رابطہ رہنمائے کراچی کالم /فیچر علم و ادب خواتین اسلام صفہ اول

31 March 2008 / 22 Rabi-ul-Awal  1429

آف دی ریکارڈ :رانا محمدابراہیم نفیس
ranaminafees313@hotmail.com
 
چند لمحات ِافتخار ملت کے ساتھ

عدلیہ کی آزادی کی جدوجہدآئین کی بحالی کی جستجو کی تحریک اور خوشبو وطن عزیز کے قریہ قریہ ،بستی بستی کو بکو پھیلانے والے اور” مردِانکار“ بن کروجہ افتخار پاکستان بن جانے والے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری آج ملک کے چپے چپے ،کونے کونے میں بسنے والے پاکستانیوں کے دِلوں کی دھڑکن اُن کے خوابوں کی تعبیر اور آمریت کوبنیادوں سے اُکھاڑ دینے والی شاہکار تصویر بن کے شہرت وعزت کے آسمان پرایک ”مہان “اور ممتاز حیثیت میں براجمان ہوچکے ہیں۔موقف میں نرمی ،اصولوں پہ سمجھوتہ ،قواعدوضوابط میں لچک ،انڈرہینڈڈیل کی کوئی کھٹک یامعصوم بچوں سمیت غیرقانونی قیدکی کوئی کسک شاید بھٹک کربھی اُن کے پاس نہیں پھٹک سکتی ۔واللہ انسان ایسے بھی ہوتے ہیں ۔؟؟

کوئی کسی بادشاہ کی ہمرکابی پہ اتراتا ہے ۔کوئی کسی وزیر یا مشیر کی ملاقات کو اپنے قلم کی سیاہی کا عنوان بناتاہے۔کوئی وزیراعظم کی شان میں قصیدے سُناتا ہے۔لیکن جتنی ٹھنڈک وآسودگی ،ذہن وقلب کا سُرور افتخار ملت سے ملاقات ومعانقہ میں محسوس کیا اور پایا ابھی تک میں اُنکے خلوص ،محبت وشفقت کی رِم جھِم میں شرابور ہوں ۔بلندقامت ،کشادہ پیشانی ،لب ولہجہ چٹانی لیکن مٹھاس وشائستگی میں فراوانی ،اپنی نشست چھوڑ کر دس قدم آگے بڑھ کر مہمان کی میزبانی، مصافحہ معانقہ وگرمجوشی کی مہربانی کے ساتھ آنکھوں سے جھلکتی ہوئی ذہانت کی چمک ،مستقبل کے حوالے سے ٹھوس موقف اور عقابی لپک نے وہ رنگ بھردیے ہیں کہ قوم کویقین ہوگیاہے کہ یہ دبنگ آدمی اُنکی خواہش واُمنگ پہ پورا اُتریگا ۔کوئی سرکاری حربہ ،کوئی درباری غلبہ اُسے توڑ نہیں سکا ۔اللہ اکبر!!انسان ایسے بھی ہوتے ہیں۔؟؟

اُس کاایک انکار ساری قوم کو ”بے قرار“ کرگیا ۔یوں وہ دلدار بن گیا۔جس کا اظہار قوم نے سڑکوں پہ آکر وکلاءکے ہمراہ برملا کردیا ۔بچپن کی کہانی کے مطابق جس طرح ایک شہزادی کی جان طوطے میں تھی ۔ویسے ہی ”آئینی سلطان “کی لگام شاید مردِانکار کے ہاتھ میں تھی۔پہلے پہل حکایتیں، پھر شکایتیں اور بعدازاں بیک جنبش قلم ”جسٹس “کے ہاتھ قلم کرنے والے ”پباں پار “زور لگاکربھی افتخار محمد چودھری کا توڑنہیں کرسکے تو ۔اُسے60دیگر ججوںکی طرح بچوں سمیت گھرمیں نظربندکردیا۔خاردار تاریں ،سیمنٹ کے بڑے بڑے بلاک ،سکیورٹی کے حصار ،بکتر بند گاڑیاں ،ناکے ،مورچے یوں پاﺅں کی” دھُول“ بن گئے کہ خاص وعام وکلاءسمیت محبت وعقیدت کے پھول اٹھائے رات 12بجے بھی چیف جسٹس ہاﺅس رواں دواں تھے ۔اور سکیورٹی والے جامہ تلاشی لینے کے بعد لوگوں کا شکریہ بھی ادا کررہے تھے۔انقلاب برپا کردینے والے !!واللہ ایسے انسان بھی ہوتے ہیں ۔؟؟

اگر میں اُسے آج کامحمدبن قاسم کہوں تو بھی شاید حق ادا نہ کرپاﺅں ۔وہ غریبوں کامان ،مظلوموں کی آس ،بیگناہوں کی اُمید ،محب وطن پاکستانیوں کا رفیق ،ستائے ہوئے لوگوں کیلئے ہستی شفیق ،ٹھکرائے ،جھلائے اور بھنائے ہوئے لوگوں کیلئے ریلیف دینے کا گنہگار تھا۔اور جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنے کا ”سزاوار“تھا۔یہی وہ تکلیف تھی جس کی بے کلی حکمرانوں کوکسی کروٹ ایک پل بھی چین نہیں لینے دیتی تھی ۔وہ مغرب اور یورپ کے ہر ”ٹاﺅٹ“کو ناک آﺅٹ کرنے کا عزم رکھتا تھا۔وہ لوٹ کھسوٹ،اقرباپروری ،قومی غبن ،مالیاتی فراڈ کے مجرموں اور قومی اداروں کی خودساختہ نجکاری پہ” ضرب کاری “لگاتا تھا ۔یہی وجہ ہے اُسے اتنی بھاری قربانی دینا پڑی۔واللہ انسان ایسے بھی ہوتے ہیں۔

اُسے ڈرایا گیا ،دھمکایاگیا ۔مگرکوئی لگڑبھگڑ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکا”بات کاپکاقول کا سچا“اوپر سے خاندانی راجپوت ،نسلی اور اصلی آدمی ہو ۔اوپر سے حسب نسب والا تو ایسے انسان کو سارے جہان کے مچھندراور دوغلے مل کر بھی فقط” جنبش “بھی نہیں دے سکتے۔بیرون ملک سفارتکاری ،تاحیات پروٹوکول اور مراعات ،اہل خانہ سمیت من پسند کے ملک میں من پسند پیکج کے تحت تاحیات سرکاری خرچ پررہائش یا کم ازکم ”آئینی سلطان “کے بارے ہی لچک یا ”ہتھ ہولا“رکھنے کاکوئی خفیہ پیغام اور جواب میں ہرطرح کی عزت وانعام معہ عہدے کی بحالی کی گارنٹی ،اوپرسے برادر ہمسایہ ممالک کی وارنٹی ،لیکن پتھرمیں جونک کون لگائے ۔صرف ایک ہی للکار اور واشگاف پُکار کہ جسٹس افتخار محمد چودھری نے اصولوں پہ سمجھوتا کرنا یاآمر کے سامنے ”سرنڈر“کرنا نہیں سیکھا ۔واللہ انسان ایسے بھی ہوتے ہیں۔

قارئین محترم !!25مارچ کا تاریخ ساز دن ہے۔جب اعلان مری کے تحت نواز،زرداری کے سیاسی اشتراک کی وجہ سے وزیراعظم مخدوم یوسف رضاگیلانی نے اپنے عہدہ جلیلہ پراعتمادکا ووٹ حاصل کرتے ہی اپنے اہل ایمان ہونے کا اعلان کرتے ہوئے مردِانکارجسٹس افتخار محمدچودھری اورتمام نظربند ججوں کی رہائی کا حکم جاری کیا۔میں وزیراعظم کی مدح وستائش ابھی نہیں کرونگا کہ اُنکے عہدے کی ”آزمائش “ابھی شروع ہوئی ہے اللہ انہیں سُرخرو کرے ۔لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ انہوں نے ”مخدوم “ہونے کا حق ادا کردیاہے۔یوں پہلی بازی جیت لی ہے۔اتفاق سے ہم بھی اُس رات اسلام آباد موجود تھے ۔جب سارے راستے جسٹس افتخارمحمد چودھری کے گھر کی طرف جارہے تھے۔اُن کا لان وکلاءاور سول سوسائٹی کے ارکان سے بھرا ہوااپنی شان دکھا رہاتھا۔سکیورٹی اور مورچے ،ناکے پاﺅں کی دھُول بن چکے تھے۔عورتیں کیا بچے بھی عقیدت کے پھول ہاتھوں میں لیے اُس مردِانکار کا دیدار کرنے جارہے تھے۔جو کھُلی بانہوں سے لوگوں کو گلے مل کراُنکا شکریہ ادا کررہاتھا۔انقلاب برپاکردینے والے !!واللہ ایسے انسان بھی ہوتے ہیں۔؟؟کیوں قارئین کیا آپ نے کبھی ایسے مَردوفا سے ملاقات کی ہے۔جس نے جفا اور دغا کی ”منجھی پیڑی “ٹھوک کے رکھ دی،آمریت کی چُولیں اُکھاڑ دیں ،ڈکٹیٹر شپ کی بنیادیں ہلادیں ہوں ۔یہ مردِانکار بن کر وجہ افتخار پاکستان بننے والے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری ہیں ۔آپکو بھی اس کا اقرارہے ناں ۔؟؟؟

© Copyrights 2007, karachiupdates.com
E-mail:karachiweb@karachiupdates.com  contact: 0321-2422035