کے باوجود بھی اپنی بہن ،بیٹیوں کو موبائل فون کے بُرے اثرات سے
نہیں بچاسکتے ۔روشن خیالی کے یہ ثمرات ہماری نسل کی شرم وحیاءکی برکات میں دراڑیں
پیدا کررہے ہیں۔جو لمحہ فکریہ ہے!!
قارئین محترم!! موبائل فون بنیادی طور پر ایمرجنسی رابطہ ہے جو بہرحال ہر کسی کی
ضرورت نہیں ہے ۔اگر آپ اپنی نوجوان نسل اور مستقبل کے معماروں کو خصوصاََبچوںکوبے
راہ روی اوروقت سے پہلے بالغ ہونے کی گمراہی سے بچانا چاہتے ہیں تو خدارا اِسے ضرور
لگام دیں۔ نوجوان طلباءوطالبات کو ضرور احتیاط کرناچاہیے کہ اُنکی تعلیم بھی متاثر
ہو رہی ہے۔اور حکومت کو قانون بنانا چاہیے کہ کم ازکم بچونکو کسی بھی صورت موبائل
فون تک رسائی نہیں ہونی چاہیے ۔موبائل فون کا بے تحاشہ استعمال اخلاقی ،معاشی اور
معاشرتی طور پر بھی نقصان دہ تکون ہے۔خصوصاََنوجوانوں اور بچوں کیلئے تو اور بھی
سنگین ہے ۔اس سے بچنا ازبس ضروری ہے۔مغرب تو ایجادات کی بھرمار سے دولت کے انبار
اکٹھے کررہاہے جبکہ تیسری دنیا کے عوام اخلاقی لحاظ سے بیمار ہورہے ہیں۔
حیاء نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی
خدا کرے تیری جوانی رہے بے داغ |
 |
|
|