|
|
|
03 March 2008 / 25 Safar
1429 |
|
آف دی ریکارڈ :رانا محمدابراہیم نفیس
ranaminafees313@hotmail.com
جناب زرداری کی ذمہ داری اور ہوشیاری
آمریت اور ڈکٹیٹرشپ کے خلاف طبل جنگ بج چکا
ہے ”آئینی سلطان “کویمین ویُسار ،فرنٹ بیک سے مشکل ترین امتحان نے گھیررکھا ہے
اوروہ درمیان میںبے بسی سے کھڑے ہیںاورصدارت چھوڑنے نہ چھوڑنے کی ”شش وپنج “میں جکڑ
ے ہوئے ہےں۔
ایک طرف ق لیگ نے اُن کا دامن پکڑرکھا ہے تو دوسری طرف ”خاموش انقلاب“نے حشر بپا
کررکھا ہے۔اسٹیبلشمنٹ کے کھلاڑی سیاستدانوںکو ”اناڑی“ سمجھ کر جوڑتوڑ اور توڑ پھوڑ
کی ”مداری“ دکھانا چاہتے ہیں۔
لیکن اب منظریکسر بدل چکا ،اقتدار کی شام ہوچکی اوراختیارات کی لگام اُن کے ہاتھ سے
نکل چکی ،تبھی تو وہ جناب زرداری کو” صدارتی طشتری“ میں قومی اور صوبائی حکومتوں کی
”پھُلجڑی“ پیش کرکے مزید 5سال کے اقتدار کا” انعام“ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔لیکن یہ
نہیں جانتے کہ عوام ووٹ کی طاقت کی بے نیام شمشیرلیے ہوئے میدان میں ہیں بلکہ
”ٹھیکری پہرہ“ دے رہے ہیں۔لہٰذا جناب زرداری کویہ ذمہ داری بہت ہو شیاری سے نبھانے
کی ضرورت ہے۔
زرداری جن کا کل تک تعارف مسٹر10%اور پھر 50%بھی رہا ۔آج عوامی مقبولیت کی اس”
معراج“ پہ ہیں جہاں تخت وتاج کے فیصلے ہوتے ہیں۔لیکن ٹھہریں یہ مرتبہ ومقام یونہی
”بے دھیان“ ہی اُنہیں حاصل نہیں ہوا بلکہ بی بی کے” بیگناہ خون کا نتیجہ “ہے کہ
عوام کے غیض وغضب اور جنون کی وجہ سے وزارت اور صدارت تک رسائی اُنکے حصے میں آئی
ہے۔
گو بلاول آصف زرداری بھٹو کا فلسفہ” مقبولیت“ حاصل نہ کرسکابلکہ معقولیت کے درجے تک
بھی نہ پہنچ سکا۔لیکن اُس کے بعد زرداری کی میدان سیاست میں ”بے خوفی “سے آمد نے
لوٹوں ،کھوٹو ں کی ”پھِرکی“ جامدکرکے رکھ دی ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ نواز ،زرداری،
اسفنداتحاد سے ”بے دِلی“ کا شکار ہو کر آئینی سلطان کے” چلے ہوئے کارتوس“ کے
ہتھیارسے عوامی حکمرانی ،عدلیہ کی بحالی ،ڈاکٹر اے کیوخان کی رہائی میں رکاوٹ ڈال
کرسیاستدانوں کو” ناکام“ کرکے ،سازشوں کی بھینٹ چڑھاکرانہیں پھرسے مایوسی اور
تھکاوٹ میں اُلجھانا چاہتے ہیں ۔لہٰذا جناب زرداری بہت ذمہ داری اور ہوشیاری کی
ضرورت ہے۔
یہ جناب زرداری کی ذمہ داری کا اثاثہ ہے اور عوامی جماعتوں کے اتحاد اور اتفاق ،دوٹوک
موقف ،ہم آہنگی اوریکجائی کاخلاصہ ہے کہ ”آئینی سلطان“ اپنے مدح خواں قبیلہ کی
وساطت سے ہر سُو” تو ہی تو “کا دانہ ڈال رہے ہیںکہ ہم PPPکو فری ہینڈدیتے ہیں کہ وہ
ق لیگ سے مل کر حکومت بنائیں۔اسٹیبلشمنٹ طے شدہ ہے کہ اس بار کوئی کارگر وار کرنے
کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
ڈکٹیٹرشپ اور مطلق العنانی کو اپنا بینڈ بجتا اور” بے سروسامانی“ کا منظر صاف نظر
آرہاہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ زرداری کی ”سرداری “ کو بے قراری سے ہوشیاری کے ہتھکنڈے
میں اُلجھا کر انہیں راہ راست سے ہٹا کر بیوروکریسی کے” پھندے “میں پھنسا کر عوام
کی نظروں میں گرانا چاہتی ہے۔پاکستان کی تاریخ کا یہ روشن باب ایک چمکتے ہوئے آفتاب
اور دمکتے ہوئے ماہتاب کی طرح ہے۔جسے افسر شاہی زیرآب لاکر قوم کو پھر سے” غرقاب
“کرنا چاہتی ہے۔لہٰذا جناب زرداری بہت ذمہ داری اور ہوشیاری کی ضرورت ہے۔
وَاللہ ہمPPPکے ناقد ہیں۔زرداری کی پہلی” قربانی“ اُسکی طویل نظر بندی تھی جو ایک
ریکارڈ ہے کہ پاکستان میں کسی سیاستدان نے” شاہی فرمان“ کواس طرح چیلنج کیا
ہو۔گواُن کیسوں میں مالی معاملات اور تجاوزاختیارات کے الزامات بھی تھے۔لیکن پھر
بھی اُنکی ”ثابت قدمی“ نے اُنکی موجودہ سیاسی میدان میں پیش قدمی کی راہ ہموار کی ۔اوپر
سے بی بی کی موت کے المناک واقعے نے PPPکے ورکر کو ”آتش فشاں“ بنادیاتھا۔یہی وجہ ہے
کہ PPPکے ووٹر اور سپورٹر نے اُن کیلئے تخت وتاج کے حصول کا میدان ہموار کردیا۔اب
یہ اُن کا ظرف ہے کہ وہ قطعی انداز میں کہتے ہیں کہ میں وزارت عظمیٰ کااُمیدوار
نہیں ہوں۔نوازشریف نے پہلے ہی اُن کا حق فائق سمجھ رکھا ہے۔
اے این پی کے اسفندیارولی زندہ دِلی سے اُن کا ساتھ دے رہے ہیں۔دوتہائی اکثریت وہ
شو کرچکے ہیں۔ایسے میں عوام کا خون چوسنے والی اقلیت انہیں راہ راست سے” گمراہ“
کرنے کی مذموم کوشش میں کامیاب ہوگئی تو یقین رکھیں کہ وہ کبھی سرِراہ بھی اپنا
سراٹھا کر نہیں چل سکیں گے۔لہٰذا جناب زرداری بڑی ذمہ داری اور ہوشیاری کی ضرورت
ہے۔
خواہ ق لیگ کولوگ قاتل لیگ ،قینچی لیگ یا قحط لیگ کیوں نہ کہےں ۔یہ ایک حقیقت ہے کہ
وہ مسلم لیگ کا ہی حصہ ہے۔چند ایک لوگوںکو چھوڑ کر تمام پنچھی اور بے پیندے کے لوٹے
،وہ چھوٹے ہوں یا کھوٹے واپس ن لیگ میں آرہے ہیں۔اسی طرح PPPپیٹریاٹ بھی بندربانٹ
کا شکار ہوچکی ہے۔اللہ کی شان دیکھیں کہ مدرسوں کو ڈھانے والے ،مسجدوں کو گِرانے
والے ،معصوم طالبات کو مروانے والے اور ملک کو قحط سالی کا شکار بنانے والے اُن میں
سے بھی ”سچ گروپ“جنم لے رہے ہیں۔اِسے کہتے ہیں ”فرعون کے گھر میں موسیٰ “کوئی جتنا
پیارا ہوتا ہے ،راج دُلارا ہوتا ہے اتنا ہی اُس کا لشکارا بھی ہوتا ہے۔تبھی تو
چاہنے والے کے دل میں یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے ۔جیتی ہوئی بازی ،سرکاری ،درباری
نورتنوں کی مداری اور تیزی طراری میں آکر اُسے ایٹمی طاقت کی علامت چاغی کی وہ
پہاڑی نہ بنادیں جسے امریکی پِٹھو مسمار کرکے اپنے اقتدار کی راہ ہموار کرتے رہے
ہیں۔لہٰذا جناب زرداری بڑی ذمہ داری اور ہوشیاری کی ضرورت ہے ۔
قارئین محترم !! محب اور عاشق تو محبوب اور معشوق کے رُخسارکے تِل پر ثمرقند وبخارا
وار دیتے ہیں۔حتیٰ کہ اپنی جان ہار دیتے ہیں۔محبوب اگر بدقسمتی سے عیوب کاشکار
ہوجائے تو وہ معتوب بھی قرار پاتا ہے۔اللہ” نظربد“ سے محفوظ رکھے زرداری جیساسردار
،نوازشریف جیسا سمجھدار اور اسفند یارولی جیسا ہوشیار اگرخبر دار رہے تو کوئی
۔۔۔امریکی ٹاﺅٹ عوام کیلئے اُمیدوں کے مرکزاس اتحاد کو ”ناک آﺅٹ“نہیں کرسکتا
۔آزمائش شرط ہے۔
دن گِنے جاچکے ،طنابیں سمٹ چکیں ،لگامیں کھینچ چکیں ،چڑیا کھیت چُگ چکیں ،ہر وار
اور ہرحربہ بیکار اور” سیاسی یتیم “کسمپرسی اور مفلسی کا شکار ہوچکے۔اب ضرورت اس
امر کی ہے کہ یکسوئی ،توجہ اور پورے انہماک کے ساتھ چالاک اسٹبلشمنٹ اور خفیہ
ہاتھوں کو ناکام ونامراد کیا جائے۔عوام تو ہوشیار اور بیدار ہیں ہی انہوں نے اپنا
فیصلہ دے دیاہے۔
اب تاریخ آپکے ”فیصلہ کن مُکے“ کی آواز سننے کی منتظر ہے۔جو کھوٹے اور کھرے میں
تمیز کردے۔جتنا بڑا آغاز ،جتنی اونچی پرواز،جتنی بڑی ذمہ داری ،جناب زرداری اتنی ہی
ہوشیاری اور سمجھداری کی ضرورت ہے۔ آپ ”وفاق کی علامت “بن کر آئے ہیںاس اعزاز کو
برقرار رکھیں خدانخواستہ ملامت نہ حصہ میں آئے ۔خبردار جناب زرداری بڑی ہوشیاری
!!کیوں قارئین آپ اتفاق کرتے ہیںنا۔؟؟ |
 |
|
|