|
|
|
14 April 2008 /
07 Rabi-us-Sani 1429 |
|
آف دی ریکارڈ :رانا محمدابراہیم نفیس
ranaminafees313@hotmail.com
ڈاکٹر اے کیو خان کی رہائی،
ارباب و شیر افگن کی پٹائی
اٹھارہ فروری کے”
خاموش انقلاب“ کی کوکھ سے پھوٹنے والی اُمید کی کرن نے یوں رونمائی دی کہ محسن قوم
ڈاکٹرعبدالقدیرخان کی رہائی جزوی طور پر عمل میں آچکی ہے ۔آمریت کے چوناگچ قلعوں کی
دیواروں میں” دراڑیں “آچکی ہیں اور شخصی دہشت کا سومنات” چکناچور“ ہوچکاہے۔جُوں
جُوںجمہوریت پھلے پھُولے گی توں توں آمریت سکڑتی سمٹتی چلی جائیگی۔محسن قوم نے
واشگاف اندازمیں اعلان کیاہے کہ میں نے” دباﺅ“ کے تحت یہ الزام قبول کیا قوم وملک
کو بچانے کیلئے خود کو” قربانی کے بکرے“ کی حیثیت سے پیش کیا تھا۔چیف جسٹس افتخار
محمد چودھری کے بعد ڈاکٹراے کیوخان کابیان یہ ثابت کرتا ہے کہ اُنکے خلاف یہ
الزامات محض سازشوں کے تانے بانے ،جوڑتوڑ کے نت نئے بہانے ،محب وطن پاکستانیوں کو
”ملک دشمن ثابت“ کرنے کے افسانے، فقط اور فقط طوالت اقتدار کی خماری ،اختیارات سے
چمٹے رہنے کی بیماری اور سیاسی تنہائی کے بعداحتساب کے خوف کی” خجل خواری“ کے علاوہ
کچھ نہیں ہے۔
گزشتہ ساڑھے آٹھ سال میں جعلی اعدادوشمار ،بوگس ترقیاتی منصوبوں کی بھرمار، ملک کو
ترقی یافتہ ثابت کرنے کیلئے ملکی خزانہ بھرنے کو بطور” سیاسی ہتھیار“ استعمال کرنے
والے
جب 18فروری کی شرمناک اور عبرتناک شکست فاش کے بعد چوری چھُپے منہ چھپائے اپنابریف
کیس اٹھائے ملک سے بھاگتے پائے گئے تو پتہ چلا کہ یہ سب تو فسانہ اور خواب تھا۔ملک
گھٹنے ،گوڈے اور ناف تک ہی نہیں بلکہ کندھوں تک قرض کی دلدل میں ”غرق“ ہوچکاہے ۔اور
اگر سیاہ آمریت کی عوامی حقوق غصب کرنے کی جارحیت برقرار رہتی تو شاید ”کوہ قاف“
کاکوئی خزینہ بھی ملک وقوم کی عزت نفس کی بحالی کے نگینہ میں نہ بدل سکتا ۔وہ تو
اللہ کا شکر ہے کہ اُس نے قوم کی بے حسی اور جمود کوتوڑاتو انہوں نے اپنے حقوق کے
حصول کے وصول کرنے کا ”قبضہ گروپ“ کوجھٹکا دیا۔ میں عوام نے ووٹ کی چوٹ سے خودساختہ
حکمرانوں کی ”پِچ“ اکھاڑ کر رکھ دی۔
شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار” زوال اقتدار“کے بعد تن تنہا جب سرِبازار نکلتے ہیں تو
ایسے ہی واقعات رونما ہواکرتے ہیں۔جیسے کراچی میں سابق وزیراعلیٰ ارباب غلام رحیم
کے ساتھ ہوا۔یہ اخلاقی طور پر درست تھا یا غلط اس پہ بعد میں بات کرتے ہیں پہلے یہ
تو دیکھ لیں کہ آئین اور قانون تو پچھلے ساڑھے آٹھ سال سے ”جان کی امان پاﺅں تو عرض
کروں“ کی کیفیت میں مبتلا ہے۔12مئی 2007کوجب کراچی کی شاہراہوں پر بےگناہوں کا خون
بہہ رہاتھا ،املاک جلائی جارہی تھیں ،گاڑیاں تباہ کی جارہی تھیں ،بنکوں کو آگ لگائی
جارہی تھی،ہر طرف نقاب پوش اور ڈھاٹہ پوش کھلے عام ہتھیار لیے فائیرنگ کررہے
تھے،روڈ بلاک تھے ،لوگ جان بچائے دیوانہ وار بھاگ رہے تھے تو اس قتل عام پر ارباب
غلام رحیم کا یہ بیان کہ اس قتل عام کی تحقیقات کی ضرورت نہیں ہے شاید آئین اور
قانون کی روح کے عین مطابق تھا۔؟؟آج انہیں جوتے ،تھپڑ اور گھونسے پڑے ہیں تو انہیں
اخلاقیات کے نکات یاد آرہے ہیں۔؟؟
بلاشبہ ارباب غلام رحیم کی وزارت عظمیٰ کا دور تاریخ کا ”سیاہ ترین“ دور ہے۔جس میں
ارباب غلام
رحیم نے اپنے” گُرو“ کی جی حضوری میں کوئی کسر ادھوری نہیں چھوڑی۔یہی وجہ ہے
کہ آج جبکہ وہ سیاسی طور پر خالی ہاتھ اور بے سروسامان ہیں تو اس پسوڑی میں اُنکے
”آئینی سلطان “جوتاحال قصرصدارت میں براجمان ہیں ارباب رحیم پرخصوصی طور پر”مہربان“
ہیں۔اور ایک بار پھر”عوام کی طاقت کا اظہار“کرنے کیلئے نامعلوم افراد کی طرف سے وار
کرکے نہتے وکلاءاور بیگناہ 15انسانوں کی جان کا”تاوان“ وصول کیا گیا۔وکیلوں کے
درجنوں دفاتر ،60سے زائد گاڑیاں جلاکرراکھ کردی گئیں۔جب ارباب رحیم کوجوتے پڑے تھے
اُس وقت ارباب کے مُربی محسن کی ہی نگران حکومت تھی۔اور اُنکی حفاظت بھی اُنکی ذمہ
داری تھی۔اب جبکہ نئی جمہوری حکومتوں نے ابھی اپنا بیگ اور بستہ بھی نہیں کھولا تو
عوامی قتل عام کی ایک اور” سلامی“ 19اپریل کو دے دی گئی ،ایک ارب کا قومی نقصان کیا
گیا۔اب بھی کیا اخلاقیات کاکوئی درس باقی رہ گیاہے۔؟؟ ناجانے پٹھان اتنے ”نادان“
کیوں ہوتے ہیں جوکے کارکن آغاجاوید پٹھان نے ارباب کو محض ایک آدھ جوتے کی
سلامی دے کرسندھ میں ق لیگ کوایک” سیاسی شہید“ مہیا کردیا ہے۔وہ تھوڑا صبر کرلیتے
تو اربا ب کے جبر کا حساب بھی ہوجاتا۔
رہی بات ڈاکٹرشیرافگن کی تو پوری دنیا اور میڈیا اس بات کا گواہ ہے کہ کس طرح
چودھری اعتزاز احسن نے وکیلوں اور سول سوسائٹی کے سامنے ہاتھ جوڑے ،ترلے منتیں کیں
،اللہ کے واسطے دیے ،وہ خود تشدد کا نشانہ بنے، شیرافگن کو گندے انڈوں اور ٹماٹروں
سے بچانے کیلئے وہ خود ایمبولینس گاڑی کی چھت پر چڑھ کر مشتعل افراد کو روکتے
رہے۔لیکن بہرحال اشتعال اور غم وغصہ کی یقینا ایک لہر موجود تھی جس سے مجمع ”بے
قابو “ہواجارہاتھا۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گھنٹوں کے انتظار پر مشتمل اس کھیل
کااتنا ”طویل سکرپٹ“ کس نے لکھا۔اور جُوں جُوں میڈیا براہ راست صورتحال نشر کرتا
رہاشیرافگن کو جوتے مار کر” ایصال ثواب “حاصل کرنے والے سادہ لوح عوام کا جمِ غفیر
اکٹھا ہوتا رہا۔غور فرمائیںآئینی سلطان کایہ شیر جان بچانے کیلئے وکیل کے چیمبر میں
دبکا بیٹھا رہا۔لُطف توتب تھا کہ عوام کا سامنا کرتا لیکن یہ کیسے ممکن تھا۔عوام نے
تو 18فروری کو شیر کو”بھیڑ“ بنا کے رکھ دیا تھا۔
روشن خیال اور لبرل پاکستان بنانے کے دوران اگرچہ ”آئینی سلطان “نے پورے ساڑھے آٹھ
سال تک اپنی تلوار نیام میں نہیں رکھی ۔بلکہ وہ شمشیربکف ہوکر مجاہدین کے سراُڑاتے
رہے ۔انہیں پابجولاں کرکے گو انتاناموبے ،جیل خانے بجھواتے رہے۔محب وطن پاکستانیوں
کو نصب شب کے بعد راتوں کو گھروں سے اٹھواتے رہے۔محب وطن سیاستدانوں کو غیر مرئی
ہتھیار سے مرواتے رہے۔قوانین حدوداللہ کا مذاق اڑاتے رہے۔مدرسوں کو امریکی بمباروں
سے گراتے رہے ۔حافظ قرآن نوجوانوں کے پرخچے اُڑاتے رہے ۔لال مسجد وجامعہ حفظہ میں
خونی آپریشن کراتے رہے۔ حافظہ قاریہ ،معلمات کو کمسن پھول سی بچیوں سمیت فاسفورس
بموں سے جلاتے رہے،راکھ بناتے رہے ۔اُنکی حفاظت پر معمور نوجوانوں کے سینوں پر برسٹ
چلاتے رہے۔ اور انسانی باقیات کو بمعہ قرآنی اوراق گندے نالے میں بہاتے رہے
تومیانوالی کایہی شیرافگن نیازی اُنکی ہاں میں ہاں ملاتا” ببرشیر“بنارہا۔
ہماری قوم بھی بہت بھولی بھالی ،جذباتی اور سادہ لوح ہے۔کیا تھپڑوں کی تھپ تھپاہٹ ،گندے
انڈوںاور ٹماٹروں کی ٹھکاٹھک اور دھکم پیل کی دھکادھک سے ان دونوں کرداروں کی سیاسی
نجاست اور غلاظت عوامی اشعال کی اس جھاڑ پونجھ سے نفاست اور لطافت میں بدل چکی
ہے۔نہیں نہیں ہرگزنہیں !!یہ تو وہ گرتی ہوئی دیواریں ہیں جوسہارے ڈھونڈرہی ہیں”مرے
کوکیا مارنا“البتہ غصہ اور اشتعال کتنا نقصان دیتاہے ،کھلی آنکھوں دیکھ لیں کراچی
میںایک ارب کا نقصان ،15لاشیں ،درجنوں دفاتر ،درجنوں گاڑیاں کراچی اور میانوالی میں
وکلاءکے چیمبرخاکستر اور ابھی بھی اُن کا دل ٹھنڈانہیں ہوا۔کیونکہ مچان پر بیٹھا
شکاری بہت بڑاکھلاڑی ہے۔جب تک موجودہ عوامی نمائندے اپنے اصل ”سیاسی ٹارگٹ“کو ہِٹ
نہیں کرلیتے قوم کواپنے غم وغصہ کو قابو میں رکھنا ہوگا۔پھرکوئی آپکو چِت نہیں
کرسکتا۔ویسے کیا ہی بہتر ہوتا اگر الیکٹرانک میڈیا ارباب وشیرافگن کی جوتوں سے
پٹائی کے مناظر تسلسل سے دکھانے کے ساتھ ساتھ وکلاءپرتشدد امعہ فظہ کوگرانے ،لال
مسجد آپریشن ،ڈمہ ڈولااور باجوڑ میں امریکن بمباری ،گمشدہ افراد کا معاملہ ،بگٹی کی
ہلاکت اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی ذلالت اور افتخار محمد چودھری کی اہانت بھی ساتھ
ساتھ چلاتا اب تو اُس پرپابندی بھی نہیں ہے۔پھریکطرفہ ٹریفک کیوں ۔؟؟
قارئین محترم !!تادم تحریر نہ تو ارباب غلام رحیم کی نکسیرپھوٹی ،نہ چھنگلی کٹی ۔شیرافگن
نیازی کا سرکھُلا نہ بازوٹوٹا۔لیکن اس طرح کے عوامی احتجاج کے مقابلہ میں (جسکی ہم
پھربھی حمایت نہیں کرتے)کتنا خون خرابہ ہوچکاہے۔لگتا ہے دستانہ پوش ہاتھ والے اور
خفیہ لباس والے پھرسے” پھُرتیاں“ دکھانے کوہیں۔لہٰذا خبردار ضروری نہیں ہے کہ ق لیگ
کو سندھ اور پنجاب سے مزید ایک آدھ ”سیاسی شہید“ مہیا کیا جائے۔ہاںانہیں بھی تو
چاہیے کہ جس طرح وہ پہلے سکیورٹی کے حصار میں پناہ گزین رہتے تھے ۔اب اقتدار سے بے
اختیار ہونے کے بعد عوامی احتجاج کی یلغار اور بوچھاڑ سے بچنے کیلئے اپنی ”نیک
کمائی“سے تنخواہ دار کمانڈو رکھ لیں کہ اس سے بہتوں کا بھلاہوگاکہ عوام پہلے ہی جلے
بھُنے بیٹھے ہیں ۔کیوں قارئین ہم نے غلط تو نہیں کہا۔۔؟؟ |
 |
|
|